جج ملک نثار احمد اور اپنے حق کے لیے ڈٹ جانے والی نڈر خاتون کی کہانی جس نے طلاق کے بعد شوہر سے نان نفقے کے لاکھوں روپے نکلوائے

یہ سیالکوٹ کی فیملی کورٹس کے ایک سینیئر سول جج ملک نثار احمد کی عدالت میں آنے والی سینکڑوں خواتین میں سے ایک باہمت خاتون کی کہانی ہے۔ سالہا سال عدالتوں کے چکر لگانے کے بعد جو خواتین ان کی عدالت میں پہنچتی ہیں، 'وہ اپنے پیسے لے کر گھر جاتی تھیں۔'

ان میں سے کئی خواتین کے بچوں کو کینسر تھا، کچھ کے پاس بچوں کو کپڑے اور جوتے دلوانے کے پیسے نہیں ہوتے تھے تو کئی خواتین اور ان کے بچوں کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہیں تھی۔ طلاق ملنے کے بعد وہ بے یارو مددگار تھیں۔

ان کے شوہر ان کو بچوں کے خرچ کی وہ رقم بھی ادا کرنے سے انکاری تھے جو قانونی طور پر ان کا حق تھا اور یہ خواتین کئی سالوں سے بے سود عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھیں۔ جج نثار ملک چند روز کے اندر انھیں نان نفقہ کی رقم ان کے سابق شوہروں سے نکلوا کر دیتے تھے۔

گذشتہ تقریباً دو برس کے دوران وہ پانچ سو سے زیادہ خواتین کو 22 کروڑ سے زیادہ کی رقم دلوا چکے تھے جس میں پانچ کروڑ کا جہیز کا سامان بھی شامل تھا۔ سیالکوٹ کے ایک مضافاتی علاقے کے چھوٹے سے مکان کی رہائشی صائمہ بی بی بھی ان میں سے ایک ہیں۔

اول تو ان کی شادی ان کی مرضی سے نہیں ہوئی۔ وہ اس وقت 17 برس کی تھیں۔ جس شخص سے ان کی شادی ہوئی ان کی عمر 45 برس تھی، پہلی بیوی وفات پا چکی تھیں اور ان کے چار بیٹے تھے۔ لیکن وہ سعودی عرب میں 'اچھے پیسے کماتے تھے' اس لیے صائمہ بی بی کی والدہ نے اس رشتے کے لیے ہاں کر دی۔

پھر وہ طلاق بھی نہیں لینا چاہتی تھیں۔ سعودی عرب میں اپنے خاوند کے ساتھ رہتے انھیں پندرہ برس بیت چکے تھے۔ ان کی اپنی چار بیٹیاں تھیں اور ایک چھوٹا بیٹا۔ صائمہ جب سعودی عرب پہنچیں تو انھیں معلوم ہوا تھا کہ ان کے خاوند 2200 ریال ماہانہ پر ڈرائیور کی نوکری کرتے تھے۔

ان کی بچیاں اچھی تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور خود محنت مزدوری کر کے صائمہ نے ان کے اخراجات پورے کرنے میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹایا تھا۔ 'میں نے اپنے بچوں کی ماہانہ فیس 800 ریال تک بھی ادا کی ہے۔ مجھے بہت شوق تھا کہ میرے بچے پڑھیں۔'

طلاق ملنے کی صورت میں ان کے پاس کوئی پناہ نہیں تھی۔ ان کے والدین اور اکلوتے بھائی کا پہلے ہی انتقال ہو چکا تھا اور ان کی اپنی ذاتی ملکیت کوئی نہ تھی۔

تاہم جب ان کے سوتیلے بیٹے جوان ہوئے تو والد کے ساتھ مل کر ان کا صائمہ اور ان کے بچوں کے ساتھ جائیداد کو لے کر تنازعہ شروع ہوا اور بات یہاں تک پہنچی کہ پہلے صائمہ اپنے بچوں کو لے کر واپس اپنے آبائی شہر سیالکوٹ منتقل ہوئیں اور پھر ان کے شوہر نے انھیں طلاق بھجوا دی۔

طلاق کے کاغذات انھوں نے کئی مرتبہ واپس بھجوائے، وہ ہر مرتبہ دوبارہ آئے۔ کچھ عرصہ میں ان کی طلاق ڈگری ہو گئی۔ ان کے خاوند نے اپنے پانچ بچوں کو نہ تو اپنے پاس رکھا اور نہ ہی کبھی ان کا خرچ ادا کیا۔

وہ اب انھیں اور بچوں کو سیالکوٹ میں اپنے اس گھر سے نکالنے کے حیلے کر رہے تھے جس میں سے نکلنے سے صائمہ نے انکار کر دیا تھا۔ سیالکوٹ کے مضافاتی علاقے میں واقع ایک چھوٹے سے گھر کے صحن میں لگی مشین پر چارا کاٹتے ہوئے صائمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ گھر سے کیوں نہیں نکلنا چاہتی تھیں۔

'میری تو عزت خاک ہو ہی گئی تھی، میں اپنی جوان بیٹیوں کی عزت کا تماشا نہیں بنانا چاہتی تھی انھیں کرائے کے گھروں میں رکھ کر۔' لیکن صائمہ کو نکالنا مشکل کام ثابت ہوا تھا۔ 'وہ مجھ سے ڈرتے بھی تھے۔ وہ جانتے تھے کہ میں اپنے حق کے لیے ڈٹ کر سامنے آتی ہوں۔'

صائمہ نے گائے رکھی ہوئی تھیں جن کے لیے چارا وہ خود کاٹ کر لاتی تھیں۔ سیالکوٹ کچہری میں ان کی دال چاول کی ریڑھی بھی لگتی تھی۔ کھانا وہ خود تیار کرتی تھیں جو ان کے ایک ملازم ریڑھی پر فروخت کرتے تھے۔

صائمہ بی بی

'تم مجھے کیا مہلت دو گے۔۔۔ میں تمھیں آٹھ گھنٹے کا وقت دیتی ہوں'

انھیں گھر سے نکالنے کے تمام حربے آزمانے کے بعد صائمہ کے سابق شوہر نے گھر چند بدمعاش عناصر کو فروخت کر دیا تھا۔ ان عناصر نے پہلے صائمہ کو ڈرایا دھمکایا اور پھر گھر خالی کرنے کی مہلت دے دی۔

'میں نے اس سے کہا تم مجھے کیا آٹھ دن کی مہلت دو گے میں تمھیں آٹھ گھنٹے کا وقت دیتی ہوں۔ اگر مرد کے بچے ہو، تو مجھے نکال کے دکھا دو۔' تاہم صائمہ کو اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ ان کے گھر پر حملہ آور ضرور ہوں گے۔

صائمہ نے اپنے دفاع کا بندوبست کر لیا تھا۔ انھوں نے پانچ کلو سرخ مرچیں لا کر رکھیں۔ تھیلوں کے منہ کھول کر انھوں نے گھر کے دونوں دروازوں کے سامنے رکھ دیے تا کہ وقت آنے پر گرہ کھولنے میں دقت نہ ہو۔ ساتھ ہی انھوں نے ڈنڈے رکھ دیے۔

'میں مرچیں نہ پھینکتی، انھوں نے ہمارا قیمہ کر دینا تھا'

ان کے خدشات درست ثابت ہوئے۔ 40 سے 50 افراد نے ان کے گھر پر دھاوا بولا۔ صائمہ نے مرچوں کی مٹھیاں بھر کر ان کی آنکھوں میں ڈالیں اور ساتھ ڈنڈوں سے پٹائی کی۔ جب وہ گھر کے اندر داخل نہ ہو پائے تو وہ دوبارہ آئے اور اس بار انھوں نے صائمہ کے گھر پر فائرنگ کی۔

ان کی سب سے بڑی بیٹی کمرے میں ٹہل کر بیت بازی کے مقابلے کی تیاری کر رہی تھیں۔ ایک گولی ان کے بازو کو چھو کر گزر گئی۔ اس لمحے کا سوچ کر صائمہ کی آواز بھرا آئی۔ انھیں یاد ہے کہ زخمی حالت میں بھی ان کی بیٹی صبح بیت بازی کے مقابلے میں حصہ لینے گئی تھیں۔

'میری بیٹی نے کہا تھا کہ ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ آج بھی آپ جا کر پوچھ سکتے ہیں کہ اگر اس دن میں مرچیں نہ پھینکتی، انھوں نے ہمارا قیمہ کر دینا تھا۔' ایک لمحے کے توقف کے بعد صائمہ نے دوبارہ بولنا شروع کیا۔

'میرے کبھی آنسو نہیں نکلے، آنسو انسان کو کمزور کرتے ہیں لیکن جب میری بیٹی کو گولی لگی ہے نا، تب میں تھکی ہوں۔ ورنہ میں کبھی نہیں تھکی۔' اپنے بچوں کی حفاظت کی خاطر انھوں نے خود گھر چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

'میں نے سوچا اگر مجھے کچھ ہو گیا تو میرے بچوں کا کیا ہو گا۔ اس کے بعد میرا صرف یہی مشن تھا کہ چاہے ایک کچا کمرہ ہو، میں اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے نکل جاؤں۔ میں نے دونوں گھروں کی چابیاں برادری والوں کے حوالے کیں اور اپنا سامان لے کر ہم ماں بچے وہاں سے نکل گئے۔'

سیالکوٹ کچہری

عدالتوں میں آنے والی خواتین کی کہانیاں کیا تھیں؟

صائمہ نے جب اپنے بچوں کا خرچ لینے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تو انھیں معلوم ہوا کہ ان کی طرح سینکڑوں خواتین کئی سالوں سے نان نفقہ کے لیے عدالتوں کے چکر کاٹ رہی تھیں۔

ان میں سے ایک ایسی خاتون بھی تھیں جنھیں اس لیے طلاق ہو گئی تھی کہ ان کی ایک ہی بیٹی پیدا ہوئی تھی اور اس کو کینسر کا مرض لاحق ہو گیا تھا۔ باپ نے ماں کو طلاق دے کر دونوں سے قطع تعلق کر دیا۔ بچی کے علاج کے لیے ماں کے پاس پیسے نہیں تھے۔

محمد بلال نامی بچے کی عمر محض تین برس تھی جب ان کے والد نے ان کی والدہ کو طلاق دی۔ وہ گذشتہ نو برس سے ماں کے ساتھ عدالتوں کے چکر لگا رہے تھے۔

افشاں نامی خاتون کے والدین فوت ہو چکے تھے۔ ان کے شوہر نے پہلا بچہ پیدا ہونے کے ساتھ ہی انھیں طلاق دی اور گھر سے نکال دیا تھا۔ بچے کی پرورش میں افشاں کو مشکلات کا سامنا تھا۔

'ان جج صاحب کی عدالت سے عورتیں پیسے لے گھر جاتی ہیں'

ایسی درجنوں کہانیاں صائمہ بی بی روزانہ سنتی تھیں۔ انھیں خود بھی یقین ہو چلا تھا کہ انھیں بھی کچھ حاصل نہیں ہونے والا۔ پھر بھی وہ دعالتی کارروائی کی پیروی کرتی رہیں۔

ملک نثار

'آپ خوش قسمت ہیں، آپ کی کوئی دعا کام آ گئی'

ایک روز ان کے وکیل نے صائمہ 'خوشخبری' سنائی۔ ان کا کیس سینیئر سول جج ملک نثار کے پاس چلا گیا تھا۔

ان کے وکیل نے بتایا کہ 'آپ خوش قسمت ہیں، آپ کی کوئی دعا کام آ گئی۔ ان جج صاحب کی عدالت سے عورتیں پیسے لے کر گھر جاتی ہیں۔' صائمہ کو اب بھی یقین نہیں تھا۔ جج صاحب نے ان کا کیس سننے کے چار روز بعد آنے کو کہا تھا۔

تاہم صائمہ کو اس وقت حیرت ہوئی جب سول جج ملک نثار نے ان کے سابقہ شوہر کو گرفتار کروا لیا۔ پہلی مرتبہ صائمہ بی بی کو تین لاکھ روپے دلوائے پھر ڈیڑھ لاکھ ملا اور آہستہ آہستہ گزشتہ چند ماہ کے دوران صائمہ کو نو لاکھ سے زائد بچوں کے نان نفقہ کی مد میں ملا تھا۔

'پہلی مرتبہ کسی عدالت سے عورتوں کو نان نفقہ کے پیسے مل رہے تھے۔ اس سے پہلے میں نے تو جس سے بھی پوچھا اس نے یہی بتایا تھا کہ جوتیاں گھس گئیں لیکن عدالتوں سے آج تک کچھ نہیں ملا۔'

صائمہ بی بی

جج ملک نثار پیسے اتنے جلدی کس طریقے سے نکلواتے تھے؟

صائمہ بی بی کے مطابق ان جج صاحب کا کام کرنے کا اپنا طریقہ کار تھا۔ ان کا کیس دو عدالتوں سے ہو کر جج نثار ملک کی عدالت میں آیا تھا اور اس وقت تک کوئی بھی عدالت ان کے سابق خاوند کو عدالت نہیں بلا پائی تھی۔

جج نثار ملک نے انھیں گرفتار کروا لیا تھا۔ پہلی مرتبہ وہ کسی عدالت کے روبروہ پیش ہوئے تھے اور صائمہ بی بی کو پیسے ادا کرنے کے بعد انھیں جانے دیا گیا تھا۔

افشاں نامی خاتون کے خاوند کو انھوں نے اس وقت گرفتار کروا لیا تھا جب وہ دوسری شادی کرنے کے لیے کراچی سے بارات لے کر سیالکوٹ پہنچے تھے۔ فوری طور پر دو لاکھ روپے اور بعد ازاں باقی نان نفقہ کی رقم ادا کرنے کے یقین دہانی پر ان کی جان چھوٹی تھی۔

جو شخص شہر سے بھاگ جاتا تھا یا ملک ہی چھوڑ چکا تھا اور عدالت کے بلانے پر نہیں آ رہا تھا، تو اپنے قانونی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سول جج نثار ملک نادرا کے ذریعے ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کروا دیتے تھے۔

مجبوراً انھیں پیسوں کی ادائیگی کرنا پڑتی تھی تب جا کر ان کے کارڈ کھولے جاتے تھے۔ جو شخص نان نفقہ کے پیسے دینے سے صاف انکار کر دے اسے جیل بھجوا دیا جاتا تھا۔ جو قید کاٹنے کے بعد بھی پیسے دینے سے انکاری ہو اس کی جائیداد نیلام کر دی جاتی تھی۔

صائمہ بی بی

نان نفقہ کی رقم سے صائمہ بی بی کو کیا فائدہ ہوا؟

بچوں کا نان نفقہ سے ملنے والی رقم سے صائمہ بی بی نے اپنے چھوٹے سے گھریلو کاروبار کو مزید وسیع کیا۔ انھوں نے ایک اور گائے خرید لی تھی۔ ان کے پاس اب تین گائے تھیں جن کا دودھ بیچ کر روزانہ انھیں ایک ہزار روپے کی بچت ہوتی تھی۔

ساتھ ہی انھوں نے سیالکوٹ کچہری کے باہر دال چاول کی ریڑھی لگا رکھی تھی۔ یہ خیال انھیں ان دنوں میں آیا تھا جب وہ نان نفقہ کی خاطر عدالتوں کے چکر کاٹا کرتی تھیں۔ 'میں نے دیکھا ادھر بہت رش ہوتا ہے اگر ادھر ریڑھی لگائی جائے تو بہت بچت ہو سکتی تھی۔'

وہ روزانہ فجر سے قبل اٹھ کر چاول اور دال تیار کرتی تھیں۔ اس کے بعد جانوروں کے لیے چارا کاٹ کر لاتی تھیں۔ اس کے بعد بچوں کو سکول کے لیے تیار کر کے اور ناشتہ کروا کر وہ دودھ دوہتی تھیں اور واپس آ کر خود اپنے گھر میں لگی مشین میں چارا کاٹتی تھیں۔

اس دوران وہ یہ چاول ریڑھی لگانے والے اپنے ملازم کے حوالے کرتی تھیں۔ اسی طرح چھوٹے چھوٹے گھریلو سطح کے کاروبار کر کے صائمہ بی بی نہ صرف اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلوا رہی تھیں بلکہ انھوں نے اپنا ایک پلاٹ لے کر اس پر گھر بھی تعمیر کروانا شروع کر رکھا تھا۔

صائمہ بی بی

'میں نے کبھی اپنے بچوں کو مزدوری نہیں کرنے دی'

ان کی سب سے بڑی بیٹی انگلش لٹریچر میں ایم اے کر چکی ہیں اور ان دنوں گھر پر محلے کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی ہیں۔ انھوں نے میٹرک میں 1014 نمبر حاصل کیے تھے اور بیت بازی کے کئی مقابلے جیت چکی تھیں۔ ان کی آمدن سے بھی صائمہ کو گھر چلانے میں مدد ملتی ہے۔

ان کی دوسری بیٹی نے میٹرک میں ایک ہزار سے زائد نمبر حاصل کیے تھے اور حال ہی میں انٹر کے امتحانات دینے کے بعد میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحان کی تیاری کر رہی تھیں۔ صائمہ کی دونوں چھوٹی بیٹیاں بھی تعلیم کے میدان میں آگے تھیں۔

'میں نے کبھی اپنے بچوں کو محنت مزدوری نہیں کرنے دی۔ اس سے ان کی توجہ تعلیم سے ہٹ سکتی تھی۔' ان کے چھوٹے بیٹے کی عمر دس برس کے لگ بھگ ہے۔ صائمہ کو امید ہے کہ انھیں بچوں کے خرچ کی بقایا رقم بھی ملتی رہے گی۔

وہ سمجھتی ہیں کہ نان نفقہ ملنے سے ان کے لیے بہت آسانیاں پیدا ہوئیں اور اب وہ خود اتنے پیسے کما لیتی ہیں کہ ان کے بچوں کی تعلیم بھی نہ رکے گی اور ان کا گھر کا خرچ بھی چلتا رہے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *