جوا کھیلنے کا ’اصول‘

رولیٹ جوئے کی ایک قسم ہے جو پہیہ نما چرخی کے ذریعے کھیلا جاتا ہے۔ بظاہر یہ کھیل بہت پُر کشش ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اِس کھیل میں جواری کی ہار کا امکان سینتیس میں سے چھتیس مرتبہ ہے، یعنی ہر ڈالر کی شرط کے نتیجے میں قمار خانے کا مالک جواری سے 2.7سینٹ جیتتا ہے۔ ویسے تو یہ بالکل سامنے کی بات ہے مگر فقیر کی عقل چونکہ کم ہے، اِس لیے فقیر کو تب سمجھ آئی جب یہ بات The Drunkard's Walkمیں پڑھی اور ساتھ میں ایک دلچسپ واقعہ بھی جس نے ہمیشہ کے لیے دماغ میں Probability Theoryکا تصور واضح کر دیا۔ جوزف جیگر نامی ایک شخص نے 1873میں ایک عجیب و غریب فیصلہ کیا، اُس نے اپنی جمع پونجی اکٹھی کی اور مونٹی کارلو کے جوئے خانے پہنچ گیا۔ کھیل سے پہلے جیگر نے اعداد و شمار کی پڑتال کی تو اسے ایک حیرت انگیز بات پتا چلی کہ چھ میں سے پانچ رولیٹ ٹیبلز کے ہار جیت کے ہندسوں میں کوئی غیر معمولی بات نہیں البتہ چھٹی میز میں اُس نے نو ایسے ہندسے نوٹ کیے جہاں گیند نسبتاً زیادہ مرتبہ آ کر ٹکتی تھی۔ اِس بات کو ذہن میں رکھ کر جیگر نے اُسی میز پر جوا کھیلنا شروع کیا اور تین لاکھ ڈالر جیت گیا۔ قمار خانے کے مہتمم سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ آخر یہ شخص اُن سے کیا داؤ لگا رہا ہے؟ بالآخر انہیں کچھ اندازہ ہو گیا سو انہوں نے راتوں رات اُس میز کی جگہ تبدیل کر دی جس پر جیگر کھیلتا تھا، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ہارنا شروع ہو گیا مگر اِس کے باوجود جب جیگر اُس قمار خانے سے نکلا تو اُس کی جیب میں سوا تین لاکھ ڈالر تھے جو آج کے حساب سے پانچ ملین ڈالر بنتے ہیں۔ کتاب کا لکھاری کہتا ہے کہ بظاہر جیگر کا تجربہProbablityکے کسی یقینی اصول کی نشاندہی کرتا ہے مگر حقیقت میں ایسا نہیں کیونکہ کسی پرفیکٹ رولیٹ ٹیبل پر بھی گیند کا (ایک سے چھتیس تک) ہندسوں پر ٹکنے کا امکان برابر نہیں ہوتا، ہمیشہ کچھ ہندسوں پر گیند زیادہ مرتبہ ٹکے گی۔ بےشک جیگر نے چھ دن تک تحقیق کرکے یہ نتیجہ نکالا کہ فلاں میز پرنو ہندسوں کی جیت کےامکانات باقی ہندسوں کی نسبت زیادہ ہیں مگر جیگر کا اندازہ غلط بھی ہو سکتا تھاکیونکہ یہ بات بہر حال نظریہ احتمال کے کسی قانون کے تابع نہیں تھی۔ اِس گتھی کو جیکب برنولی نے انیسویں صدی میں سلجھایا، بیس برس کی محنت شاقہ کے بعد اِس ریاضی دان نے ہمیں ایک قانون دیا جسے ’گولڈن تھیورم‘ یا ’قانون اعداد اعظم‘ کہتے ہیں۔ برنولی نے کہا کہ محض عمومی مشاہدات کی بنیاد پر Probabilityکا کوئی مفروضہ قائم نہیں کیا جا سکتا تا وقتیکہ اُس مشاہدے کو وسیع پیمانے پر نہ پرکھا جائے۔ مثلاً اگر آپ دس مرتبہ سکہ اچھالیں اور دس ہی مرتبہ چاند آئے تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ سکہ اچھالنے پر چاند آنے کی Probabilityسو فیصد ہو گئی ، یہ امکان پچاس فیصد ہی رہے گا۔

یہ قانون اعداد اعظم بہت کام کی چیز ہے، عملی زندگی میں یہ بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کر دیتا ہے، جن باتوں کو ہم کسی غیبی قوت کے کھاتے میں ڈال کر کسی بابے کی کرامت سمجھ بیٹھتے ہیں، وہ اِس قانون کی رُو سے محض اتفاق کا نتیجہ نکلتی ہیں۔ مثلاً ایک ذاتی واقعہ سن لیجیے۔ تین سال پہلے کی بات ہے، یورپ کی سیر پر میں اور برادرم اجمل شاہ دین بدھاپسٹ میں تھے، رات کا وقت تھا، موسلا دھار بارش ہو رہی تھی ، میں اِس رومانوی شام میں موصوف کو No Logoنامی کتاب کا مقدمہ سنا رہا تھا، باتیں کرتے اور بھیگتے بھیگتے ہم ایک کافی شاپ کے قریب پہنچ گئے اور پھر ظاہر ہے کہ ہم نے وہاں سے کافی پینے کا فیصلہ کیا۔ کافی کا مگ لے کر میں کیفے کی اوپری منزل پر گیا تو دیکھا کہ وہاں طاقچوں میں قطار اندر قطار کتابیں لگی ہیں، یعنی کافی کے ساتھ مطالعے کا اہتمام تھا۔ اُس وقت نہ جانے کیا ہوا کہ میں سیدھا ایک شیلف کی طرف بڑھا اوربغیر دیکھے ایک کتاب نکال لی، نام پڑھا تو لکھا تھا No Logo۔ اب میںکیاسمجھوں؟ کیا کسی غیبی قوت نے مجھ پر آشکار کیا تھا کہ میرے راستے میں جو کافی شاپ آئے گی وہاں سے مجھے یہ کتاب ملے گی؟ جی نہیں، یہ محض ایک اتفاق تھا اور ایسے ہزاروں لاکھوں اتفاقات روزانہ انسانوں کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو راہ چلتے کوئی اجنبی مل جائے او ر وہ اجنبی اُس شخص کی کوئی ایسی مدد کردے جس سے اُس شخص کی زندگی بدل جائے اور طرہ یہ کہ ایساشخص صبح دل میں یہ گمان لے کر بھی نکلا ہو کہ آج اُسے کوئی خضر صورت رہنما ملے گا تو اِس واقعے کی بنیاد پر ہم کوئی اصول مرتب نہیں کر سکتے اور نہ ہی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ جب بھی کوئی شخص نیک نیتی کے ساتھ گھر سے نکلے گا، اُسے ہمیشہ غیبی مدد ملے گی۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ اِس دنیا میں اربوں انسان بستے ہیں، یہ انسان روزانہ کھربوں قسم کے مختلف کام کرتے ہیں، اِن میں سے کچھ انسان نیک ہیں اور ان میں سے بھی چند ایسے ہیں جو عملاً کسی اجنبی کے لیے بھلائی کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف اِس دنیا میں اربوں ضرورت مند انسان بھی موجودہیں۔ سو، اِن دونوں قسم کے انسانوں کا ٹاکرا ہونا اور اِس کے نتیجے میں کسی فریق کو غیرمتوقع مدد مل جاناکوئی انہونی بات نہیں۔ جیسے رولٹ کھیلتے ہوئے جیت اتفاقیہ ہوتی ہے ویسے ہی یہ ٹاکرا بھی محض اتفاق ہی کہلائے گا، اسے کسی قانون کا نام نہیں دیا جا سکتا جس کے تحت یہ بات یقینی ہو کہ اگر آپ فلاں کام کروگے تو اُس کے نتیجے میں غیبی مدد آئے گی۔ دنیا میں روزانہ کروڑوں واقعات ایسے بھی ہوتے ہیں جن میں مصیبت میں پھنسے لوگوں کو کوئی غیبی امداد نہیں ملتی لہٰذا اگر ایسا کوئی قانون ہوتا تو پھر اِس قانون کے تحت بندہ مزدور کے اوقات تلخ نہ ہوتے، پھر زمین پر کوئی بچہ بھوکا نہ سوتا، کسی ویگن کا بس سے حادثہ نہ ہوتا اور اس میں درجن بھر افراد زندہ نہ جلتے۔ معجزوں کے انتظار میں زندہ رہنے سے بہتر ہے کہ اللہ کی دی ہوئی عقل استعمال کریں، معجزہ خود ہی رونما ہو جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *