جنرل مرزا اسلم بیگ کی مجبوریاں

جنرل اسلم بیگ کی کتاب کا نام سن کر تھوڑی حیرت ہوئی۔ کتاب کا عنوان ہے ’اقتدار کی مجبوریاں‘۔ حیرت اس لے کہ اسلم بیگ کی وجہ شہرت تو ہے ہی یہی کہ وہ باوجود ایک سنہری موقع ملنے کے اقتدار میں نہیں آئے۔

بلکہ جس لمحے انھوں نے اپنے چیف جنرل ضیاالحق کو بہاولپور میں خدا حافظ کہا اور یہ کہہ کر جائے وقوعہ سے نکل لیے کہ میرے پاس تو اپنا جہاز ہے۔ وہ قوم کو مسلسل یہی بتاتے رہے ہیں کہ دیکھو میں مارشل لا لگا سکتا تھا لیکن میں نے نہیں لگایا۔ میں اقتدار سنبھال سکتا تھا لیکن نہیں سنبھالا۔

اگر یادداشت صحیح ساتھ دیتی ہے تو اقتدار نہ سنبھالنے پر انھیں اور ان کے ساتھ پوری افواج پاکستان کو بے نظیر بھٹو نے تمغہ جمہوریت بھی دیا تھا۔

تب بھی کسی نے کہا تھا کہ بی بی پتا نہیں ان کو تمغہ لگا رہی ہے یا جُگت۔

لیکن کتاب کے شروع میں ہی اسلم بیگ نے وضاحت کر دی ہے کہ اقتدار کی مجبوریاں دراصل جنرل ضیا الحق کے الفاظ ہیں جو انھوں نے اس وقت کہے جب جنرل بیگ انھیں قائل کر رہے تھے کہ وہ مارشل لا اٹھا کر جمہوریت بحال کر دیں۔ جنرل ضیا نے یہ بھی کہا تھا کہ کیا مجھے پھانسی لگواؤ گے، جنرل ضیا اسلم بیگ کی بات نہیں مانے اور وہ یہ سنہرے الفاظ کہہ کر چل دیے کہ میں تو اپنے جہاز میں جا رہا ہوں۔ جنرل ضیا کا انجام سب کے سامنے ہے۔

اگر کوئی یہ کہے کہ اسلم بیگ کی کتاب کا دو لائنوں میں خلاصہ کر دیں تو وہ یہی ہو گا کہ جس نے بھی جنرل اسلم بیگ کی بات نہیں مانی اس کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ اس میں بھٹو، بے نظیر بھٹو، نواز شریف، سپریم کورٹ کے کئی جج، اصغر خان، روس اور امریکہ بھی شامل ہیں اور جنرل مشرف بھی جنھوں نے ایک میٹنگ میں جب جنرل بیگ کا خطاب سُنا تو ایسی گھگھی بندھی کہ آج تک بندھی ہوئی ہے۔

اسلم بیگ

کتاب ہے تو جنرل مرزا اسلم بیگ کی سوانح حیات لیکن یہ خودنوشت نہیں ہے۔ فوج کے مشہور مزاحیہ اور سنجیدہ ادیب کرنل اشفاق حسین نے لکھی ہے۔ بقول ان کے وہ جنرل بیگ سے پی ایم اے کاکول میں گزارے دنوں کی کچھ باتیں پوچھنے گئے تھے لیکن گفتگو کا سلسلہ دراز ہوتا گیا اور یہ کتاب بن گئی۔

یہ وہی بات ہے کہ ایک سڑک پر کسی راہگیر سے منزل کا راستہ پوچھیں اور وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر ساتھ بیٹھ جائے اور کہے کہ چلیں آپ کو گھر ہی چھوڑ آتا ہوں۔

جنرل اسلم بیگ نے اقتدار نہ سنبھالنے کے بعد ہماری قوم کو سٹریٹیجک ڈیپتھ (جس کا اُردو ترجمہ تزویراتی گہرائی ہے اور یہ ایک ایسی اصطلاح ہے کہ کسی زبان میں ترجمہ ہو کر سمجھ نہیں آتی) کا تحفہ دیا تھا۔

دفاعی تجزیہ نگاروں نے سمجھایا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انڈیا ہم پر حملہ آور ہو گا تو چونکہ افغانستان ہمارا بھائی ہے تو ہم ان کی سرزمین کو اپنے دفاع کے لیے استعمال کریں گے۔ یعنی اپنا اسلحہ بارود جنگی جہاز افغانستان میں پہنچا دیں گے اور پھر وہاں سے دشمن کا مقابلہ کریں گے۔

اس کتاب میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آخر ان کا نظریہ سچ ثابت ہوا ہے اور جس طرح سے انھوں نے ثابت کیا ہے لگتا ہے کہ وہ صرف ہمارے عسکری اثاثوں کو نہیں پوری قوم کو دھکیل کر افغانستان پہنچا دیں گے۔

پھر پاکستان میں ان کے فور سٹار ساتھیوں کی کہکشاں گالف کھیلے گی اور پوری دنیا مانے گی کہ چرچل کے بعد کوئی بندہ آیا تھا تو بیگ تھا۔ جنرل اسلم بیگ میں چرچل کی خصوصیات کرنل اشفاق صاحب نے نہیں ڈھونڈیں، بیگ صاحب نے خود ہی بتائی ہیں۔

یہ کتاب اپنے منھ میاں مٹھو بننے اور خود ترحمی کا ایک حسین امتزاج ہے۔ ایک صفحے پر وہ فرماتے ہیں کہ روس کی شکست و ریخت میں اس ناچیز کا بھی حصہ ہے۔ تھوڑا آگے چل کر شکایت کرتے ہیں کہ حکومت نے میری سیاسی سرگرمیوں سے گھبرا کر میرا سرکاری باورچی مجھ سے چھین لیا۔

اقتدار نہ سنبھالنے، الیکشن میں دھاندلی نہ کروانے کے بعد اپنی مرضی سے ریٹائر ہونے کے بعد جنرل بیگ نے ایک غیرسرکاری تنظیم بنائی تھی ’فرینڈز‘ کے نام سے لیکن جنرل مشرف اُن کی مقبولیت سے اتنا گھبرا گئے کہ اس کی فنڈنگ بند کروا دی اور سب دوست فرینڈز کو چھوڑ کر بھاگ گئے۔

آپ کو شاید نہ پتا ہو کہ اس کے بعد انھوں نے عوامی قیادت پارٹی کے نام سے ایک سیاسی جماعت بھی بنائی جس کی بینظیر بھٹو کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمینٹ بھی ہو گئی تھی۔ (جنرل بیگ کی پارٹی کو قومی اسمبلی میں سات نشستیں ملنی تھیں۔)

لیکن جیالے ہی نہیں مانے۔ دوسری جماعتوں کے ساتھ بھی اتحاد بنے لیکن جب وہ اجلاس میں اپنے نظریات بیان کرتے تو باقی سیاسی رہنما سیاست کی بات کرنے لگتے۔ ملک کے سیاستدانوں سے مایوس ہو کر انھوں نے اخبارات میں مضمون لکھنے شروع کیے، مشرف پھر گھبرا گیا تو وہ بھی بند کروا دیے۔

اسلم بیگ

جنرل بیگ کو اپنی ذات، اپنے ملک، اپنے ادارے اور اپنی تزویراتی گہرائی سے زیادہ اگر کسی سے محبت ہے تو وہ افغان طالبان ہیں۔ وہ ان کو اسلام کی نشاطِ ثانیہ اور دنیا میں مسلمانوں کے عروج کا نقطہ آغاز دیکھتے ہیں۔ اگرچہ ان میں چرچل والی خصوصیات ہیں لیکن ان کا خواب ملا عمر بننا ہے۔ (اگر ملا عمر کو گالف کھیلنے کا اور اپنا جہاز رکھنے کا شوق ہوتا تو شاید وہ جنرل اسلم بیگ بننا چاہتے۔)

افغان طالبان سے اتنی عقیدت کے باوجود وہ پوری کتاب میں وہ ’افغانی‘ اور ’افغانیوں‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں جسے افغان اپنی بے عزتی سمجھتے ہیں لیکن شاید یہ چرچل جیسی خوبیوں والے ناچیز مسیحا کو اجازت ہے کہ وہ جیسی چاہے زبان استعمال کرے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد جنرل بیگ کی زندگی کا سب سے شاندار لمحہ وہ تھا (یا اللہ تیرا شکر تو نے مجھے اتنی عزت دی) جب رچرڈ آرمیٹاج ان سے ملنے ان کے گھر آئے۔ یہ وہی آرمیٹاج تھے جنھوں نے مشرف کو دھمکی دی تھی کہ پاکستان پر بمباری کر کے پتھر کے زمانے میں پہنچا دوں گا۔ (رچرڈ سے پہلے ایک اور مشہور آدمی بھی جنرل بیگ کے گھر آیا تھا وہ الطاف حسین تھے لیکن ان کے ٹیبل مینرز جنرل صاحب کی اہلیہ کو پسند نہیں آئے تھے جنرل بیگ نے اپنے سیاسی کریئر میں ایک دفعہ ایم کیو ایم کے عظیم طارق کے ساتھ مل کر بھی تنظیم بنانے کا سوچا لیکن عظیم طارق نے تھوڑا ٹرخا دیا۔ کیا ہوا انجام عظیم طارق کا۔)

بہرحال رچرڈ آرمٹیاج دست بستہ حاضر ہوئے کہ ہمارے طالبان سے مذاکرات شروع کروا دو۔ جنرل بیگ نے آئی ایس آئی والے مشہور کرنل امام کو گھر بلا کر رچرڈ بھائی سے ملوا دیا۔ لیکن کرنل امام کو اکیلے میں یہ مشورہ بھی دیا کہ یہ بندہ بھی خطرناک ہے اور ہمارے سرحدی علاقوں میں بھی حالات ٹھیک نہیں ہیں۔

لیکن کرنل امام چل پڑے مذاکرات کروانے اور کبھی واپس نہ آئے۔ مجھے شاید آپ کو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھا کہ جس نے جنرل اسلم بیگ کی بات نہیں مانی اس کا انجام کچھ زیادہ اچھا نہیں ہوا۔

کرنل اشفاق جنٹلمین بسم اللہ، جنٹلمین الحمداللہ اور کئی مشہور کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کا انداز شگفتہ ہے اور وہ فوجی زندگی کے بارے میں اس اسلوب میں لکھتے ہیں کہ سویلین قاری بغیر ڈرے ہوئے کھل کر ہنس لیتا ہے۔ لیکن اقتدار کی مجبوریاں پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ کرنل صاحب کو شاید اس کتاب کا نام جنٹلمین استغفراللہ رکھنا چاہیے تھا لیکن کتب کی پشت پر دیکھا تو پتہ چلا کہ وہ اس نام سے پہلے ہی ایک کتاب لکھ چکے ہیں۔

اگر کسی مجبوری کے تحت آپ کو اقتدار کی مجبوریاں پڑھنی پڑھ جائے تو میری طرح شاید آپ کے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہو کہ اللہ وہ دن ہم سب پر لائے جب ہم اپنے باس کو کہہ سکیں اللہ حافظ، میں تو اپنے جہاز پر جا رہا ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *