جنت میں جانے کا طریقہ

میرا دور پار کا ایک دوست ہے، سال چھ مہینے میں ایک مرتبہ اُس سے ملاقات ہو جاتی ہے، جب بھی ملتا ہے تو ایسا لگتاہے جیسے روئے زمین پر اُس سے زیادہ خوش کوئی آدمی نہیں۔ با ت بات پر لطیفے سناتا ہے، قہقہے لگاتا ہے، دوستوں پر جملے کستا ہے اور اگر کوئی اُس پر جواباً جملہ کسے تو کھل کر داد دیتا ہے۔ اُس کی محفل میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلتا۔ مگر اُس کی ایک عادت بے حد عجیب ہے۔ وہ اچانک کئی مہینوں کے لئے غائب ہو جاتا ہے۔ فون کا جواب دیتا ہے اور نہ کسی پیغام کا۔

ایسا نہیں ہے کہ وہ شہر چھوڑ کر کہیں چلا جاتا ہے۔ایک مقامی بینک میں اُس کی ملازمت ہے اور ’عرصہ روپوشی‘کے دوران بھی وہ باقاعدگی سے اپنی ڈیوٹی پر جاتا ہے۔ یہ بات تمام دوستوں کے علم میں ہے اِس لئے سب کو مزید غصہ آتا ہے اور ہم اِس رویے کو بدتہذیبی پر محمول کرتے ہیں۔

کئی مہینوں کی ’روپوشی ‘ کے بعد اچانک جب وہ دوبار ہ منظر عام پر آتا ہے تو فوراً ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگنے لگتاہے، آئندہ غائب نہ ہونے کا وعدہ کرتا ہے اور پھر ا ِس قدر معصوم شکل بناتا ہے کہ سب دوستوں کو بے اختیار اُس پر پیار آ جاتا ہے۔ہم اُس کے غیرذمہ دارانہ رویے کو بھول کر دوبارہ اسے اپنی مجلس میں شامل کر لیتے ہیں لیکن بمشکل چند ہفتے ہی گزرپاتے ہیں کہ وہ دوبار ہ غائب ہو جاتا ہے۔یہ تماشا کافی عرصے سے چل رہا ہے،تنگ آ کر اب تمام دوستوں نے اِس بات کو ناقابلِ اصلاح سمجھ کر قبول کر لیا ہے۔

ایک دن میں نے اُس سے پوچھا کہ یہ جو تم کئی کئی ماہ کے لئے بغیر اطلاع دیے غائب ہو جاتے ہو، آخر اِس کی وجہ کیا ہے؟یکلخت اُس کے چہرے پر سنجیدگی طاری ہو گئی اور خلافِ توقع اُس نے بات بدلنے کی کوشش بھی نہیںکی،کچھ لمحے وہ خاموش رہا اور پھر جو اُس نے مجھے بتایا وہ کچھ یوں ہے :

’’میرے دو بچے ہیں، ایک بیٹی ہے اٹھار ہ سال کی اور ایک بیٹا سولہ برس کا۔بیٹی کالج جاتی ہے۔بیٹے کی عمر ویسے تو سولہ برس ہے مگر ذہنی طور پر وہ چار سال کا ہے۔ جب وہ پیدا ہوا تو چاند کا ٹکڑا تھامگر جب کچھ بڑا ہوا تو ہمیں پتا چلا کہ بو ل نہیں سکتا اور ذہنی طور پر نارمل نہیں۔عام بچوں کی نسبت وہ بہت ’ہائپر‘ تھا، نچلا نہیں بیٹھ سکتا تھا،جو چیز اُس کے ہاتھ میں آتی اسے توڑ دیتا،کبھی میز پر چڑھ جاتا تو کبھی الماری پر۔

ہم نے گھر کی ہر چیز اُس کے ڈر سے چھپا دی کہ کہیں وہ اپنا نقصان نہ کروا بیٹھے۔ اِس دوران ہم نے مختلف ڈاکٹروں کو دکھایا، ہمیں بالآخرپتا چلا کہ ہمارا بچہ’ آٹزم ‘کا شکار ہے۔بعض اوقات آٹزم کی ایک شکل ADHDبھی ہوتی ہے جسے Attention Deficit Hyperactivity Disorderکہتے ہیں۔

ڈاکٹروں کی رائے میں ہمارے بچے میں اِن بیماریوں کی علامات پائی جاتی ہیں۔ کوئی پیر، فقیر، حکیم، ڈاکٹر، جوگی، سادھو، بابایا صاحب کشف و کرامات بزرگ ایسا نہیں جس کے پاس ہم اپنے بچے کے علاج کے لئے نہیں گئے۔ مگر کوئی افاقہ نہیں ہوا۔ ایک مرتبہ ہمارے دوست نے کسی فلاحی ادارے میں بھیجا جہا ں ایسے بچوں کی تھراپی کی جاتی تھی، میں بیٹے کو لے کر وہاں گیا مگر انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ آپ کا بچہ تو بیٹھتا ہی نہیں اِس کی تھراپی کیسے کریں۔ہم واپس آ گئے۔

دو سال پہلے اخبار میں مکمل صفحے کاایک اشتہا ر دیکھا جس میں کسی ڈاکٹر نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ آٹزم کا شکار بچوں کا شرطیہ علاج کرتا ہے۔ میں اور میری بیوی آس لگا کر اِس ڈاکٹر کے پاس پہنچ گئے۔ ڈاکٹر نے پورے اعتماد کے ساتھ بچے کا چیک اپ کیا اور ہمیں بتایا کہ صرف تین ہفتے کے لئے بچے کو روزانہ ٹیکہ لگایا جائے گا جس کے بعد ان شاء ﷲ بچہ بالکل نارمل ہو جائے گا۔تین ہفتے کے علاج کے تین لاکھ روپے بنتے تھے، ہم نے جیسے تیسے کرکے وہ ادا کیے اور بچے کا علاج شروع کروایا۔

حسبِ معمول ایک روز میں اپنے بیٹے کو ڈاکٹر کے کلینک میں ٹیکہ لگوانے بیٹھا تھا کہ اچانک محکمہ صحت کے اہلکار وں نے وہاں چھاپہ مارا اور کلینک سر بمہر کر دیا۔ ڈاکٹر کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی اور اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی کہ وہ جعلی ڈاکٹر ہے جو بچوں کو افیون کے ٹیکے لگاتا ہے۔ آپ یقین کریں اُس روز میرا دل کیا کہ میں چیخ چیخ کر فریاد کروں۔

میری بیوی کا بھی رو رو کر برا حال ہو گیا۔کچھ ہی دنوں بعد وہ ڈاکٹر ضمانت پر رہا ہو گیا اورشاید آج کل کسی اور شہر میں کلینک چلا رہا ہے۔ میرا بیٹا اب سولہ سال کاہے، وہ میرے بغیر نہیں رہ سکتا، میری بیوی اور بیٹی اسے نہیں سنبھال سکتے۔

دفتر سے لوٹنے کے بعد میرا تمام وقت اس کی دیکھ بھال میں گزر جاتا ہے، میں اِس دوران کوئی فون سن سکتا ہوں اور نہ کسی سے مل سکتا ہوں۔دو چار ماہ بعد جب مجھے کوئی ایسا موقع ملتا ہے کہ میں کچھ دیر کے لئے دوستوں کے ساتھ بیٹھ جاؤں تو میں آپ کے پاس آ جاتا ہوں۔ آج آپ نے روپوشی کی وجہ پوچھی ہے تو میں نے بتا دی ہے۔ ‘‘

میرے دوست کی بات ختم ہو گئی تو میں نے سوچا کہ اب میں اسے کیا کہوں، کون سا مشورہ دوں، کس طرح سے اس کی دل جوئی کروں، کچھ بھی تو نہیںمیرے پاس۔ میرے اختیا ر میں صرف اتنا ہے کہ اپنے کالم کے ذریعے حکومت کو تجویز دوں کہ جعلی ڈاکٹروں کے خلاف موجودہ قانون میں سقم دور کرکے اسے سخت بنایا جائے تاکہ ایسے بھیانک جرم کی سزا سے کوئی بچ نہ سکے۔ دوسری درخواست میری اِس ملک کے صاحب حیثیت اور درد دل رکھنے والے لوگوں سے ہے کہ اگر ہو سکے تو آٹزم کے بچوں کے لئے کوئی ادارہ بنا دیں جہاں ایسے بچوں کا علاج ہو سکے، میری معلومات کے مطابق ADHDکے شکار بچوں کے علاج کا کوئی ادارہ اِس وقت ملک میں نہیں۔ اگرکوئی ﷲ کا بندہ یہ کام کر جائے تو اِن معصوم بچوں کی دعاؤں سے وہ شخص جنت میں کئی محلات کا مالک بن جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: