جنرل صاحب کا انتظار کریں

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے سربراہی میں عدلیہ اور صدر آصف علی زرداری کی سربراہی میں قائم پی پی پی حکومت کے درمیان محاذ آرائی فیصلہ کن موڑ کے قریب پہنچ رہی ہے۔ آئندہ چند ہفتوں میں جب دونوں اداروں کا ٹکراؤ ہو گا تو طاقت ور آرمی چیف جنرل پرویز کیانی کو مداخلت کرنا ہی پڑے گی۔تاہم ان کی مداخلت مسئلے کو حل کرنے کے بجائے کہیں بڑے سیاسی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
عدلیہ کسی صورت آصف زرداری کو محفوظ رستہ دینے کیلئے تیار نہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں صدر زرداری کے دو عہدوں صدر پاکستان اور پی پی پی کے شریک چیئر مین کے خلاف 2 درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ آئین کے مطابق چونکہ صدر کے عہدے کو آئینی استثنیٰ حاصل ہے اسلئے اول تو اس نوعیت کی درخواست ہائیکورٹ کو منظور نہیں کرنا چاہیے تھی۔ مگر عدالت نے نہ صرف ان درخواستوں کو جلد بازی میں منظور کیا بلکہ صدر زرداری کو سماعت میں پیش ہونے کا عجلت میں نوٹس بھی جاری کر دیا، حالانکہ آئینی درخواستوں پر عدالتیں 60 روز کا نوٹس جاری کرنے کی پابند ہیں۔ قابل ذکر پہلو یہ بھی ہے کہ آئین میں ایسی کوئی پابندی نہیں جس کے تحت صدر پارٹی عہدہ رکھنے کا مجاز نہیں، اس کے علاوہ پاکستان میں بھارت کی طرح غیر سیاسی یا غیر جانبدار صدور کا کبھی کوئی رواج رہا۔حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سے ہی صدر مداخلت کار اور فیصلے مسلط کرنے والی شخصیت ہوئے ہیں۔
صدر اسکندر مرزا نے جنرل ایوب خان کو 1958 ء میں اقتدار پر قبضے کی دعوت دی؛ جنرل ایوب خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف بغاوت کے نتیجے میں صدور بنے، ضیاء الحق کے چنے ہوئے ایک بیوروکریٹ صدر غلام اسحق خان نے 90 ء کی دہائی میں 2 منتخب جمہوری حکومتوں اور وزرائے اعظم کو برطرف کیا۔
پی پی پی کے ڈپٹی لیڈر صدر فاروق لغاری نے 96 ء میں اپنی ہی پارٹی کی حکومت برطرف کی۔ 98 ء میں نواز شریف کے مقرر کردہ صدر رفیق تارڑ نے جنرل پرویز مشرف کی ماتحتی میں بھی کام جاری رکھا، پھر اپنی برطرفی سے قبل جنرل پرویز مشرف کے حکم کے مطابق نواز شریف کی سزا معاف کرنے کے فرمان پر دستخط کئے، آج بھی ن لیگ کے اجلاسوں میں انہیں اپنے کرم فرماؤں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
عدلیہ پی پی پی حکومت پر زور دے رہی ہے کہ صدر زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کے مقدمات دوبارہ کھولنے کیلئے سوئس حکام کو خط لکھے۔ اب تک تین اٹارنی جنرل، نیب کے چیئر مین اور پراسکیوٹر جنرل اور 2 وفاقی سیکرٹری قانون عدلیہ یا حکومت کے ساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ کئے بغیر اپنا عہدہ چھوڑ چکے ہیں۔آئین کے تحت صدر کو فوجداری مقدمات سے مکمل استثنیٰ حاصل ہے۔ وزیر قانون بابر اعوان کہہ چکے ہیں کہ عدلیہ کی خواہش پر سوئس حکام کو خط صرف ان کی لاش پر ہی لکھا جا سکتا ہے۔ انہیں 25 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے، اس موقع پر کئی پٹاخے چلنے کی توقع ہے۔ پی پی پی کے رہنماء صدر زرداری کے گرد جمع ہیں۔ سپریم کورٹ توہین عدالت کے الزام میں وزیر قانون کو سزا سنا سکتی ہے مگر سزا معاف کرنے کا آئینی اختیار جسے صدر زرداری نے اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ اور آئی بی کے ایک سینئر افسر کی سزا معاف کرنے کیلئے استعمال کیا، جب انہیں معمولی جرائم کے الزام میں سزا سنا دی گئی، مستقبل میں بھی صدر اپنے اس اختیار کو استعمال میں لانا جاری رکھ سکتے ہیں۔ عدلیہ کی فائرنگ لسٹ میں دوسرا نام وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کا ہے۔
جلد یا بدیر یہ دوڑ جنرل کیانی کے سامنے جا کر ختم ہو گی۔ جب حکومت سپریم کورٹ کے احکامات کو یک طرفہ، غیر منصفانہ اور من مانے قرار دے کر عملدرآمد سے انکار کر دے گی تو پھر عدالت کو بالآخر آرمی چیف کی طرف دیکھنا پڑے گا۔
آخری مرتبہ 98 ء میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے آرمی چیف جہانگیر کرامت کو ہدایت کی کہ حکمران جماعت ن لیگ کے غنڈوں سے عدالت کو تحفظ فراہم کریں،مگر جہانگیر کرامت لا تعلق رہے، ان کی درخواست وزارت دفاع کو بھیج دی۔ اس کے بعد جسٹس سجاد علی شاہ اور صدر فاروق لغاری کو اپنے عہدے چھوڑنا پڑے۔ اس مرتبہ چیف جسٹس آف پاکستان کو جنرل کیانی سے کہنا پڑے گا کہ اپنی بندوق صدر زرداری پر تان لیں، پہلے انہیں عدالت میں لائیں پھر جیل میں ڈال دیں۔ اس صورت حال سے بچنے کیلئے حکومت بھی ایک انتہائی قدم اٹھانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ گزشتہ سال چیف جسٹس اور ان کے ساتھی ججوں کی بحالی کیلئے حکومت نے ایک انتظامی نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ اگر وزیر اعظم کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس نوٹیفکیشن کو حکومت واپس لے لیتی ہے تو پھر ججوں کو ایک مرتبہ پھر اپوزیشن اور میڈیا کی مدد سے سڑکوں پر آنا پڑے گا، بہت ممکن ہے اس موقع پر فوج سے مطالبہ کیا جائے کہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کو بچانے کیلئے مداخلت کرے۔
بالآخر جنرل کیانی کو ہی پاکستانی سیاست میں اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔ یہ صورت حال اس لئے بھی دلچسپ ہے کہ ان کی ملازمت میں دو سال کی توسیع کی باتیں ہو رہی ہیں۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی نے ملازمت میں توسیع نہیں مانگی اور نہ ہی حکومت انہیں توسیع دینے پر غور کر رہی ہے۔ ساتھ ہی وزارت دفاع ایک تجویز پر بھی غور کر رہی ہے جس کے مطابق تینوں سروسز چیفس کی مدت تین سال سے بڑھا کر پانچ سال کر رہی ہے۔ موجودہ صورت حال میں آرمی چیف کے اقدامات کا انتظار کریں۔