جگا گجر: جب لاہور میں دہشت کی علامت جگا کو ہلاک کرنے والی پولیس پارٹی کو تین سو روپے انعام دیا گیا

یہ جولائی 1968 کی بات ہے جب لاہور میں ہونے والے ایک ’پولیس مقابلے‘ میں جگا گجر کے مارے جانے کی خبریں پاکستان بھر کے اخبارات کے صفحہ اول کی زینت بنیں۔ یہ وہی جگا گجر تھے جن کے نام پر ’جگا ٹیکس‘ کی اصطلاح مشہور ہوئی اور ان کی شخصیت کو لے کر پنجابی زبان میں متعدد فلمیں بنائی گئیں۔

اس دور میں شائع ہونے والے اخبارات اور بعدازاں لکھی گئی کتابوں کے مطابق جگا گجر کا اصل نام محمد شریف تھا، وہ لاہور کے علاقے اسلامیہ پارک کے رہنے والے تھے۔ اس دور میں ایک میلہ لگا کرتا تھا جس میں جگا کے بھائی مکھن گجر کا کسی بات پر لاہور کے ’معروف بدمعاش‘ اچھا شوکر والا سے جھگڑا ہو گیا اور بعدازاں سنہ 1954 میں مکھن کو قتل کر دیا گیا۔

بھائی کے قتل کے وقت جگا کی عمر محض 14 سال تھی۔ بھائی کے قتل کے آٹھ دن بعد جگا نے اس کا بدلہ لے لیا اور قاتل کو کیفر کردار تک پہنچا کر جیل پہنچ گیا۔

جیل پہنچ کر انھیں علم ہوا کہ قتل کا اصل محرک اچھا شوکر والا تھا اور اسی نے قاتل کو اس کام کے لیے آمادہ کیا تھا، چنانچہ جگا نے جیل سے ہی اچھا شوکر والا کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی اور ان پر حملہ بھی کروایا۔ اس حملے میں اچھا کے دو آدمی مارے گئے اور اچھا زخمی ہوا۔

جگا رہا ہوا تو جیل سے باہر عوام کے ایک جم غفیر نے ان کا استقبال کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اچھا شوکر والا کو مغربی پاکستان کے گورنر نواب کالا باغ ملک امیر محمد خان کی مبینہ سرپرستی حاصل تھی۔

حکومت کے خلاف مظاہرے ہوں یا بد امنی کا کوئی اور واقعہ، نواب آف کالا باغ کے کہنے پر اچھا شوکر والا حالات کو قابو میں لاتے تھے۔

احمد عقیل روبی نے اپنی کتاب ’کھرے کھوٹے‘ میں اچھا شوکر والا کے خاکے میں لکھا ہے کہ ’جب تک ملک امیر محمد خان (نواب آف کالا باغ) مغربی پاکستان کے گورنر رہے کچھ لوگ اچھا شوکر والا کو ’چھوٹا گورنر‘ کہتے تھے۔ گورنر ہاؤس میں اُن کا آنا جانا یوں تھا جیسے وہ اپنے گھر آ جا رہے ہوں۔ امیر محمد خان کے زمانے میں اچھا کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ شرافت ملا۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’امیر محمد خان کی گورنری ختم ہوئی تو اس کے کچھ عرصے بعد اچھا کو غنڈہ ٹیکس وصول کرنے کے الزام میں پکڑ لیا گیا۔ اچھا نے تھانیدار سے ہنس کر کہا ’اک تے تہاڈے قانون دا پتہ نئیں لگ دا، کدی مینوں شرافت دا تمغہ دیندے او، کدی عنڈہ کہہ کے گرفتار کرلیندے او۔‘ (ایک تو آپ کے قانون کا پتہ نہیں چلتا، کبھی مجھے شرافت کا تمغہ دیتے ہو، کبھی مجھے غنڈہ کہہ کر گرفتار کر لیتے ہو۔)

جنگ اخبار کی خبر

گورنر موسیٰ خان کے دور میں جگا گجر کو جیل سے رہائی نصیب ہوئی۔ جیل سے باہر آ کر انھوں نے اپنا گینگ بنا لیا اور لاہور میں قصائی برادری سے جبری ٹیکس وصول کرنا شروع کیا۔ ان کی بدمعاشی کا مرکز بکر منڈی کا علاقہ تھا۔ وہ ہر قصائی سے ایک بکری کی خریداری پر ایک روپیہ وصول کرتے تھے۔

کسی میں انکار کی جرأت نہ تھی اور جلد ہی جگا گجر کے نام پر یہ جبری ٹیکس ’جگا ٹیکس‘ کہلانے لگا۔ آج بھی اس نوعیت کا ہر جبری ٹیکس پاکستان میں عمومی طور پر ’جگا ٹیکس‘ ہی کہلاتا ہے۔

حسن نثار نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ ’جگا تھا تو بدمعاش لیکن اس کی یہ خوبی اسے دوسرے غنڈوں سے ممتاز کرتی تھی کہ اس کے گھر شام کو جو ٹیکس جاتا تھا اس میں غریبوں اور بیواؤں کا حصہ بھی ہوتا تھا۔‘

اس زمانے میں لاہور کے ایس ایس پی حاجی حبیب الرحمن نے منیر احمد منیر کو دیے گئے اپنے ایک طویل انٹرویو میں، جو ’کیا کیا نہ دیکھا‘ کے نام سے شائع ہوا، بتایا کہ ’جگا کی بدقسمتی کا آغاز اُس دن ہوا جب اُن کا سامنا مزنگ میں پھلوں کی ایک دکان پر لاہور کے ڈپٹی کمشنر فتح محمد خان بندیال سے ہوا۔ بندیال صاحب نے دیکھا کہ پھلوں کی دکان پر ایک جیپ آ کر رُکی، اس میں سے ایک شخص اُترا، جس کے آگے پیچھے چھ، سات مسلح افراد تھے۔ اس شخص نے پھلوں کی دُکان کا رخ کیا۔‘

’دکاندار نے بندیال صاحب کو نظرانداز کر کے اس شخص کو سلام کیا، جگے نے اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ لہرا کر جواب دیا۔ پھلوں کی چند ٹوکریاں اور شربت کی تین چار بوتلیں اپنی گاڑی میں رکھوائیں اور پیسے دیے بغیر روانہ ہو گیا۔ بندیال صاحب کے لیے یہ منظر ناقابل یقین تھا۔‘

’انھوں نے دکاندار سے پوچھا کہ یہ شخص کون تھا؟ دکاندار نے کہا کہ آپ لاہور کے نہیں لگتے، یہ جگا بادشاہ تھا، لاہور کا اصل بادشاہ۔ سارے لاہور پر اس کا حکم چلتا ہے۔‘

ایف کے بندیال
،تصویر کا کیپشنجگا کی بدقسمتی کا آغاز اس دن ہوا جب اس کا آمنا سامنا مزنگ پر پھلوں کی ایک دکان پر لاہور کے ڈپٹی کمشنر فتح محمد خان بندیال سے ہوا

’بندیال صاحب مزید حیران ہوئے، انھوں نے سوچا لاہور کا ڈی سی تو میں ہوں یہ بادشاہ کہاں سے آ گیا۔ وہ گھر جانے کی بجائے وہاں سے مزنگ تھانے پہنچے۔ انھوں نے پولیس اہلکاروں کو اپنا تعارف کروایا اور پورا واقعہ سُنایا۔ پولیس اہلکار خاموش کھڑے رہے۔ کچھ دیر بعد ایس ایچ او نے کہا کہ میرا خیال ہے آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے۔‘

’بندیال صاحب نے کہا غلط فہمی کی کیا بات ہے میں سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر آ رہا ہوں۔ اصل ایس ایچ او تم ہو اصل افسر ایس ایس پی ہے یا ڈی سی ہے، یہاں غنڈوں کا راج ہے، میں تو سنتا آیا تھا آج میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ یہاں اصل حاکم تو کوئی اور ہے۔‘

’ایس ایچ او اسی وقت بندیال صاحب کو اسی پھلوں کی دکان پر لے گیا، دکاندار ایس ایچ او دیکھ کر کھڑا ہو گیا اور ایس ایچ او نے دکاندار سے بندیال صاحب کا تعارف کروایا اور دریافت کیا کہ کیا ابھی جگا نام کا کوئی شخص یہاں سے مفت پھل لے کر گیا ہے۔ دکاندار نے کہا اس نام کا کوئی شخص یہاں نہیں آیا اور پھر ہم کسی کو مفت پھل کیوں دیں گے۔ بندیال صاحب یہ بات سُن کر حیران ہوئے، وہ سمجھ گئے کہ ایس ایچ او اور ان کی موجودگی میں دکاندار حقیقت نہیں بتائے گا۔‘

حاجی حبیب الرحمن نے بتایا کہ ’اب بندیال صاحب نے مجھے بلایا اور سارا واقعہ سُنایا۔ میں نے کہا کہ اچھا ہوا کہ آپ نے یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ ایس ایچ او بھی کہہ رہا ہے کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے اور دکاندار نے بھی یہی کہا ہے کہ وہاں اس نام کا کوئی شخص آیا ہی نہیں، یہ ہے ان غنڈوں کی دہشت۔ بندیال صاحب نے کہا کہ یہ معاملات ایسے نہیں چلیں گے ہمیں ان غنڈوں سے نمٹنا پڑے گا۔‘

پولیس کے محکمے میں موجود مخبروں کی مدد سے یہ اطلاع جگا گجر تک بھی پہنچ گئی کہ اب لاہور کی انتظامیہ ان کے خلاف کوئی کارروائی کرنے والی ہے۔ ایک دن جگا گجر حاجی حبیب الرحمن کے دفتر پہنچ گیا، چٹ بھیجی محمد شریف عرف جگا۔ اس کے ساتھ اس کا دست راست ریاض عرف راجو گجر بھی تھا۔

حاجی حبیب الرحمان
،تصویر کا کیپشنایس ایس پی حبیب الرحمن

’جگا نے کہا کہ وہ پولیس کے لیے کام کرنے کے لیے تیار ہے بس اس کی جاں بخشی کر دی جائے۔ جگا نے رشوت کی پیشکش بھی کی اور دیگر ترغیبات بھی دیں مگر حاجی حبیب الرحمن صاحب نے اس کی مدد کرنے سے انکار کر دیا۔ گرفتار اس لیے نہیں کر سکے کہ وہ اس وقت ضمانت پر رہا تھا۔‘

جبیب الرحمن کے مطابق جگا صورتحال کو بھانپتے ہوئے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر چلے گئے۔

بعد ازاں ایک دن پولیس کو اپنے مخبروں سے اطلاع ملی کہ جگا اپنی والدہ سے ملنے کے لیے بے تاب ہیں اور لاہور آنے کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ حاجی حبیب الرحمن نے جگا کو لاہور بلانے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا۔

’انھوں نے بندیال صاحب اور چیئرمین سول ڈیفنس سے بات کی اور کہا کہ بڑے عرصے سے لاہور میں سول ڈیفنس کی بلیک آؤٹ کی مشق نہیں ہوئی ہے۔ چیئرمین سول ڈیفنس نے دو دن کے لیے یہ مشق کروانے کا اعلان کر دیا۔‘

یہ اس زمانے میں ایک معمول کی بات تھی۔ مشق کی اطلاع اخبارات میں بھی شائع ہو گئی۔ پہلے دن مشق بھی ہو گئی، پولیس کو اطلاع ملی کہ جگا ان کے جال میں آ گیا ہے اور اس مشق سے فائدہ اٹھا کر بلیک آؤٹ کے دوسرے دن اپنی والدہ سے ملنے لاہور آ رہے ہیں۔‘

’یہ جولائی 1968 کی بات ہے۔ جگا کا گھر نواںکوٹ تھانے کی حدود میں بکر منڈی کے علاقے میں تھا۔ پولیس نے اپنی پوزیشن سنبھال لی۔ جگا گھر کے قریب پہنچے تو پولیس نے انھیں للکارا اور پوچھا وہ کون ہیں، جگا کے ساتھ راجو گجر بھی تھے۔‘

’اس سے پہلے کہ جگا پولیس کو کوئی جواب دیتا، راجو گجر نے پولیس پر فائر کھول دیا۔ پولیس نے ایک مرتبہ پھر جگا کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا اور جاں بخشی کا اعلان کیا، مگر جب حکم کی تعمیل نہ ہوئی اور راجو گجر نے دوبارہ پولیس پر فائر کیا تو پولیس نے جوابی فائرنگ کر کے اسے اور جگا گجر کو ہلاک کر دیا۔‘

پولیس کی ٹیم میں ڈی آئی جی صاحبزادہ رؤف علی کے علاوہ سب انسپکٹر میاں سلطان انور اور راجا محمد اقبال شامل تھے۔

ممتاز دانشور اور ادیب جناب باقر علی شاہ نے ایک گفتگو میں بتایا کہ ’جگا گجر اور ریاض گجر ڈی آئی جی چودھری محمد الطاف کی گولی سے ہلاک ہوئے تھے جو اس کارروائی میں خود بھی زخمی ہوئے تھے۔ بعد میں لوگ انھیں الطاف گجر کہنے لگے تھے۔چودھری محمد الطاف نے میاں نواز شریف کے دور میں احمد مختار اور محترمہ بے نظیر بھٹو کے دور میں میاں محمد شریف کو بھی ہتھکڑی لگائی تھی جس کی وجہ سے وہ دونوں حکومتوں میں معتوب رہے۔ چودھری محمد الطاف لاہور میں قیام پذیر ہیں۔‘

فلم جگا گجر
،تصویر کا کیپشناسی اور نوے کی دہائی محمد شریف کی شخصیت کی مناسبت سے پاکستان میں 'جگا'، 'وحشی گجر'، 'جگا گجر'، 'پتر جگے دا' اور 'جگا ٹیکس' جیسی فلمیں بنائی گئی

اگلے دن پاکستان بھر کے اخبارات جگا کے قتل کے اس واقعے سے بھرے ہوئے تھے۔ حاجی حبیب الرحمن نے بتایا کہ ’لوگوں کو یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ جگا مر گیا ہے۔ اس کی لاش دیکھنے کے لیے لوگ امنڈ پڑے۔ بکر منڈی سے شہر تک لوگوں کی قطار تھی جو جگا کی لاش دیکھنا چاہتے تھے۔‘

حکومت نے جگا کو ہلاک کرنے والی پولیس پارٹی کو نقد انعام سے بھی نوازا اور انھیں تمغے بھی عطا کیے۔ مگر لاہور کے عوام کے دلوں سے جگا گجر اور اس کا لگایا ہوا جگا ٹیکس مٹایا نہ جا سکا۔

1980 اور 1990 کی دہائیوں میں لاہور کی فلمی صنعت میں جگا گجر کے موضوع پر کئی فلمیں بنیں جن میں سے بیشتر میں جگا کا کردار سلطان راہی نے ادا کیا۔ ان فلموں میں ’جگا‘، ’وحشی گجر‘، ’جگا گجر‘، ’پتر جگے دا‘ اور ’جگا ٹیکس‘ کے نام سرفہرست ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *