ججوں اور سرکاری ملازمین کو پلاٹس الاٹ کرنے کی اسکیم غیر آئینی قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے خصوصی سیکٹرز میں وفاقی ملازمین اور ججز کے لیے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائیز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے) کی پلاٹ اسکیم کو غیر آئینی اور عوامی مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کے اثاثے صرف عوام کے مفاد میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

اپنے تحریری فیصلے میں عدالت نے وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے سیکریٹری کو 2 ہفتوں کے اندر وفاقی کابینہ کے سامنے معاملہ رکھیںنے کی ہدایت کی تا کہ وہ ایف جی ای ایچ اے یا سی ڈی اے آرڈیننس کے تحت مستقبل میں متعارف کرائی جانے والی اسکیم کے تناظر میں عدالتی حکم کے مطابق پالیسیز تشکیل دیں۔

عدالت نے کہا کہ اسلام آباد کے سیکٹر ایف-12، جی-12، ایف-14 اور ایف-15 میں متعارف کرائی جانے والی اسکیم اور نظرِ ثانی شدہ پالیسی عوامی مفاد کی توہین اور عوام کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اس لیے یہ غیر آئینی اور بغیر کسی اختیار کے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ایف جی ای ایچ اے اور وفاقی حکومت کو ایف جی ای ایچ اے ایکٹ یا سی ڈی اے آرڈیننس کے تحت کوئی ایسی اسکیم شروع کرنے یا پالیسی بنانے کا اختیار نہیں جو عوامی مفاد کے برعکس اور آئینی حقوق کے خلاف ہو۔

فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت کی بنائی گی پالیسی کے مطابق ایف جی ای ایچ اے کی شروع کی گئی اسکیم کی آئینی اسکروٹنی کرائی جائے گی کہ کیا یہ عوام کے مفاد میں ہے یا صرف طاقتور طبقے کے فائدے کے لیے ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ۔نامور ڈومین کی موروثی مداخلت کی طاقت کے ذریعے حاصل کیے گئے ریاست کے اثاثے صرف عوام کے مفاد میں استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ وفاقی کابینہ سیکٹر ایف-12، جی-12، ایف-14 اور ایف-15 کی ترقی کے لیے ایسی پالیسی تشکیل دیں جو قومی خزانے کے خرچے پر چند اشرافیہ کے بجائے عوامی مفاد اور عوام کے فائدے میں ہوں۔

ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ فیصلہ کسی بھی طرح سے تعصب، مداخلت یا ان جائیداد کے مالکان کے حق میں حاصل ہونے والے حقوق کو متاثر نہیں کرے گا جو سیکٹرز جی-12، ایف-12، ایف-14 اور ایف-15 کے حصول کی کارروائی کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔

عدالت نے کہا کہ ایف جی ای ایچ اے کی متعارف کرائی گئی اسکیم عوام کے مفاد کے بجائے ان کے آئینی حق کی خلاف ورزی تھی اور وہ ادارے یا افراد جو اس سے مستفید ہونے والے تھے چاہے وفاقی ملازمین، ججز ہوں وہ پاکستان کے عوام کی خدمت کے لیے عہدے رکھتے ہیں۔

فیصلے میں کہا گیا کہ سرکاری عہدیدار اپنے مفاد کے لیے کوئی فائدہ تشکیل نہیں دے سکتے جو عوام کی فلاح و بہبود کی توہین ہو۔

عدالت نے مزید کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ اسکیمز اور نظرِ ثانی شدہ پالیسی عوامی مفاد کے برعکس اور آئینی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اشرافیہ کی گرفت اور مفادات کے ٹکراؤ کے اوصاف واضح ہیں۔

عدالت کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خزانے اور عوام کو بھاری نقصان پہنچانے کی قیمت پر چند طاقتور اشرافیہ کی افزودگی آئین کے تحت چلنے والے معاشرے میں ناقابل تصور ہے۔

ساتھ ہی کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کو اوپر بتائے گئے گہرے نتائج کے حوالے سے اندھیرے میں رکھا گیا ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ منتخب نمائندوں کی حیثیت سے انہیں صرف عوام کے بہترین مفاد میں پالیسیاں بنانے کا اختیار دیا گیا ہے، بجائے اس کے کہ وہ چند طاقتور اشرافیہ کو عوامی مفادات کی تذلیل کرتے ہوئے فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کریں۔