جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں پاکستان کی کامیابی، بابر اعظم کھلاڑیوں کی کارکردگی کے معترف

پاکستان نے دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کے پہلے کرکٹ میچ میں جنوبی افریقہ کو سات وکٹوں سے شکست دے کر دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں برتری حاصل کر لی ہے۔

جنوبی افریقہ نے جمعے کو میچ کے چوتھے دن پاکستان کو فتح کے لیے 88 رنز کا ہدف دیا تھا جو اس نے تین وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم نے جنوبی افریقہ کے خلاف پہلا ٹیسٹ ساڑھے تین دن میں ہی جیت کر دو ٹیسٹ میچز کی سیریز میں ایک صفر کی سبقت حاصل کر لی ہے۔

سیریز کا دوسرا ٹیسٹ چار فروری سے راولپنڈی میں کھیلا جائے گا۔

نعمان علی
،تصویر کا کیپشننعمان علی پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 12 ویں بولر ہیں جنھوں نے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ کی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لی ہیں

پاکستانی ٹیم اگر یہ سیریز ایک صفر سے جیتنے میں کامیاب ہوتی ہے یا یہ سیریز ایک ایک سے برابر ہوتی ہے تب بھی پاکستانی ٹیم عالمی ٹیسٹ رینکنگ میں ساتویں سے چھٹے نمبر پر آجائے گی جبکہ پاکستانی ٹیم کی دو صفر سے جیت اسے عالمی رینکنگ میں پانچویں نمبر پر لے جائے گی۔

بحیثیت کپتان اپنے پہلے ٹیسٹ میں جیت سے ہمکنار ہونے والے بابر اعظم اس کامیابی کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے بڑی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم صرف اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہی نہیں بلکہ ملک سے باہر بھی ٹیسٹ میچز جیتے۔

بابر اعظم نے کراچی ٹیسٹ کے اختتام پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کے دورے میں شکست کے بعد یہ سیریز پاکستانی ٹیم کے نقطہ نظر سے بڑی اہمیت کی حامل ہے اور یہ جیت ہمارے لیے بہت ضروری تھی۔

’کراچی ٹیسٹ میں ہر کھلاڑی نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔ جس طرح چار وکٹیں گرنے کے بعد فواد عالم اور اظہر علی نے بیٹنگ کی اس سے ٹیم کو بہت اعتماد ملا کہ ہم یہ میچ جیت بھی سکتے ہیں۔‘

فواد عالم

واضح رہے کہ پاکستانی بلے باز فواد عالم کو پہلے ٹیسٹ میں مین آف دی میچ قرار دیا گیا ہے۔

بابر اعظم فہیم اشرف کی بیٹنگ کے بھی معترف دکھائی دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ فہیم اشرف نے نیوزی لینڈ میں بھی عمدہ پرفارمنس دی تھی اور یہاں بھی اُنھوں نے 64 رنز کی اہم اننگز کھیلی۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستانی ٹیم ملک سے باہر بھی ٹیسٹ میچز جیتے۔ ’ہوم گراؤنڈ پر کھیلتے ہوئے کنڈیشنز آپ کے لیے سازگار ہوتی ہیں لیکن جب آپ ملک سے باہر جا کر کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اس سے کھلاڑیوں کا اعتماد مختلف درجے پر پہنچ جاتا ہے۔‘

پاکستانی ٹیم کے کپتان نے کھلاڑیوں کو دیے جانے والے اعتماد کے بارے میں کہا کہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اگر کسی کھلاڑی نے ایک میچ میں اچھی کارکردگی نہیں دکھائی تو اسے ڈراپ کر دیں۔

پاکستان، جنوبی افریقہ

بابر اعظم لیفٹ آرم سپنر نعمان علی کے بارے میں کہتے ہیں کہ اُنھوں نے اپنی کارکردگی سے کہیں بھی یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ کسی بڑی ٹیم کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے تھے۔

’انٹرنیشنل کرکٹ کا اپنا دباؤ ہوتا ہے اور کھلاڑی جتنی جلد سیکھتا ہے اس سے اس کی کارکردگی اوراعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔‘

بابر اعظم نے یہ تسلیم کیا کہ شائقین ان سے ہمیشہ بڑے سکور کی توقعات وابستہ رکھتے ہیں وہ ان توقعات پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن ہر دن ایک جیسا نہیں ہوتا۔

چوتھے دن کا کھیل

پاکستان کی جانب سے عمران بٹ اور عابد علی نے اننگز کا آغاز کیا اور کھانے کے وقفے تک دونوں نے 22 رنز کی شراکت کر لی تھی۔

وقفے کے فوراً بعد عابد علی 10 اور عمران بٹ 12 کے انفرادی سکور پر ایک ہی اوور میں آؤٹ ہو گئے۔ تاہم پھر کپتان بابر اعظم نے اظہر علی کے ساتھ مل کر سکور 86 رنز تک پہنچا دیا۔

جب پاکستان کو فتح کے لیے دو رنز درکار تھے تو کیشو ماہراج نے بابر کو ایل بی ڈبلیو کر کے جنوبی افریقہ کو تیسری وکٹ دلوا دی تاہم پاکستانی ٹیم مزید کسی نقصان کے بغیر بقیہ رنز بنانے میں کامیاب رہی۔

کرکٹ

اس سے قبل جمعے کی صبح جنوبی افریقہ کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 245 رنز بنا کر آؤٹ ہوئی۔ چوتھے دن کے آغاز پر پہلی گیند پر ہی حسن علی نے کیشو ماہراج کو آؤٹ کر دیا۔ یہ جنوبی افریقہ کی پانچویں وکٹ تھی۔

جلد ہی یاسر شاہ نے کپتان کوئنٹن ڈی کاک کو دو کے انفرادی سکور پر آؤٹ کر کے مہمان ٹیم کی مشکلات میں اضافہ کر دیا۔

اور اس کے بعد آف سپنر نعمان علی نے جنوبی افریقہ کی باقی تین وکٹیں لے کر مہمان ٹیم کی اننگز سمیٹ دی۔ پاکستان کی جانب سے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے والے نعمان علی نے دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔

نعمان علی پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں 12 ویں بولر ہیں جنھوں نے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ کی ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لی ہیں۔ وہ پاکستان کے سب سے عمر رسیدہ بھی کرکٹر ہیں جنھوں نے ٹیسٹ ڈیبیو پر اننگز میں پانچ وکٹیں لی ہیں۔

پاکستان کرکٹ کے مداحوں کی خوشی دیدنی

سوشل میڈیا پر پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی پر شائقین خوشی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے اور فواد عالم کو ان کے بہترین سکور اور مین آف دی میچ بننے پر تہنیت پیش کرتے رہے۔

صارف زارا علی نے لکھا کہ پاکستان کو ہوم گراؤنڈ پر میچ جیتنے پر مبارکباد۔ فواد عالم، نعمان علی، یاسر شاہ نے بہت اچھا کھیلا۔ رضوان اور عابد علی کے کیچز حیرت انگیز تھے۔

ٹوئٹر

صارف زہرا آغا نے چیف سلیکٹر اور سابق کپتان مصباح الحق کی تصویر کے ساتھ ٹویٹ پوسٹ کرتے ہوئے ٹیم کو مبارک دی اور یہ اشارہ دیا کہ پاکستان ٹیم کو ٹیسٹ میچ جیتے ہوئے ایک طویل عرصہ ہوچکا تھا۔

ٹوئٹر

صارف احمر نجیب نے لکھا کہ نعمان علی، یاسر شاہ اور فواد عالم نے جیت میں اہم کردار ادا کیا ہے اور یہ بات ثابت کی کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں کارکردگی دکھائی ہو تو آپ کامیاب ضرور ہوتے ہیں۔

ٹوئٹر

نسرین نے لکھا کہ جنوبی افریقہ نے متوقع طور پر پہلا ٹیسٹ میچ ہار دیا ہے اور یہ فواد عالم اور پاکستانی بولنگ ہیں جنھوں نے کھیل کو جنوبی افریقہ سے کھینچ لیا۔

ٹوئٹر

پاکستان کی ٹیم:

عابد علی، عمران بٹ، اظہر علی، بابر اعظم، فواد عالم، محمد رضوان، فہیم اشرف، حسن علی، تعمان علی، یاسر شاہ، اور شاہین آفریدی

جنوبی افریقہ کی ٹیم:

ڈین ایلگر، ایڈن مکرم، راس وین ڈاڈیوسن، فاف ڈو پلسی، ٹیمبا باوما، کوئنٹن ڈی کاک، جارج لد، کیشو ماہراج، کاگیسو ربادا، انریچ نورتہے، اور لونگی نگیڈی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *