جمہوریت کے بغیر پائیدار انسانی ترقی ممکن نہیں

انسانی معاشرہ ایک پیچیدہ، متنوع، سیال اور اکثر ناقابل پیش بینی مظہر ہے۔ اس میں آبادی کے مختلف حصوں میں ناگزیر طور پر مفادات کا ٹکرائو بھی پایا جاتا ہے اور قدرتی عناصر کی بے اماں مداخلت بھی۔ تاریخ ایک اثاثہ بھی ہو سکتی ہے اور اجتماعی نفسیات میں گہرا گھائو بھی۔ کہیں معدنیات کی فراوانی کے باوجود کانگو کی معیشت کا کل حجم 80 ارب ڈالر اور فی کس آمدنی بمشکل 900 ڈالر ہوتی ہے اور کہیں جرمنی اور جاپان جیسے ممالک معدنیات نہ ہوتے ہوئے بھی ترقی یافتہ اور امیر ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ رقبے اور معدنیات کے لحاظ سے وسطی ایشیا کا سب سے بڑا ملک قازقستان سیاسی عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر نجیب اللہ مرحوم اپنے ملک کے بارے میں ایک کاٹ دار جملہ کہا کرتے تھے، ’افغانستان کی تاریخ بہت شاندار ہے اور جغرافیہ بدقسمت‘۔ جغرافیے کی بدقسمتی کوئی ویت نام والوں سے پوچھے جنہیں 40برس تک چین اور کمبوڈیا کی ہمسائیگی کا تاوان ادا کرنا پڑا۔ پہلی عالمی جنگ ختم ہوئی تو کسے اندازہ تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں سلطنت عثمانیہ کے ٹوٹے ہوئے تارے زیر زمین تیل کی بدولت اگلے سو برس خوشحالی کا ڈنکا بجائیں گے۔ اور پھر معدنی تیل کی اہمیت ختم ہونے کا امکان پیدا ہوتے ہی اسرائیل کو گلے بھی لگائیں گے اور بحیرہ احمر کے ساحلوں پر کوڑا بردار خدائی فوجداروں کی جگہ رقص اور موسیقی کے رنگ بھی نظر آئیں گے۔ سابق برما میں جاپان کی فوجی پیش قدمی سے مکانی قربت نے بنگال کو 1943 ء کے قحط کا عذاب بخشا۔ چاول کی سوچی سمجھی سرکاری ذخیرہ اندوزی سے پیدا ہونے والے بنگال کے قحط سے 25 لاکھ انسانی اموات، زین العابدین کی مصوری اور کرشن چندر کے دل گداز افسانے ہی برآمد نہیں ہوئے، انسانی فکر کو امرتیو سین کا معاشی فلسفہ بھی نصیب ہوا۔ 1933 ءمیں ڈھاکہ میں پیدا ہونے والے امرتیو سین نے معیشت کی سائنس کو اخلاق کا لباس بخشا۔ اس کا کہنا ہے کہ اپنے معیارِ زندگی میں بہتری کی انسانی آزادی اخلاق کا اعلیٰ ترین درجہ ہے اور جہاں یہ جمہوری آزادی موجود نہ ہو، وہاں انسان قحط سمیت طرح طرح کے آلام کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ’بھوکا ہے بنگال رے ساتھی‘ کا انقلابی گیت سنتے ہوئے شعور کی آنکھ کھولنے والے امرتیو سین نے جمہوریت اور معاشی ترقی کا تعلق دریافت کیا۔ جمہوریت انسانی مساوات، تحفظ اور خوشحالی کا مسرت آگیں تصور ہے لیکن جمہوریت کی تاریخ پیچ دار ہے اور جمہوری ثقافت صبر طلب ہے۔

ڈھائی ہزار برس قبل افلاطون نے ایتھنز کی جمہوری ریاست کی مخالفت کرتے ہوئے فلسفیانہ آمریت کا تصور پیش کیا تھا۔ ازمنہ وسطیٰ کا عہد تاریک ختم ہونے پر آیا تو برطانوی فلسفی تھامس ہابز نے مضبوط مرکزی اقتدار کا تصور پیش کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ طاقت کے بل پر حکم نافذ کرنے والی مقتدرہ کی عدم موجودگی میں معاشرہ جنگل کے قانون میں بدل جائے گا۔ تھامس ہابز کے ہم وطن اور ہم عصر جان لاک نے اختلافی نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے اس روشن خیالی کی بنیاد رکھی جس نے اٹھارہویں صدی میں روسو اور والٹیئر جیسے جمہور پسندوں کا راستہ ہموار کیا۔ لیکن جمہوریت اپنے جواز کے لئے علم، معیشت اور سماجی شعور کے خاص تقاضے رکھتی ہے۔ بیسویں صدی شروع ہوئی تو دنیا بھر میں ایک دو ممالک کے سوا ہر جگہ غیر جمہوری حکومتیں قائم تھیں۔

برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک میں عورتوں کو ووٹ کا حق نہیں تھا۔ نسلی امتیاز کی لعنت موجود تھی اور دو تہائی انسانیت نوآبادیاتی غلامی میں گرفتار تھی۔ بیسویں صدی ان سنگین چٹانوں سے سر پھوڑتے گزر گئی۔ اسی کی دہائی کے آخری برسوں میں بہت سی امید پیدا ہوئی تھی لیکن سرد جنگ کی باقیات نے سیاسی قدامت پسندی اور دہشت گردی جیسی تحریکوں کی مدد سے انسانی آزادیوں کے خواب کو دھندلا دیا۔ 2021میں سامنے آنے والی جمہوری بندوبست کی درجہ بندی میں اقوام متحدہ کے قریب 192 رکن ممالک میں صرف 23 ممالک ایسے ہیں جنہیں موثر، فعال اور مستحکم جمہوریتوں میں شمار کیا گیا ہے اور ان ملکوں میں امریکہ اور بھارت شامل نہیں ہیں۔ جمہوری معیار کے اعتبار سے بلند ترین کارکردگی دکھانے والے دس ممالک کے نام دیکھئے، ناروے، آئس لینڈ، سویڈن، نیوزی لینڈ، فن لینڈ، آئرلینڈ، کینیڈا، ڈنمارک، آسٹریلیا اور سوئٹزرلینڈ۔ پانچ ایسے ممالک بھی دیکھ لیجئے جہاں جمہوری آزادیاں بدترین حالت میں ہیں۔ شمالی کوریا، کانگو، سنٹرل افریقن ریپبلک، شام اور چاڈ۔ ہمارے ملک کے ممتاز معیشت دان ڈاکٹر محبوب الحق نے 1990 ء میں انسانی ترقی کے انڈیکس کا تصور دیا تھا جس میں متوقع انسانی عمر، شرح خواندگی، صنفی مساوات اور فی کس آمدنی جیسے اشاریے شامل کئے گئے تھے۔ یہ معاشی ترقی کی پیمائش کا ایک انقلابی تصور تھا۔ ایک ذاتی مشاہدہ عرض کروں۔ مشاہدہ کیا ہے، رائیگانی کا ملال کہئے۔ 1992 میں درویش نے انسانی حقوق کے کارکن کی حیثیت سے عملی کام شروع کیا تو پاکستان انسانی ترقی میں 138اور بھارت 137نمبر پر تھے۔ اپنے سے چھ گنا بڑے ملک سے صرف ایک درجے کا فاصلہ حوصلہ بندھاتا تھا۔ 2020 میں انسانی ترقی کی درجہ بندی میں بھارت 131اور پاکستان 154 ویں نمبر پر ہے۔ کیسے اجڑی بستیوں کو آباد کرو گے؟

ہمارے ملک میں ایسے سوجھوانوں کی کمی نہیں جو کبھی صدارتی نظام کا نسخہ پیش کرتے ہیں تو کبھی جمہوریت کا نام لینے والوں کے لئے فائرنگ اسکواڈ کی تجویز دیتے ہیں۔ کوئی خلافت کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے تو کوئی فسطائیت کا قصیدہ لکھتا ہے۔ ایسے مہربانوں سے گزارش ہے کہ جمہوریت اور انسانی ترقی کی درجہ بندیوں میں اعلیٰ اور بدترین کارکردگی دکھانے والے ممالک کی فہرست پر ایک نظر ڈال کر دونوں اشاریوں میں تعلق پر غور کر لیں۔ مغرب (امریکہ) اور مشرق (چین) میں جاری معاشی مسابقت میں اپنے لئے خیراتی ٹکڑوں کی امید رکھنے والوں کو نوید ہو کہ اس برس امریکہ اور چین میں 700ارب ڈالر کی تجارت ہوئی ہے۔ ہم کو شاہوں سے انصاف کی امید نہیں ورنہ انہیں میرؔ صاحب کا شعر سنایا جاتا

ہر زخم جگر داور محشر سے ہمارا

انصاف طلب ہے تری بیداد گری کا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.