جسٹس فیصل عرب: سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے والے جج کا وکالت سے عدالت عظمیٰ تک کا سفر

پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج جسٹس فیصل عرب آج (بدھ) اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں تعیناتی سے قبل وہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے۔

جسٹس فیصل عرب ان ججز میں شامل تھے جنھیں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے تین نومبر سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد گھروں میں نظر بند کر دیا تھا کیونکہ انھوں نے جنرل پرویز مشرف کے دوسرے عبوری آئینی حکم نامے کے تحت حلف لینے سے انکار کر دیا تھا۔

جسٹس فیصل عرب وفاقی حکومت کی طرف سے بنائی گئی خصوصی عدالت کے پہلے سربراہ تھے، جس نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کی تھی۔ یہ جسٹس فیصل عرب ہی تھے جنھوں نے پرویز مشرف پر فرد جرم عائد کی تھی۔

نوے کی دہائی کے آغاز میں وکالت سے اپنے کریئر کا آغاز کرنے والے جسٹس فیصل عرب کو سنہ 2005 میں سندھ ہائی کورٹ کا جج تعینات کیا گیا تھا۔ انھیں پہلے بطور ایڈہاک جج اور پھر سندھ ہائی کورٹ کا جج تعینات کرنے کی منظوری جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے دی تھی۔

انھیں فروری 2015 میں سندھ ہائی کورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا اور پھر سنہ 2015 کے آخر میں انھیں سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا۔

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی دوسری سماعت کے دوران جب جج صاحبان کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو وہاں موجود تمام افراد احترام میں کھڑے ہو گئے ماسوائے اس کیس کے ملزم پرویز مشرف کے۔

مشرف

اس تین رکنی خصوصی بینچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس فیصل عرب جو اس وقت سندھ ہائی کورٹ کے جج تھے، نے یہ بات محسوس کی تو انھوں نے ملزم سے براہ راست بات نہیں کی بلکہ ان کے وکیل کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’پلیز اپنے کلائنٹ (موکل) سے کہیں کہ وہ کھڑے ہو جائیں۔‘

آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کے بعد پہلے ملزم پرویز مشرف کو سخت سکیورٹی کے حصار میں احاطہ عدالت سے واپس بھیجا جاتا اور اس کے بعد جسٹس فیصل عرب سمیت بینچ کے دیگر جج صاحبان کو معمولی سکیورٹی میں وہاں سے روانہ کیا جاتا۔

آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کی طرف سے ایمرجنسی کے اقدام کے خلاف اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وزیر قانون زاہد حامد اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے پاکستان کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بھی شریک جرم بنانے کی استدعا کی گئی۔

تین رکنی بینچ نے ملزم کی اس درخواست پر انھیں ریلیف دیا اور اُس وقت کی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ آئین شکنی کے مقدمے کی دوبارہ تفتیش کرے اور ان تینوں افراد کو بھی شامل تفتیش کرے، کیونکہ ملک میں ایمرجنسی لگانے میں یہ افراد بھی برابر کے شریک تھے۔

بینچ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ نے مسترد کر دیا اور کہا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے آئین شکنی کے مقدمے کی کارروائی صرف اُس وقت کے آرمی چیف اور مرکزی ملزم جنرل پرویز مشرف کے خلاف کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

سپریم کورٹ

جسٹس فیصل عرب اس تین رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے موجودہ وزیراعظم عمران خان کو ’صادق‘ اور ’امین‘ قرار دیا جبکہ اسی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل جہانگیر ترین کو ’جھوٹا‘ قرار دے کر انھیں عمر بھر کے لیے کوئی بھی عوامی عہدہ رکھنے یا انتخابات میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا تھا۔

جسٹس فیصل عرب اس دس رکنی بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو خارج کر دیا تھا، تاہم وہ اس سات رکنی بینچ میں شامل تھے جنھوں نے یہ معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کی حمایت کی تھی۔

اپنی ریٹائرمنٹ سے دو ہفتے قبل اُنھوں نے کراچی میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون کو 460 ارب روپے کے جرمانے کے فیصلے پر عملدرآمد کیس میں ایک کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ دیا، جس کی سربراہی سپریم کورٹ کا ایک ریٹائرڈ جج کرے گا اور اس کمیشن کے سربراہ کا تعلق صوبہ سندھ سے ہو۔

جسٹس فیصل عرب کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے اور ماضی میں وہ کافی عرصے تک اس بینچ کا حصہ رہے ہیں جو بحریہ ٹاون کے مقدمے کی سماعت کرتا رہا ہے۔

جسٹس فیصل عرب کو ٹیکس کے معاملات میں مہارت حاصل ہے۔

جسٹس فیصل عرب کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر ان کے اعزاز میں بدھ کو فل کورٹ ریفرنس ہوا جس میں ان کی خدمات کو سراہا گیا۔

error: