جمہوریت۔۔ مایوس نہیں ہونا!

کچھ دن پہلے میں نے سوچا کہ شعبہ صحافت و ابلاغیات کے اپنے شاگردوں کے لئے پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد کے دورے کا اہتمام کروں۔ اس شعبے سے فارغ التحصیل ہونے والے اکثر طالب علم عملی صحافت سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ ان میں سے کئی عوام کے منتخب ایوانوں کی کاروائیوں کی رپورٹ بھی کرتے ہیں۔ صوبائی اسمبلیوں کے علاوہ اسلام آباد میں واقع قومی اسمبلی اور سینٹ کے اجلاسوں کی رپورٹنگ ایک اعزاز خیال کی جاتی ہے۔ یہ رپورٹنگ ایک فن کا درجہ اختیار کر چکی ہے۔ بعض سینئر صحافی، جو سال ہا سال سے پارلیمنٹ کی کاروائی پر لکھ رہے ہیں، ان کی تحریریں پوری توجہ سے پڑھی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ بھی یہ قانون سازی کا سب سے بڑے ادارے ہوتے ہوئے، پارلیمنٹ کی کاروائی دیکھنا ایک اچھا تجربہ خیال کیا جاتا ہے۔ دنیا کے جمہوری ممالک میں تو طلبہ و طالبات کے لئے اس طرح کے دوروں کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے جو مسلسل جاری رہتے ہیں۔ نئی نسل کے نمائندے ایوانوں میں جاتے، کاروائی دیکھتے، عوامی نمائندوں کی تقریریں سنتے، ان سے بہت کچھ سیکھتے اور اپنے تجربوں کا حصہ بناتے ہیں۔
میں نے طالب علموں کے ایک گروپ سے پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد کے دورے کا ذکر کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ صحافت اور ابلاغیات کے علاوہ شعبہ معاشیات کے طلبہ نے بھی دلچسپی ظاہر کی کہ بجٹ سیشن دیکھنا ایک اچھا موقع ہو گا۔ ابھی یہ پروگرام ترتیب پا رہا تھاکہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں زبرست ہنگامے کی خبروں نے قومی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر ایک طوفان سا کھڑا کر دیا۔ دیکھا گیا کہ عوام کے منتخب نمائندے ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔ ننگی گالیاں دی گئیں۔ بجٹ کی بھاری کتابیں اٹھا اٹھا کر مخالفین کو ماری گئیں۔ کچھ ارکان زخمی بھی ہو گئے۔ سپیکر بے بسی کا شکار نظر آئے۔ سارا ہنگامہ، خبروں کے مطابق، حزب اختلاف کے قائد میاں شہباز شریف کی تقریر سے شروع ہوا۔ ہنگامہ اس قدر شدید تھا کہ شہباز شریف تقریر نہ کر سکے۔ کچھ کہا بھی تو وہ شور و غل میں دب گیا۔ اگلے دن پھر انہیں بھرپور موقع نہ ملا۔ سپیکر نے سات ارکان اسمبلی کا داخلہ ممنوع قرار دیا۔ تین ارکان پی۔ٹی۔آئی، تین مسلم لیگ(ن) اور ایک پیپلز پارٹی کے تھے۔ ہنگامے والے دن، اور اگلے دن بھی، میڈیا کی خبریں، تبصرے اور ٹاک شوز اسی دائرے میں گھومتے رہے۔ سب کا مرکزی خیال یہی تھا کہ منتخب عوامی نمائندوں کے اس رویے سے پارلیمنٹ ہی کی نہیں، آئین، جمہوریت اور پارلیمانی روایات کی بھی توہین ہوئی ہے۔ جب عوام کی نمائندگی کے دعویدار، اس طرح کے کردار و عمل کا مظاہرہ کریں گے تو ان عناصر کو بھی تقویت ملے گی جو جمہوریت کو کچھ زیادہ پسندنہیں کرتے یا جو سیاست کو برا بھلا کہتے رہتے ہیں۔ خد اخدا کر کے تیسرے دن قائد حزب اختلاف کو پر امن ماحول کے اندر اپنی تقریر آگے بڑھانے کا موقع ملا۔
پارلیمانی روایت یہی بتائی جاتی ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد ایوان یعنی وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کی بات توجہ اور تحمل سے سنی جاتی ہے۔ ان پر وقت کی قید بھی نہیں لگائی جاتی کہ وہ کتنی دیر بولنا چاہتے ہیں۔ توقع کی جاتی ہے کہ ان کی تقاریر خاموشی سے سنی جائیں گی اور کسی طرح کا کوئی احتجاج نہیں ہو گا۔ بد قسمتی سے پوری طرح اس روایت کی پاسداری نہیں کی جاتی۔ اس حکومت کے آغاز میں جب عمران خان قائد ایوان منتخب ہوئے تو انہیں بھی خوشگوار ماحول میں تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔ اس وقت شور شرابا اپوزیشن بنچوں کی طرف سے آیا تھا۔ اس کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے تقریر شروع کی تو حکومتی اراکین نے شرابا شروع کر دیا۔ بہرحال عمران خان نے تو غالبا اس تلخ تجربے کے بعد ایوان میں آنا ہی چھوڑ دیا۔ دو تین مواقع پہ آئے بھی تو تقریر سے گریز کیا۔ یا پھر ایک آدھ دن کے لئے افہام و تفہیم کی فضا بنا کر انہیں بولنے کا موقع دیا گیا۔
اگرچہ پارلیمنٹ میں اس طرح کے ناخوشگوار واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔ ایسا مہذب ممالک میں بھی ہوتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ برطانوی پارلیمان، جسے تمام پارلیمانوں یا جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے، بھی اس طرح کے واقعات سے خالی نہیں لیکن جس طرح کی ننگی گالیاں ہماری قومی اسمبلی میں دی گئیں اور جس غیر مہذب رویے کا مظاہرہ، خواتین سمیت مختلف اراکین نے کیا، اس کی مثالیں زیادہ نہیں ملیں گی۔ یہ بات نظر انداز نہیں کی جانی چاہیے کہ پارلیمان کے تقدس کی حفاظت سپیکر کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اس ذمہ داری میں حکمران جماعت سپیکر کا ساتھ دیتی ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر ماحول کو پر سکون اور خوشگوار رکھنے کا زیادہ فائدہ بھی حکومت ہی کو پہنچتا ہے۔ اپوزیشن ماحول خراب کرنے کی کوشش کرئے بھی تو حکومت ماحول کو ٹھنڈا کرکے بات کو آگے نہیں بڑھنے دیتی۔ لیکن حالیہ ہنگامے کی جو رپورٹنگ میڈیا پر ہوئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومتی ارکان کا غیض و غضب اپوزیشن ارکان سے بھی زیادہ تھا۔ یہ یقینا اچھی بات نہیں۔

ادھر اپوزیشن کو حکومتی رویے سے بعض شدید نوعیت کی شکایتیں بھی تھیں۔ مثلا گزشتہ ہفتے، 10 جون کو موجودہ حکومت نے پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ اس دن صدر کی طرف سے جاری کردہ گیارہ آرڈی نینسوں کو، بلوں کی شکل دے کر اسمبلی سے پاس کروا لیا گیا۔ اپوزیشن دہائی دیتی رہی لیکن ڈپٹی سپیکر نے کسی کی ایک نہ سنی۔ ان بلوں کو عمومی مشق کے تحت شق وار منظور کرانے کے بجائے، پورے بل کو ایک ہی "ہاں " کے زریعے منظور کرا لیا گیا۔ اسی دن صدر کے جاری کردہ ان تین آرڈی ننسوں میں بھی مزید 120 دنوں کی توسیع کر دی گئی جن کی معیاد پوری ہو رہی تھی۔ یہ ساری کاروائی انتہائی عجلت میں کی گئی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق ہماری پوری تاریخ میں کسی ایک دن اتنے زیادہ بلوں کی منظوری نہیں دی گئی۔ ظاہر ہے کہ اپوزیشن کو حکومت اور ڈپٹی سپیکر دونوں کے طرز عمل پر اعتراض تھا۔ ڈپٹی سپیکر کے خلاف تو عدم اعتماد کی تحریک بھی پیش کر دی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ اب صلح صفائی ہو جانے کے بعد شاید تحریک واپس لے لی جائے گی۔
دراصل کچھ عرصے سے ہم ایک غیر متوازن سی قوم بنتے جا رہے ہیں۔ ہمارے رویوں میں تندی آرہی ہے۔ ہم بات بات پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ ہمارے لہجے بھی بہت سخت ہو گئے ہیں۔ ان میں بیزاری اور نفرت آگئی ہے۔ عدم برداشت کی بیماری بڑھ رہی ہے۔ اس میں یقینا ہماری سیاسی قیادت کا بھی ہاتھ ہے جس نے اپنی زبان اور اپنے رویوں سے کچھ اچھا نمونہ قائم نہیں کیا۔ قومیں یقینا اپنے تہذیبی رویوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ پورا معاشرہ آگ بگولہ دکھائی دینے لگے تو ایوانوں، اداروں، محلوں، گلیوں اور گھروں کا ماحول بھی توازن کھو بیٹھتا ہے۔
اچھا لگا کہ ایک طرف قومی اسمبلی میں اتنا شدید ہنگامہ بپا تھا اور دوسری طرف پارلیمنٹ ہاوس میں ہی سینٹ کا اجلاس انتہائی پر امن اور پر سکون ماحول میں چل رہا تھا اور مختلف ارکان اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے تھے۔
مجھ سے پارلیمنٹ ہاوس اسلام آباد جانے والے گروپ کی ایک طالبہ نے کہا۔ میڈم، وہاں تو لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ میں نے کہا۔ یہ بھی جمہوریت ہی کا ایک پہلو ہے۔ مایوس مت ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *