جنت، حوریں، غلماں اور انور رٹول

کچھ دنوں سے ہمارے پاکستانی سپریم کورٹ کے تین رکنی اور فل ’’رکنی ‘‘بنچ کی بحث میں الجھے ہوئے تھے مگر میرے ذہن کے نہاں خانے میں جنت اور دوزخ کا تصور پھنسا ہوا تھا ،ہماری آسمانی کتاب میں حوروں کا ذکر تو بہت سرسری طور پر آیا ہے کہ وہاں باغات ہوں گے، نہریں ہوں گی، پھل ہوں گے اور اس کے علاوہ بھی کچھ نعمتیں جن کا ذکر ہم لوگ سب سے زیادہ کرتے ہیں ظاہر ہے، یہ حوریں ہیں جو ہمارے انتظار میں بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہو گئی ہیں، ٹھیک ہے جنت میں کوئی مرد وزن بوڑھا نہیں ہو گا مگرداغ دہلوی تو جنت کے حصول سے مایوس ہو کر کچھ اس طرح کی جلی کٹی سناتا ہے ؎

جس میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں

ایسی جنت کو کیا کرے کوئی

تاہم داغ نے یہ بات اس دور میں کہی جب تک اس نے جنت میں موجود حوروں کے کسی MOTIVATOR SPEAKERکو نہیں سنا ہو گا ۔میں نے دو ایک بار سنا ،تیسری بار ان با حیا حوروں کے حصول کے لئے جنہوں نے اپنے جسم پر ستر جوڑے پہنے ہوں گے مگر ان کے مرمریں جسم کی جھلک کو یہ ستر پردےبھی نہیں روک سکیں گا اور یوں عبادت گزار انہیں فطری حالت ہی میں دیکھیں گے ،یہ سب کچھ سن کر میں نے جنت کے حصول کے لئے نیک کاموں میں الجھ کر ساری زندگی کو بے رونق بنانے کی بجائے خودکش بمبار بننے کا فیصلہ کیا ،خودکش بمبار بڑے سمجھدار لوگ ہوتے ہیں وہ ساری عمر اس دنیا کی دوزخ میں جلتے رہنے کی بجائے جسم پر خودکش جیکٹ پہنتے ہیں جو انہیں مفت پیش کی جاتی ہے اور وہ جائے واردات پر پہنچ کر’’جہنمیوں‘‘کے ایک غول کے سامنے جیکٹ میں لگا بٹن آن کرتے ہیں اور اسی لمحے آسمانوں پر حوروں کو یہ پیغام رسانی ہو جاتی ہے کہ ایک جنتی آ رہا ہے اس کے ہمہ جہت استقبال کی تیاریاں کرلو اللہ اللہ خیر سلا ، مگر میری بدقسمتی کہ میرے ذہن میں کچھ فاسد خیالات آنے لگے۔ میں نے سوچا کہ حوروں کے یہ ترغیباتی اتنے خوبصورت جوانوں کو جنت میں بھجوا چکے ہیں خود کیوں نہیں جاتے پھر میں نے سوچا قوال کا کام قوالی کرنا ہے حال کھیلنا نہیں چنانچہ خودکش نوجوانوں کے خاندان حال کھیلتے کھیلتے بے حال ہو جاتے ہیں اور قوال یہیں جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ہیں۔

میں یہاں اپنے بے حد محترم مولانا طارق جمیل کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اپنے ڈیرے پر بے حد لذیذ کھانوں اور انتہائی خوبصورت گفتگو سے مجھے بے پناہ عزت بخشی اورایک شکریے کا اظہارر بھی کرنا تھا کہ حوروں کے حوالے سے ان کی بعض تقاریر میں ان کا جو حلیہ بیان کیا گیا، اس کی وجہ سے میں نے خودکش بمبار بننے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ مولانا نے ایک تقریر میں ایک بےحد خوبصورت حور کا قد 130فٹ بتایا جبکہ میرا قد صرف پانچ فٹ آٹھ انچ ہے اس صورت میں ،میں تو صرف اس کے شاید پائوں ہی کوہاتھ لگا سکوں۔ اس کے علاوہ ایک حور کی دو ٹانگوں میں چالیس میل کا فاصلہ ہو گا ،میں حضرت سے درخواست کروں گا کہ ایک تو ذرا مزید تحقیق فرمائیں کہ قد ایک سو تیس فٹ ہی ہوگا اور دو ٹانگوں کا درمیانی فاصلہ چالیس میل ہی رہے گا یا اس میں کمی بیشی کی بھی کسی گنجائش کا کوئی ذکر ہے ؟

کچھ سوال جنت کے دیگر ترغیباتی مقرروں سے بھی کرنے کے ہیں کہ وہ حوروں کے ذکر کے ساتھ غلمان کا ذکر بھی کرتے ہیں یعنی خوبصورت نوجوان لڑکے، تاہم ان کا ذکر کچھ زیادہ نہیں کیا جاتا حالانکہ خوبصورتی کی مر د وزن کے حوالے سے تخصیص نہیں کی جا سکتی آپ پاکستان کے تمام صوبوں سے اس مسئلہ پر ریفرنڈم کرا کے دیکھ لیںغلمان کے فرائض کا ذکر ہی کم کم سننے میں آتا ہے ۔شاید یہ سارے دن کے ’’تھکے ‘‘جنتیوں کےفارغ وقت میں پائوں وغیرہ دباتے ہوں ، انہیں کچھ ایسے رموز سے ہی آگاہ کرتے ہوں جوخدانخواستہ پہلے سے ان کے علم میں نہ ہوں ،یہ غلمان ساقی کے فرائض بھی انجام دیتے ہوں ۔میں نے خدا کے فضل سے آج تک شراب کو اس لئے بھی ہاتھ نہیں لگایا کہ جنت میں حوروغلمان کہیں یہ نہ سوچیں کہ یہ زاہد خشک کہاں سے آ ٹپکا۔میں نے تو سوچا ہوا ہے کہ غالب ،فیض، منیر نیازی، احمد فراز اور دوسرے رندوں کےساتھ جب وہاں ملاقات ہو گی تو وہاں انہیں یہ شعر پڑھنے کی ضرورت ہی نہیں ہو گی؎

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھے رہیں تصور جاناں کئے ہوئے

فرصت ہی فرصت ہو گی تصور جاناں کی بجائے ’’جاناں‘‘ ان کے منت ترلے کر رہے ہوں گے کہ ان سے کوئی خدمت ہی لی جائے اور خدمت انہوں نے کیا لینی ہے ان میں سے کوئی کسی حور اور کوئی کسی غلمان سے ساقی کا کام لے رہا ہو گا کیسے قناعت پسند لوگ ہیں ۔

اوربس آخر میں صرف ایک سوال، ترغیباتی مقرر جنت کی بے شمار نعمتوں کا ذکر کرتے ہیں صرف ایک نعمت کا ذکر نہیں کرتے اگر وہ مجھے یقین دلا دیں کہ جنت میں انور رٹول آم سارا سال دستیاب ہوں گے تو براہ کرم اس یقین دہانی کے ساتھ ایک خودکش جیکٹ بھی پہلی فرصت میں تیار اور ارسا ل کرکےعنداللہ ماجور ہوں۔

error: