Site icon Dunya Pakistan

’جو ماضی میں پسندیدہ صحافی تھے آج ناپسندیدہ کیوں ہو گئے‘

حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کے لیے حکمران جماعت یا برسرِ اقتدار رہنماؤں کی جانب سے ناپسندیگی کا اظہار دنیا میں کوئی نیا چلن نہیں ہے اور پاکستان کو بھی اس سے استثنی حاصل نہیں ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی آئے روز سوشل میڈیا پر صحافیوں کے خلاف کوئی منفی مہم یا مخالفت پر مبنی ہیش ٹیگ گردش کرنا بھی کوئی نئی خبر نہیں۔

اگرچہ اس معاملے میں پاکستان اور دنیا بھر میں بہت سی قدریں مشترک ہیں مگر ایک چیز ہے جو پاکستان کو مختلف بناتی ہے۔ دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف ایسی مہم جوئی عموماً برسراقتدار جماعت اپنے ہمدردوں اور سپوٹررز کے ذریعے ڈھکے چھپے انداز میں کرواتی ہے مگر پاکستان میں معاملہ کچھ مختلف ہے۔

حال ہی میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک تصدیق شدہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سے دو ٹویٹس کی گئیں۔ پہلی ٹویٹ میں ان صحافیوں کی فہرست چسپاں کی گئی جو حکمراں جماعت کے مطابق ’وہ اینکرز اور میڈیا کے لوگ ہیں جو بدعنوان لوگوں کا بیانیہ چلاتے ہیں۔‘ اس اکاؤنٹ کو فالو کرنے والوں کو ہدایت کی گئی کہ ’چلیں ان کے نام بلند اور واضح انداز میں لیں۔‘

جبکہ دوسری ٹویٹ میں چند صحافیوں کے نام شامل کیے گئے اور لکھا گیا ’ان (فہرست میں شامل صحافی) کے بجائے ہمیں ایسے بہادر اور بے باک صحافیوں کی حمایت کرنی چاہیے جو سچ اور انصاف کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘

یہ ٹویٹس جلد ہی ڈیلیٹ کر دی گئیں اور تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک عہدے دار نے ٹوئٹر پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کے نوٹس میں آتے ہیں ان ٹویٹس کو ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ سوشل میڈیا عہدیدار جبران الیاس نے لکھا ’معذرت قبول کریں۔ یہ ٹویٹس پی ٹی آئی کے مرکزی ٹوئٹر اکاونٹ ( @PTIofficial) سے نہیں بلکہ ایک ریجنل اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی تھیں اور انھیں جلد ہی ہٹا دیا گیا۔

یہی سکرین شاٹس شیئر کرتے ہوئے صحافی اور اینکر عاصمہ شیرازی نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’پی ٹی آئی کے تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے پسندیدہ اور قابلِ نفرت میڈیا پرسنز کی مہم لانچ کی گئی ہے۔ پی ٹی آئی اور موجودہ حکومت اپنی خلاف تنقید کے ساتھ اس طرح نمٹتے ہیں۔‘

حکومت وقت کے الزامات صحافیوں کے لیے تمغے

عاصمہ شیرازی کا نام بھی ’ناپسندیدہ‘ صحافیوں کی فہرست میں شامل ہے۔ تاہم بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عاصمہ شیزازی نے کہا کہ وہ اس اقدام کو ’اپنے لیے کسی تمغے سے کم نہیں سمجھتیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’اگر حکومت آپ کو تنقید کرنے پر قابلِ نفرت سمجھتی ہے اور بُرا صحافی کہتی ہے۔۔۔ اس سے بڑا تمغہ تو کسی بھی صحافی کے لیے نہیں ہوتا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’صحافیوں کو نشانہ بنا کر گالم گلوچ اس لیے کی جاتی ہے کہ آپ ڈر جائیں اور تنقید نہ کر سکیں۔ اور لوگوں کو نہ بتا سکیں کے پاکستان کے کیا حالات ہیں اور پاکستان میں حکومت کیسے چل رہی ہیں۔‘

عاصمہ شیزاری کے بقول انھیں ہر حکومت سے ایسے ہی ’تمغے‘ ملتے رہے ہیں۔ ’مسلم لیگ نواز کے پانچ سال میں ہم نے ان پر بھی خوب تنقید کی۔ ہم کبھی ان کے پسندیدہ لوگوں میں نہیں رہے تھے۔‘

عاصمہ شیزاری اس اقدام کو صحافیوں کے خلاف ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ اچھے بُرے صحافیوں کی ایک فہرست بنا کر ایک نئی بحث چھیڑ دی گئی ہے۔ ’یعنی جو ان کی تعریف کرتے ہیں وہ اچھے صحافی ہیں اور جو ان کے خلاف بات کرتے یا انھیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں وہ بُرے ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن'اگر حکومت آپ کو تنقید کرنے پر قابلِ نفرت سمجھتی ہے اور بُرا صحافی کہتی ہے اور اس سے بڑا تمغہ تو کسی بھی صحافی کے لیے نہیں ہوتا'

حکومت وقت اور میڈیا کے ناخوشگوار تعلقات

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ضیا الدین کے مطابق ’صحافیوں سے متعلق کسی بھی حکومت کی رائے بہت مخصوص ہوتی ہے۔ اگر صحافی ان کے خلاف خبر دے گا تو وہ بُرا صحافی ہو جاتا ہے اور اگر ان کے حق میں لکھے گا تو وہ اچھا صحافی ہو جاتا ہے۔ اس لیے صحافی کے لیے توازان قائم کرنا اور اپنی ساکھ برقرار رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’حکومت وقت کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ ان کی میڈیا کے ساتھ تعلقات کم خوشگوار رہتے ہیں کیونکہ میڈیا واچ ڈاگ کا کردار ادا کرتا ہے اور اس سے تنازع ناگزیر ہو جاتا ہے۔‘

ان کے بقول حکومت وقت کے متعلق رپورٹنگ کرنا اور ان کے حق میں رہنا ایک ساتھ ہونا مشکل ہوتا ہے کیونکہ حکومت اپنی ناکامیوں کو بھی کامیابی دکھانا چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ میڈیا کو استمعال کرنا چاہتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کا منشور اس حوالے سے کافی آئیڈیل تھا۔ ’اس منشور میں کہا گیا تھا کہ ہم پی ٹی وی کو ایک دن بی بی سی کے معیار تک لے کر آئیں، لیکن اس کے بعد انھوں نے جس طرح پاکستان ٹیلی وژن، ریڈیو پاکستان حتیٰ کہ پیمرا کو استعمال کیا اس سے پتا چلتا ہے کہ وہ بھی پرانی ڈگر پر ہیں۔‘

ضیاالدین کے مطابق ’ماضی میں جب عمران خان خود حزب اختلاف میں تھے اس وقت جو ان کے پسندیدہ صحافی تھے اب ان کے پسندیدہ نہیں رہے کیونکہ شاید وہ اپنے فرائص پوری ذمہ داری سے ادا کر رہے ہیں۔‘

ضیا الدین کا کہنا تھا کہ ’خود عمران خان بطور وزیر اعظم عوامی سطح پر حزب مخالف کے لیے تضحیک آمیز زبان استعال کرتے ہیں تو ان کے ترجمان تو ان سے بھی چار ہاتھ آگے جائیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’عمران خان پہلی مرتبہ حکومت میں آئے ہیں اور کے ساتھ کام کرنے والوں کا تجربہ بھی بہت محدود ہے اس لیے اپنی حکومت کی ترجمانی کرتے ہوئے وہ کبھی کبھی بہت غیر ذمہ دار ہو جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا کیپشن'آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ فلاں صحافی کا کسی سیاسی رہنما کی جانب جھکاؤ ذرا زیادہ ہے لیکن اس بنیاد پر انھیں کسی قسم کی درجہ بندی میں رکھنا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘

’صحافی کا مخصوص رائے رکھنا اور اس کا اظہار کرنا غلط نہیں‘

پی ٹی آئی کی ٹویٹ میں ’بہادر، بے باک اور سچے‘ صحافی قرار دیے جانے والے لیکن اس ٹویٹ سے لاعلم اینکر سمیع ابراہیم نے پہلے تو ہنستے ہوئے اپنے اس فہرست میں شامل ہونے پر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا اور پھر ٹویٹ ڈیلٹ ہونے پر اسے احسن اقدام قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا ’جب ہم نے صحافت کی تو کہا جاتا تھا کہ صحافیوں کو غیر جانبدار ہونا چاہیے۔ اس کی خبر سے کسی بھی طرح یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ وہ ایک معاملے پر کسی کی حمایت یا مخالفت کر رہے ہیں۔ لیکن اب پوری دنیا میں انداز بدل گیا ہے۔ اب پاکستان میں بھی اپنی رائے کا کھلم کھلا اظہار ہوتا ہے اور میرے خیال میں اس میں کوئی قباحت نہیں ہے۔‘

سمیع ابراہیم کا کہنا تھا ’آپ مسلم لیگ ن یا پاکستان تحریک انصاف کے حامی ہو سکتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ آپ اپنا کام بھی دیانت داری کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ پُراثر تجزیہ کر رہے ہیں اور حقائق کو تباہ نہیں کر رہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کے لیے صحافیوں کے رجحانات بھی عام شہریوں کی طرح ہوتے ہیں کیونکہ وہ بھی انتخابات میں ووٹ ڈالتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب اس حوالے سے لوگ زیادہ اظہار کرنے لگے ہیں۔

سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’کسی بھی حوالے سے اپنی رائے رکھنا غلط نہیں ہے لیکن اس رائے پر یہ کہنا کہ وہ مجرموں کے ساتھ ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ حامد میر ہوں یا عاصمہ شیرازی ہوں یا کوئی بھی دوسرا صحافی ان کی اپنی ایک رائے ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ وہ مجرموں کے ساتھ ہیں زیادتی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا ’آپ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ فلاں صحافی کا نواز شریف یا کسی اور کی جانب جھکاؤ ذرا زیادہ ہے۔ ان کی باتوں پر اس کا نرم رویہ ہے، لیکن انھیں کسی قسم کی درجہ بندی میں رکھنا اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس اقدام کی کوئی ثوثیق نہیں کرے گا۔‘

صحافیوں کے خلاف ایسی مہمات کیوں چلائی جاتی ہیں؟

صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ صحافیوں کو اچھے یا برے کی فہرستوں میں تقیسم کرنے کا مقصد ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

’اگرچہ وہ ٹویٹس ڈیلیٹ کر دی گئی ہیں لیکن اب انھیں لوگ پھیلا کر اس میں مزید نام شامل کر رہے ہیں۔ جس کا مقصد صحافیوں اور صحافت کو بدنام کرنا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اقدام کا مقصد بالاخر ہر طرح کے صحافیوں کی ساکھ خراب کرنا ہے۔

’ایک بڑا طبقہ حکومت کے حامی صحافیوں کو اچھا اور ناقدین کو برا سمجھتا ہے۔ اسی طرح ایک بڑا طبقہ حکومت پر تنقید کرنے والوں کو اچھا بھی سمجھتا ہے۔ یہ جن صحافیوں کو اچھوں کی فہرست میں ڈالا گیا ہے ان کی ساکھ بھی خراب کرنے کی سازش کی گئی ہے۔‘

’حکومت نے خود ہی ان صحافیوں کو اپنے ساتھ لیبل کر دیا ہے اور اب ان پر بحث ہو رہی ہے کہ کیا صحافیوں کا کام حکومت کی تعریفیں کرنا ہے۔‘

موجودہ دور میں زیادہ پابندیاں

ضیا الدین کا کہنا تھا کہ اس وقت حالات یہ ہیں کہ صحافی ’سیلف سینسر شپ‘ بہت کرنے لگے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’صحافیوں کو پتا ہوتا ہے کہ حکومت وقت ان سے کیا چاہتی ہیں اور کیا نہیں۔ اس لیے ہم اس حد کا خیال بھی رکھتے ہیں اور کبھی کبھی اس کے پار جانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن سنہ 2017 کے بعد سے نہ تو ہمیں یہ پتا ہے کہ ہماری حدود کیا ہیں اور نا یہ پتا ہے کہ ہمارا دائرہ کار کیا ہے۔‘

’اب تو کسی مسئلہ پر اپنی رائے دینے سے پہلے دس دفعہ سوچنا پڑتا ہے کہ یہ چھپ جائے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ماضی میں حکومت وقت فیلڈ میں موجود صحافی سے رابطے میں ہوتی تھی لیکن اب براہ راست مالکان تک رسائی ہوتی ہے اور کہا جاتا ہے یہ جانا چاہیے اور یہ نہیں جانا چاہیے۔ مالکان کاروباری افراد ہوتے ہیں اور ان کے اپنے مفادات ہوتے ہیں اس لیے وہ زیادہ محتاط ہو جاتے ہیں۔‘

عاصمہ شیرازی نے بھی موجودہ حکومت میں صحافیوں کے خلاف سختیوں کا ذکر کیا۔

ان کا کہنا تھا ’پچھلے ڈھائی سال سے صحافیوں کے خلاف جھوٹی مہمات چلائی گئی ہیں۔ چند معاون خصوصی (وزیر اعظم کے) اور مشیریوں کا کام ہی یہی ہے کہ صبح اٹھ کر سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف تنقید کرنے والے صحافیوں کے خلاف مہم لانچ کر دیں۔‘

عاصمہ شیرازی کے بقول اگرچہ ماضی کی حکومتوں میں بھی صحافیوں کو ایسی ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے لیکن اب تو گویا روزانہ کی بنیاد پر کچھ نیا ہوتا رہتا ہے اور حکومت کی جانب سے ان کی سرپرستی کی جاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ایسی مہم میں خواتین کو بالخصوص نشانہ بنایا جاتا ہے جس میں گالم گلوچ اور کرادر کشی کی جاتی ہے۔‘

حکومت کے پسندیدہ صحافیوں کی فہست میں شامل سمیع ابراہیم کا کہنا تھا کہ ’اس وقت پاکستان میں تمام صحافی بہت بہادری سے اپنا کام کر رہے ہیں چاہے وہ حکومت کے حامی ہوں یا ناقدین۔ یہ کام ہی ایسا ہے کہ اس میں آپ کو خطرات سے کھیلنا پڑتا ہے۔‘

’بحیثیت صحافی مجھے وہ چیز کہنی ہے جو سچ ہے نہ کہ جو مجھے مقبول بنائے۔ ہو سکتا ہے جو مقبول لائن ہو وہ غلط ہو۔ اس لیے میرا پیشہ مجھ سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ مجھے سچ بولنا ہے اور اس کی جو قیمت ہے میں ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔

بشکریہ بی بی سی اُردو‘

Exit mobile version