جنرل ضیا کا آخری تحفہ

مرحوم کی زندگی کا سچا واقعہ جس کے راوی پی ٹی وی کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر اختر وقار عظیم ہیں۔ واقعہ جنرل ضیا کے مرحوم ہونے سے چند دن پہلے کا ہے اور راوی نے اپنی یاداشتوں کی کتاب ’ہم بھی وہیں موجود تھے‘ ، میں رقم کیا ہے۔

اس واقعہ سے آپ کو نہ صرف یہ اندازہ ہوگا کہ شہادت سے چند دن پہلے مرحوم کی ذہنی حالت کیا تھی لیکن یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مرحوم کی اصل وراثت کیا ہے۔

واقعہ سنانے سے پہلے میں یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ ہم سب کالم نویس، تجزیہ نگار، سماجی معاملات پر غور وفکر کرنے والے جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو موضوع کوئی بھی ہو تین پیرے لکھنے کے بعد ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم شہید صدر ضیا الحق کا ذکر ضرور کریں۔ ہماری کوئی دلیل، کوئی تجزیہ اس وقت تک مکمل ہوتا ہی نہیں جب تک ہم شہید صدر کا ذکر مبارک نہ کر لیں۔

افغانستان، ہیروئن، کلاشنکوف، سوویت یونین کا زوال تو ان سے منسوب ہیں ہی لیکن کراچی میں کچرے کا مسئلہ ہو تو بھی ان کا نام لے لیتے ہیں۔ نعت خوانوں کا عروج ہو یا سینما کا زوال ہم جیسے تجزیہ نگار کہیں سے تانے بانے ملاتے ملاتے ضیا دور یا ضیا کی پالیسیوں تک بات لے ہی جاتے ہیں۔

آج کل کے بچے جب یہ تجزیے پڑھتے ہیں تو انھیں لگتا ہے کہ جنرل ضیا سے پہلے پاکستان میں دودھ اور وہسکی کی نہریں بہتی تھیں، سیٹھ مزدور کے گھر میں پانی بھرتا تھا اور تمام پاکستانی ہر وقت اپنے ہندو، احمدی اور مسیحی بھائیوں کو گلے لے کر فیض احمد فیض کا کلام گاتے رہتے تھے۔ اور یورپ سے آنے والے جوق در جوق ہپی سر دھنتے تھے۔

سچی بات یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں تھا پھر شہید جنرل آئے اور چھا گئے باقی سب آپ کو پتہ ہے۔ پھر ان کے آخری دن آ گئے۔

شہادت سے تین دن پہلے 14 اگست تھا جنرل ضیا کو اپنی فطری ذہانت کی وجہ سے اندازہ ہو چلا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ اپنے سائے سے بھی ڈرتے تھے صدر اور فوج کے سربراہ کے طور پر جو بھی ذمہ داریاں تھیں گھر سے ہی پوری کرتے تھے۔

اب 14 اگست کی تقریبات کا کیا کیا جائے حکم ہوا کہ جو کرنا ہے آرمی ہاؤس کے احاطے میں کر لیا جائے۔ اختر عظیم کی قیادت میں پی ٹی وی کی ایک ٹیم ریہرسل کے لیے 14 اگست سے ایک دن پہلے آرمی ہاؤس پہنچی اور جس وقت کیمرہ مین یہ چیک کر رہے تھے کہ تقریب کی فلم بندی کس کس زاویے سے کی جائے شہید صدر خود تشریف لے آئے اور گھوم پھر کر اپنے آپ کو کیمرے کی آنکھ سے دیکھنے لگے۔

بقول عظیم صاحب کے شہید صدر آرمی ہاؤس میں لگے درختوں کے پیچھے کھڑے ہوتے اور جس مقام پر خود انھیں پرچم کشائی کرنی تھی، اس طرف گھات لگا کر دیکھتے رہے۔ ایک ڈرا ہوا ڈکٹیٹر اور بھی خطرناک ہوتا ہے اور شاید یہ عادت بھی ان کے بعد آنے والے حکمرانوں نے جنرل ضیا سے ہی سیکھی کہ اپنے عروج کے زمانے میں اپنے آپ کو ہی نشانہ بنانے کی مشق کرتے ہیں۔

جنرل ضیا نے اپنے خیالی چاند ماری کے بعد فیصلہ سنایا کہ یہ درخت سکیورٹی رسک ہیں ان کے پیچھے کھڑا ہو کر ان کا کوئی بھی دشمن ان پر فائر کر سکتا ہے۔ انھوں نے تقریباً 30 سے 40 درخت کاٹنے کا حکم صادر کیا جس پر فوری عمل ہوا۔

اس کے چار دن بعد ہمارے محبوب صدر کا طیارہ ہوا میں پھٹ گیا۔

پاکستان کے موجودہ حکمران کسی زمانے میں اپنے آپ کو جنرل ضیا کی نظریاتی اولاد کہتے تھے۔ آج کل ان کا نام لیتے ہوئے شرماتے ہیں لیکن درخت کاٹ کر اپنی زندگی محفوظ کرنے کا جو انوکھا فلسفہ شہید صدر نے پیش کیا تھا اس پر پوری طرح سے کاربند ہیں۔

جب اخباروں میں بوڑھے، برگزیدہ درختوں کے کٹے ہوئے تنے دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کیا ہماری آنے والی نسلیں موٹر وے پرگاڑیاں تو دوڑائیں گی، لش پش بسوں میں بھی بیٹھیں گی لیکن سانس کیسے لیں گی۔

درختوں کی طرف ہمارے حکمرانوں اور ان کے ساتھی گالی گلوچ کرنے والوں کا رویہ ایسا ہی ہے جیسا ہمارا اس دھرتی کے ساتھ اس کے سکڑتے دریاؤں کے ساتھ ہے۔

ہم ایک پریکٹیکل قوم ہیں بلکہ کچھ لوگ کہیں گے کہ ہم ایک جگاڑو قوم ہیں ہر مسئلے کا عارضی حل نکال لیتے ہیں۔

آدھا ملک گنوا کر کہتے ہیں کہ دشمن کی سازش تھی، امریکہ روٹھتا ہے تو چین سے پکی یاری کا نعرہ لگا دیتے ہیں، جو ہمارے تاریک راہوں میں ہمارے اپنوں کے ہاتھوں مرتے ہیں ان کے نام پر سڑکوں کے نام رکھ دیتے ہیں، بجلی نہیں آئی تو یو پی ایس چل پڑا۔ غربت کا علاج نہیں ہو سکتا تو چلو لنگر کھول دیتے ہیں۔

لیکن کیا ابھی تک کوئی ایسی جگاڑ بنی ہے جس سے ہمارے سوکھے ہوئے دریا پھر بہنے لگیں، کیا کوئی ایسا طریقہ ہے کہ سو سال پرانے درخت دنوں ہفتوں میں دوبارہ اگ آئیں۔

پنجاب کے کئی ضلعوں میں پانی ساٹھ فٹ کے بور کے بعد نکل آتا تھا اب بعض اضلاع میں ایک ہزار فٹ تک نیچے جانا پڑتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم زمین میں بور کرتے کرتے آسڑیلیا میں جا نکلیں۔

لاہور کو استنبول بنانے کی کاوشیں کرنے والے حکمران کسی دن اپنے گاڑیوں کے قافلے میں بیٹھ کر دریائے راوی کے کنارے کنارے اندرون پنجاب سفر کریں اور کچھ میلوں کے بعد گاڑی کی کھڑکی کا دروازہ نیچے کر دیں۔

جس طرح کا تعفن آپ کی ناک کے ذریعے آپ کے دل و دماغ میں پہنچے گا اس کو پہنچنے دیں اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں کہ کیا میں اپنی نسلوں کے لیے یہ تحفہ چھوڑے جا رہا ہوں۔