جوہری آبدوز تنازع: فرانس نے برطانیہ سے ’طے شدہ مذاکرات‘ منسوخ کردیے

جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز تیار کرنے سے متعلق متنازع معاہدے کے باعث برطانیہ اور فرانس کے مابین کشدیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور فرانس کے وزیر دفاع نے اپنے برطانوی ہم منصب کے ساتھ متنازع معاہدے پر طے شدہ بات چیت کا سلسلہ منسوخ کردیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا نے جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز تیار کرنے کے معاہدے پر دستخط اور اس عمل کے دوران فرانس کو تفویض بیشتر اور بڑے کنٹریکٹ سے محروم کردیا جس کے بعد فرانس نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نےکہا کہ فرانس کو معاہدے سے جوڑے معاملات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے لیکن لندن میں برطانوی اور فرانسیسی وزرا دفاع کے مابین ہونے والی بات چیت کا عمل منسوخ کردیا گیا۔

فرانس کے سابق سفیر لارڈ ریکیٹس نے تصدیق کی کہ ’دونوں رہنماؤں کی ملاقات منسوخ ہوچکی ہے‘۔

انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ مذاکرات کا سلسلہ آئند چند دنوں میں شروع ہوسکتا ہے۔

جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز کی تیاری کا معاہدہ ’آکس معاہدہ‘ کہلاتا ہے جو گزشتہ ہفتے طے پایا تھا۔

آکس معاہدے کا مقصد جنوبی چین کے سمندر میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے اور اس کے لیے آسٹریلیا کی جانب سے 2016 میں 12 روایتی آبدوزوں کی تعمیر کے لیے 37 ارب ڈالر کا معاہدہ ختم کر دیا۔

فرانسیسی وزیر خارجہ ژان یویس لی ڈریان نے اسے ’پیٹھ پر وار‘ قرار دیا ہے جو ’اتحادیوں اور شراکت داروں کے درمیان ناقابل قبول رویہ‘ کا باعث بنتا ہے۔

اس تمام تنازع کے دوران اب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واشنگٹن اور کینبرا سے فرانسیسی سفیروں کو واپس بلانے کا حکم دیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ فرانس کو اتحاد کے بارے میں ’پریشان‘ نہیں ہونا چاہیے، برطانیہ اور فرانس کے درمیان ’انتہائی دوستانہ تعلقات‘ ہیں

انہوں نے کہا کہ آکس کسی بھی طرح سے زیرو سم نہیں ہے، یہ دراصل وہ نہیں جس کے لیے خصوصی طور پر ہمارے دوست فرانس کو پریشان ہونا چاہیے۔

اس سے قبل فرانس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جلد فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون سے مذاکرات کی درخواست کی ہے، جو بظاہر آبدوز کے معاہدے پر تنازع کے بعد اتحادیوں کے درمیان غیر معمولی کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔

آسٹریلیا کی جانب سے امریکی جوہری آبدوزوں کی حمایت میں کیے جانے والے معاہدے کے بعد پیرس میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: