جہانگیر بمقابلہ جان شیر: سکواش کی رونق انھی سے قائم تھی

پیشہ ورانہ رقابت یا روایتی مقابلہ کسی بھی کھیل کی مقبولیت میں اضافے کا اہم سبب بنتا ہے۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ایشیز سیریز ہو یا پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کے درمیان میچ، روایتی حریف کا اس سے بڑا تصور اور کیا ہوسکتا ہے؟

انفرادی طور پر بھی ہمیں ہر کھیل میں ایسے کردار نظر آتے ہیں جو دیکھنے والوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیتے ہیں اور دنیا ان کی سحرانگیزی میں کھو جاتی ہے۔

باکسنگ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک محمد علی کو جو فریثر کی شکل میں سخت جاں حریف میسر آیا تو باکسنگ رنگ کی رونق ہی بڑھ گئی۔

شطرنج کی بساط پر گیری کاسپوروف اور اناطولی کارپوف کی چالیں مشہور تھیں۔

ٹینس کی دنیا میں مخصوص چہروں کے درمیان مقابلوں کی کشش ہر دور میں موجود رہی ہے۔ کبھی پیٹ سمپرس اور آندرے اگاسی کے مقابلے لوگ انگلیاں دانتوں میں دبائے دیکھتے تھے تو آج کے دور میں فیڈرر، نڈال اور جوکووچ کے کانٹے دار مقابلے ہر کسی کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔

اسی طرح سکواش کے کھیل میں جیف ہنٹ اور قمر زمان کے مقابلوں میں روایتی حریف کا عنصر بھرپور انداز میں موجود تھا لیکن جب دنیا ’جہانگیر خان بمقابلہ جان شیر خان‘ سے آشنا ہوئی تو یہ مقابلے پیشہ ورانہ رقابت کی سب سے بڑی مثال بن گئے۔

چھ ماہ میں جہانگیر کو ہرا دوں گا

سنہ 1986 میں پاکستان اوپن کے پہلے راؤنڈ میں جہانگیر خان اور جان شیر خان پہلی بار مدمقابل آئے۔ جہانگیر خان نے اپنے سے چھ سال چھوٹے حریف کو چار گیمز میں قابو کر لیا لیکن جان شیر خان سوچ چکے تھے کہ پہلا یا دوسرا راؤنڈ ان کی منزل نہیں بلکہ انھیں فائنل کھیلنا اور جیتنا ہے۔

جب 1987 کے پاکستان اوپن میں یہ دونوں دوبارہ آمنے سامنے آئے تو یہ ٹورنامنٹ کا پہلا میچ نہیں بلکہ فائنل تھا اور اس میں جیت جان شیر خان کی ہوئی۔ یہ وہ سال ہے جب ان دونوں کے درمیان کھیلے گئے 11 میچوں میں سے سات میں جان شیر خان نے جہانگیر خان کو شکست دی تھی۔

جہانگیر خان کے لیے یہ سب کچھ غیر متوقع تھا کیونکہ وہ 1981 سے 1986 تک ساڑھے پانچ سال تک ناقابل شکست رہے تھے اور اس عرصے میں وہ نیوزی لینڈ کے راس نارمن سے صرف ایک میچ ہارے تھے۔ اس دوران کئی بڑے کھلاڑیوں کا کریئر جہانگیرخان کو ہرانے کی خواہش دل میں ہی لیے ختم ہو گیا تھا۔

جہانگیر خان

جان شیر خان نے جب یہ بیان دیا کہ وہ چھ ماہ میں جہانگیرخان کو ہرا دیں گے تو ان کے اس بیان کو کسی نے سنجیدہ نہیں لیا تھا لیکن خود جان شیر خان کو اس دعوے کی سنجیدگی کا اچھی طرح علم تھا اور جب 1987 کی ہانگ کانگ اوپن کے سیمی فائنل میں انھوں نے جہانگیرخان کو شکست دی تو سب کو اندازہ ہو گیا کہ سکواش کورٹ میں اب ایک کے بجائے دو خان حکمرانی کرتے ہوئے نظر آئیں گے دوسرے لفظوں میں جہانگیرخان کی بالادستی کو چیلنج کرنے والا آچکا تھا۔

کیا شیر بوڑھا ہوگیا تھا؟

جہانگیرخان کے چچا زاد بھائی اور کوچ رحمت خان کہتے ہیں کہ 1987 میں جان شیر خان کے ہاتھوں جہانگیرخان کی مسلسل ناکامیوں کے بعد لوگوں نے کہنا شروع کردیا تھا کہ شیر بوڑھا ہو چکا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ جہانگیر خان کے ہارنے کی صرف ایک وجہ تھی کہ انھوں نے ٹریننگ چھوڑ دی تھی۔

رحمت خان کا کہنا ہے کہ جہانگیر خان کے والد روشن خان کو اس وقت سب سے زیادہ فکر برٹش اوپن کی تھی کیونکہ وہ ایک ایسا ٹائٹل تھا جسے انھوں نے اپنی زندگی کا مقصد بنا رکھا تھا۔

رحمت خان کہتے ہیں میں نے جہانگیر سے پوچھا کہ آپ نے کیا سوچا ہے؟ کیا پہلے جیسی ٹریننگ کرنی ہے؟ ان کا جواب تھا ہاں۔

جہانگیرخان نے دوبارہ ٹریننگ شروع کی اور جلد ہی اپنی فٹنس حاصل کرلی اور پھر سب نے دیکھا کہ جہانگیر خان نے پہلے جیسی کارکردگی دکھائی اور جان شیر خان کو ہرانا شروع کر دیا۔ جان شیر خان کے لیے یہ بات حیران کن تھی کیونکہ وہ یہی سوچ کر کورٹ میں اترتے تھے کہ جہانگیر خان اب تھکے کہ اب تھکے۔

رحمت خان کا کہنا ہے کہ جہانگیر خان اگرچہ اس دوران متعدد ٹورنامنٹس میں ہارے لیکن برٹش اوپن میں وہ ایک مختلف کھلاڑی کے روپ میں نظر آتے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے اپنی توانائی اور توجہ کو برٹش اوپن کے لیے محفوظ کر رکھا تھا وہ ہر قیمت پر جیف ہنٹ کا آٹھ بار برٹش اوپن جیتنے کا ریکارڈ توڑنا چاہتے تھے۔

جان شیر خان محنتی ایماندار کھلاڑی

جہانگیر خان کہتے ہیں میں اپنے کھیل کو جس معیار پر لے گیا تھا وہاں مجھے سخت مقابلے نہیں مل رہے تھے۔ میں ساڑھے پانچ سال کے عرصے میں زیادہ تر میچز تین یا چار گیمز میں ہی جیت لیا کرتا تھا اس دور میں میرے زیادہ تر میچز راس نارمن کے ساتھ ہوا کرتے تھے لیکن وہ بھی مجھے صرف ایک بار ہرانے میں کامیاب ہو سکے تھے لیکن جان شیر خان کے آنے کے بعد مجھے سخت مقابلے کھیلنے کو ملے اور اپنی حکمت عملی ازسر نو ترتیب دینی پڑی۔ مجھے اپنی فٹنس کو پہلے والے معیار پر لانا پڑا۔

جہانگیر خان
جہانگیر خان نے 1982 سے 1991 کے درمیان چھ مرتبہ ورلڈ اوپن اور دس مرتبہ برٹش اوپن مقابلے جیتے تھے

جہانگیر خان کا کہنا ہے جان شیر خان نئی امنگ سے کورٹ میں آنے والا نوجوان کھلاڑی تھا اس کے اپنے خواب تھے جنہیں وہ پورا کرنا چاہتا تھا۔

’وہ ایک صاف ایماندار کھلاڑی کے طور پر کھیلا۔ اس نے کبھی بھی پوائنٹ لینے کے لیے منفی طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اس میں سپورٹس مین اسپرٹ تھی۔ وہ بہت محنتی تھا۔ اسے اپنے کھیل پر بھروسہ تھا وہ سخت ٹریننگ کرتا تھا۔‘

جہانگیر خان کہتے ہیں شائقین کو ہمارے میچز کا انتظار رہتا تھا کیونکہ ان میچوں میں اعلی معیار کا کھیل دیکھنے کو ملتا تھا ہم دونوں کا ٹاپ پر رہنا پاکستان کے لیے اچھا تھا۔ اس دور میں صرف دو بار ورلڈ اوپن راس نارمن اور راڈنی مارٹن نے جیتی بقیہ تمام عرصہ ٹائٹل پاکستان کے پاس رہا۔

شکست کو فتح میں بدلنےکا فن

جہانگیر خان اور جان شیر خان کے درمیان مجموعی طور پر 44 میچز کھیلے گئے ہیں جن میں دونوں نے بائیس بائیس میچز جیتے ہیں۔ 29 مرتبہ یہ دونوں کھلاڑی کسی ٹورنامنٹ کے فائنل میں مدمقابل آئے جن میں جہانگیرخان نے 16 اور جان شیر خان نے 13 میں کامیابی حاصل کی۔

دونوں کے درمیان 14 میچز ایسے ہیں جن کا فیصلہ پانچ گیمز میں ہوا ہے جس سے ان مقابلوں کی دلچسپی اور سنسنی خیزی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔

1987 کی پاکستان اوپن کے فائنل میں جب جہانگیرخان نو۔ ایک اور نو۔ ایک سے دو گیمز جیتنے کے بعد تیسرے گیم میں جیت سے صرف ایک پوائنٹ کی دوری پر تھے تو اس سے زیادہ یکطرفہ میچ کوئی اور نہیں ہو سکتا تھا لیکن اس کے بعد جان شیر خان نے بازی پلٹ دی۔

اسی طرح سوئس ماسٹرز اور موناکو اوپن کے فائنل میں بھی یہی ہوا جب جان شیرخان نے پہلے دو گیمز ہارنے کے باوجود جہانگیر خان کو شکست دی۔

1988 میں پاکستان اوپن کے فائنل میں جان شیر خان نے پہلے دو گیمز جیت لیے تھے لیکن اس بار جہانگیر خان نے حساب بے باق کیا اور اگلے تینوں گیمز جیت کر فتح حاصل کی۔

دونوں کھلاڑیوں کی سب سے بڑی خوبی یہی تھی کہ وہ آسانی سے شکست ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے۔

قمرزمان
قمر زمان، جان شیر خان

جان شیر خان مقبولیت میں کیوں پیچھے؟

سکواش کے تقریباً تمام مبصرین کی متفقہ رائے یہ ہے کہ چیمپئن صرف وہی نہیں ہوتا جو کورٹ میں کامیابی حاصل کرتا ہے بلکہ چیمپیئن اپنے طرز عمل اور رکھ رکھاؤ کی وجہ سے بھی نظرآتا ہے اور یہ تمام خوبیاں جہانگیرخان میں ہمیشہ موجود رہی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ بین الاقوامی سکواش سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کے لیے لوگوں کی محبت اور احترام میں کمی نہیں آئی ہے۔

ان مبصرین کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جان شیر خان کورٹ میں ایک چیمپیئن کے طور پر کھیلتے تھے لیکن کورٹ کے باہر ان کا رویہ مختلف ہوتا تھا۔

اس ضمن میں متعدد مثالیں دی جاتی ہیں کہ کس طرح وہ آخری لمحات میں ٹورنامنٹ سے دستبردار ہو کر منتظمین کو پریشان کر دیتے تھے جس پر 1997 میں ان پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

سنہ 1989 کی ورلڈ چیمپیئن شپ کے موقع پر سپانسر کے ڈنر میں تاخیر سے آنے اور پھر چلے جانے پر سپانسر نے انعامی رقم انھیں دینے کے بجائے سکواش کی عالمی تنظیم کے حوالے کی اور ان کے رویے کی شکایت بھی کی تھی۔

جان شیرخان کے کریئر کا سب سے مایوس کن لمحہ وہ تھا جب وہ ملائشین بیوی کی جانب سے عدالتی چارہ جوئی کے سبب اپنے عالمی اعزاز کا دفاع کرنے کوالالمپور نہیں جا سکے تھے۔

جان شیرخان کی زندگی کا سب سے غلط فیصلہ انگلینڈ کے بجائے لاہور میں اپنے گھٹنوں کا آپریشن کرانا تھا جس کا بعد میں انھیں بھی بہت افسوس تھا۔

انھوں نے سکواش کورٹ میں واپس آنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے اور 99 بین الاقوامی ٹورنامنٹس کی جیت کے ساتھ سکواش کو الوداع کہہ گئے۔

error: