جمہوریت کی کہر آلود راہیں

بے نظیر بھٹو نے سپریم کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی ہے جس میں الیکشن کمیشن کی جاری کردہ نئی ووٹر لسٹوں سے”غائب“ ہو جانے والے بیس ملین ووٹروں کا پتہ چلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یعنی یہ بیس ملین وہ فرق ہے جوسن دو ہزار دو اور سن دو ہزار سات میں رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد میں نظر آتا ہے۔لگتا ہے یہ ووٹرز علیحدگی پسند ذہنیت رکھنے والے بد قسمت بلوچوں کی طرح یا پھر القاعدہ سے متاثر ان پختونوں کی مانند فضاؤوں میں کہیں تحلیل ہو گئے ہیں جن کے ٹھکانوں کا کسی کو کوئی علم نہیں ہوتا۔
الیکشن کمشین کہتا ہے کہ ووٹر لسٹوں سے ان لوگوں کو باہر رکھا گیا ہے جو نادرا کے جاری کردہ قومی شناختی کارڈز نہیں دکھا پائے لیکن نادرا کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے ڈیٹا کا اس کے ڈیٹا کے ساتھ کوئی موازنہ کیا ہی نہیں اور اگر ایسا کر لیا گیا ہوتا تو مسئلہ اس قدر سنگین نہ معلوم ہورہا ہوتا!
ان دونوں سرکاری اداروں کا یہ ڈیٹا پبلک پراپرٹی ہے لیکن ایک دوسرے سے یہ جس طرح اسے خفیہ رکھ رہے ہیں یہ نہ صرف یہ کہ ناقابلِ وضاحت ہے بلکہ اس سے ان کی دیانت پر بھی کئی سوالات اٹھتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے بطورِ وضاحت یہ بھی کہا ہے کہ ان کی جانب سے ان لوگوں کے نام فہرستوں سے کاٹے گئے ہیں جنہو ں نے ایک سے زیادہ جگہوں پر اپنی رجسٹریشن کروائی ہوئی تھی یا پھر جن کی شناخت مشکوک تھی۔مگر ستر ملین میں سے بیس ملین کا اخراج ایک نہایت سنگین مسئلہ ہے۔اس سے ہمیں اس سال کے آخر میں ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے ان نئی فہرستوں کے جواز کا کوئی یقین حاصل نہیں ہوتا لین ان گزشتہ انتخابات کی ساکھ اور درستگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ضرور بنتا ہے جن کے ذریعے مشرف نواز اتحادیوں کو اقتدار حاصل ہواتھا۔بے نظیر صاحبہ کو فکر یہ ہے کہ فہرستوں میں یہ قطع و برید ہو سکتا ہے کہ ان اضلاع اور حلقوں میں کی گئی ہے جہاں پی پی پی کے ووٹروں کی اکثریت ہے۔دراصل یہ شکایت پی پی پی کے متوقع انتخابی امیدواروں نے اور خاص طور پر سندھ سے اس جماعت کے ممکنہ انتخابی امیدواروں نے ہی کی ہے۔سندھ کے تئیس اضلاع میں چھیالیس لاکھ ووٹروں کو فہرستوں سے خارج کیا گیا ہے اور اپنے ووٹ بینک میں آنے والی اس کمی نے مذکورہ جماعت کے متوقع و ممکنہ انتخابی امیدواروں کو مضمحل کر کے رکھ دیا ہے۔
اس حوالے سے کسی بھی مشرف نواز امیدوار نے کوئی پریشانی یا اضطراب ظاہر نہیں کیا ہے بلکہ جہاں جہاں مسلم لیگ کے حامی یا پھر ایم کیو ایم سے وابستہ طاقت ور ناظمین کا راج ہونے کے ساتھ ساتھ انتظامیہ بھی حکومت نواز ہے تو وہاں اس صورتحال کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ حکمران جماعت اور الیکشن کمیشن کے اہلکاروں کے درمیان رجسٹرڈ ووٹوں جیسی نچلی ترین مگر بنیادی سطح پر قبل از انتخابات دھاندلی کے سلسلے میں گٹھ جوڑ ہو چکا ہے۔
بے نظیر صاحبہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر یہ مسئلہ ان کی مرضی کے مطابق حل نہیں ہوا تو وہ انتخابات کا بائیکاٹ کر دیں گے۔اس پر قاف لیگ کے کرتا دھرتاجناب چودھری شجاعت حسین نے ان کے شکوک و شکایات کے ازالے کے لئے یہ پیش کش کی ہے کہ ووٹ ڈالنے کے لئے شناختی کارڈ کی شرط کا ہی خاتمہ کر دیا جائے گا جیسا کہ پہلے ہوتا تھا کہ کوئی بھی شناختی دستاویز(بجلی کا بل یا جائیداد کے کاغذات وغیرہ)دکھانا ووٹ ڈالنے کے لئے کافی سمجھا جاتا تھا۔تاہم چودھری صاحب کی اس فیاضانہ پیش کش کو سراہنے میں جلدی کرنے سے قبل ہمیں ایک لمحہ توقف کر کے سوچ لینا چاہئے کہ اس انتظام کا فائدہ کسے ہو گا؟اس بات کا امکان موجود ہے کہ پورے ملک کے پولنگ بوتھوں کو الیکشن کمیشن کی ہدایات حکمران جماعت کے لئے موافقت میں ہوں۔ایسے میں شناختی کارڈ کی شرط کے خاتمے کا فائدہ حزبِ اختلاف کو نہیں بلکہ حکمران جماعت کو ہی ہو گا کیونکہ اس صورت میں شاید حزبِ اختلاف والوں کے ووٹوں میں تو صرف چند لاکھ کا اضافہ ہی ہو سکے گا لیکن حکمران جماعت کو یقیناً اس سے بھی تین گنا زیادہ ووٹ مل جائیں گے!!!
عام انتخابات پر اس طرح پہلا پتھر پھینک دیا گیا ہے۔حزبِ اختلاف والوں کو یقین ہے کہ ایک مضبوط اور ہوشیار الیکشن کمیشن کی عدم موجودگی میں حکمران جماعت قبل اور بعد از انتخابات ہر قسم کی دھاندلی کا سہارا لے گی۔اس لئے اگر وہ ایک ایسے نئے اور غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا مطالبہ شروع کر دے کہ جو شفافیت کے ان کے معیار پر پورا اترتا ہو تو یہ کسی کے لئے کوئی حیران کن بات نہیں ہونی چاہئے۔تاہم اس مطالبے کا کوئی فائدہ ہو گا نہیں کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ ایک آئینی عہدہ ہے اور اس پر تقرری یونہی کسی کے چاہنے پر نہیں ہوتی ہے۔مطلب یہ کہ یہ جنگ بھی سپریم کورٹ کا ہی رخ کر لے گی۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایک آزاد اور غیر جانبدار چیف جسٹس کا وجود جنرل مشرف اورقاف لیگ کے لئے اس قدر خوفناک کیوں ہے؟
سوالات کئی ایک اٹھتے ہیں۔مثال کے طور پر کیا الیکشن کمیشن کے لئے یہ ممکن ہے کہ ووٹر لسٹوں سے غائب ہونے والے ناموں کا یہ مسئلہ وقت پر اور بے نظیر صاحبہ کے لئے اطمینان بخش انداز میں حل کر سکتی ہے تاکہ وہ انتخابات کے بائیکاٹ کی اپنی دھمکی واپس لے سکیں؟اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو کیا حکومت انتخابات کو اس وقت تک ملتوی کر سکتی ہے جب تک یہ فہرستیں محترمہ کے لئے خاطر خواہ طور پر از سر نو تشکیل نہیں دے دی جاتیں؟اس مشکل صورتحاک سے دوچار ہونے پر محترمہ کا فیصلہ کیا ہو گا؟ کیا وہ ان غلط فہرستوں کے ساتھ انتخابات میں شامل ہوں گی یا پھر شفاف فہرستوں کی تیاری کے لئے انتخابات میں تاخیر پر راضی ہو جائیں گی؟اگر سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن یا حکومت نے ان کی شکایات کو بے بنیاد قرار دے دیا یا پھر یہ کہا کہ نئی فہرستوں کی تیاری میں چونکہ کئی مہینے لگ سکتے ہیں اس لئے تب تک کے لئے انتخابات ملتوی کرنا ہوں گے تو اس پر بے نظیر صاحبہ کا ردعمل کیا ہوگا؟
قابلِ غور بات یہ ہے کہ فہرستوں پر اعتراض کی بے نظیر صاحبہ کو اتنی دیر بعد اب کیوں سوجھی کہ عام انتخابات کا اعلان جلدہی متوقع ہے؟سازشی نظریات کے پرچارک جو یہ کہہ رہے ہیں کہ جنرل مشرف کے ساتھ ڈیل کے تحت انتخابات کو ملتوی کرانے کے لئے محترمہ نے یہ ہنگامہ کھڑا کیا ہے تو انہیں اپنی ذہنی استعداد میں اضافے کی کوئی سعی کرنی چاہئے کیونکہ اسی مسئلے پر احتجاج میاں نواز شریف صاحب بھی شروع کر چکے ہیں!!
عظیم تر جمہوریت کی راہیں ہمارے لئے مزید کہر آلود ہوتی جا رہی ہیں!!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: