جب ’قسمت کی دیوی‘ نے استنبول کی طوائف گلی کی تھیوڈورا کو سلطنت روم کی ملکہ بنا دیا

یہ چھٹی صدی عیسوی کی بات ہے۔ تقریباً 20 سال کی ایک ’انتہائی خوبصورت‘ لڑکی مشرقی سلطنت روم کے علاقے مصر سے اکیلے سفر کرتی ہوئی انطاکیہ (ترکی کا شہر) پہنچی۔ اس لڑکی کی منزل دنیا کی اس وسیع و عریض سلطنت کا دارالحکومت استنبول تھا۔

یہ واضح نہیں کہ اس لڑکی نے یہ سفر زمینی راستے سے کیا یا سمندر کے ذریعے لیکن ایک بات پر مؤرخین متفق ہیں کہ اس طویل سفر کے دوران تھیوڈورا نامی اس لڑکی کا ذریعہِ آمدن جسم فروشی ہی رہا ہو گا۔ تھیوڈورا کا تعلق نچلی سطح کے تھیٹر کی دنیا سے تھا اور مؤرخین لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں تھیٹر کی لڑکیوں کا جسم فروشی کرنا عام بات تھی۔

انطاکیہ میں قیام کے دوران تھیوڈورا کی ملاقات اپنی طرح تھیٹر کی دنیا سے تعلق رکھنے والی مسیڈونیا سے ہوئی اور میسیڈونیا کو تھیوڈورا بہت پسند آئی۔ ایک دن تھیوڈورا کو مایوس دیکھ کر میسیڈونیا نے اس سے وجہ جاننی چاہی۔ تاریخ گمان کرتی ہے کہ اس دن تھیوڈورا نے میسیڈونیا سے شاید اس صوبائی اہلکار کا ذکر کیا ہو گا جس نے پہلے استنبول میں اسے دیکھ کر پسند کیا اور صور شہر (آجکل لبنان میں) اپنے گھر لے گیا اور پھر کچھ عرصہ اپنے پاس رکھ کر نکال دیا۔

تھیوڈورا اب اسی وجہ سے واپس استنبول پہنچنے کی کوشش کر رہی تھی۔

لیکن اس طرح کی کہانیاں تو شاید میسیڈونیا کئی بار سن چکی ہو گی۔ تھیوڈورا کا ایک اور بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ایک روز پہلے ہی کسی نے اس کا مال لوٹ لیا تھا۔ میسیڈونیا نے اس کی بات سن کر اسے تسلی دی اور اس کے حالات بدلنے کی پیشینگوئی کرتے ہوئے کہا کہ مایوس مت ہو ’قسمت کی دیوی تم پر مہربان ہونے والی ہے اور وہ تمہیں ایک امیر عورت بنا دے گی۔‘

اب تھیوڈورا جیسے پس منظر کی لڑکی کے لیے میسیڈونیا کی یہ پیشینگوئی کتنی جلدی اور کتنی زیادہ درست ثابت ہو گی اس کا اُس وقت سلطنت روم تو کیا شاید کسی بھی معاشرے میں تصور کرنا مشکل تھا۔

میسیڈونیا کے بارے میں تاریخ اس واقعے کے بعد خاموش ہو جاتی ہے لیکن استنبول کی ’طوائف گلی‘ کی ناچنے والی تھیوڈورا چند ہی برسوں میں سلطنت روم کی ملکہ بن چکی تھی۔ اسے آج تک ایک طاقتور ملکہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے تین براعظموں پر پھیلی اس زمانے کی مشرقی سلطنت روم یا بازنطینی سلطنت پر دو دہائیوں تک اپنے شوہر شہنشاہ جسٹینین کے ساتھ مل کر راج کیا۔

مؤرخ جیمز ایلن ایونز اپنی کتاب ’دی پاور گیم اِن بائزنٹائن‘(بازنطین میں اقتدار کی جنگ) میں میسیڈونیا اور تھیوڈورا کی اس ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ میسیڈونیا نے جب تھیوڈورا کے امیر ہونے کی پیشینگوئی کی تھی وہ صرف قسمت سے اپیل نہیں کر رہی تھی بلکہ اس کے ذہن میں شاید وہ نوکری تھی جو وہ اسے دے سکتی تھی۔

ایونز لکھتے ہیں کہ تاریخ میں فنکاروں اور جاسوسوں کی دنیا کا ہمیشہ سے تعلق رہا ہے اور تھیٹر سے تعلق رکھنے والی میسیڈونیا بھی اسی روایت کا حصہ تھی۔

وہ بتاتے ہیں کہ یہ وہ زمانہ تھا جب مشرقی یورپ کے پہاڑوں میں ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہونے والے جسٹینین، سلطنت کے مستقبل کے شہنشاہ بننے کے مضبوط امیدوار ضرور تھے، لیکن ابھی باقاعدہ طور پر ولی عہد نامزد نہیں ہوئے تھے۔ انھوں نے محلاتی سازشوں اور سیاست کا مقابلہ کرنے کے لیے دیگر تیاریوں کے علاوہ مخبروں کا بھی ایک جال بنا ہوا تھا۔

میسیڈونیا بھی اس نیٹ ورک میں ان کی ایک خفیہ ایجنٹ تھی اور غالباً اس نے تھیوڈورا کو بھی جسٹینین کی ’سیکرٹ سروس‘ میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ تھیوڈورا کے امیر ہونے کی پیشینگوئی کرتے وقت غالباً میسیڈونیا کے ذہن میں اسے اس نیٹ ورک میں کام دینے کا ہی خیال تھا اور اسے اس شاندار مستقبل کا بالکل اندازہ نہیں تھا جو استنبول کی اس لڑکی کا منتظر تھا۔

ایونز لکھتے ہیں کہ میسیڈونیا سے تھیوڈورا کی ملاقات ایک تاریخی معمہ بھی ضرور حل کرتی ہے کہ آخر معاشرے کے انتہائی پست طبقے سے تعلق رکھنے والی تھیوڈورا، جس کے قریب سے گزرنا بھی ’عزت دار‘ لوگ پسند نہیں کرتے تھے، اس کی ملاقات سلطنت کے اس وقت کے شہنشاہ جسٹن اول کے بھانجے اور مستقبل کے شہنشاہ جسٹینین سے کیسے ہوئی؟

یہاں تھیوڈورا کی کہانی آگے بڑھانے سے پہلے آپ کو یہ بتاتے چلیں کہ یہ وہی جسٹینین ہیں جن کا ہم اوپر ذکر ایک غریب کسان کے بیٹے کے طور پر کر چکے ہیں۔

جسٹینین چھٹی صدی کی رومی سلطنت کے طاقت کے مرکز استنبول سے بہت دور مشرقی یورپ کے پہاڑوں میں ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہوئے تھے۔ اور جن دنوں کا ہم ذکر کر رہے ہیں اس وقت تک وہ استنبول کی ایک طاقتور شخصیت بن چکے تھے، اور انھیں لوگ سلطنت کے ولی عہد کے طور پر دیکھتے تھے۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ جسٹینین کی پیدائش سے بہت پہلے ان کے ماموں جسٹن روم کے سرحدی علاقوں میں غربت اور سرحد پار سے قبائیلیوں کی لوٹ مار سے تنگ آ کر، سنہ 465 کے آس پاس، بہتر مستقبل کے لیے زمین کا اپنا چھوٹا سا ٹکڑا چھوڑ کر اپنے دو دوستوں کے ساتھ استنبول چلے گئے تھے۔ ایونز بتاتے ہیں اس پیدل سفر میں ان کا کل سامان ان کے تن پر کپڑوں کے علاوہ راستے میں کھانے کے لیے ان کپڑوں میں لپٹی بریڈ تھی۔

ملکہ تھیوڈورا (دائیں سے دوسرے نمبر پر) اور شہشناہ جسٹینین(بائیں سے تیسرے نمبر پر) کا تصوراتی خاکہ
،تصویر کا کیپشنملکہ تھیوڈورا (دائیں سے دوسرے نمبر پر) اور شہشناہ جسٹینین(بائیں سے تیسرے نمبر پر): جسٹینین اور تھیوڈورا ایک روایت پسند معاشرے میں نئے طریقے تلاش کر رہے تھے۔ خاص طور وہ تبدلیاں جو ملکہ تھیوڈورا خاندانی نظام میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایونز لکھتے ہیں وہ شادی میں عورت کو برتری دلوانا چاہتی تھی اور روایت پسند شکایت کر رہے تھے کہ ’تھیوڈورا خاندان میں شوہر کی برتری ختم کر رہی تھی اور عورتیں منہ زور ہوتی جا رہی ہیں۔'

جب وہ استنبول پہنچے اس وقت کے شہنشاہ شاہی باڈی گارڈوں کا نیا دستہ کھڑا کر رہے تھے۔ جسٹن اور ان کے دونوں ساتھی نوجوان اور صحت مند تھے اور انھیں فوراً بھرتی کر لیا گیا۔ ان کے دونوں ساتھیوں کا تو اس کے بعد ذکر نہیں ملتا لیکن جسٹن ترقی کرتے کرتے شہنشاہ انستاسیس کے دور میں اس شاہی باڈی گارڈوں کے دستے کے افسر بن گئے۔

جسٹن نے ترقی کی سیڑھی پر قدم رکھنے کے بعد اپنے غریب خاندان کو نہیں بھلایا۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی لیکن اس زمانے میں بچے گود لینے کا رواج تھا۔ انھوں نے اپنے دو بھانجوں کا انتخاب کیا اور انھیں نہ صرف استنبول بلایا بلکہ اعلیٰ تعلیم بھی دلوائی۔ ان میں سے ایک جرمینس زبردست جرنیل بنا لیکن اس کے بہت زیادہ ذاتی عزائم نہیں تھے جبکہ دوسرا جسٹینین تھا۔

جسٹن شہشناہ کیسے بنے؟

دور دراز پہاڑی علاقے سے آئے ان پڑھ کسان جسٹن دہائیوں بعد بڑھاپے میں استنبول میں محلاتی سیاست کا اہم حصہ بن چکے تھے اور جب شہنشاہ انستاسیس کا نو جولائی سنہ 518 کی ایک طوفانی رات کو انتقال ہوا تو شاہی باڈی گارڈ دستے کے یہ افسر جسٹن صحیح وقت اور صحیح جگہ پر موجود تھے۔ شہنشاہ کی موت جس وجہ سے بھی ہوئی، ان کی موت نے ایک بحران کو جنم ضرور دیا کیونکہ ان کا کوئی وارث نہیں تھا۔

انستاسیس کی موت کے وقت استنبول کے شاہی محل میں سینیٹ کے ارکان، پادری اور اعلیٰ حکام سر جوڑے بیٹھے تھے اور باہر عوام کا بے چین ہجوم۔ مرنے والے شہنشاہ کا کوئی وارث نہ ہونے کا علاوہ یہ وہ زمانہ تھا جب اس وقت کی رومی سلطنت کے شہر اکثر ہنگاموں کی زد میں رہتے تھے اور فیصلہ کرنے والوں پر شاہی محل کے باہر جمع ہجوم کا بہت دباؤ تھا۔ ’سنہ 491 اور سنہ 565 کے درمیان کم سے کم 30 فسادات کے بارے میں ہمیں معلوم ہے۔‘

ایونز لکتھے ہیں کہ تخت پر بیٹھنے کے لیے مقبول امیدوار تو انستاسیس کا بھتیجا ہونا چاہیے تھا لیکن وہ اس وقت دارالحکومت سے دور مشرق میں ڈیوٹی پر تھا جبکہ عوام کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔

ایونز اس زمانے کے مؤرخین کی تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مرحوم شہنشاہ کے دربار میں ایک طاقتور خواجہ سرا امانتیس تھا جو خود تو تخت پر نہیں بیٹھ سکتا تھا لیکن اس کی خواہش تھی کہ کوئی ایسا شخص شہنشاہ بنے جس کا کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہو۔

اس نے ایک امیدوار چنا اور اس کی کامیابی یقینی بنانے کے لیے شاہی باڈی گارڈوں کے اعلیٰ عہدیدار جسٹن کو پیسے دیے کہ وہ اس کے امیدوار کے حق میں مہم چلائے۔ یہی اس کی غلطی تھی۔ کیونکہ اس مہم کے نتیجے میں خود جسٹن ہی شہنشاہ بن گئے۔ 65 سالہ جسٹن نے تخت پر بیٹھنے کے بعد اپنے دور کا آغاز اپنی پسند کے امیدوار کے حق میں ووٹ خریدنے کے لیے انھیں پیسے دینے والے خواجہ سرا امانتیس کو مروا کر ’ایک سیاسی قتل سے کیا۔‘

ایونز لکھتے ہیں کہ جن سینیٹروں نے جسٹن کو منتخب کیا تھا، انھوں نے کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ وہ ایک نئے شاہی خاندان کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ استنبول کی اشرافیہ بلقان کے اس غریب دیہاتی کو اپنے سے کم تر سمجھتے تھے۔ ان کی نظر میں جسٹن ایک 65 سالہ ان پڑھ فوجی تھا جس کے تخت پر دن تھوڑے ہی تھے۔ اس سے پہلے جسٹن کے بارے میں ایک غلطی شاہی محل کا طاقتور خواجہ سرا امانتیس کر چکا تھا اور اب یہ دوسری غلطی استنبول کی اشرافیہ سے ہوئی۔

مشرقی سلطنت روم کا دارالحکومت استنبول اور ہپوڈروم کا منظر
،تصویر کا کیپشنمشرقی سلطنت روم کا دارالحکومت استنبول اور ہپوڈروم کا منظر جہاں گھوڑوں کی ریس ہوتی تھی: مؤرخین کے مطابق شہنشاہ سمیت ہر شخص گھوڑوں کی کسی نہ کسی ٹیم کا فین ہوتا تھا اور عام طور پر یہ زندگی بھر کا اور انتہائی جذباتی تعلق ہوتا تھا۔ ہر ٹیم کا اپنے 'فین' کے ساتھ تعلق ایسے ہی تھا جیسے، ایونز کے مطابق، آجکل یورپ میں فٹبال ٹیموں اور ان کے 'فین' کا ہوتا ہے۔ اس روایت کی جڑیں قدیم رومی سلطنت میں ملتی تھیں۔

خواجہ سرا امانتیس کی غلطی کی سزا کا تو ہم نے اوپر ذکر کیا، لیکن استنبول کی اشرافیہ کو جسٹن کے بارے میں غلط اندازے کی کیا سزا ملی یہ جاننے کے لیے ہمیں جسٹن کی تخت نشینی سے تقریباً 20 سال پیچھے اور شاہی محل سے باہر شہر کے اس علاقے میں جانا پڑے گا جس کے لیے تاریخ کی کتابوں میں ’طوائفوں کی گلی‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے گئے ہیں۔

’طوائفوں کی گلی‘ جہاں معاشرے کا ’گند‘رہتا تھا

چھٹی صدی کی ابتدا میں استنبول کی ’طوائفوں کی گلی‘ میں ریچھوں کا تماشہ کرنے والا ایک مرد اور تھیٹر میں ناچنے والی ایک عورت رہتے تھے۔ ان کی تین بیٹیاں تھیں۔ سب سے بڑی کومیٹا، اس کے بعد تھیوڈورا اور سب سے چھوٹی کا نام تاریخ بھول چکی ہے۔

تھیوڈورا کا پس منظر ایسا نہیں تھا کہ اس کے بارے میں کوئی مستند ریکارڈ ملے اور اس کی زندگی کے ابتدائی دنوں کے بارے میں مختلف کہانیاں موجود ہیں۔

جیمز ایلن ایونز چھٹی صدی کے مشہور مؤرخ پروکوپیس کی کتاب ’خفیہ جنگوں‘ میں بیان کی گئی ایک کہانی کو اہمیت دیتے ہیں جس میں تھیوڈورا کو ’وائٹ ٹریش‘(سفید گند) کہا گیا اور بتایا گیا کہ اس کا تعلق استنبول کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری سے تھا اور اس کے گھر جانے والی گلی کا نام ’طوائفوں والی گلی‘ تھا۔’ وہ وہیں بڑی ہوئی اور شاید پیدا بھی وہیں ہوئی۔‘ لیکن اس کی عملی زندگی کا آغاز شاہی محل کے قریب واقع ہپوڈروم یا گھڑ دوڑ کے سٹیڈیم سے ہوا۔

تھیوڈورا کے خاندان کا معاشرے میں مقام جو بھی تھا شہر کے دیگر باسیوں کی طرح ان کی زندگی کا بھی ایک اہم حصہ ہپوڈروم ہی تھا۔ سلطنت کا شہنشاہ اور امرا اور عام لوگ وہاں رتھ والی گھوڑوں کی دوڑ کے شوق میں جاتے تھے، اور تھیوڈورا کے والدین اور ان جیسے لوگ وہاں اس لیے جاتے تھے کیونکہ ان کا روزگار سلطنتِ روم کی گھوڑوں کی دوڑ کی لت سے جڑا ہوا تھا۔

تھیوڈورا کے والد اکاسیس سٹیڈیم میں کرتب دکھانے والے ریچھوں کی ایک ٹیم کے رکھوالے تھے اور ریس والے دن وہاں تماشہ دکھاتے تھے اور اس کی ماں ریسوں کے درمیان وفقے میں سٹیڈیم میں پرجوش شائقین کے لیے تفریح کا بندوبست کرنے والی ایک تھیٹر کمپنی کا حصہ تھی۔

سلطنت روم کے گھڑ دوڑ کے سٹیڈیم اور غریب پرجوش نوجوان

سلطنت کے شہروں میں باقاعدگی سے رتھ والی گھڑ دوڑیں ہوتی تھیں اور بڑے بڑے ہجوم ریسوں والے دنوں میں سٹیڈم کا رخ کرتے تھے۔ ہر دن میں 25 ریسیں ہوتی تھیں۔

مؤرخ بتاتے ہیں کہ شہنشاہ سمیت ہر شخص گھوڑوں کی کسی نہ کسی ٹیم کا فین ہوتا تھا اور عام طور پر یہ زندگی بھر کا اور انتہائی جذباتی تعلق ہوتا تھا۔ ٹیموں کے نام رنگوں پر رکھے گئے تھے مثلاً سبز ٹیم، نیلی ٹیم اور سرخ ٹیم اور اس کا اپنے ’فین‘ کے ساتھ تعلق ایسے ہی تھا جیسے، ایونز کے مطابق، آج کل یورپ میں فٹبال ٹیموں اور ان کے ’فین‘ کا ہوتا ہے۔ اس روایت کی جڑیں قدیم رومی سلطنت میں ملتی تھیں۔

مؤرخ تھامس ایف میڈن نے اہنی کتاب ’استنبول‘ میں اس شہر اور ہپوڈروم کے تعلق کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جیسے جیسے استنبول بڑا ہوتا گیا دیہاتی علاقوں سے غریب، غیر ہنرمند نوجوان بہتر زندگی کی تلاش میں اس کی طرف کھنچے چلے آئے۔

’کچھ تو کامیاب ہو گئے لیکن زیادہ تر کم پیسوں پر کبھی کبھار ملنے والی مزدوری، حکومت کی طرف سے ملنے والی مفت بریڈ اور ہپوڈروم میں گھڑ دوڑ اور وہاں ملنے والی تفریح کے چکر میں پھنس کر رہ گئے تھے۔‘

یہ نوجوان مختلف ٹیموں سے وابستہ تھے اور ان کے بارے میں انتہائی جذباتی بھی۔ ان کے خلاف نشے میں دھت ہو کر ہلڑبازی کی شکایات پرانے وقتوں سے چلی آ رہی تھیں۔

آیا صوفیہ
،تصویر کا کیپشنآیا صوفیہ: یکم اپریل سنہ 527 کو، ایک مؤرخ کی زبان میں 'آیا صوفیہ میں ایک شاندار تقریب میں استنبول کے بشپ نے سلطنت روم کے شاہی تاج ایک کسان اور ایک طوائف کے سر پر رکھ دیے۔'

میڈن نے اپنی کتاب میں لکھا کہ چھٹی صدی میں مقابلوں کے اختتام پر یہ ہلڑبازی مختلف ٹیموں کے مداحوں کے درمیان لڑائی جھگڑوں میں بدل چکی تھی۔ ’مختلف گینگ اپنی اپنی ٹیم کے گیت گاتے سڑکوں پر گھومتے تھے، املاک کو نقصان پہنچاتے تھے، چوریاں کرتے تھے اور کئی بار تو بات قتل تک پہنچ جاتی۔‘

اس زمانے کے ایک مصنف چوریسیس کے مطابق گھڑ دوڑیں ہجوم کا جوش اور جذبات بھڑکاتی تھیں اور یہ امن و امان کے لیے خطرے کی بات ہوتی تھی جبکہ انٹرٹینمنٹ کمپنیاں تفریح فراہم کرتی تھیں۔ ’یہ ہجوم کو قابو کرنے کا بہترین طریقہ تھا۔‘

تھیوڈورا کے خاندان کی زندگی سبز ٹیم سے جڑی تھی۔ اس کے والد سبز ٹیم کے ریچھوں کے رکھوالے تھے اور ماں سبز ٹیم کے تھیٹر میں ناچتی تھی۔ لیکن ان کا سبز ٹیم سے یہ ساتھ ایک دن اچانک ختم ہو گیا۔

تھیوڈورا کے والد کا انتقال اور فاقوں کی نوبت

چھٹی صدی کے ابتدائی برسوں میں تھیوڈورا کے والد اکاسیس وفات پا گئے۔۔ تاریخ شاید اکاسیس کا نام بھی نہ یاد رکھتی اگر وہ مستقبل کی ملکہ تھیوڈورا کے والد نہ ہوتے۔ اس وقت تھیوڈورا کی عمر غالباً پانچ سال تھی اور اس کی بڑی بہن کی سات سال۔

ان کے لیے صورتحال انتہائی گمبھیر تھی کیونکہ اس زمانے میں والد کے بعد بیٹا اس کے پیشے میں اس کی جگہ لیتا تھا لیکن اکاسیس کا بیٹا نہیں تھا۔ اپنی بیٹیوں کے لیے صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے اکاسیسں کی بیوہ نے اس امید پر دوسری شادی کر لی کہ اس کے نئے شوہر کو اکاسیس کی نوکری مل جائے گی اور ان کی بیٹیوں کے لیے گھر میں آمدن کا سلسلہ جاری رہے گا۔

لیکن معاملہ اتنا سیدھا بھی نہیں تھا۔ ریچھوں کا رکھوالا بیشک معاشرے میں نچلے درجے کا انسان تھا لیکن اس کی نوکری کے ساتھ مستقل ماہانہ آمدن کی ضمانت تھی جو اس زمانے میں کسی کے لیے بہت بڑی بات تھی۔ تھیوڈورا کے والد کی جگہ لینے کے لیے امیدواروں کا تانتا بندھ گیا۔

فیصلہ سبز ٹیم کے لیڈ ڈانسر کے ہاتھ میں تھا اور مؤرخ بتاتے ہیں کہ گرین پارٹی کا لیڈ ڈانسر استیریوس بھی کئی دیگر سرکاری اہلکار کی طرح رشوت کا عادی تھا۔ اس نے پیسے لے کر اکاسیس کی بیوہ کے نئے خاوند کی بجائے کسی اور کو اپنی ٹیم کے ریچھوں کے رکھوالے کی نوکری دے دی۔

ایونز لکھتے ہیں کہ یہ خبر ریچھوں کے سابقہ رکھوالے کے چھوٹے سے خاندان پر قیامت بن کر گری۔ تھیوڈورا اور اس کی بہن کے پاس اب ایک سوتیلا باپ تھا لیکن کوئی آمدن نہیں تھی۔ ان کی ماں نے اس کے بعد آخری پتہ بھی کھیل دیا۔

ہپوڈروم کے مینار
،تصویر کا کیپشناستنبول میں ہتھر کے یہ مینار ہپوڈروم کی نشانیاں ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ہپوڈروم تقریباً ایک ہزار سال تک مشرقی سلطنت روم یا بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت استنبول میں سماجی، تفریحی اور کھیلوں کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔

پانچ سالہ تھیوڈورا کی سر پر پھولوں کا تاج سجائے، بھرے ہوئے سٹیڈیم میں رحم کی اپیل

ہپوڈروم میں اگلے میلے کے موقع پر تھیوڈورا کی ماں نے اپنی بیٹیوں کو تیار کر کے، ان کے سروں پر پھولوں کا تاج پہنا کر اور ہاتھوں میں گلدستوں کے ساتھ گرین ٹیم کے شائقین کے سٹینڈ کے سامنے بندھے ہوئے ہاتھوں کے ساتھ زمین پر بٹھا دیا۔

’انھوں نے رحم کی بھیک مانگی‘ لیکن کسی نے لیڈ ڈانسر کے فیصلے کو بدلنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اور اس پر یہ ہوا کہ انہی دنوں میں نیلی ٹیم کے ریچھوں کے رکھوالے کا بھی انتقال ہو گیا اور اس کے شائقین نے ان بچیوں پر ترس کھا کر ان کے سوتیلے باپ کو نوکری دے دی۔

مؤرخ لکھتے ہیں کہ تھیوڈورا اور اس خاندان کی وفاداریاں ہمیشہ کے لیے نیلی ٹیم کے ساتھ ہو گئیں۔ تھیوڈورا سبز ٹیم کے انکار اور نیلی ٹیم کے احسان کو کبھی بھلا نہیں سکی۔

اب یہ حسن اتفاق تھا یا ’قسمت کی دیوی‘ کی مہربانی کہ مستقبل کا شہنشاہ جسٹینین گھڑدوڑ کا شوقین بھی تھا اور نیلی ٹیم کا فین بھی۔ لیکن ابھی ان دونوں کی ملاقات میں کچھ وقت باقی تھا۔ تھیوڈورا کی عمر اس وقت پانچ سال اور جسٹینین کی 20 برس سے زیادہ ہو گی۔

ہپوڈروم میں اس واقعے کے بعد تاریخ تھیوڈورا کے سوتیلے والد اور والدہ کے بارے میں خاموش ہو جاتی ہے لیکن، ایونز لکھتے ہیں کہ، ہمیں اتنا معلوم ہے کہ جیسے ہی ان دونوں بہنوں کی عمر اس قابل ہوئی، ان کی ماں نے انھیں گھڑ دوڑ کے دنوں میں لگنے والے نیلی ٹیم کے تھیٹروں کا حصہ بنا دیا۔

شہنشاہ جسٹینین:
،تصویر کا کیپشنشہنشاہ جسٹینین: اس زمانے کے لیے ناقابل یقین بات تھی کہ جسٹینین کی حیثیت کا آدمی تھیوڈورا جیسی عورت سے شادی کا سوچ رہا ہے۔ کسی شہنشاہ یا ولی عہد کا درجنوں عورتوں سے تعلقات رکھنا لوگوں کے لیے عجیب بات نہیں تھی، لیکن تھیوڈورا جیسے پس منظر کی عورت سے شادی الگ بات تھی۔

تھیوڈورا کا تھیٹر اور حسن کے چرچے

مؤرخ وارن ٹریڈگولڈ اپنی کتاب ’ A Concise History of Byzantium ‘(بازنطین کی مختصر تاریخ) میں لکھتے ہیں کہ تھیٹر میں آنے کے بعد ’تھیوڈورا اپنے حسن اور اس کی بیباک نمائش کی وجہ سے مشہور ہو گئی تھی۔‘

شروع میں تو، ایونز کے مطابق، تھیوڈورا غلاموں والا لباس پہنے اپنی بڑی بہن کے ساتھ جاتی تھی لیکن جلد ہی اسے خود بھی تھیٹر میں کام ملنا شروع ہو گیا۔ ’اسے کامیڈی آتی تھی اور اس میں جھجک بالکل نھیں تھی۔‘ مختلف کردار ادا کرتے ہوئے وہ بھرے ہوئے تھیٹر کے سامنے جسم کے نچلے حصے پر ایک چھوٹے سے کپڑے کو چھوڑ کر ننگی ہو جاتی تھی۔ ’اس کی شہرت پھیل گئی اور گلیوں اور بازاروں میں ’عزت دار‘ لوگ اس سے فاصلہ رکھتے تھے۔‘

تھیٹر عزت دار لوگوں کی جگہ نہیں تھی۔ ایونز لکھتے ہیں عورتوں کو وہاں جانے کی اجازت نہیں تھی بلکہ ریس میں آنے کی بنیاد پر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق بھی دے سکتا تھا۔ تھیٹر پر بھاری ٹیکس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ حکومت کو معلوم تھا کہ یہ لڑکیاں ناچ اور ڈرامے کے ساتھ ساتھ جسم فروشی بھی کرتی ہیں۔

تھیوڈورا کے بارے میں مؤرخین کا خیال ہے کہ وہ 15 سال کی عمر میں ایک لڑکی کی ماں بن چکی تھی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ تھیوڈورا کی ماں کی تو شاید موت کے بعد مذہبی رسومات بھی ادا نہیں کی گئی تھیں کیونکہ قانون کسی پادری کو تھیٹر والی کے لیے ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا اور ان کے ساتھ اچھوتوں جیسا سلوک ہوتا تھا۔ تاہم، ایونز لکھتے ہیں کہ، اسی تھیٹر والی کو شام کے آرتھوڈوکس چرچ اور مصر کے قبطی چرچ میں مقدس ہستی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔

اس وقت کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس عورت کی اس ہی جیسی بیٹی مستقبل میں نہ صرف سلطنت کے سرکاری مذہب(مسیحیت کا فرقہ چیلسیڈونین) کے لیے مسئلہ بن جائے گی بلکہ ایک پاپائے روم کو عہدہ چھوڑنے پر بھی مجبور کر دے گی۔

تھیوڈورا ایک صوبائی اہلکار کی داشتہ

ہیسیبولیس صور شہر کا رہائشی تھا جو آجکل لبنان کا حصہ ہے۔ اس نے استنبول میں تھیوڈورا کو پسند کیا اور اپنے ساتھ لے گیا۔ اس کا تاریخ میں ذکر آنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ سلطنت روم کی مستقبل کی ملکہ ایک زمانے میں کچھ عرصے کے لیے اس کی داشتہ تھی۔

ایونز کی رائے کے برعکس مؤرخ میڈن کے خیال میں تھیوڈورا کو ساتھ لے جانے والے اہلکار کا تعلق شمالی افریقہ سے تھا۔ بحرحال دونوں لکھتے ہیں کہ اس اہلکار نے تھیوڈورا کو کچھ عرصہ اپنے پاس رکھ کر گھر سے نکال دیا۔

اس زمانے میں کسی اعلیٰ عہدیدار کو تھیٹر کی کسی عورت کو اٹھا کر گھر میں رکھنے کی اجازت نہیں تھی لیکن، ایونز لکھتے ہیں، یہ ایک پرانا قانون تھا جس پر غالباً اس زمانے میں عمل نہیں ہوتا تھا۔

تھیوڈورا اس وقت تک ایک بچی کی ماں بن چکی تھی اور اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتی تھیں اور مؤرخین کا خیال ہے کہ شاید یہ ہی ان دونوں کے اختلافات کی وجہ بنی اور تھیوڈورا بے گھر ہو گئی۔

یہاں سے تھیوڈورا کا استنبول کا واپسی کا سفر شروع ہوتا ہے جہاں اِس بار اس کا مستقبل ’طوائفوں کی گلی‘ نہیں بلکہ شاہی محل میں ملکہ کے تخت پر منتظر تھا۔ لیکن تھیوڈورا کا استنبول تک کا سفر اسکندریہ اور انطاکیہ سے ہو کر گزرتا تھا اور اسے اس میں کچھ وقت لگا۔ اس دوران اسے کچھ ایسے تجربات ہوئے جنھوں نے بعد میں نہ صرف اس کی اپنی زندگی بلکہ سلطنت روم اور مسیحیت کے مستبقل پر بھی گہری چھاپ چھوڑی۔

اٹلی کے ایک گرجا گھر میں ملکہ تھیوڈورا کے دربار کا تصوراتی خاکہ
،تصویر کا کیپشناٹلی کے ایک گرجا گھر میں ملکہ تھیوڈورا کے دربار کا تصوراتی خاکہ: مؤرخ بتاتے ہیں کہ تھیوڈورامعاشرے کے جس حصے میں پیدا ہوئی تھیں اور بڑی ہوئی تھیں وہاں پادری لوگوں کی آخری رسومات بھی کئی بار ادا کرنے نہیں جاتے تھے۔

تھیوڈورا کا پہلا روحانی تجربہ

مؤرخین کا خیال ہے کہ تھیوڈورا بے گھر ہونے کے بعد ایک تجارتی سمندری جہاز کے ذریعے کسی طرح اسکندریہ پہنچی جہاں اس کے ساتھ کچھ ایسا ہوا جس کے بارے میں تاریخ خاموش ہے لیکن اس کی زندگی میں روحانیت آ گئی۔

ان دنوں میں مسیحی دنیا ’خدا‘ کے انسانی اور مقدس روپ کی بحث کی بنیاد پر مختلف فرقوں میں بٹی ہوئی تھی۔ لیکن تھیوڈورا کا اب تک ان میں کسی سے بظاہر کوئی واسطہ نہیں تھا۔ اسکندریہ میں یہ لاتعلقی ختم ہو گئی۔ وہ زندگی بھر کے لیے مونوفیسائٹ کہلانے والے مسیحیوں کی ہمدرد بن گئی۔

لیکن اگر اس زمانے کے اعتبار سے دیکھیں تو یہ سلطنت روم میں اپنے آپ کو ریاست کا دشمن بنانے والی بات تھی۔ سلطنت کے دارالحکومت استنبول اور مسیحیت کے بڑے مرکز روم میں چیلسیڈونین فرقے کو مانا جاتا تھا اور خاص طور پر جسٹینین اور اس کے ماموں اور شہنشاہ جسٹن اول چیلسیڈونین فرقے کے ماننے والوں میں سے تھے۔ تاہم ہوا یہ کہ تھیوڈورا جسٹینین کی ملکہ بھی بنی اور اس نے جسٹینین کے چیلسیڈونین فرقے کی مخالفت بھی کبھی ترک نہیں کی۔ تاریخ کی کتاب میں آج تک اس پر بحث ہوتی ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہوا؟ جسٹینین نے تھیوڈورا کی بغاوت کیوں برداشت کی؟

ایونز لکھتے ہیں کہ چیلسیڈونین فرقے کی زبان روم اور سلطنت کے شہنشاہ کا مذہب ہونے کی وجہ سے کچھ شاہانہ تھی۔ ان کے خیال میں تھیوڈورا نے اسکندریہ میں مونوفیسائٹ فرقے سے مدد حاصل کی جن کا رویہ چیلسیڈونین فرقے والوں کے مقابلے میں نرم اور ہمدردانہ تھا۔

مذہبی لوگوں سے مل لینے سے تھیوڈورا کا رتبہ نہیں بدل گیا تھا۔ بلکہ اب تو وہ صرف جسم فروش نہیں بلکہ ایک ٹھکرائی ہوئی ’داشتہ‘ بھی تھی، اور اس کے علاوہ، ایونز نے لکھا ہے، کہ وہ خود کوئی ایسی ’سینٹ‘ بھی نہیں تھی کہ دنیا ترک کر بیٹھتی۔

تھیوڈورا کی مستقبل کے شہنشاہ جسٹینین سے پہلی ملاقات

جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں تھیوڈورا اپنے والد کے انتقال کے بعد گھوڑوں کی دوڑ کی نیلی ٹیم سے وابستہ تھی، اور سلطنت کے ان دو اہم شہروں اسکندریہ اور انطاکیہ میں بھی اس کی یہ وابستگی کام آئی اور اسے نیلی ٹیم کے تھیٹروں میں کام ملتا رہا۔ اور تھیٹر کے ساتھ ساتھ، میڈن لکھتے ہیں، اس نے اس دوران جسم فروشی کر کے کام چلایا۔

تھیوڈورا کی انطاکیہ میں میسیسڈونیا نامی لڑکی سے ملاقات بھی اسی دوران ہوئی تھی، جس نے اس کے دن پھرنے کی پیشینگوئی کی تھی، اور جس کے بارے میں ایونز کا خیال ہے کہ اس نے تھیوڈورا کو بھی اپنے ساتھ جسٹینین کے جاسوسی کے نیٹ ورک کا حصہ بنا لیا تھا اور پھر غالباً اس طرح مستبقل کے شہنشاہ اور ملکہ کی پہلی ملاقات ہوئی۔

ایک اور مؤرخ وارن ٹریڈگولڈ نے ان دونوں کی پہلی ملاقات کے بارے میں، بازنطین کی تاریخ پر اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’گھوڑوں کی نیلی ٹیم اور اس ٹیم کے تھیٹر کا حمایتی جسٹینین جلد ہی نیلی ٹیم کی اداکارہ تھیوڈورا کے عشق میں گرفتار ہو گیا جو اپنے حسن اور اس کی بیباک نمائش کی وجہ سے مشہور تھی۔‘

ٹریڈگولڈ لکھتے ہیں کہ استنبول واپس پہنچنے تک تھیوڈورا 22 برس کی ہو چکی تھی، اور تھیٹر اور جسم فروشی کے بازار کے لیے یا تو اس کا وقت گزر چکا تھا اور یا پھر اس نے اپنی بیٹی کو ’ایمانداری‘ کی زندگی دینے کے لیے اون بننے والی ایک دکان میں کام شروع کر دیا۔

ان کے مطابق ’اس دکان میں ایک روز اس کی 40 سالہ (چھوٹے قد، گھنگریالے بالوں کے ساتھ خوش شکل اور دوستانہ تاثرات والے)جسٹینین سے پہلی ملاقات ہوئی۔ جسٹینین اس کی شخصیت اور خوبصورتی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ یقیناً وہ اس کی غمگین کہانی اور بہتر مستقبل کے عزم سے بھی متاثر ہوا ہوگا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی گہری محبت میں گرفتار ہو گئے۔‘

تھیوڈورا اور جسٹینین میں تضاد

یہ اس زمانے میں سب کے لیے ناقابل یقین بات تھی کہ جسٹینین کی حیثیت کا آدمی تھیوڈورا جیسی عورت سے شادی کا سوچ رہا ہے۔ کسی شہنشاہ یا ولی عہد کا درجنوں عورتوں سے تعلقات رکھنا لوگوں کے لیے عجیب بات نہیں تھی، لیکن تھیوڈورا جیسے پس منظر کی عورت سے شادی الگ بات تھی۔

جسٹینین شہر کے اعلیٰ حلقوں میں تھیوڈورا کے بارے میں کی جانے والی باتوں سے بالکل خوش نہیں تھا لیکن وہ فیصلہ کر چکا تھا۔ ’جسٹینین کو معلوم تھا کہ اس کی پیٹھ پیچھے اس کے بارے میں بھی ایسی ہی باتیں کی جاتی تھیں۔‘

ایونز کہتے ہیں کہ اس زمانے کے مؤرخ پروکوپیس نے شہر کے ’معززین‘ کے جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے لکھا ’جسٹینین کسی بھی اعلیٰ خاتون سے شادی کر سکتا تھا لیکن اس میں شرم کی اتنی کمی تھی کہ اس نے تھیوڈورا کا انتخاب کیا۔‘

سب سے اہم معاملہ دونوں کی مختلف فرقوں سے وابستگی کا تھا۔ جسٹینین چیلسیڈونین فرقے کے مخالفین کو سزائیں دینے کے حق میں تھے اور تھیوڈورا چیلسیڈونین مخالف تھی۔

تھیوڈورا اور جسٹینین کی ماں

شہنشاہ جسٹن اپنے بیٹے کی محبوبہ کی سرکاری مذہب سے بغاوت کو نظر انداز کرنے کے لیے تیار تھے لیکن ان کی ملکہ نہیں۔ ملکہ یوفیمیا ماضی میں تھیٹر پر ناچنے والی جسم فروش اور اب مذہبی باغی لڑکی سے اپنے بیٹے کی شادی کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔

تاریخ بتاتی ہے کہ ملکہ یوفیمیا کو اپنے منہ بولے بیٹے سے بہت پیار تھا اور وہ اس کی کبھی کسی بات سے انکار نہیں کرتی تھی لیکن تھیوڈورا کے معاملے میں اس کا مؤقف سخت تھا۔ لیکن یہاں بھی قسمت کی دیوی تھیوڈورا پر مہربان تھی۔ ایونز بتاتے ہیں کہ تاریخ میں ملکہ یوفیمیا کی موت کی صحیح تاریخ تو نہیں ملتی لیکن سنہ 523 کے آخر میں کسی وقت ان کا انتقال ہو گیا۔

ملکہ یوفیمیا اور تھیوڈورا میں مذہبی اختلافات تھے لیکن کچھ مشترک بھی تھا۔ یوفیمیا شادی سے پہلے کافی عرصہ کسی کی داشتہ تھیں اور اس شخص نے ’دل بھر جانے کے بعد‘ انھیں غلاموں کی منڈی میں فروخت کے لیے ہیش کر دیا۔ جسٹن نے وہیں پر انھیں دیکھا پسند کیا، خریدا اور آزاد کر کے ان سے شادی کر لی۔

ایونز لکھتے ہیں کہ یہ جسٹن کے اعلیٰ عہدیدار بننے سے پہلے کی بات ہو گی کیونکہ اس زمانے میں سینیٹر یا اس کے برابر عہدہ رکھنے والے شخص اور کسی سابق غلام کے درمیان شادی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔

تھیوڈورا کا ملکہ بننے کی طرف پہلا قدم

ملکہ کے انتقال کے بعد شہنشاہ جسٹن نے جسٹینین کی بات مانتے ہوئے تھیوڈورا کو ’پیٹریشین‘(اشرافیہ) کا درجہ دے دیا۔ تھیوڈورا جسٹینین کی بیوی نہیں تھی لیکن اسے وہی حیثیت مل رہی تھی جو عام طور پر کسی عورت کو سلطنت روم میں پیٹریشین خاوند کی وجہ سے ملتی تھی۔ وہ تیزی سے اثر و رسوخ والی عورت کے طور پر جانی جانے لگی۔ ابھی وہ ملکہ نہیں بنی تھی لیکن مونوفیسائیٹ فرقے کے لوگ اس کے پاس تعاون اور پناہ کے لیے آتے اور وہ انھیں انکار نہیں کرتی تھی۔

شہنشاہ جسٹن نے تھیٹر میں ناچنے والے والی عورت اور ایک سینیٹر درمیان شادی کی قانونی رکاوٹ دور کرنے میں زیادہ دیر نہیں لگائی اور غالباً سنہ 525 میں تھیوڈورا کی جسٹینین سے شادی ہو گئی۔

جسٹینین اور تھیوڈورا کو ایک ساتھ رہتے ہوئے پانچ برس ہو چکے تھے اور انھیں زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑا۔ بڑھتی عمر اور خراب ہوتی صحت کے ہاتھوں مجبور ہو کر جسٹن اول نے جسٹینین کو اپنا شریک حکمران بنا دیا۔

یکم اپریل سنہ 527 کو، ایک مؤرخ کی زبان میں ’آیا صوفیہ میں ایک شاندار تقریب میں استنبول کے بشپ نے سلطنت روم کے شاہی تاج ایک کسان اور ایک طوائف کے سر پر رکھ دیے۔‘

جسٹینین کی تاجپوشی سے ٹھیک چار ماہ بعد یکم اگست کو بادشاہ جسٹن اول کا انتقال ہو گیا۔ سلطنت روم اب جسٹینین اور تھیوڈورا کے ہاتھ میں تھی۔ ’وہ چھوٹی سی بچی جس نے کبھی ہپوڈروم میں سبز ٹیم کے سامنے اپنے خاندان کو فاقوں سے بچانے کے لیے بھیک مانگی تھی اب ملکہ بن چکی تھی۔ وہ تاریخ پر اپنا نشان چھوڑنے کے لیے پر عزم تھی۔‘

تاجپوشی کے بعد ہپوڈروم میں آمد جہاں تھیوڈورا تھیٹر پر ناچا کرتی تھی

ایونز اس دن کا منظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہپوڈروم میں ’زمین پر خدا کا نمائندہ اپنی ملکہ کے ساتھ اپنی عوام کے سامنے جلوہ افروز ہوا۔‘ سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا اور نئے شہنشاہ اور ملکہ کی شان میں نعروں سے گونج رہا تھا۔

انگریزی زبان کے شاعر اور ادیب رابرٹ براؤننگ نے جسٹینین اور تھیوڈورا کی زندگی پر اپنی مشہور کتاب میں اس دن کی منظر کشی کچھ یوں ’اسی ہپوڈروم میں جہاں اس نے اپنے عجیب کیریئر کا آغاز کیا تھا، اب شاہانہ انداز کی تصویر بنی چمکتے ہوئے ریشم اور روم کی ملکہ کے زیورات سے سجی ہوئی تھیوڈورا کے ذہن میں کیا چل رہا تھا؟ کیا اس کی اور گہری سوچ میں ڈوبے اور سنجیدگی کی تصویر بنے اس کے شوہر کی نظریں ملی ہوں گی، کیا انھوں نے اس لمحے تھیوڈورا کے ماضی کے بارے میں سوچا ہوگا؟ یا پھر اپنی بہن کومیٹا کے ساتھ اس کی نظریں ملی ہوں گی جو اب ایک جرنیل کی بیوی بننے والی تھی؟‘

براؤننگ لکھتے ہیں کہ ’ یہ ہم کبھی نہیں جان سکیں گے۔ لیکن ہم یہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ اس دن اس نے اپنی زندگی کی بہترین پرفارمنس دکھائی ہو گی۔‘

یہاں مستقبل میں پیش آنے والے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر ضروری جس سے شاید ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس دن وہ ہپوڈورم میں اپنے نئے کردار کے بارے میں کیا سوچ رہی تھی۔

تھیوڈورا کے لیے تخت اور تختہ کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں تھا

جسٹینین اور تھیوڈورا کی تاجپوشی کو پانچ برس گزر چکے تھے جب سنہ 532 میں استنبول میں فسادات پھوٹ پڑے جنھیں ’نائیکا فسادات‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ مختصراً ایک قتل کا معاملہ تھا۔ عوام دو ملزمان کی سزا کی معافی چاہ رہی تھی۔ ایک کا تعلق گھوڑوں کی نیلی اور دوسرے کا سبز ٹیم سے تھا۔ حکومت میں سب کا شاید خیال تھا کہ ان دونوں ٹیموں کے شائقین کی روایتی دشمنی کا فائدہ اٹھا کر حالات کنٹرول میں آ جائیں گے۔ لیکن، ایونز لکھتے ہیں، اس وقت ایک انہونی ہو گئی اور نیلی اور سبز ٹیم کے فین اکٹھے ہو گئے۔

نوبت یہاں تک ہہنچ گئی کہ استنبول کی تنگ گلیوں میں فوج کی غصے میں بپھرے ہوئے نوجوانوں کے گروپوں کے سامنے ناکامی کے بعد بات نئے شہنشاہ کی تلاش تک آ پہنچی۔ سینیٹ میں بھی اسی طرح کی تقریریں ہونے لگیں۔ ہجوم ہپوڈروم میں جمع ہو چکا تھا۔ ایونز لکھتے ہیں کہ سلطنت کے سب سے اہم جرنیل بیلیساریس بھی متفق تھے کہ جسٹینین کو فرار ہو جانا چاہیے۔ ’اس وقت جب جسٹینین خاموش، گھبرائے ہوئے اور بے یقینی کی کیفیت میں بیٹھے تھے کہ (اس کمرے میں موجود) تھیوڈورا اپنی جگہ سے اٹھی۔‘

اس زمانے کے مشہور مؤرخ پروکوپیس نے لکھا ہے کہ کہ یہ وہ وقت تھا جب سینیٹ میں تحمل کا پیغام دیا جا رہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ ’شاہی محل پر حملہ نہ کیا جائے، جسٹینین کو شہر سے جانے دیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ کوئی رسک لینے کی ضرورت نھیں۔‘

ایونز لکھتے ہیں کہ اس دن کے واقعات کے لیے تاریخ کا زیادہ تر انحصار مؤرخ پروکوپیس کی تحریروں پر ہے جو اول تو شاید موقع پر موجود تھے اور اگر نہیں بھی تھے تو انھیں آنکھوں دیکھے احوال سننے کو ملے ہوں گے۔

پروکوپیس لکھتے ہیں تھیوڈورا نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر سب سے پہلے بات کرنے کی جرات کرنے پر معافی مانگی۔ ’اسے احساس تھا کہ وہاں اتنے اہم عہدیداروں کے بیچ میں وہ واحد عورت ہے۔‘

پھر اس نے اپنی بات جاری رکھی کہ ’ہر انسان کا کبھی نہ کبھی مرنا لازم ہے، لیکن یہ لازمی نہیں کہ سب اپنی زندگی ملک بدری میں گزاریں۔ جسٹینین اگر بھاگنا چاہتا ہے تو جا سکتا ہے، جہاز تیار ہیں اور ابھی اپنے ساتھ شاہی خزانے کا بڑا حصہ لے جانے کا وقت بھی ہے۔ لیکن جہاں تک اس کا اپنا معاملہ ہے وہ مر جائے گی لیکن کبھی کسی ایسی جگہ نہیں جائے گی جہاں اسے ملکہ عالیہ کے علاوہ کسی اور طرح مخاطب کیا جائے۔‘

ایونز تبصرہ کرتے ہیں کہ یہ ایک ایسی مضبوط ارادوں والی عورت کی تقریر تھی جو معاشرے کی انتہائی گہرائیوں سے اٹھ کر آئی تھی اور جو اب دوبارہ پستی میں جانے کی بجائے مرنا پسند کرے گی۔

تاہم وہ کہتے ہیں کہ پروکوپیس نے جو الفاظ تھیوڈورا سے منسوب کیے وہ اگر وہ تعلیم یافتہ ہوتی تو تسلیم کیے جا سکتے تھے لیکن ضروری نہیں اس نے بالک اسی طرح بات کی ہو۔ تاہم وہ کہتے ہیں تھیوڈورا کا سکول تھیٹر تھا اور اگر اس کی تقریر اتنی اعلیٰ نہیں بھی تھی تو اتنی ڈرامائی ضرور رہی ہو گی۔

ان کے خیال میں ممکن ہے یہ تھیوڈورا کا ہی مشورہ ہو کہ اب ہجوم ہپوڈروم میں جمعہ ہے انھیں شکست دینا آسان ہو گا۔ استنبول کی تنگ گلیوں میں شاہی دستے مظاہرین سے نمٹنے میں ناکام رہے تھے لیکن جب سب لوگ ایک سٹیڈیم میں جمع تھے معاملہ مختلف تھا۔ ایونز لکھتے ہیں یہ جس کا بھی مشورہ تھا لیکن ہوا یہی کہ جرنیل بیلیساریس اپنے وفادار دستوں کے ساتھ ہپوٹروم گئے، بڑا قتل عام ہوا اور جسٹینین اور تھیوڈورا کا دور جاری رہا۔

ایونز لکھتے ہیں کہ فسادات نے جہاں بہت کچھ جلا دیا تھا وہیں شہر میں نئی تعمیرات کا موقع بھی فراہم کیا جن سے نہ صرف استنبول کی شکل بد گئی بلکہ شہر کے نوجوانوں کے لیے روز گار کے موقع بھی فراہم ہوئے۔ ایونز لکھتے ہیں ’ان میں شہر کا سب سے بڑا چرچ آیا صوفیہ بھی شامل تھا۔ پرانا آیا صوفیہ مکمل طور پر جل گیا تھا۔ ایونز تاریخی حوالوں سے بتاتے ہیں کہ پرانے چرچ کی تباہی کے صرف 40 دن کے بعد نئے آیا صوفیہ پر کام شروع ہو گیا تھا اور اس کام میں ’ہزاروں مزدور شامل تھے۔‘ اس نئے آیا صوفیہ کے ستونوں پر جسٹینین کے ساتھ ساتھ تھیوڈورا کا مونوگرام بھی آویزاں کیا گیا۔

تھیوڈورا کی محبت تھی یا کوئی کالا جادو

جسٹینین اور تھیوڈورا کا رشتہ عام شہنشاہ اور ملکہ کا رشتہ نہیں تھا۔ ایونز لکھتے ہیں،’جسٹینین کی طرف سے واضح تھا کہ تھیوڈورا اس کے اختیارات میں برابر کی شریک تھی۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ وہ دونوں اہم معاملوں میں اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کے ساتھ وفادار تھے ’جیسے کسی خاص طاقت نے انھیں آپس میں باندھ کے رکھا ہوا تھا۔ ایونز لکھتے ہیں کیا یہ ’باہمی حترام تھا؟ یا اپنی عوام کو کنفیوز کرنے کا طریقہ کہ وہ شہنشاہ کے خلاف ایک نہ ہو سکیں؟ یا پھر یہ کسی جادو ٹونے کا نتیجہ تھا؟‘

لوگوں کا حیران ہونا درست تھا۔ آج کے سیکولر دور میں دونوں فرقے ایک دوسرے سے اختلاف کرنے پر اتفاق کر کے ساتھ ساتھ رہ سکتے تھے لیکن، ایونز لکھتیے ہیں کہ ’بازنطین کا شہنشاہ زمین پر خدا کا نمائندہ تھا، اس کی سلطنت زمین پر جنت کا نمونہ تھی اور زمین پر جنت کی اس تصویر میں صرف ایک سوچ کی گنجائش تھی۔‘ بازنطین کی نظریاتی دنیا میں ’ایک سلطنت تھی، ایک مذہب تھا اور وفاداری اس بات کو تسلیم کرنا تھا۔‘ اور یہاں شہنشاہ چیلسیڈونین تھا اور ملکہ غیر قانونی قرار دیے گئے مونفیسائیٹ نظریے کی پیروکار۔

ملکہ تھیوڈورا کے نخرے

تھیوڈورا کو جب اختیار اور دولت حاصل ہوئی تو بتایا جاتا ہے کہ اس نے ان کے استعمال میں کوئی تکلف نہیں برتا۔ ’وہ دیر تک سوتی، ناشتے سے پہلے حمام میں وقت گزارتی‘ اور کھانے پینے کا خوب خیال رکھتی تھی۔

’اسے معلوم تھا کہ وہ ایک خوبصورت عورت ہے، اس نے ہمیشہ احتیاط برتی اور چہرے پر جھریوں سے بچنے کے لیے ان سے خیال رکھا کہ وہ اپنے آپ کو زیادہ نہ تھکائے۔‘

جسٹینین کا زیادہ تر وقت کام میں گزرتا تھا اور وہ کم کھاتا تھا۔ لیکن تھیوڈورا اپنے ایجنڈے کے مطابق چلتی تھی۔ وہ گرمیوں میں استنبول سے شمال میں ایک ساحلی مقام پر چلی جاتی تھی جس کا راستہ بہت مشکل تھا۔ لیکن مؤرخ لکھتے ہیں تھیوڈورا کو اس کی پرواہ نہیں تھی۔‘ تھیوڈورا کے نزدیک اس کا انتظام کرنا اس کے ماتحتوں کا مسئلہ تھا اس کا نہیں۔

کل کے نواب

جسٹینین اور تھیوڈورا شہنشاہ اور ملکہ تو بن گئے تھے لیکن سلطنت کی پرانی اشرافیہ کے لیے شاید وہ ایسے ہی تھے جیسے کوئی نو ’دولتیا‘ یا ’کل کے نواب۔‘ ایونز لکھتے ہیں کہ مسئلہ ان کا غریب پس منظر نہیں تھا۔ بازنطینی سلطنت میں مناسب رویہ اور تعلیم اشرافیہ میں داخلے کے راستے کھول سکتی تھی۔ مسئلہ یہ تھا کہ وہاں ’اصلاح کا تصور صرف غیر ضروری ہی نہیں بلکہ غلط اور خطرناک تھا،‘ اور جسٹینین اور تھیوڈورا تو تبدیلیاں لانا چاہتے تھے۔ وہ ان روایات کو بدلنا چاہتے تھے جن کو وقت کے ساتھ ساتھ تقدس حاصل ہو چکا تھا۔

تھیوڈورا کا ’جہاد‘

سب سے پہلے تو تھیوڈورا نے کم عمر لڑکیوں کی سمگلنگ کے خلاف ’جہاد‘ شروع کیا۔ سنہ 528 میں اقتدار میں آنے کے صرف ایک سال کے بعد اس نے استنبول میں سیکس کے کاروبار سے وابستہ افراد کو جمع کیا اور ان سے پچھلے ایک سال میں غریب ماں باپ سے خریدی گئی لڑکیوں کی تفصیل مانگی اور ہر شخص کو اس کی طرف سے خرچ کی گئی رقم ادا کر کے تمام لڑکیوں کو نہ صرف آزاد کیا بلکہ انھیں ایک ایک سونے کا سکہ اور نئے لباس بھی دیے اور شہر میں جسم فروشی کے تمام اڈے بند کر دیے گئے۔

تاہم اگر تھیوڈورا کا خیال تھا کہ اس طرح مسئلہ حل ہو جائے گا تو یہ اس کی سادگی تھی۔ کچھ لڑکیوں نے پھر بھی جسم فروشی جاری رکھی جنھیں پکڑ کر گناہوں کےکفارے کے لیے ایک کانونٹ بھیج دیا گیا۔

جسٹینین اور تھیوڈورا ایک ایسے روایت پسند معاشرے میں نئے طریقے تلاش کر رہے تھے جس میں تبدیلی سخت ناپسند کی جاتی تھی۔ خاص طور وہ تبدلیاں جو تھیوڈورا خاندانی نظام میں لانے کی کوشش کر رہی تھی۔ ایونز لکھتے ہیں وہ شادی میں عورت کو برتری دلوانا چاہتی تھی۔ ’پریشان حال عورتیں مدد کے لیے اس سے رجوع کر سکتی تھیں۔ روایت پسند شکایت کر رہے تھے کے تھیوڈورا ایک خاندان میں شوہر کی برتری ختم کر رہی تپی اور عورتیں منہ زور ہوتی جا رہی ہیں۔‘

تھیوڈورا کی سخاوت

روم کی سلطنت کے عظیم بادشاہ اور ملکائیں ہمیشہ سے مذہبی اور فلاحی اداروں کی سرپرستی کرتے آئے ہیں۔ ایونز لکھتےہیں تھیوڈورا بھی پیچے رہنے والی نہیں تھی۔ ملکہ بننے کے دو سال بعد سنہ 529 میں اس نے استنبول سے 80 کلومیٹر دور پائیتھین کا سفر کیا جہاں گرم پانی کے چشمے تھے۔ اس کی سواری جہاں سے گزری تاریخ بتاتی ہے اس نے اپنے رتبے اور دولت کی نمائش کی۔ اس سفر میں خادماؤں اور خواجہ سراؤں پر مشتمل چار ہزار افراد کا عملہ ان کے ساتھ تھا۔ وہ راستے میں پڑنے والے گرجا گھروں، خانقاہوں، ہسپتالوں کو عطیات دیتی گئی۔ جسٹینین نے تھیوڈورا کا رجحان دیکھتے ہوئے اس کے لیے گرم پانی کے ان چشموں کے قریب اسے ایک محل بھی بنوا دیا۔

مشرقی سلطنت رم کے تین شہشناہ: انستاسیس (430-518)، جسٹن اول (450-527)، جسٹینین (483-565)
،تصویر کا کیپشنمشرقی سلطنت روم کے تین شہشناہ: انستاسیس (430-518)، جسٹن اول (450-527)، جسٹینین (483-565)

استنبول کی پرانی اشرافیہ اور تھیوڈورا

لیکن اگر ایک طرف کچھ طبقات کو تھیوڈورا کے ملکہ بننے سے فائدہ ہوا اور ان کی شکایات دور ہوئیں وہیں وہ اشرافیہ بھی تھی جن کے لیے اس غلطی کی قیمت چکانے کا وقت آ گیا تھا جو انھوں نے تھیوڈورا کے سسر جسٹن کو شہنشاہ منتخب کرتے وقت کی تھی۔ وہ ان کے اندازے کے مطابق بوڑھا شہشناہ جسٹن جلد وفات تو پا گیا تھا لیکن اس سے پہلے وہ اپنے بھانجے جسٹینین کے شہنشاہ بننے کا راستہ ہموار کر گیا تھا۔

پرانی روایت کے مطابق،ایونز لکھتے ہیں، اعلیٰ حیثیت والے سینیٹر شہنشاہ کے سامنے پیش ہونے پر جھک کر اس کے دائیں سینے پر بوسہ دیتے تھے۔ عام طور پر سینیٹر ملکہ کو سلام نہیں کرتے تھے۔

لیکن یہ سب بدل گیا۔ جسٹینین اور تھیوڈورا نے نیا پروٹول نافذ کر دیا۔ ایونز لکھتے ہیں اب تمام سینیٹروں کے لیے لازمی تھا کہ وہ جھک کر شہنشاہ اور ملکہ دونوں کا ایک ایک جوتا چومیں۔ سینیٹر اس پروٹوکول سے ہانپتے کانپتے اٹھتے تھے لیکن تھیوڈورا کے نقطہ نظر سے یہ سب بہت ضروری تھا۔

اس کے علاوہ ایونز بتاتے ہیں ملکہ سے ملاقات کے خواہشمندوں کے لیے بھی صورتحال بالکل بدل چکی تھی۔ ’مونوفیسائیٹ فرقے کی کوئی ہستی پھٹے ہوئے اور بدبودار کپڑوں کے ساتھ ’معززین کو انتظار کرتا چھوڑ کر‘ قطار کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا ملکہ کے سامنے حاضر ہو جاتی تھی اور اعلیٰ عہدیداروں کو کئی بار یہ موقع گھنٹوں انتظار کے بعد ملتا تھا۔

ملکہ تھیوڈورا سے ملاقات کے خواہشمندوں اور درخواستگزاروں کو انتظار کے لیے ایک چھوٹے سے کمرے میں جمع کیا جاتا تھا۔ اشرافیہ اور عام آدمی میں کوئی تمیز نہیں کی جاتی تھی۔

تھیوڈورا سے دشمنی

تھیوڈورا سے دشمنی مول لینا سمجھ داری نہیں تھی۔ وہ کسی کا انکار کبھی نہیں بھولتی تھی۔ ’استنبول کی سڑکوں پر کہانیاں عام تھیں کہ کس طرح وہ اپنے مخالفین پر نظر رکھتی تھی۔۔۔۔۔اس کے ایجنٹ گلیوں کی گپ شپ پر دھیان رکھتے تھے اور جو اس کے خلاف باتیں پھیلاتا پایا جاتا تھا وہ لا پتہ ہو جاتا تھا۔ اسے خاموشی سے گرفتار کر لیا جاتا تھا اور پھر ایسے لوگوں کی رہائی صرف تھیوڈورا کے حکم پر ہی ممکن تھی۔‘

تھیوڈورا اس بات کو خاص طور دھیان میں رکھتی تھی کہ کوئی اس کے تھیٹر اور طوائف گلی کے ماضی کو موضوع بحث نہ بنائے۔ اسے اس بات کا بھی احساس تھا کہ اگر کوئی بات اس کے اور جسٹینین کے درمیان آ سکتی ہے وہ اس کے شادی کے بعد کسی غیر مرد سے تعلقات تھے اور اس طرح کی ممکنہ افواہوں پر خاص دھیان دیا جاتا تھا۔

تھیوڈورا کے زیادہ تر مخبر اس کے تھیٹر کے زمانے کے پرانے ساتھی تھے جنھیں اب شاہی محل تک بھی رسائی حاصل تھی۔ اس میں سے ایک اینٹونینا تھی جو اب تھیوڈورا کی وجہ سے جسٹینین کے اہم جرنیل بیلیساریس کی بیوی بن چکی تھی۔ اس زمانے کے مشہور مؤرخ پروکوپیس نے اپنی کتاب ’جنگوں کی تاریخ‘ میں تھیوڈورا سے زیادہ اینٹونینا کا ذکر کیا ہے۔ پروکوپیس دراصل بیلیساریس کا لیگل سیکرٹری تھا اور اس نے بہت کچھ جو لکھا وہ آنکھوں دیکھا حال تھا۔

اینٹونینا
،تصویر کا کیپشناینٹونینا: تھیوڈورا کے زیادہ تر مخبر اس کے تھیٹر کے زمانے کے پرانے ساتھی تھے جنھیں اب شاہی محل تک بھی رسائی حاصل تھی۔ اس میں سے ایک اینٹونینا تھی۔ مؤرخ لکھتے ہیں کہ انھوں نے مل کر انتہائی مہارت اور بے رحمی سے 'پاورگیم' کھیلی جس میں ایک پاپائے روم کو بھی منصب سے ہٹوانا بھی شامل ہے۔

تھیوڈورا اور اینٹونینا

ایونز لکھتے یں کہ تھیوڈورا اور اینٹونینا کی عجیب و غریب دوستی تھی جس میں دونوں طرف ذاتی مفاد بھی تھا لیکن انھوں نے مل کر انتہائی مہارت اور بے رحمی سے ’پاورگیم‘ کھیلی۔ ان دونوں نے نہ صرف جسٹینین کے ایک انتہائی قریبی ساتھی کو حکومت سے الگ کروایا جو محکمہ ٹیکس کا انچارج تھا بلکہ تھیوڈورا کی مذہبی پالیسی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے ایک پاپائے روم کو بھی اپنے منصب سے اتروا دیا۔ ان تفصیلات سے پہلے تھیوڈورا کے ان اقدام کا ذکر جن کے تحت اس نے اپنے ہرانی ساتھیوں اور کچھ رشتہ داروں کو اشرافیہ کا حصہ بنایا۔

تھیوڈورا کے رشتہ داروں کی اشرافیہ سے شادیاں اور شکایت کے ڈانسر کنواری نہیں

ایٹونینا واحد نہیں تھی جسے تھیوڈورا اقتدار کے حلقوں میں لے کر آئی۔ سلطنت کی طاقتور ترین عورت کی حیثیت سے وہ اشرافیہ کی شادیوں میں بہت دلچسپی لیتی تھی اور اپنی مرضی سے رشتے طے کرتی اور تڑواتی تھی۔ اس نے اپنی شادی سے پہلے کسی تعلق سے پیدا ہونے والی بیٹی کے لیے سابق بادشاہ انستاسیس کے خاندان میں رشتہ تلاش کیا۔

اپنی بھانجی صوفیا کے لیے اس نے جسٹینین کی بہن کے بیٹے کا انتخاب کیا۔ شاہی محل میں ایک سابق ڈانسر تھیوڈورا کے مہمان کے طور پر رہتی تھی۔ اس نے اس ڈانسر کی بیٹی کی شادی ایک اعلیٰ عہدیدار کے بیٹے سٹرنینس سے کروا دی۔

سٹرنینس کی پہلے ہی اپنے ’ہم پلہ‘ ایک خاندان میں منگنی ہو چکی تھی جو ملکہ کے حکم پر توڑ دی گئی۔ شادی کی رات سٹرنینس نے شکایت کر دی کہ اس کی بیوی جو ڈانسر کی بیٹی کنواری نھیں۔ تھیوڈورا نے یہ شکایت سن کر سٹرنینس کو ایک کمبل میں ڈلوا کر اپنے عملے سے کوڑے لگوائے۔ مؤرخ تبصرہ کرتے ہیں کہ جب بادشاہ جسٹینین نے اپنی شادی کے وقت تھیوڈورا کے کنوراے ہونے پر اعتراض نھیں کیا تھا تو سٹرنینس کی ایسا کرنے کی کیا جرات۔

تھیوڈورا کی بھتیجی کا رشتہ

جسٹینین کی بہن کی بیٹی کا پہلا خاوند افریقہ میں فوجی مشن کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔ اس کے بعد تھیوڈورا نے اس کا رشتہ آرمینیا کے ایک طاقتور قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک سپاہی ارطابانیس سے طے کیا گیا۔ ارطابانیس پہلے ایرانی سلطنت کی فوج کا حصہ تھا جہاں سے وہ فرار ہو کر وہ بازنطینی سلطنت کی فوج میں بھرتی ہو گیا تھا۔ جسٹینین کی بھتیجی آرمینیا کے پرانے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے اس خوبرو فوجی ارطابانیس کے عشق میں مبتلا ہو چکی تھی۔ دونوں کی شادی کے دن قریب آ رہے تھے جب آرمینیا سے ایک عورت تھیوڈورا کے سامنے پیش ہوئی اور ارطابانیس کی بیوی ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس نے کہا کہ اس نے خاموشی سے تمام زندگی آرمینیا میں گزاری جب اس کا شوہر فوجی مہمات میں مصروف تھا۔ اس نے کہا اب اس کا شوہر سپاہی سے ترقی کر کے بڑے عہدے تک پہنچ چکا ہے تو اس نے نئی شادی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

تھیوڈورا نے اس آرمینیائی عورت کی بات سن کر جسٹینین کی بھتیجی اور ارطابانیس کا رشتہ ختم کر دیا اور ارطابانیس کو حکم دیا کہ وہ اپنی پہلی بیوی کے واپس چلا جائے۔ اس نے جسٹینین کی بھتیجی کے لیے نیا رشتہ تلاش کیا اور اس کی شادی سابق بادشاہ انستاسیس کے خاندان کے ایک امیرزادے سے کروا دی۔

اس فیصلے کے ایک سال بعد تھیوڈورا کی وفات ہو گئی اور ارطابانیس نے اپنے بیوی کو طلاق دے دی لیکن اس کی جسٹینین کی بھتیجی سے شادی کی خواہش پوری نہ ہو سکی کیونکہ جسٹینین نے اسے گوتھ باغیوں سے نمٹنے کے لیے سِسلی تعینات کر دیا۔

تھیوڈورا، پاپائے روم اور مذہب کی جنگ

شہنشاہ جسٹینین اس سے پہلے آنے والے حکمرانوں کی طرح سلطنت میں مذہبی باغیوں کا تھا۔ ’سلطنت کی وحدانیت خطرے میں تھی۔‘ لوگوں کے ذہن میں ابھی تک چرچ ایک تھا اور اس چیز کا کوئی تصور نہیں تھا کہ نجات کے دو راستے بھی ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ ناممکن نہیں تھا اور جسٹینین کو اس بات کا احساس ہو گیا تھا چیلسیڈونین اور مخالف نظریوں کے اختلافات حد سے بڑھ سکتے ہیں۔

ایونز لکھتے ہیں کہ جسٹینین نے ایک قانون میں لکھا تھا کہ ’مجھے بدعت سے نفرت ہے‘۔ انھوں نے اپنے دور کا آغاز غیر مسیحیوں اور مختلف سوچ رکھنے والے مسیحیوں دونوں کے خلاف سخت اقدامات کے اعلان سے کیا۔

لیکن، ایونز بتاتے ہیں کہ مونوفیسیائٹ کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ صرف قانون پاس کرنے سے وہ ختم ہونے والے نہیں تھے اور اگر جسٹینین کو خود یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی تو اسے سمجھانے کے لیے تھیوڈورا موجدو تھی۔ سنہ 531 تک جسٹن کو سمجھ آ چکی تھی مذہبی مخالفین کے خلاف بنائے گئے قوانین کام نہیں کر رہے تھے۔ جسٹینین نے سختی کا راستہ چھوڑ کر تھیوڈورا کی بات مانتے ہوئے ڈائیلاگ کی راہ اپنانے کا سوچا۔

استنبول میں تقریباً ایک سال جاری رہنے والے ڈائیلاگ کے نتیجے میں مذہبی اختلاف کا مسئلہ ہونے کے قریب تھا۔ ’ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ زخم جس نے مسیحی دنیا کو عرصے سے پریشان کر رکھا ہے وہ بھرنے والا تھا۔ اب سب کچھ روم کے بشپ کے ہاتھ میں تھا۔‘ اور بالآخر اس وقت کے پاپائے روم نے بھی مسیحیت کے بارے میں شہنشاہ کی منظورہ شدہ تشریح کی منظوری دے دی لیکن اس کے کچھ ہی عرصے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

اب روم میں نئے بشپ اگاپیٹس تھے۔ اگاپیٹس کافی بڑی عمر میں پاپائے روم بنے تھے اور مذہبی باغیوں اور چیلسیڈونین نظریات سے مخالفت کرنے والوں کے لیے ان میں بالکل برداشت نہیں تھی۔ انھوں نے استنبول میں ہونے والے ڈائیلاگ میں شریک تمام چیلسیڈونین مخالفین کو مذہب سے خارج کر دیا۔

ایونز لکھتے ہیں شہنشاہ جسٹینین اس بوڑھے پادری کے سامنے گھبرا گئے تھے۔ تھیوڈورا کے بر عکس ان کی تربیت میں پاپائے روم کے احترام کو بہت اہمیت حاصل تھی اور ان کی طرف سے مذہب سے خارج کیے جانے کا خیال ہی جسٹینین کے لیے بہت خوفناک تھا۔ ’اگاپیٹس کا دورہ انتہائی مختصر تھا لیکن انھوں نے مسیحیت کی تاریخ کا رخ بدل دیا اور چیلسیڈونین اور مونوفیسائیٹ کو ایک بار پھر ٹکراؤ کی راہ پر ڈال دیا۔‘

’تھیوڈورا کے لیے یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھا۔ اس کی پناہ میں مونفیسائٹ فرقے کے سینکڑوں کے افراد گرفتار کر لیے گئے اور انھیں سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے لیے تسلی کی واحد بات صرف یہ تھی کہ نظریات کی جنگ میں بے شک جسٹینین نے اس کے دشمنوں کا ساتھ دیا تھا لیکن ذاتی سطح پر اس کی تھیوڈورا سے محبت اپنی جگہ قائم تھی۔‘

ایونز لکھتے ہیں کہ ایک اہم چیلسیڈونین مخالف شخصیت اینتھیمس کو پکڑنے کے لیے مختلف ٹیمیں روانہ کی گئیں لیکن وہ ناکام رہیں۔ جسٹینین کو تھیوڈورا پر شک تھا لیکن انھوں نے کبھی معاملے میں دباؤ نہیں ڈالا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ تھیوڈورا کی وفات کے برسوں بعد شاہی محل میں ہی تھیوڈورا کے نجی حصے میں وہ جگہ ملی جہاں اینتھیمس چھپے ہوئے تھے۔ ایونز لکھتے ہیں اس حصے میں تمام ملازمین مونوفیسائیٹ فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور تھیوڈورا کے وفادار تھے اور انھوں نے کبھی بات باہر نہیں نکلنے دی۔

تھیوڈورا اور اپنی مرضی کے شخص کو پاپائے روم بنانے کی کوشش

پاپائے روم اگاپیٹس کے ہاتھوں تھیوڈورا کو بہت ہی تکلیف دہ شکست ملی تھی۔ تاہم تھیوڈورا نے صورتحال کا از سر نو جائزہ لیا اور نتیجہ اخذ کیا کہ ابھی سب کچھ نہیں بگڑا۔

ایک اور شخص جس کو اس بات کی سمجھ تھی وہ روم سے سابق پاپائے روم اگاپیٹس کے ساتھ استنبول آنے والے ایک پادری ویجیلس تھے جن کی خود اس عہدے پر نظریں تھی۔ انھوں نے تھیوڈورا سے وعدے کیے کہ وہ اگر اس کی پاپائے روم بننے میں مدد کرے تو وہ تھیوڈورا کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ تھیوڈورا نے ان کو اپنی حمایت کے ساتھ روم روانہ کیا لیکن ان کے روم پہنچنے سے پہلے ہی وہاں پر ایک اور اعلیٰ پادری سلویریس نے اٹلی کے اس وقت کے اوسٹروگوتھ بادشاہ کی مدد سے اپنے آپ کو پاپائے روم بنوا لیا تھا۔

تھیوڈورا اتنی جلدی ہار ماننے والی نہیں تھی۔ اور کئی دیگر مواقع کی طرح ایک بار اس کا ہتھیار اس کی تھیٹر کے زمانے کی ساتھی اور اب سلطنت کے سب سے اہم جرنیل بیلیساریس کی بیوی اینٹونینا بنی۔ رومی فوجیں اٹلی دوبارہ فتح کرنے کے لیے تیار تھیں اور اینٹونینا نے پاپائے روم سلویریس پر شہنشاہ جسٹینین کے خلاف غداری کا الزام لگا کر عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔

یہ الزام سچا تھا یا اینٹونینا کی اپنی یا تھیوڈورا کے ساتھ مل کر تیار کی گئی سازش اس پر مختلف آرا موجود ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سلویریس کو پاپائے روم کا عہدہ چھوڑنا پڑا اور ویجیلس پاپائے روم بن گئے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ انھوں نے عہدہ سنبھالتے ہی تھیوڈورا سے کیے گئے تمام وعدے بھلا دیے۔ تھیوڈورا نے اپنا آخری پتا کھیل دیا تھا اور وہ ہار گئی تھی۔ وقتی طور پر وہ صرف غصہ ہو سکتی تھی۔

جسٹینین اور تھیوڈورا کا ’ٹیم ورک‘

ایونز لکھتے ہیں لوگوں کو کچھ سمجھ نھیں آ رہا تھا۔ ’یہ ایک ایس شادی تھی جو شادی کے اس عام تصور کو جھٹلا رہی تھی جس میں مرد خاندان کا سربراہ ہوتا تھا۔‘

ایونز کے خیال میں’جسٹینین کے لیے اسی میں فائدہ تھا کہ چیلسیڈونین مخالف لوگ سمجھیں کہ شاہی دربار میں ان کا کوئی ہمدرد ہے اور اس کام کے لیے ملکہ سے بہتر کون ہو سکتا تھا جس کی شہنشاہ سے وفاداری ہر شک سے بالاتر تھی۔۔۔۔تھیوڈورا نے مرکزی دھاروں سے باہر ان لوگوں کی طرف ہاتھ بڑھایا جن کو ضرورت تھی کہ کوئی ان کے لیے آواز اٹھائے۔‘

تھیوڈورا کی اپنی موت کے برسوں بعد آخری کامیابی

تھیوڈورا سنہ 548 میں وفات پا گئی۔ جسٹینین اس کے بعد 17 برس زندہ رہا اور سنہ 565 میں وفات پائی۔

شہنشاہ جسٹینین کے تقریباً چالیس سالہ دور میں رومی سلطنت میں اہم واقعات ہوئے جن میں تمام قوانین ایک جگہ اکٹھے کیے گئے اور جس مجموعے کو ’جسٹینین کوڈ‘ کہا جاتا ہے، سنہ 541 میں بہت بڑی وبا نے تباہی مچائی، مشرق میں ایران کے ساتھ جنگی مہمات ہوئیں اور سلطنت کے یورپی اور دیگر دشمنوں کے خلاف کامیاب جنگوں کے بعد شمالی افریقہ اور اٹلی میں علاقے واپس حاصل کیے گئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ فتوحات زیاد دیر پا ثابت نہیں ہوئیں کیونکہ چند دہائیوں بعد 7ویں صدی میں اسلام آمد کے بعد بازنطینی کو بہت سے علاقوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ تاہم یہ آج کا موضوع نہیں۔ یہ کہانی تھیوڈورا کی اور جسٹینین کے ساتھ اس کی محبت کی ہے۔

ان دونوں کے زندگی میں مذہبی معاملات میں جو بھی تھے وہ اس وقت ختم ہو گئے جب جسٹینین نے اپنے وفات سے پہلے چیلسیڈونین نظریے سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا۔ مؤرخ لکھتے ہیں تھیوڈورا نے چرچ کو تقسیم تو نہیں کیا تھا لیکن اس کی راہ ضرور ہموار کی۔

شہنشاہ جسٹینین کی چیلسیڈونین نظریے سے لاتعلقی کے بارے میں ایونز لکھتے ہیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھا اور مذہبی علوم کا ماہر تھا لیکن اس کے ذہن میں شکوک تھے۔ ’اس نے مذہب کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے راتوں کو جاگ کر غور کیا۔ اور اپنی موت کے وقت بالآخر وہ کسی نتیجے پر پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور اسے جو جواب ملا وہ چیلسیڈونین نظریات میں نہیں تھا بلکہ پاپائے روم کے قبول شدہ نظریے سے ایک انتہائی مخالف سوچ میں ملا۔‘

مؤرخین کا خیال ہے کہ شاہی محل کے اندرونی حصے میں تھیوڈورا کے ساتھ تنہائی کے لمحات میں ہونے والی مذہبی بحثوں نے شاید وہ شک کا بیج زندہ رکھا جو وقت کے ساتھ بڑھتا گیا۔

روایات کے مطابق جسٹینین تھیوڈورا کی وفات کے بعد جتنے دن زندہ رہا ہر روز اس کی قبر پر جاتا رہا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *