جرمنی: 350 سال پرانی قیمتی پینٹنگز سڑک کنارے کیسے پہنچیں؟

جرمنی میں پولیس نے عوام سے ایسی دو پینٹنگز کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کی اپیل کی ہے جو حکام کو سڑک کنارے پھینکی ہوئی ملی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ آئل پینٹنگز ہالینڈ کے پینٹر سیمیول وان ہوگسٹراٹن اور اطالوی پینٹر پیٹرو بیلوتی کی بنائی ہوئی ہیں۔

گذشتہ ماہ براواریہ میں ہائی وے اے سیون کے ایک سروس سٹیشن پر یہ دونوں پینٹنگز ایک شخص کو ملی تھیں۔ اس نے انھیں کولون کے دہر میں پولیس کے حوالے کر دیا۔ اب تک ان فن پاروں کے حوالے سے کسی نے ملکیت کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ایک آرٹ ماہر کے ابتدائی تجزیے کے مطابق یہ دونوں پینٹنگز اصل ہیں۔

ایک پینٹگ ایک لڑکے کی لال ٹوپی پہنے ہوئی ہے تاہم اس کو بنانے کی تاریخ واضح نہیں ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پینٹگ سیمیول وان ہوگسٹراٹن کی بنائی ہوئی ہے جو کہ ہالینڈ میں 1627 سے 1678 کے درمیان زندہ تھے۔

دوسری پینٹگ پیٹرو بیلوتی کا سلف پوٹریٹ ہے جنھوں نے 1625 سے 1700 اٹلی میں زندگی گزاری۔

کولون میں پولیس نے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو ان پینٹگز کے مالک یا ان کے حوالے سے دیگر معلومات ہیں وہ حکام کو فراہم کریں۔

An image showing the painting by Samuel van Hoogstraten

سیمیول وان ہوگسٹراٹن کی وجہِ شہرت پرسپکٹیو کے ساتھ تجربے کرنا ہے جو کہ آرٹ کی ایک تکینک ہے جس سے تصویر تھری ڈی لگتی ہے۔

سیمیول وان ہوگسٹراٹن ڈورشٹ میں پیدا ہوئے تھے اور اور مشہور پینٹر ریمبرانٹ سے انھوں نے یہ فن سیکھا تھا۔ ان کا لکھا ہوا کتابچہ ’انٹروڈکشن ٹو دی ہائی سکول آف دی آرٹ آف پینٹگ‘ ریمبرانٹ کے پیٹنگ کے بارے میں خیالات کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

نیلامی کی ویب سائٹوں کے مطابق سیمیول وان ہوگسٹراٹن کی پینٹگز انتہائی مہنگے داموں فروخت ہوتی ہیں۔

1600 کی دہائی میں بنائی گئی سیمیول وان ہوگسٹراٹن کی ایک چرواہے کی پیٹنگ 2019 میں 50062 پاؤنڈ کی فروخت ہوئی تھی۔

ان کی ایک اور لا کروسیفکشن 2018 میں ایک اور ویب سائٹ پر 285285 پاؤنڈ کی بکی تھی۔

ادھر پیٹرو بیلوتی نے باروک دور میں اپنا نام بنایا تھا تاہم وہ اتنے معروف نہیں ہیں۔ انھیں وینس کی اہم فیملیز کام کمیشن کرتی تھیں اور وہ پوٹریٹس بنانے کے لیے جانے جاتے تھے۔

error: