جونی ڈیپ کی ایمبر ہرڈ کے خلاف جیت: ہالی وڈ کا وہ مقدمہ جس پر دنیا بھر کی نگاہیں جمی رہیں

ہالی وڈ کا ایک ہائی پروفائل کیس عالمی سطح پر سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جسے آسان لفظوں میں بیان کیا جائے تو ایک شخص نے اپنی سابقہ بیوی کے خلاف ہتک عزت کا کیس جیت لیا ہے۔ اس خاتون کا دعویٰ تھا کہ وہ گھریلو تشدد کا نشانہ بنی تھیں۔

مگر یہ سابقہ میاں بیوی کوئی عام لوگ نہیں بلکہ ہالی وڈ کی جانی مانی شخصیات ہیں: 58 سالہ جونی ڈیپ اور 35 سالہ ایمبر ہرڈ۔ اس کیس میں امریکی جیوری نے فیصلہ کیا ہے کہ ایمبر ہرڈ نے اپنے سابقہ شوہر اور اداکار جونی ڈیپ کو ایک مضمون میں بدنام کیا تھا جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ گھریلو تشدد کا شکار رہی ہیں۔

اب ہرجانے کی مد میں ایمبر ہرڈ کو ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر (12 ملین پاؤنڈ) ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

مگر آئیے ہم آپ کو کچھ بنیادی سوالات کے جواب دیتے ہیں۔۔۔

جانی ڈیپ، ایمبر ہرڈ
،تصویر کا کیپشنشادی کے 15 ماہ بعد جونی ڈیپ اور ایمبر ہرڈ میں طلاق ہوگئی تھی

جونی ڈیپ اور ایمبر ہرڈ کون ہیں؟

اگر آپ نے ہالی وڈ کی معروف فلمیں جیسے پائریٹس آف کیریبین یا ایکوا مین دیکھی ہیں تو شاید آپ ان دونوں اداکاروں کو پہچان سکتے ہیں۔ جونی ڈیپ تو بچوں میں بھی اپنی شہرت رکھتے ہیں کیونکہ انھوں نے چارلی اینڈ دی چاکلیٹ فیکٹری اور کورپس برائڈ جیسی فلمیں کی ہیں۔

بی بی سی کی تحقیق کے مطابق جونی ڈیپ کی آخری 'سب سے زیادہ کمانے والی فلم' 2006 میں آنے والی 'پائریٹس آف دی کیریبین: ڈیڈ مینز چسٹ' تھی اور ایمبر ہرڈ کے کیریئر کی سب سے کامیاب فلم ’ایکوا مین‘ تھی۔

دونوں نے 2012 کے شروع میں ڈیٹنگ شروع کی جب وہ فلم دی رم ڈائری کی شوٹنگ پر ملے۔ یہ فلم تو اتنی نہ چلی مگر 2015 میں دونوں کی شادی ہوگئی۔

تاہم شادی کے 15 ماہ بعد دونوں نے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ ایمبر ہرڈ لاس اینجلس کی ایک عدالت میں گال پر چوٹ کے ساتھ پیش ہوئیں اور انھوں نے طلاق کی درخواست کے ساتھ عدالت سے استدعا کی کہ جونی ڈیپ کو ان سے دور رہنے کا حکم دیا جائے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے سابقہ شوہر نے ان پر پُرتشدد حملہ کیا اور ایک موبائل فون بہت زور سے ان کی جانب پھینکا۔ انھوں نے عدالت میں یہ بھی الزام لگایا کہ جونی ڈیپ نے ان پر لفظی، جذباتی اور جسمانی تشدد کیا۔

جونی ڈیپ نے ان الزامات کی تردید کی مگر عدالت نے انھیں ایمبر ہرڈ سے دور رہنے کا حکم دیا۔ اس کیس کی سماعت شروع ہونے ہی والی تھی کہ کچھ گھنٹے قبل جونی ڈیپ اور ایمبرڈ ہرڈ نے مشترکہ بیان جاری کیا کہ دونوں کے درمیان جھگڑے کو باہمی طور پر حل کر لیا گیا ہے۔

جونی ڈیپ نے ایمبر ہرڈ کو طلاق کے بعد تصفیے کے طور پر 80 لاکھ ڈالر دیے۔ ایمبر نے کہا کہ وہ اس رقم کو عطیہ کر دیں گی۔

جونی ڈیپ اور ایمبر ہرڈ کے درمیان تنازع کیا تھا؟

دونوں ہالی وڈ اداکاروں کے درمیان سنہ 2016 میں طلاق ہو گئی تھی۔ بظاہر دونوں ایک قدم پیچھے جا چکے تھے۔

پھر دسمبر 2018 میں ایمبر ہرڈ نے اخبار واشنگٹن پوسٹ میں کالم لکھا جس میں انھوں نے ’بطور ایک شہرت یافتہ شخصیت گھریلو تشدد سے متعلق اپنے تجربے کو بیان کیا۔‘

ایمبر ہرڈ
،تصویر کا کیپشنایمبر ہرڈ نے 2018 میں ایک کالم لکھا جس میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ کیسے ایک معروف شخصیت ہونے کے باوجود وہ گھریلو تشدد کا نشانہ بنیں

وہ اس میں لکھتی ہیں کہ ’میں نے دیکھا جیسے ادارے تشدد کے ملزم مردوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں۔۔۔ مجھے اس تنقید کا سامنا کرنا پڑا جو ظلم کے خلاف بولنے پر خواتین پر کی جاتی ہے۔‘

انھوں نے اپنے سابقہ شوہر کا نام ظاہر نہیں کیا مگر شاید سب کو معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کس کے بارے میں بات کر رہی ہیں۔

اس پر جونی ڈیپ نے اپنے وکلا کے ذریعے ایمبر ہرڈ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا جس میں الزام لگایا گیا کہ ایمبر نے نہ صرف جونی ڈیپ کی عزت اچھالی بلکہ اس سے ان کے کیریئر کو بہت نقصان پہنچا۔

جونی ڈیپ کے وکلا نے الزام لگایا کہ ایمبر ہرڈ کے الزامات گمراہ کن ہیں اور اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود کی مثبت پبلیسٹی چاہتی ہیں تاکہ کیریئر آگے بڑھ سکے۔

جانی ڈیپ، ایمبر ہرڈ

یہ عدالتی کارروائی ٹی وی پر براہ راست نشر کیوں کی گئی؟

چھ ہفتوں کے دوران فیئر فیکس، ورجینیا کی عدالت نے ڈیپ اور ہرڈ کی شادی کے دوران ان کے ناخوشگوار تجربات کے حوالے سے تفصیلات سنیں۔

اس مقدمے کے دوران کیے جانے والے متعدد جائزوں سے پتا چلا کہ لوگوں کو اس مقدمے کو یوکرین کی جنگ یا امریکی سپریم کورٹ میں اسقاط حمل کے تاریخی فیصلے سے زیادہ دلچسپی سے دیکھا جا رہا تھا۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مقدمے کی کوریج کو ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا اور سوشل میڈیا پر لائیو سٹریم کیا گیا تھا جسے اربوں افراد نے دیکھا اور اس حوالے سے تبصرے بھی کیے۔

جونی ڈیپ اور ایمبر ہرڈ کے کیس کی تمام کارروائی کو لائیو ٹی وی پر نشر کیا گیا جس کو 'لا اینڈ کرائم پروڈکشنز' اور 'کورٹ ٹی وی' نامی ایک امریکی ڈیجیٹل براڈکاسٹ نیٹ ورک پر دیکھا جا سکتا تھا۔

یاد رہے کہ امریکہ میں ہر عدالتی کیس کی کارروائی کو نشر نہیں کیا جاتا۔ مگر 'رائٹرز فیکٹ چک' کے مطابق ڈیپ-ہرڈ مقدمے کی سماعت ورجینیا کی ایک کاؤنٹی عدالت میں ہو رہی ہے، جہاں جج کی پیشگی اجازت کے ساتھ کیمرے اور ریکارڈنگ کے آلات کمرہ عدالت میں لے جانے اور ریکارڈ کرنے کی اجازت ہے۔

کیس کا فیصلہ کیا آیا اور جیت کس کی ہوئی؟

تقریباً دو دن کے غور و خوض کے بعد جیوری کے اراکین نے بدھ کے روز فیصلہ دیا کہ ہرڈ کے اپنی شادی کے بارے میں بیانات ’جھوٹے‘ تھے اور انھوں نے ’بددیانتی‘ سے کام لیا تھا۔

جانی ڈیپ
،تصویر کا کیپشنجونی ڈیپ کی سابقہ بیوی کو ہرجانے کی مد میں ایک کروڑ 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا گیا

ایمبر ہرڈ کو ہرجانے کی سزا کے طور پر ایک کروڑ پچاس لاکھ ڈالر (12 ملین پاؤنڈ) ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری جانب ایمبر ہرڈ نے جونی ڈیپ کے خلاف دائر کردہ تین دعوؤں میں سے ایک جیتا ہے اور انھیں اس کی مد میں 20 لاکھ ڈالر ہرجانے کی صورت میں ادا کیے جائیں گے۔

البتہ انھیں یہ بھی معلوم ہوا کہ جونی ڈیپ نے ہرڈ کو اس وقت بدنام کیا جب ان کے وکیل نے سنہ 2020 میں اخبار ڈیلی میل کو ایک بیان دیا تھا جس میں امبر کی جانب سے تشدد کے الزامات کو فراڈ قرار دیا گیا تھا۔

جونی ڈیپ کے ترجمان نے بتایا کہ وہ اپنی مصروفیات کے باعث عدالت میں نہیں آ سکے تاہم ان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'جیوری نے مجھے میری زندگی لوٹا دی۔ میں بہت شکر گزار ہوں۔' انھوں نے لاطینی زبان کے الفاظ کا سہارا لیتے ہوئے لکھا کہ ’سچ کبھی چھپ نہیں سکتا۔‘

دوسری جانب ایمبر ہرڈ جو عدالت میں موجود تھیں کی جانب سے اس فیصلے کے حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس فیصلے سے ان کا ’دل ٹوٹ گیا ہے‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ جیوری نے ان کی جانب سے دیے گئے شواہد کو نظر انداز کیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے افسوس ہے کہ میں یہ مقدمہ ہار گئی ہوں لیکن مجھے اس سے زیادہ افسوس اس بات پر ہے کہ بطور امریکی جو حق میرا خیال تھا میرے پاس ہے یعنی آزادی اظہار رائے وہ میں نے کھو دیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے اس سے بھی زیادہ مایوسی اس بات پر ہے کہ اس فیصلے کا دوسری خواتین پر کیا اثر ہو گا۔ یہ ایک دھچکا ہے۔ یہ ہمیں اس وقت میں واپس لے گیا ہے جب ایک خاتون کو آزادی سے بولنے پر عوامی طور پر تضحیک کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘

ویسکوئز

جونی ڈیپ کی وکیل کیملے ویسکوئز کون ہیں؟

اس مقدمے کے ایک ایک اور کردار کو بھی خاصی شہرت ملی ہے۔ وہ شخصیت جونی ڈیپ کی وکیل کیملے ویسکوئز ہیں جو سوشل میڈیا پر آرا تقسیم کر رہی ہیں۔ جہاں ایک جانب انھیں ایک سٹار کے طور بھی دیکھا جا رہا ہے اور ایک ولن کے طور پر بھی۔ عدالت میں جیوری کے فیصلے کے بعد بھی انھیں خاصا خوش دیکھا جا سکتا تھا۔

کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والی نوجوان وکیل نے کروڑوں افراد کی توجہ اس وقت حاصل کی جب وہ اپنے مؤکل اور بالی وڈ اداکار جونی ڈیپ کی اپنی سابقہ بیوی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں نمائندگی کر رہی تھیں۔

37 سالہ ویسکوئز اتفاقیہ اور نادانستہ طور پر اس شو کی شریک سٹار بن گئی ہیں اور انھیں ان کے کاٹ دار انداز کے باعث خاصی پذیرائی ملی ہے۔

سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر بھی گردش کر رہی ہیں جن میں ان کے مداحوں نے ان کا نام اپنی ٹی شرٹس پر لکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی تعریف میں کئی ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کرتے رہے ہیں۔

وکیل ویسکوئز کی جانب سے ایمبر ہرڈ کی وکیل کو ایک دو منٹ کی ویڈیو میں کئی مرتبہ ’آبجیکٹ‘ کہتے سنا جا سکتا ہے جو عدالت میں مخالف وکیل کی کسی بات پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرنے کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح ہے۔ اس ویڈیو کو ٹک ٹاک پر کچھ ہی دنوں میں دو کروڑ 70 لاکھ سے زیادہ افراد دیکھ چکے ہیں۔

اس وائرل ہونے والی ویڈیو کے بعد لوگوں نے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی اپ لوڈ کرنا شروع کر دی ہیں جن میں وہ اپنے دوستوں یا خاندان میں ہونے والی کسی گفتگو کو ’آبجیکٹ‘ کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر #CamilleVasquez کے ساتھ اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز کو اب تک کروڑوں افراد دیکھ چکے ہیں۔

ایک ٹویٹ میں ایک صارف نے لکھا کہ ’میں اب بھی جونی ڈیپ کا مداح ہوں لیکن ساتھ ہی اب میں کیملے ویسکوئز کا بھی مداح ہوں۔‘

کیملے ویسکوئز سان فرانسسکو میں کولمبیئن اور کیوبن والدین کے ہاں پیدا ہوئی تھیں اور انھوں نے سنہ 2006 میں یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ سنہ 2010 میں وہ لاس اینجلس کے سدرن لا سکول سے فارغ التحصیل ہوئیں۔

گذشتہ چار برس کے دوران وہ براؤن رڈنک لا فرم کے ساتھ منسلک ہیں اور یہ فرم جونی ڈیپ کی ان کے ہتکِ عزت کے پانچ کروڑ ڈالر کے مقدمے میں نمائندگی کر رہی ہے۔ وہ ان نو وکلا میں سے ایک ہیں جو اس فرم کی جانب سے اس مقدمے کا حصہ ہیں۔

سنہ 2021 میں انھیں ’بیسٹ لائر‘ میگزین کی جانب سے ’متاثر کن‘ وکلا میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔

ویسکوئز

وہ قانونی چارہ جوئی اور ثالثی کے عمل میں مہارت رکھتی ہیں اور اس حوالے سے ان کی زیادہ توجہ ہتکِ عزت کے مقدمات پر ہی ہوتی ہے۔

تاہم ان کے نئے مداحوں ویسکوئز کو شاید صرف ان کی جانب سے کی گئیں متعدد ’آبجیکشنز‘ اور ایمبر ہرڈ کے ساتھ ہونے والے مکالموں کے باعث جانتے ہیں۔

ان کی جانب سے امبر ہرڈ سے دو روز تک سوالات کیے جاتے رہے تاکہ ان کی جانب سے کیے گئے دعوؤں کو جیوری کی نظر میں مشکوک قرار دیا جا سکے اور وہ ان میں موجود تضادات کو دیکھ سکیں۔

ایک جگہ وہ ایمبر ہرڈ سے یہ بھی پوچھتی ہیں کہ ’جونی ڈیپ نے ہی آپ کو ایکوا مین میں کردار دلوانے میں مدد کی، کیا ایسا نہیں ہے؟‘

ویسکوئز کی جانب سے جونی ڈیپ کے بھرپور دفاع کے بعد خواتین پر جنسی تشدد اور ہراساں کیے جانے کے خلاف موجود مہم می ٹو موومنٹ میں بھی وہ موضوعِ بحث بن گئی ہیں۔

کچھ ناقدین نے ان پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے ہرڈ کی جانب سے تشدد کے الزامات کو بے بنیاد بنانے کی کوشش کی ہے اور وہ انھیں ماننے سے انکاری رہی ہیں۔

ایک صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’کیملے ویسکوئز کی تعریف کی جانی چاہیے کہ انھوں نے دو گھنٹوں کے اندر فیمنزم کو 50 سال پیچھے کر دیا۔ تاریخ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گی۔‘

دوسری جانب ان کے مداح انھیں ایسے مرد جنھیں گھروں پر تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کی آواز بننے پر شاباش دے رہے ہیں۔

جانی ڈیپ، ایمبر ہرڈ

سوشل میڈیا پر بھی جونی ڈیپ بمقابلہ ایمبر ہرڈ

صحافی رباب بتول کے مطابق جب زیر بحث مسئلہ کسی سیلیبریٹی جوڑے کے گھریلو جھگڑے کا ہو تو عموماً لوگوں کی رائے منقسم ہوتی ہے۔ مگر اس مقدمے سے متعلق جو بیانیہ اور مواد سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے اس کا بڑا حصہ صرف جونی ڈیپ کی حق میں اور ایمبر ہرڈ کے موقف کو کمزور کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس معاملے سے منسلک مقبول ہیش ٹیگز پر غور کرنے پر پتا چلتا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر یا تو جونی ڈیپ کو مظلوم اور سچا قرار دے رہے ہیں، یا پھر ان کو انصاف دلانے کی بات کر رہے ہیں۔

اس کے برعکس ایمبر ہرڈ سے منسلک ہیش ٹیگز میں سے زیادہ تر یا تو منفی ہیں، یا جو بظاہر ان کے حق میں دکھائی دیتے ہیں، ان میں سے بھی اکثر کے ساتھ ایمبر ہرڈ کے خلاف بات کرتے ہوئے ان کو ذہنی مریض، دھوکے باز اور زیادتی کا اصل ذمہ دار کہا جا رہا ہے۔

بات صرف یہاں ختم نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز اور میمز میں بھی یہی یکطرفہ عنصر موجود ہے۔ تقریباً ہر عدالتی سماعت کے بعد اس کی ریکارڈنگ میں سے بعض حصوں کو نکال کر بنائی گئی مختصر کلپس انٹرنیٹ پر پھیلی ہوئی ہیں۔ ان میں ایمبر کے بیانیے کو غلط یا عدالت میں ان کے اور ان کی لیگل ٹیم کے طرزِعمل کو مضحکہ خیز انداز میں پیش کر کے طنز کا نشانہ بنایا گیا۔

ایمبر ہرڈ کے بارے میں سوشل میڈیا پر جتنی بھی اور جہاں بھی بات ہوئی، اس میں دیکھنے میں آیا کہ زیادہ تر میں ایمبر کے بیانیے کو غلط یا عدالت میں ان کے اور ان کی لیگل ٹیم کے طرزِعمل کو مضحکہ خیز انداز میں پیش کر کے طنز کا نشانہ بنایا۔