جہیز کا مطالبہ اور 'ڈیڑھ لاکھ' کی تنخواہ والے دولہے کی مانگ، کیا یہ موازنہ درست ہیں؟

سوشل میڈیا پر جہیز کے خلاف چلنے والی مہم کے جواب میں مردوں کے حقوق اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے پوسٹ کی گئی ایک تصویر وائرل ہو گئی ہے جس سے شادی کے موقع پر دلہن اور دولہا اور ان کے گھر والوں کے مطالبات پر بحث چھڑ گئی ہے۔

اس تصویر میں آپ زنجیروں میں جکڑے ایک مرد پر ڈیڑھ لاکھ تنخواہ کا بورڈ لٹکتا دیکھ سکتے ہیں جس کی زنجیر دلہن بنی عورت کے ہاتھ میں ہے جو سب کو یہ بتا رہی ہے کہ یہ اس کا پرفیکٹ یعنی بہترین دولہا ہے!

اس تصویر کے منظر عام پر آتے ہی سوشل میڈیا پر یہ بحث چھڑ گئی کہ آیا شادی کے وقت مردوں سے رکھی جانے والی توقعات کا موازنہ لڑکی سے کیے جانے والے جہیز کے مطالبات سے کرنا درست ہے؟

بہت سے سوشل میڈیا صارفین اس موازنے پر ہی سوال اٹھاتے نظر آئے کہ آیا جہیز کا مطالبہ 'ڈیڑھ لاکھ' کی تنخواہ سے کیا جانا چاہیے یا نہیں؟

ٹویٹ

ایک صارف ایمان مزاری نے ٹویٹ کیا کہ 'اگر مرد کی تنخواہ ڈیڑھ لاکھ نہ ہو تو اس کو صرف رشتے سے انکار کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن اگر لڑکی جہیز نہیں لاتی تو اس پر تشدد کیا جاتا ہے یا اگر وہ شادی سے انکار کر دیتی ہے تو اس پر یا تو تیزاب پھینک دیا جاتا ہے یا اسے عزت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے۔‘

مریم وسیم نامی صارف کا کہنا تھا کہ ’ان دونوں کا موازنہ درست نہیں۔ جہیز ایک آٹھ ہزار تنخواہ والے باپ کی بیٹی سے بھی مانگا جاتا ہے۔‘

ماجد خان نے ٹویٹ کی کہ جہیز کے مطالبے کو غلط سمجھنے والے، لڑکوں سے کیے جانے والے مطالبوں کو غلط کیوں نہیں سمجھتے؟

ماجد خان کی ٹویٹ

'ڈیڑھ لاکھ تنخواہ' والی تصویر کی حقیقت

اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ یہ تصویر کچھ الگ کرنے کی خواہش رکھنے والے جوڑے کی شادی کا فوٹو شوٹ ہے۔ لیکن یہ درست نہیں۔ یہ تصویر مردوں کے حقوق کے لیے چلنے والی ایک سوشل میڈیا مہم کا حصہ ہے۔

یہ مہم اسلام آباد میں واقع نیفٹی سفیر نامی ایڈ ایجنسی کی جانب سے لانچ کی گئی ہے اور اس ایڈ ایجنسی کے مالک عثمان شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ مہم جہیز کے خلاف سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم کے جواب میں بنائی گئی ہے جس کا مقصد ان معاشرتی رویوں کو سامنے لانا ہے جس کا سامنا مردوں کو ہوتا ہے لیکن ان پر کوئی بات نہیں کرتا۔

اس مہم کو ڈیزائن کرنے والی سدرۃ المنتہیٰ کا کہنا ہے کہ 'ہم نے دیکھا ہے کہ جب بھی بات ہوتی ہے تو خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کی بات ہوتی ہے۔ لیکن مردوں کے حقوق اور ان کے مسائل کے متعلق سوشل میڈیا پر زیادہ بات نہیں کی جاتی۔ اس لیے ہم نے اس مہم کے ذریعے ان ناجائز توقعات کے خلاف آگہی پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کا سامنا اکثر مردوں کو کرنا پڑتا ہے۔'

مریم وسیم کی ٹویٹ

جب کوئی مرد شادی کی عمر کو پہنچتا ہے اور وہ خود یا اس کے گھر والے شادی کے لیے کسی اچھی لڑکی کی تلاش میں نکلتے ہیں تو سب سے پہلا سوال یہی سننے کو ملتا ہے کہ 'لڑکا کتنا کماتا ہے اور اس کی تنخواہ کتنی ہے؟'

وہ کہتی ہیں کہ جب جہیز کے مطالبات کو برا کہا جاتا ہیں تو پھر لڑکوں سے 'ویل سیٹل ہونے' یعنی اچھی تنخواہ، اپنی گاڑی اور گھر کے مطالبے کو برا کیوں نہیں سمجھا جاتا؟

سدرہ نے کہا کہ اس مہم سے قبل اس سلسلے میں انھوں نے متعدد افراد سے بات کی جنہوں نے بنایا کہ شادیوں میں حائل ایک بڑی رکاوٹ ایسے ہی مطالبات اور توقعات ہیں۔

سدرہ نے تنخواہ 'ڈیڑھ لاکھ' لکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جب اس سے متعلق مختلف مردوں سے بات کی تو انھیں یہی بتایا گیا کہ وہ جب بھی رشتہ دیکھنے جاتے ہیں تو لڑکی والوں کا یہی مطالبہ ہوتا ہے کہ لڑکے کی تنخواہ کم سے کم ڈیڑھ لاکھ ہو۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ یہ موازنہ اس لیے بھی درست نہیں کیونکہ ’ڈیڑھ لاکھ تنخواہ والا کبھی غریب کی بیٹی سے شادی نہیں کرتا لیکن ہر غریب کی لڑکی سے جہیز ضرور مانگا جاتا ہے۔‘

ڈیڑھ لاکھ تنخواہ کی مانگ بمقابلہ جہیز کا مطالبہ

لیکن جب اس مہم کی خالق سدرہ سے سوال کیا گیا کہ کیا لڑکی یا اس کے گھر والوں کی جانب سے یہ توقع کرنا کہ اس کا شوہر اس قابل ہو کہ وہ لڑکی کی تمام ضروریات کا خیال رکھ سکے غلط ہے؟ تو ان کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ کرنا غلط نہیں لیکن اس کے علاوہ بھی کئی چیزیں ہیں جس کی بنیاد پر شادی کا فیصلہ کرنا چاہیے، جیسا کہ لڑکے کا کردار اور اس کی سوچ کی بھی اتنی ہی اہمیت ہونی چاہیے۔

آخر مردوں کے حقوق کا یہ مطالبہ ہے کس سے؟

خواتین کے حقوق کی تحریک ویمن ڈیموکریٹک فرنٹ اسلام آباد کی صدر ہدیٰ بھرکری کا کہنا ہے کہ جہیز کے مطالبے کا موازنہ مرد کی تنخواہ سے کیا ہی نہیں جا سکتا۔

ٹویٹ

'ہمارے معاشرے میں خواتین کی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری مرد کی سمجھی جاتی ہے اور اس لیے اکثر مرد اپنے گھر کی خواتین کو نوکری کرنے کی اجازت بھی نہیں دیتے۔ تو ایسے میں اگر کوئی لڑکی یا اس کے گھر والے شادی سے پہلے یہ امید کرتے ہیں کہ لڑکا کم سے کم اتنا تو کماتا ہو کہ وہ لڑکی، اپنی اور اپنے خاندان کی ضروریات کا خیال رکھ سکے تو اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔'

ہدیٰ کے مطابق جہیز کا مطالبہ ان تمام توقعات کے علاوہ ہے جو رشتہ ڈھونتے وقت لڑکے کے گھر والوں کی ہوتی ہیں، جیسا کہ لڑکی کم عمر ہو، گوری رنگت، گھریلو مزاج، اور گھر کے کام میں ماہر وغیرہ وغیرہ۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جہیز کا نظام دراصل اس لیے بنایا گیا ہے تاکہ عورتوں کو جائیداد میں حصہ نہ دینا پڑے۔ اور ایسا کرنے والے بھی مرد ہیں۔ اور جہیز کا مطالبہ ہر طبقہ کی عورت سے کیا جاتا ہے لیکن ہر عورت ڈیڑھ لاکھ تنخواہ والے مرد کا مطالبہ نہیں کرتی۔'

ہدیٰ کا کہنا ہے کہ انھیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ مردوں کی تنخواہ کی یہ شکایت ہے کس سے۔

'میں مردوں سے یہ سوال کرنا چاہوں گی کہ کیا وہ پچاس ہزار کی تنخواہ میں گھر کے تمام اخراجات اٹھا سکتے ہیں؟ اگر مرد چاہتے ہیں کہ ان پر مالی ذمہ داریوں کا اتنا بوجھ نہ ہو تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنے گھر کی خواتین کو پڑھائیں اور نوکری میں رکاوٹ نہ بنیں اور گھر کے کام میں ہاتھ بٹائیں تاکہ ان پر پھر زیادہ پیسے کمانے کی ذمہ داری نہ ہو۔'

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *