جب میں ایک چھوٹا آدمی تھا!

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ایک بڑا آدمی تھا۔ دنیا کی ہر آسائش مجھے میسر تھی۔ میری کہی ہوئی ہر بات زبان زدِ خاص و عام ہو جاتی تھی۔ پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز میرے آگے پیچھے پھرتے تھے۔ اخبارات کے نمائندے بھی میری ٹوہ میں رہتے کہ موقع ملے تو وہ میرے منہ سے نکلی ہوئی کسی بات کو اپنے اخبار کی ہیڈلائن بنا سکیں۔

مجھے اگر کبھی دو تین چھینکیں آجاتیں تو وہ بھی خبر بن جاتی۔ میں اپنے باطن میں ایک آزاد منش انسان تھا۔ مجھے اس طرح ہر وقت گھیراؤ میں رہنا پسند نہیں۔

میرا جی چاہتا تھا کہ میں ادّھے پہلوان کی طرح دکان سے ’’ارِڑکا‘‘ پیوں، پٹھان کے ٹھیلے سے مسالا لگی ابلی ہوئی ’’چھلی‘‘ کھاؤں، اپنی کار خود ڈرائیو کروں بلکہ کبھی کبھی میرا جی چاہتا تھا کہ موٹر سائیکل پر گھوموں پھروں، سینما میں فلم دیکھنے کیلئے لائن میں لگ کر ٹکٹ خریدوں لیکن میری ان خواہشات کا پورا ہونا ممکن نہ تھا کیونکہ میں ایک بڑا آدمی تھا۔

بڑا آدمی چھوٹے لوگوں میں اس طرح گھل مل نہیں سکتا!میرا مسئلہ صرف یہی نہیں تھا جو میں نے اوپر بیان کیا ہے بلکہ ایک مسئلہ اس کے علاوہ بھی تھا اور وہ یہ کہ میں اپنے اسٹاف کے نچلے سے نچلے درجے کے ملازم کو بھی برابر کی سطح پر ملنا چاہتا تھا لیکن جب کبھی میں اپنی سیٹ سے اٹھ کر اچانک ان کے کمرے کی طرف جا نکلتا تو وہ ہنسنا بھول کر یکدم مؤدب ہو جاتے بلکہ خوفزدہ نظر آنے لگتے۔

وہ صرف مجھ سے نہیں، میرے بچوں سے بھی اتنے مؤدب انداز میں ملتے تھے کہ مجھے شرم آنے لگتی لیکن ایک دن میں نے سوچا کہ میں اپنی زندگی اپنی خواہشات کے برعکس گزار رہا ہوں، جب خدا نے مجھے سب کچھ دیا ہے، میری تمام بڑی بڑی خواہشات پوری کی ہیں تو کیا مجھے شکرانے کے طور پر اس کے بندوں کے ساتھ انسانی رویہ اختیار نہیں کرنا چاہئے؟

پھر سب سے بڑی بات یہ کہ جب مجھے یہ سب کچھ پسند بھی نہیں ہے تو پھر یہ مصنوعی زندگی گزارنے کی مجھے کیا ضرورت ہے؟ میں نے زندگی کا ایک طویل عرصہ یورپ میں گزارا ہے۔ وہاں بندہ و آقا میں یہ تمیز نہیں ہے چنانچہ یورپ والوں کے اس رویے کا میرے ذہن پر ایک مثبت نقش تھا۔

اس کے علاوہ میرے والدین کی تربیت نے بھی مجھے یہ بات سمجھائی تھی کہ تم لوگوں سے وہی سلوک کرو جس کی تم لوگوں سے اپنے لئے خواہش کرتے ہو لیکن طاقت اور اختیار کے مستقل نشے سے یہ تعلیمات میرے ذہن میں آہستہ آہستہ دھندلاتی چلی گئیں تاہم ضمیر کی ایک خلش سی تھی جو گاہے گاہے مجھے بےچین کرتی تھی چنانچہ میں نے فیصلہ کر لیا کہ اب میں ویسی ہی زندگی گزاروں گا جیسی میں گزارنا چاہتا ہوں کیونکہ میں بڑا آدمی ہوں، بُرا نہیں۔

یہ فیصلہ کرنے کے بعد میں نے خود کو بہت ہلکا پھلکا محسوس کیا۔ میں نے ملازموں کو سلیوٹ مارنے، گاڑی کا دروازہ کھولنے اور اس نوع کے دوسرے ادب آداب سے پوری سختی کے ساتھ منع کردیا چنانچہ اب میں دفتر سے باہر نکلتا تھا تو میرے ملازم اپنی گفتگو میں محو رہتے تھے۔

کوئی آگے بڑھ کر میرے ہاتھ سے میرا بریف کیس نہیں پکڑتا تھا، نہ کوئی میری کار کا دروازہ کھولتا اور نہ مجھے کوئی سلیوٹ مارتا، میں ان کے قریب سے گزرتے ہوئے انہیں سلام کرتا، کوئی مصافحہ کیلئے ہاتھ آگے بڑھاتا تو پوری گرمجوشی سے اس سے مصافحہ کرتا۔ اب میں انکی خوشی اور غمی میں بھی شریک ہونے لگا تھا اور یوں وہ بھی مجھے کوئی آسمانی مخلوق سمجھنے کے بجائے اسی کرہٴ ارض کا ایک باشندہ سمجھنے لگے تھے۔

میں نے محسوس کیا کہ اب وہ میرا ظاہری ادب و احترام ہی نہیں کرتے بلکہ دل سے مجھ سے محبت بھی کرنے لگے ہیں۔ مجھے لگا جیسے میں پہلے سے بہت بہتر زندگی بسر کر رہا ہوں۔ پہلے میں خوشیوں کی تلاش میں رہتا تھا، اب خوشیاں میری تلاش میں رہتی تھیں۔

میرے ضمیر کی خلش بھی مٹ گئی تھی، میری نیند بھی بہت پُرسکون ہو گئی تھی، میں اب شاید واقعی بڑا آدمی تھا!

لیکن میرا یہ معمول ایک ماہ سے زیادہ جاری نہ رہ سکا۔ میرے ذہن میں یہ خیال کلبلانے لگا کہ میں نے جو اتنی دولت کمائی ہےکیا یہ سب کچھ اس لئے تھا کہ میں ایک عام آدمی کی زندگی بسر کروں۔

میں گھر سے نکلوں تو کوئی ملازم مجھے کار تک چھوڑنے بھی نہ آئے، دفتر پہنچوں تو میرا پُرتپاک استقبال نہ ہو، مجھ سے نہ کوئی ڈرے، نہ کوئی بِدکے بلکہ ہر کوئی مجھے اس طرح ٹریٹ کرے جیسے میں انہی میں سے ایک ہوں، تزک و احتشام، دبدبہ، امتیازی حیثیت، میں سب سے محروم ہو گیا تھا۔

اب لوگ مجھ سے ڈرتے نہیں تھے، محبت کرتے تھے مگر دبدبہ بھی تو کوئی چیز ہے جس سے میں محروم ہو گیا تھا۔ میں اپنے طبقے کے لوگ مجھے حقیر سمجھنے لگے تھے۔ میں نے سوچا کتابی باتیں اور ہوتی ہیں اور عملی زندگی کے حقائق کچھ اور… چنانچہ میں نے واپس اپنی پہلی والی زندگی میں لوٹنے کا فیصلہ کیا!

سو میں ایک بار پھر وہی آسمان سے اُتری ہوئی مخلوق تھا جس سے در و دیوار لرزہ براندام رہتے تھے، جس سے گفتگو کے دوران اس کے رعب کی وجہ سے مخاطب کی زبانیں گنگ ہو جاتی تھیں، جس سے ملاقات کیلئے اس کے عزیز و اقارب کو بھی ٹائم لینا اور مہینوں انتظار کرنا پڑتا تھا۔

میں اپنی آمد پر چہروں کی اڑی ہوئی رنگت دیکھتا تھا تو خوش ہوتا تھا، کسی کو تھپکی دیتا تو مارے مسرت کے اس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے تھے اور میری ناخوشی کے کسی اظہار پر اس کی راتوں کی نیندیں اڑ جاتی تھیں۔

میں نے اپنے رویے میں اس تبدیلی اور لوگوں کو دوبارہ اس کا عادی بنانے کے مراحل ایک دو دنوں ہی میں طے کر لیے تھے۔ اور یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں ایک چھوٹا آدمی تھا!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *