جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر میں جمع کروائے گئے جواب میں کیا کہا ہے؟

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ نے برطانیہ میں اپنی جائیداد کے بارے میں ایف بی آر کو جمع کروائے گئے جواب کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

جمعے کو ان کی جانب سے یہ تفصیلات میڈیا کو اس لیے فراہم کی گئیں کیونکہ ان کے بقول جمعرات کو جب اُنھوں نے اس جائیداد کی تفصیلات ایف آر میں جمع کروائی تھیں تو کچھ نجی ٹی وی چینلز پر اس بارے میں ’غلط رپورٹنگ کی جا رہی تھی۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا فائز عیسیٰ نے جو تفصیلات جاری کی ہیں ان میں ان کا ایک چھ صفحات کا جواب بھی شامل ہے جو اُنھوں نے ایف بی آر کے کمشنر ذوالفقار احمد کو لکھا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے الزامات عائد کیے ہیں کہ نہ صرف ان کو ہراساں کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے خلاف پروپیگنڈا بھی ہو رہا ہے اور ان کی تضحیک بھی کی جا رہی ہے۔

سرینا عیسیٰ کی جانب سے چھ صفحات پر مشتمل جمع کروائے گئے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر دیا گیا کہ 25 جون کو اُنھوں نے ایف بی آر کی طرف سے نوٹس وصول نہیں کیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس روز ان کے والد کا انتقال ہوا تھا۔

سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر میں جمع کروائے گئے جواب میں کیا کہا ہے؟

جائیداد کی تفصیلات

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر کو تحریری جواب جمع کرواتے ہوئے بتایا ہے کہ تقریباً 16 برس قبل سنہ 2004 میں لندن میں ایک پانچ سو مربع فٹ کا ون بیڈ اپارٹمنٹ دو لاکھ 36 ہزار پونڈ میں خریدا گیا جو ان کی بیٹی کے نام پر ہے۔

انھوں نے جواب میں یہ بھی واضح کیا کہ اس جائیداد کی تاریخ خرید اور قیمت کا ریکارڈ لندن کے لینڈ رجسٹری کے ادارے کے پاس موجود ہے۔

ایف بی آر کو جمع کروائے گئے جواب میں لندن میں خریدی گئی جائیداد پر وضاحت دیتے ہوئے انھوں نے موقف اپنایا کہ جب وہ کوئٹہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھیں تو اس وقت ’دہشت گردوں نے حملے کی دھمکی دی اور حملہ بھی کیا‘۔ ان کے مطابق اس وقت ان کی بیٹی اور بیٹا اپنے اہلخانہ کے ساتھ لندن میں رہائش پزیر تھے۔

سرینا عیسیٰ کے مطابق ان کے بیٹے لندن میں جائیداد کی خریدو فروخت کے کاروبار سے منسلک رہے جبکہ ان کے داماد برطانیہ کی وزارت انصاف میں کام کرتے تھے اور ان کی بہو لندن میں مالیاتی تجزیہ کار کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کے دونوں بچے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، بیٹی نے قانون کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے جبکہ بیٹے نے فلسفے میں ماسٹرز کر رکھا ہے اور دونوں نے کم عمری میں ہی کام کرنا شروع کر دیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں خوف تھا کہ کہیں اگلا حملہ کامیاب نہ ہو جائے اس لیے اپنے بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے انھوں نے لندن کے ایک مضافاتی علاقے میں دو سستی جائیدادیں خریدنے کے لیے اپنے بچوں کی مدد کی۔

سرینا عیسیٰ نے یہ موقف بھی اپنایا کہ ان کے شوہر (جسٹس قاضی فائز عیسیٰ) اس اقدام سے خوش نہیں تھے کہ ان کے بچے بیرون ملک میں ہی رہیں مگر انھوں نے شوہر کو سمجھایا کہ اگر وہ کسی دہشت گرد حملے میں مارے بھی جائیں تو کم از کم ان کی اولاد محفوظ رہے گی۔

سرینا عیسیٰ کی جانب سے ایف بی آر کو جمع کروائے گئے جواب میں لندن میں خریدی گئی جائیداد کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سنہ 2013 میں انھوں نے اپنی بیٹی کو دو لاکھ 70 ہزار پاؤنڈز کے عوض لندن میں جائیداد خریدنے میں مدد کی تھی۔

ان کے مطابق یہ جائیداد ان کے اور ان کی بیٹی کے نام پر ہے، ان کی بیٹی اب بھی اپنے شوہر کے ساتھ وہاں رہائش پذیر ہے اور لندن کے لینڈ رجسٹری ادارے کے پاس اس جائیداد کی تاریخ خرید اور قیمت کا ریکارڈ موجود ہے۔

ان کے مطابق اسی طرح سنہ 2013 ہی میں انھوں نے لندن میں تیسری جائیداد خریدنے کے لیے اپنے بیٹے کی مدد کی۔ اس جائیداد کو دو لاکھ 45 ہزار پاؤنڈز میں خریدا گیا۔ اس جائیداد میں اب بھی ان کا بیٹا رہائش پذیر ہے اور اس کی ملکیت ان کے اور ان کے بیٹے کے نام پر ہے جس کا مکمل ریکارڈ لندن کے لینڈ رجسٹری کے ادارے کے پاس موجود ہے۔

انھوں نے تحریری جواب میں یہ بھی کہا کہ ایف بی آر کو انھیں اس بات پر بھی سراہنا چاہیے کہ مذکورہ جائیدادیں انھوں نے اپنے اور بچوں کے نام رکھیں اور یہ کہ اگر ان جائیدادوں کی ملکیت چھپانا چاہتے تو آسانی کے ساتھ آف شور کمپنی کے ذریعے ملکیت چھپا سکتے تھے۔

جواب میں انھوں نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ' اگر آپ کو یقین نہ آئے تو عمران خان اور ان کے ہم خیال ٹولے سے پوچھ لیں کہ کیسے بیرون ملک جائیدادوں کی ملکیت چھپائی جاتی ہے۔'

سرینا عیسیٰ نے ایف بی آر کی جانب سے منی ٹریل پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ 'ہم سے منی ٹریل کا پوچھا جا رہا ہے۔ مجھے نہیں علم کہ یہاں منی ٹریل کا کیا مطلب ہے، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے تناظر میں وضاحت کی جائے کہ لفظ منی ٹریل کا ذکر کہاں ہے، منی ٹریل کی تشریح کی جائے تاکہ میں آپ کا سوال سمجھ کر اس پر مناسب جواب دے سکوں۔

انکم ٹیکس کی بات کرتے ہوئے ایف بی آر کو جمع کروائے گئے جواب میں سرینا عیسیٰ نے کہا کہ ایف بی آر کا پرانا ریکارڈ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کراچی کے معروف امریکن سکول میں پڑھاتی رہیں، شادی سے قبل بھی کراچی امریکن سکول میں پڑھاتی تھیں اور ان کی تنخواہ سے انکم ٹیکس کاٹا جاتا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں تک وہ امریکن سکول میں پڑھانے کے بعد انھوں نے وہاں سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے مطابق ان کی کراچی میں ایک جائیداد میں ایک دوست کے ساتھ شراکت داری بھی تھی جہاں سے انھیں کرایہ آتا تھا۔ اور یہ کہ کراچی کی جائیداد اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن پر وہ ٹیکس دیتی رہی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اس کے علاوہ جیکب آباد، ڈیرہ مراد جمالی اور نصیر آباد میں زرعی اراضی کی بھی مالک ہیں۔

انھوں نے جواب میں لکھا کہ سنہ 2018 میں ان کی قابل ٹیکس آمدن 40 لاکھ 70 ہزار آٹھ سو چونسٹھ روپے تھی، انھوں نے اس آمدن پر پانچ لاکھ 76 ہزار 540 روپے ٹیکس ادا کیا جبکہ 2019 میں ان کی قابل ٹیکس آمدن 53 لاکھ 31 ہزار 76 روپے تھی اور اس آمدن پر آٹھ لاکھ نو ہزار 970 روپے ٹیکس دیا گیا۔

انھوں نے ایف بی آر کے حکام کو وہ تمام بینک اکاونٹس کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں جہاں سے یہ پیسہ پاکستان سے برطانیہ منتقل کیا گیا۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے استدعا کی کہ ان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کسی کو نہ دی جائیں۔

سرینا عیسیٰ کی ایف بی آر اور حکومت پر تنقید اور الزامات

جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کی جانب سے چھ صفحات پر مشتمل جمع کروائے گئے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کی تضحیک کے لیے ایف بی آر کے نوٹسز ان کے گھر کے دروازے پر چسپاں کیے گئے۔

اُنھوں نے کہا کہ ان کے خاوند کی سرکاری رہائش گاہ پر ان کے سٹاف کی موجودگی میں نوٹس چسپاں کیے گئے اور ایف بی ار کے حکام کی طرف سے اس اقدام کے بعد اُنھوں نے خود کو مجرم محسوس کرنا شروع کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس نوٹس کو تمام لوگوں نے پڑھا ہو گا اور ایف بی آر کے اہلکاروں کے اس اقدام کے بعد وہ گھر سے نکل نہیں سکیں۔

سرینا عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ایف بی آر میں جمع کرائے گئے ان کے جواب کا متن میڈیا کو غلط طور پر جاری کیا گیا اور میڈیا کو وہ باتیں جاری کی گئیں جو اُنھوں نے کی ہی نہیں جس کی وجہ سے اُنھیں یہ تفصیلات میڈیا کو جاری کرنا پڑ رہی ہیں جو اُنھوں نے ایف بی آر میں جمع کروائی ہیں۔

اُنھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھی ان کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ کیا ایف بی آر کے حکام وزیر اعظم سے پوچھ سکتے ہیں کہ وہ 300 کنال کے گھر میں رہ رہے ہیں اور اس کی دیکھ بھال پر اتنے اخراجات آتے ہیں لیکن ملک کے وزیر اعظم اُن سے کم ٹیکس دیتے ہیں۔

اپنے اس خط میں اُنھوں نے وزیر اعظم عمران خان، سابق اٹارنی جنرل انور منصور کے علاوہ سابق وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم، اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر اور اپنے شوہر کے خلاف شکایت کندہ عبدالوحید ڈوگر کا نام لے کر سوال کیا کہ کیا ایف بی آر کے حکام کو ان سے بھی نہیں پوچھنا چاہیے کہ ’کیا اُنھوں نے اپنے گوشواروں میں اپنے بچوں کے نام جائیدادوں کی تفصیلات بتائی ہیں؟‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ اگر ایف بی آر ان افراد کے ساتھ بھی اسی طرح کا برتاؤ کرے جس طرح کا برتاؤ ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے تو اُنھیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ ایف بی آر کی سابق چیئرپرسن نوشین جاوید کو اس عہدے سے صرف تین ماہ سے بھی کم عرصے میں اس لیے ہٹا دیا گیا کیونکہ انھوں نے ’جسٹس قاضی فائز عیسیٰ معاملے میں آلہ کار بننے سے انکار کر دیا تھا۔‘

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر کے کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ وہ ایسے افراد کا آلہ کار نہیں بنیں گے اور قانون کے مطابق معاملے کو لے کر چلیں گے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کا پس منظر

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کا معاملہ مئی 2019 کے اواخر میں سامنے آیا تھا جس میں سپریم جوڈیشل کونسل میں صدر مملکت کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس میں جسٹس عیسیٰ پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ انھوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔

یاد رہے کہ اگست 2019 میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو ذاتی طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج کرتے ہوئے 300 سے زائد صفحات پر مشتمل تفصیلی درخواست دائر میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہٰذا عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔

گذشتہ ماہ سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مختصر فیصلے میں ایف بی آر کے حکام کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی برطانیہ میں جائیداد کے بارے میں تفصیلات معلوم کرنے اور اس پر قانون کے مطابق کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ میں سے سات ارکان نے برطانیہ میں جائیداد کا معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کا فیصلہ دیا تھا جبکہ دو جج صاحبان نے اس کی مخالفت کی تھی، جبکہ ایک جج نے اس صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی درخواست کو ہی ناقابل سماعت قرار دیا تھا۔

ایف بی آر نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہلخانہ کو چند روز قبل تین الگ الگ نوٹسز بذریعہ کوریئر بھیجے تھے جن میں سے ایک ان کی اہلیہ اور دو ان کے بچوں کے نام پر تھے اور یہ نوٹسز اسلام آباد میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رہائش گاہ پر بھجوائے گئے تھے۔

یہ نوٹسز ایف بی آر کے کمشنر لینڈ ریونیو اورا نٹرنیشنل ٹیکسز زون کی طرف سے بجھوائے گئے تھے۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے برطانیہ میں اپنی جائیداد کے بارے میں تفصیلی جواب بھی کمشنر لینڈ ریونیو کو جمع کروایا ہے۔

جسٹس فائز عیسیٰ

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ایف بی آر کے حکام کو اس معاملے پر دو ماہ کے اندر فیصلہ کر کے سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوانے کا حکم دیا ہے۔

اس عبوری فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سپریم جوڈیشل کونسل سمجھے کہ ان جائیدادوں کی خریداری میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کوئی کردار سامنے آتا ہے تو سپریم جوڈیشل کونسل اپنے تئیں مذکورہ جج کے خلاف کارروائی کر سکتی ہے۔

اس صدارتی ریفرنس کے حوالے سے حکومتی وکیل فروغ نسیم نے اپنے تحریری دلائل عدالت میں جمع کروا دیے ہیں جس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی طرف سے اس ریفرنس کے خلاف درخواست کو مسترد کرنے کی بات کی گئی ہے۔

اس صدارتی ریفرنس پر تفصیلی فیصلہ ابھی آنا ہے اور ریفرنس کے خلاف درخواستوں کی سماعت میں غیر قانونی اثاثے برآمد کرنے والے یونٹ یعنی اے آر یو کی قانونی حیثیت اور اعلی عدلیہ کے ججز کی مبینہ جاسوسی جیسے سنگین نکات اٹھائے گئے تھے۔

اس صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسیٰ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئیں اور برطانیہ میں اپنی جائیدادوں کے بارے میں تمام تفصیلات فراہم کیں جس پر اُس دس رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ عدالت ان جائیدادوں سے متعلق ان کی طرف سے پیش کی جانے والی دستاویزات سے مطمئن ہے۔