جولین اسانج کو امریکہ کے حوالے کیا جا سکتا ہے: برطانوی عدالت کا فیصلہ

لندن ہائی کورٹ نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو امریکہ کے حوالے کرنے سے متعلق اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ایسا کیا جا سکتا ہے۔

ہائی کورٹ نے ایک برطانوی ماتحت عدالت کے اس فیصلے کو ختم کر دیا ہے جس میں جولین اسانج کی ذہنی صحت کے پیش نظر انھیں امریکہ کے حوالے نہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

امریکہ نے ہائی کورٹ کے ججوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جولین اسانج کی خود کشی کے خطرات کو کم کریں گے۔ جولین اسانج کی منگیتر نے کہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

جولین اسانج 2010 اور 2011 میں ہزاروں خفیہ دستاویزات کو شائع کرنے کے الزام میں امریکہ کو مطلوب ہیں۔

ہائی کورٹ کے سینئر ججوں نے کہا ہے کہ ماتحت عدالت نے جولین اسانج کو انتہائی نگہداشت والی جیل میں رکھنے کے خدشے کے پیش نظر امریکہ کے حوالے نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

لیکن اب امریکی حکام نے برطانوی عدالت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر جولین اسانج نے کوئی اور ایسا قدم نہ اٹھایا جو سخت ترین پابندیوں کا متقاضی ہو، تو انھیں جیل میں سخت ترین پابندیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

چیف جسٹس لارڈ برنٹ نے کہا: ’ہماری سمجھ کے مطابق جو یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں اس کی وجہ سے سخت ترین پابندیوں کا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔‘

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگر یہ ہی ضمانتیں ماتحت عدالت کے سامنے ہوتیں تو متعلقہ سوالوں کے جواب مختلف ہونے تھے۔

جولین اسانج کی منگیتر سٹیلا مورس نے کہا کہ ہائی کورٹ کا فیصلہ ’خطرناک اور گمراہ کن‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ کہ امریکی یقین دہانیوں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

سٹیلا مورس نے عدالت کے باہر ایک جذباتی بیان میں کہا: ’جولین اڑھائی برسوں سے بیلمارش جیل میں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے وہ 7 دسمبر 2010 سے کسی نہ کسی انداز میں حراست میں ہے۔ کتنے عرصے تک ایسا چل سکتا ہے۔‘

ایکواڈور کا سفارت خانہ
،تصویر کا کیپشنجولین اسانج نے سات برس تک لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لیے رکھی

وکی لیکس کے چیف ایڈیٹر کرسٹن ہرافنسن نے ایک بیان میں کہا: ’جولین کی زندگی کو ایک بار پھر شدید خطرات لاحق ہیں۔ اور یہ ہی خطرہ صحافیوں کے حقِ اشاعت کو ہے جو حکومتوں اور کارپوریشنوں کو اچھی نہ لگے۔‘

وکی لیکس کے چیف ایڈیٹر کے مطابق یہ معاملہ آزادی اظہار کا ہے جہاں پریس سپر پاور کی دھمکیوں اور دباؤ سے آزاد ہو کر اپنے فرائض سر انجام دے سکے۔

بی بی سی کے قانونی نامہ نگار ڈومینک کیسانی کے مطابق ہائی کورٹ کے جج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے زیر حراست شخص کے ساتھ انسانی برتاؤ کی یقین دہانی پر شک نہیں کیا جانا چاہیے۔

جولین اسانج کی ٹیم ہائی کورٹ کے فیصلے کو دو مختلف انداز میں چیلنج کرنے کا سوچ رہی ہے۔ جولین اسانج کی ٹیم پچھلے برس جنوری میں آنے والے اس عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنا ہے جس میں خفیہ معلومات کے افشا کرنے کو ایک جرم قرار دیا تھا۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ جولین اسانج کے اس استدلال کی کسی عدالتی فورم پر پذیرائی ہو گی۔

دوسرا امکان یہ ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں لیکن اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ سپریم کورٹ اس کو سنے گی۔ جولین اسانج کے وکلا کو سپریم کورٹ کے ججوں کو بتانا ہو گا کہ انھیں کس قانون سے مسئلہ ہے۔ پہلے کبھی ایسا ہوا نہیں ہے اور لگتا ہے کہ جولین اسانج کے لیے وقت تیزی سے گذرتا جا رہا ہے۔

امریکی ضمانتیں

امریکہ نے لندن ہائی کورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ جولین اسانج کو مقدمے سے پہلے اور بعد میں کولاراڈو کی انتہائی نگہداشت والی فلورینس سپرمیکس جیل میں قیدِ تنہائی میں نہیں رکھا جائے گا۔

امریکی حکومت کے وکلا نے کہا ہے کہ اگر جولین اسانج کو قید کی سزا ہوئی تو انھیں اپنے گھر سے قریب جیل میں منتقلی کی اجازت دی جائے گی۔

جولین اسانج کے وکلا کا موقف ہے کہ امریکی یقین دہانیاں بے معنی اور مبہم ہیں۔

جولین اسانج کو کتنی سزا مل سکتی ہے؟

جولین اسانج
،تصویر کا کیپشنوکلا کے مطابق امریکہ میں جولین اسانج کو 175 برس قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے

وکلا نے کہا ہے کہ اگر پچاس سالہ جولین اسانج کو امریکی عدالت مجرم قرار دے دیتی ہے تو انھیں 175 برس قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ البتہ امریکی حکومت نے کہا ہے کہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ جولین اسانج کو چار سے چھ برس قید کی سزا سنائی جائے۔

امریکہ میں جولین اسانج کے خلاف اٹھارہ الزامات کے تحت فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ ان الزامات میں امریکہ کے ملٹری ڈیٹا بیس کو ہیک کرنے، عراق اور افغانستان میں جنگوں سے متعلق خفیہ معلومات تک رسائی اور ان کی اشاعت ہے۔

امریکی استغاثہ کا موقف ہے کہ جولین اسانج نے ان خفیہ معلومات کو افشا کر کے انسانی زندگیوں کو خطرات لاحق کیے ہیں۔

جولین اسانج کا موقف ہے کہ انھوں نے صرف امریکی فوج کی زیادتیوں کو آشکار کیا ہے۔

جولین اسانج سات برسوں تک لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے میں پناہ لے رکھی تھی۔

ایکواڈور کے سفارت خانے سے نکلنے کے بعد وہ ضمانت کی شرائط کو پورا نہ کرنے کے جرم میں پچاس ہفتوں تک قید کاٹ چکے ہیں۔ جولین اسانج سزا ختم کے بعد امریکی کی حوالگی کی درخواست کی وجہ سے زیر حراست ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.

error: