جہانگیر ترین پر ایف آئی اے نے کیا الزامات لگائے ہیں؟

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) نے حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس مقدمے میں کہا گیا ہے کہ جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے نے ایک غیر ملکی کمپنی میں تین ارب روپے سے زیادہ کے حصص (شیئرز) غیر قانونی طور پر منتقل کیے ہیں جو کہ منی لانڈنرنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔

اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ممالک رقم منتقل کرنے کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔

جہانگیر ترین نے نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز سے اس بارے میں خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ‘میرے اور میرے خاندان کے خلاف تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، میرا سب کچھ ڈکلیئر ہے، یہ ہمارے خلاف سوچی سمجھی سازش ہے، حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ہمارے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔‘

اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک غیر ملکی کمپنی میں مبینہ طور پر شیئر منتقل کرنے کے معاملے کی تحقیقات کچھ عرصے سے جاری تھیں اور شواہد حاصل ہونے کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق یہ شیئر ملزم جہانگیر خان ترین کی کمپنی جے ڈی ڈبلیو سے غیر ملکی کمپنی کو منتقل کیے گئے تھے۔

اہلکار کے مطابق اس مقدمے میں کمپنی کے دیگر ملازمین سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جہانگیر ترین پر کروڑوں روپے بیرون ملک منی لانڈرنگ کے ذریعے بھی منتقل کرنے کا الزام ہے۔

واضح رہے ملک میں آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے حکومت کو جو رپورٹ دی تھی اس میں پنجاب حکومت کی طرف سے جن شوگر ملوں کو سبسڈی دی گئی تھی اس میں جہانگیر ترین کے علاوہ وفاقی وزیر خسرو بختیار کی شوگر ملز بھی شامل تھیں۔

جہانگیر ترین، علی ترین

چینی کمیشن اور جاری تحقیقات میں کیا ہو رہا ہے؟

گذشتہ برس سامنے والے چینی سکینڈل پر جاری تحقیقات کو ایک سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے تاہم اور اس حوالے سے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) جہانگیر ترین، ان کے بیٹے علی ترین، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے دونوں بیٹوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز پر منی لانڈرنگ جیسے الزامات کی روشنی میں مقدمات کے اندراج سے تا حال آگے نہیں بڑھ سکی۔

بی بی سی کو موصول ایف آئی آر کے مطابق نومبر 2020 میں چھ ماہ کی 'ان تھک' محنت کے بعد ایف آئی اے نے جہانگیر خان ترین اور علی ترین پر 2013/14 کے دوران جے کے فارمنگ سسٹم لمیٹڈ کمپنی کے شیئر دھوکہ دہی اور فراڈ سے خریدنے کے الزام میں چار ارب 35 کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 406،420،109 (دھوکہ دہی و بے ایمانی، بد دیانتی، اعانت جرم) اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے سیکشن 3/4 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

دوسری ایف آئی آر کے مطابق شہباز شریف اور ان کے بیٹوں پر سنہ 2008 سے 2018 کے دوران 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت پاکستان پریوینشن آف اینٹی کرپشن ایکٹ 1947 کے سیکشن 5 (2) (عوامی نمائندے کا مجرمانہ طرزِ عمل) پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 419، 420، 467، 468، 471 (جعل سازی، دھوکہ دہی و بے ایمانی) اور اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

اِن ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اگلا مرحلہ ملزمان کی گرفتاری اور عدالت میں چالان جمع کروانا ہوتا ہے لیکن ان دونوں کیسز میں یہ پہلو تا حال نظر انداز ہیں۔ دونوں ایف آئی آر کے اندراج کو چار ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ایف آئی اے ان میں سے کسی ایک ملزم کو بھی نہ تو تاحال گرفتار کر سکی اور نہ ہی کسی ایک ملزم کے خلاف عبوری یا مکمل چالان عدالت میں جمع کروا سکی ہے۔

چالان میں تاخیر سے متعلق بات کرتے ہوئے تفتیش سے منسلک ایف آئی اے کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ہماری تفتیش تاحال جاری ہے اور جیسے ہی تفتیش مکمل ہو گی ہم چالان جمع کروا دیں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد 14 روز کے اندر اندر چالان جمع کروانا لازم نہیں ہے اس پہ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کا ایک انٹرل سسٹم ہے جس کے تحت مجاز اتھارٹی تفتیشی افسر کو تفتیش مکمل کرنے کے لئے مزید وقت دے سکتی ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں ایف آئی اے کے سینئر افسر کا کہنا تھا کہ ان پر کسی طرح کوئی دباؤ نہیں اور وہ آزادانہ تحقیقات کر رہے ہیں۔ الائنس مل کی تفتیش کے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سٹاف کی کمی کی وجہ سے اس کی تحقیقات میں تھوڑی دیر ہو رہی ہے لیکن وہ بھی جلد مکمل ہو جائے گی۔

حمزہ

ملزم کی گرفتاری کے حوالے سے قانون کیا کہتا ہے؟

ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اگر متعلقہ ادارے ملزم کو گرفتار نہیں کرتے اور ملزم گرفتاری سے بچنے کے لیے ضمانت بھی نہیں کرواتا تو کیس کیسے آگے بڑھایا جائے گا اس پر بات کرتے ہوئے فوجداری مقدمات کے ماہر اور سینئر قانون دان آفتاب احمد باجوہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پاکستان کریمینل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کے سیکشن 173 کے مطابق متعلقہ تفتیشی ادارے پر لازم ہے کہ وہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد 14 روز کے اندر اندر متعلقہ عدالت میں چالان جمع کروائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے اندراج کے بعد عدالت کو بتانا ضروری ہے کہ کیس میں کیا پیشرفت ہے آیا کہ ملزمان گرفتار ہوئے ہیں یا نہیں۔

آفتاب احمد باجوہ کے مطابق ’سی آر پی سی کا سیکشن 173 بڑا واضح ہے کہ اگر 14 دنوں تک چالان جمع نہیں کروایا جاتا تو پھر متعلقہ تفتیشی اہلکار کو اگلے تین روز کے اندر اندر عبوری چالان جمع کروانا لازم ہے جس کے بعد کیس کا باقاعدہ ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔‘

آفتاب احمد باجوہ کے مطابق یہ دیکھنا ہو گا کہ ایسی کیا وجوہات ہیں کہ جن شواہد کی بنیاد پر ایف آئی آرز کا اندراج تو ہو گیا لیکن ان شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو گرفتار کر کے چالان نہیں کیا جا رہا۔

دوسری طرف وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر چالان میں تاخیر کو کوئی بڑا مسئلہ قرار نہیں دیتے۔

شہزاد اکبر نے بی بی سی کو بتایا کہ 14 روز کے اندر چالان جمع کروانا لازم نہیں کیونکہ جب تفتیش مکمل ہو جائے گی تو پھر چالان بھی جمع کروا دیں گے۔ــ

انھوں نے کہا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ تفتیش میں کوئی بھی پہلو رہ جائے اور چالان عدالت میں جمع کروا دیں کیونکہ اس کے بعد اگر کوئی غلطی رہ گئی تو آپ سب نے ہم پر نقطہ چینی کرنی ہے کہ یہ سب کرنے کی جلدی کیا تھی۔‘

بیرسٹر شہزاد اکبر کے مطابق ’وائٹ کالر اور بینکنگ کرائمز کی تفتیش خاصا پچیدہ معاملہ ہوتا ہے اس لیے ایف آئی اے کی تفتیش تا حال جاری ہے۔ اس کیس میں اربوں روپے کی بینکنگ ٹرانزیکشنز ہیں جن کی تفتیش میں خاصا وقت لگتا ہے۔‘

ایف آئی اے کی طرف سے مقدمات کے اندراج کے باوجود تا حال ملزمان کو گرفتار نہ کرنے کے سوال پر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ یہ تفتیشی افسر کی صوابدید ہوتی ہے کہ وہ جب چاہے اپنے ملزم کو گرفتار کر لے اور وہ عام طور پر اس وقت ملزم کو گرفتار کرتے ہیں جب وہ تحقیقات میں رخنہ ڈالیں۔

ان کے مطابق ’کسی بھی کیس میں گرفتاری تو آخری حربہ ہوتا ہے۔‘

شہباز

سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ الائنس شوگر مل کے خلاف تحقیقات بھی مکمل ہیں لیکن تا حال 'اوپر' سے ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت نہیں مل سکی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق، تینوں گروپس کی شوگر ملوں کے خلاف تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کی بیک وقت مختلف ٹیمیں تشکیل دی گئیں تھیں اور سبھی اپنی اپنی تفتیش مکمل کر چکی ہیں اسی لیے جہانگیر خان ترین اور شریف خاندان پر ایف آئی آرز کا اندراج ممکن ہوا لیکن الائنس شوگر مل کے حوالے سے ایسی اجازت نہیں مل سکی۔

الائنس شوگر مل کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں جس کے بعد ہی کوئی کارروائی ہو گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الائنس شوگر ملز وفاقی وزیر خسرو بختیار کی نہیں بلکہ ان کے بھائی اور گجرات کے چوہدریوں کی ہے اس لیے یہ الزام کہ خسرو بختیار کی وجہ سے الائنس کی تحقیقات میں سست روی ہے بالکل غلط ہے۔

یاد رہے کہ چینی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق نہ صرف سنہ 2017 سے 2020 تک الائنس شوگر مل کی 89 فی صد سیل (15ارب 5 کروڑ روپے) بے نامی تھی بلکہ یہ شوگر مل کسانوں سے گنا سپورٹ پرائس سے کم قیمت پر خریدنے اور بنکوں سے پلج ہوئے سٹاک سے چینی بیچنے جیسے غیر قانونی معاملات میں ملوث تھی۔

شہزاد اکبر کا مزید کہنا تھا کہ ابھی حال ہی میں ایف آئی اے نے 10ایف آئی آر چینی کے کاروبار میں سٹہ لگانے والوں کے خلاف درج کی ہیں جس سے چینی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایف آئی اے تمام تر محدود وسائل کے باوجود شوگر مافیا کے خلاف سرگرم عمل ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

ایف آئی اے نے کوٹ لکھپت میں قید حمزہ شہباز اور شہباز شریف کے بیانات بالترتیب 17 اور 18 دسمبر کو ریکارڈ تو کر لیے تھے لیکن نہ تو کبھی ان کی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی تفتیش کے لیے کبھی ان کے جسمانی ریمانڈ کی کوئی استداء کی گئی۔

شریف خاندان کے خلاف اس ایف آئی آر میں ایف آئی اے نے ان 20 لوگوں کے نام اور ان کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی ظاہر کیں تھیں جن کے ذریعے شریف خاندان نے مبینہ طور پر 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کی تھی۔ جہانگیر ترین اور شہباز شریف خاندان کے خلاف ان دونوں ایف آئی آرز کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ یہ دونوں ایف آئی آرز ایک ہی روز اور ایک ہی وقت پر یعنی 14 نومبر 2020 کو 5:45 پر درج ہوئیں۔

دوسری طرف منی لانڈرنگ جیسے سنگین جرم میں نامزد ملزم سلیمان شہباز تو تا حال لندن میں ہیں لیکن حمزہ شہباز ضمانت پر جیل سے باہر تو آ چکے ہیں لیکن اس کیس میں انھوں نے تا حال ضمانت کے لیے کسی عدالت سے رجوع نہیں کیا۔

اسی طرف ایف آئی اے کے منی لانڈرنگ کے دوسرے کیس میں نامزد ملزم جہانگیر خان ترین اور ان کے بیٹے علی ترین کو گرفتار کرنے کی کبھی کوشش نہیں کی گئی۔ انہیں مختلف اوقات میں پیش ہونے کے لیے طلبی کے چھ نوٹس تو بھیجے گئے لیکن وہ آج تک ایف آئی اے کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

ایف آئی اے کی اور ایک ٹیم چینی بحران سے متعلق مختلف شوگر ملوں کے خلاف بھی تحققیات کر رہی ہے جس میں جہانگیر ترین کے علاوہ شریف خاندان کی شوگر ملز بھی شامل ہیں۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے آٹے اور چینی کے بحران سے متعلق تفتیش کے لیے جہانگیر ترین کو طلب کیا تھا لیکن وہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہو سکے۔

جہانگیر ترین کے خلاف چینی بحران کے بارے میں جو پہلی رپورٹ منظر عام پر آئی تھی اس پر جہانگیر ترین نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ رپورٹ وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے اپنی نگرانی میں تیار کروائی ہے۔

جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کے سب سے بڑے شیئر ہولڈر رہ چکے ہیں۔

جہانگیر ترین چند ماہ قبل ہی ملک واپس آئے ہیں اور وہ سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو سینیٹر بنانے کے لیے کافی متحرک تھے۔ جہانگیر ترین نے اس ضمن میں حکمراں جماعت میں شامل اپنے ہم خیال ارکان قومی اسمبلی سے بھی ملاقاتیں کی تھیں جس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ جہانگیر ترین ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم کے قریب ہو رہے ہیں۔

عمران خان کے وزاتِ عظمیٰ کا عہدہ کامیابی سے حاصل کرنے میں جہانگیر ترین کا اہم کردار سمجھا جاتا ہے کیونکہ انھوں نے سنہ 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں پنجاب سے آزاد حیثیت میں کامیاب ہونے والے متعدد ارکان کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل کروایا تھا۔

سپریم کورٹ سے عمر بھر کے لیے نااہل ہونے کے باوجود جہانگیر ترین وزیراعظم عمران خان کے بعد جماعت میں سب سے بااثر آدمی تصور کیے جاتے تھے۔

وزیر اعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کو زراعت سے متعلق بنائی گئی ٹاسک فورس کا چیئرمین بھی مقرر کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: