’جیفری بائیکاٹ نے جتنے رنز بنائے، وہ اتنے ہی دشمن بھی بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے‘

23 دسمبر 1981 کو انڈیا اور انگلینڈ کے درمیان تیسرے ٹیسٹ کے پہلے دن انگلینڈ کے کپتان کیتھ فلیچر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تو دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ میں موجود شائقین یہی سوچ رہے تھے کہ کیا جیفری بائیکاٹ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بن سکتے ہیں۔

اس دن جیفری بائیکاٹ کو ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے کے لیے 81 رنز درکار تھے اور شام چار بج کر 23 منٹ پر انھوں نے لیفٹ آرم سپنر دلیپ دوشی کی گیند پر ایک رن لیا تو یہ ان کا ٹیسٹ کرکٹ میں 8033 واں رن تھا۔ یوں عالمی ریکارڈ ان کے نام لکھا جا چکا تھا۔

جیف بائیکاٹ نے ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز کا جس کھلاڑی کا عالمی ریکارڈ توڑا وہ کوئی عام بیٹسمین نہیں بلکہ دنیائے کرکٹ کے عظیم آل راؤنڈ سرگیری سوبرز تھے جنھوں نے اپنے شاندار کریئر کا اختتام 93 ٹیسٹ میچوں میں 8032 رنز بنا کر کیا تھا۔ جیف بائیکاٹ کو ان سے آگے نکلنے کے لیے107 ٹیسٹ کھیلنے پڑے تھے۔

بائیکاٹ نے دہلی ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں سنچری سکور کی جو ان کی 22ویں لیکن آخری سنچری ثابت ہوئی کیونکہ کولکتہ میں کھیلا گیا اگلا ٹیسٹ ان کا آخری ٹیسٹ ثابت ہوا۔

گالف کورس جانا مہنگا پڑ گیا

ایڈن گارڈنز میں کھیلے گئے سیریز کے چوتھے ٹیسٹ میں بائیکاٹ نے اگرچہ دونوں اننگز میں بیٹنگ کی لیکن دوسری اننگز میں مدن لال کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہونے کے بعد وہ بیماری کی شکایت کر کے ہوٹل میں اپنے کمرے میں آ گئے تھے۔

بائیکاٹ نے اس دوران ٹیم کے فزیو برنارڈ تھامس کو اپنے کمرے میں بلایا اور اپنی کیفیت بتائی۔ برنارڈ نے انھیں بند کمرے میں رہنے کے بجائے کھلی ہوا میں جانے کا مشورہ دیا۔ بائیکاٹ نے اس مشورے کو اس انداز سے لیا کہ نہ صرف گالف کورس پہنچ گئے بلکہ ساتھی کھلاڑیوں پال ایلٹ اور جیف کک کو بھی ساتھ چلنے کی دعوت دے ڈالی۔ کک ان کے ساتھ جانے کی خواہش رکھتے تھے لیکن ان کی مجبوری یہ تھی کہ وہ ٹیسٹ میں 12ویں کھلاڑی تھے۔

تازہ ہوا کھانے کے لیے گالف کورس جانا بائیکاٹ کو مہنگا پڑا۔ جب یہ بات مینیجر رامن ُسباراؤ کے علم میں آئی تو انھوں نے بائیکاٹ کو طلب کیا اور بغیر اجازت جانے پر سرزنش کی۔ بائیکاٹ نے تازہ ہوا کے ساتھ ساتھ گالف کھیلنے کا اعتراف بھی کیا۔ ان سے تحریری معافی طلب کی گئی اور پھر سزا کے طور پر وطن واپس بھیج دیا گیا۔

جیف بائیکاٹ نے اپنی سوانح حیات میں رامن ُسباراؤ کے رویے پر سخت تنقید کی ہے اور لکھا ہے کہ وہ بیماری کے باعث دہلی میں برطانوی ڈاکٹر کے پاس جانا چاہتے تھے لیکن ُسباراؤ نے اس کی اجازت بھی نہیں دی۔

مگر یہ پہلا یا آخری موقع نہیں تھا جب بائیکاٹ کسی تنازع میں ملوث پائے گئے ہوں۔ ان کی پوری زندگی کسی نہ کسی تنازع میں الجھی نظر آتی ہے۔

گیارہویں جماعت فیل اور پھر پنشن کلرک

جیف بائیکاٹ 21 اکتوبر 1940 کو یارکشائر کاؤنٹی کے علاقے فٹزولیم میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد کوئلے کی کان میں کام کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جیف بائیکاٹ کے علاوہ انگلینڈ کے مشہور کرکٹرز فریڈ ٹرومین، ہیرلڈ لارووڈ، ٹام کاٹ رائٹ اور امپائر ڈکی برڈ کا خاندانی پس منظر بھی کان کنی سے تعلق رکھتا ہے اور انھوں نے اپنی عمر کا کافی حصہ سخت حالات میں گزارا۔

جیف بائیکاٹ زمانہ طالب علمی سے ہی جنون کی حد تک کرکٹ کے شوقین تھے۔ دس سال کی عمر میں انھوں نے ایک سکول میچ میں ٹیم کے کل سکور 52 میں سے 45 رنز ناٹ آؤٹ سکور کرنے کے علاوہ صرف دس رنز دے کر چھ وکٹیں حاصل کی تھیں۔ انعام کے طور پر انھیں سر لین ہٹن کا بیٹ ملا تھا۔

جیف بائیکاٹ سر لین ہٹن کے زبردست مداح تھے۔ انھیں اچھی طرح یاد ہے کہ وہ دو مرتبہ سر لین ہٹن کی بیٹنگ دیکھنے گراؤنڈ گئے لیکن دونوں مرتبہ بارش ہو گئی اور انھیں لین ہٹن کو قریب سے دیکھنے کا موقع ایک بینیفٹ میچ میں اس وقت ملا جب ہٹن کی عمر پچاس سال سے زائد ہو چکی تھی۔ بائیکاٹ جو حریف ٹیم میں شامل تھے صرف اس وجہ سے شارٹ لیگ پر فیلڈنگ کرنے لگے کہ وہ سرلین ہٹن کا فٹ ورک قریب سے دیکھ سکیں۔

جیف بائیکاٹ کرکٹ پر زیادہ توجہ کی وجہ سے او لیول کے امتحان میں فیل ہوئے۔ اس موقع پر انھیں یہ بھی خیال آ رہا تھا کہ وہ اپنے والدین پر بوجھ بننا نہیں چاہتے لہٰذا انہوں نے منسٹری آف پنشنز اینڈ نیشنل انشورنس میں کلرک کی اسامی پر درخواست دے دی جو منظور ہو گئی۔

انھوں نے اس ادارے میں پانچ سال ملازمت کی مگر کرکٹ کھیلنا ان کی اولین ترجیح تھی لہٰذا انہوں نے کبھی بھی ملازمت میں ترقی کے لیے درخواست نہیں کی۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے یہ کہتے تھے کہ وہ بعض اوقات اکھڑ پن دکھاتے تھے۔ وہ اپنی ذات میں مگن اور تنہا رہنا پسند کرتے تھے اور ان کی کسی طرح کی سماجی سرگرمیاں نہیں ہوتی تھیں۔

انگلش کرکٹ ٹیم 1966

’خود غرض، غیرمقبول اور اپنی ذات میں مگن‘

جیف بائیکاٹ کے کریئر پر نظر ڈالیں تو وہ ایک کامیاب بیٹسمین کے طور پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے زیادہ سنچریاں بنانے والے بیٹسمینوں میں پانچویں اور سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمینوں میں آٹھویں نمبر پر ہیں۔

وہ اپنے دور میں ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین بھی بنے لیکن اپنے مزاج کے اعتبار سے وہ ایک مشکل ترین شخص کہے جا سکتے ہیں۔

ان کے قریب رہنے والے کرکٹرز اور دیگر لوگوں نے ان کے بارے میں یہی کہا اور لکھا ہے کہ وہ ’تنہائی پسند اور غیر مقبول شخصیت‘ ہیں۔ جب وہ کھیلتے تھے تب بھی ایسا ہی تھا اور جب وہ ریٹائر ہو کر کمنٹری باکس میں آئے تب بھی انھوں نے اپنے اور دوسرے لوگوں کے درمیان ایک دیوار کھڑی کر رکھی تھی۔

انگلینڈ کے سابق کپتان رے النگورتھ نے 1978 میں بی بی سی 2 کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ تکنیکی اعتبار سے جیف بائیکاٹ اس وقت دنیا کے بہترین بیٹسمین ہیں لیکن ان کا سب سے بڑا مسئلہ عدم تحفظ ہے۔ وہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کرتے اور ان کی شخصیت کا یہی پہلو ان کی بیٹنگ میں بھی جھلکتا ہے۔

انگلینڈ کے سابق کپتان ٹیڈ ڈیکسٹر کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ وکٹوں کے درمیان دوڑنے والے کمزور بیٹسمین تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ساتھی بیٹسمین پر بھروسہ نہیں کرتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے کئی ساتھی بیٹسمینوں کو رن آؤٹ کرایا۔

خود ڈیکسٹر کے ساتھ بھی جنوبی افریقہ میں ایسا ہی ہوا اور جب وہ رن آؤٹ ہوکر ڈریسنگ روم میں واپس آئے تو ان کے ساتھی کھلاڑی ڈیوڈ براؤن کے مطابق پتہ نہیں ڈیکسٹر نے اپنا غصہ کس طرح قابو کیا ہوا تھا۔

انگلینڈ کے سابق ٹیسٹ کرکٹر ڈیوڈ گاور 1979 میں بھارت کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں بائیکاٹ کی خود غرضی جھلکتی ہے۔

گاور کہتے ہیں ʹاوور کی آخری گیند پر بائیکاٹ نے ایک رن لینا چاہا میں نے منع کر دیا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ سٹرائیک اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ میں نے اگلے اوور میں ایک آسان رن کے لیے انھیں آواز دی لیکن ناں کہتے ہوئے وہ اپنی جگہ پر کھڑے رہے۔ اوور کے خاتمے پر میں نے ان سے وجہ پوچھی تو ان کا جواب کچھ اس طرح تھا ʹاگر تم میرے لیے نہیں بھاگ سکتے تو میں بھی تمہارے لیے نہیں بھاگوں گاʹ۔

بائیکاٹ پر لکھی گئی کتاب ʹ بائیکس دی ٹرو سٹوری ʹ میں ایک واقعہ درج ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ میچ میں بائیکاٹ رن آؤٹ ہوئے اور ان کے ساتھی اوپنر ڈیمس ایمس نے سنچری بناڈالی جس پر بائیکاٹ نے ڈریسنگ روم میں شور مچا دیا کہ ایمس ان کے حصے کے رنز لے اڑے ہیں۔ انھوں نے یہ دھمکی بھی دے دی کہ وہ اگلے ٹیسٹ میں ڈینس ایمس کو رن آؤٹ کروا دیں گے۔

ڈینس ایمس کا کہنا ہے کہ انھیں اس سلسلے میں کپتان رے النگورتھ سے بات کرنی پڑی جس پر انھوں نے دونوں کو بلایا اور بائیکاٹ پر واضح کردیا کہ ایمس نے جان بوجھ کر انھیں رن آؤٹ نہیں کروایا اور اس کے باوجود انھوں نے معافی مانگی ہے اور اگر انھوں نے معاملہ ختم نہ کیا تو پھر دوبارہ انگلینڈ کی طرف سے نہیں کھیل سکیں گے۔

جیف بائیکاٹ کے کریئر کا اہم موڑ اس وقت آیا جب رے النگورتھ کی جگہ مائیک ڈینس کو انگلینڈ کا کپتان بنا دیا گیا۔ بائیکاٹ یہ سوچ رہے تھے کہ انگلینڈ کے سب سے تجربہ کارکھلاڑی کی حیثیت سے کپتانی انھیں ملنی چاہیے تھی۔ اسی وجہ سے 1974 میں ویسٹ انڈیز کے دورے میں ان کے مائیک ڈینس سے تعلقات بہت زیادہ خراب رہے۔

بائیکاٹ کو اس بات کا ہمیشہ دکھ رہا کہ رے النگورتھ کے نائب کپتان کے طور پر ان کی تقرری نہیں کی گئی اور پھر مائیک ڈینس کو کپتان بنا دیا گیا۔ بائیکاٹ کی 1974 سے 1977 تک انٹرنیشنل کرکٹ سے خود ساختہ کنارہ کشی کی بنیادی وجہ بھی یہی تھی۔

جیفری بائیکاٹ
،تصویر کا کیپشنجیفری بائیکاٹ کی پوری زندگی کسی نہ کسی تنازع میں الجھی نظر آتی ہے

مائیک ڈینس نے ایک مرتبہ یہ کہا تھا کہ اس دورے میں بائیکاٹ بہت مشکل ثابت ہوئے تھے اور تقریباً تمام ہی کھلاڑیوں نے کسی نہ کسی مرحلے پر آ کر ان سے یہی کہا کہ بائیکاٹ کو وطن واپس بھیج دیا جائے۔

ٹونی گریگ کہتے تھے ’اس دورے میں بائیکاٹ کے رویے کا ٹیم پر منفی اثر پڑ رہا تھا جس پر میں نے بائیکاٹ سے بات کی اور کہا کہ آپ دوسرے لوگوں کو اپ سیٹ کررہے ہیںʹ۔

اس دورے میں کرکٹر فرینک ہیز نے تین ہفتے بائیکاٹ کے ساتھ کمرہ شیئر کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے ʹپورے دورے میں بائیکاٹ کسی تقریب میں نہیں گئے بلکہ ان کی توجہ صرف اپنے کھیل پر رہتی تھی۔ ایک مرتبہ میں رات کو دیر سے کمرے میں آیا تو دیکھا کہ بائیکاٹ آئینے کے سامنے بیٹنگ پریکٹس میں مصروف تھےʹ۔

فرینک ہیز نے اعتراف کیا کہ اگر ان میں بائیکاٹ جیسا انہماک اور توجہ ہوتی تو وہ بہت اچھے بیٹسمین بن سکتے تھے۔

ویسٹ انڈیز کے اس دورے میں کپتان سے اختلافات کے باوجود بائیکاٹ نے نو سو سے زائد رنز بنائے تھے جس میں ان کے فرسٹ کلاس کریئر کا سب سے بڑا سکور 261 بھی شامل تھا۔

بائیکاٹ کے ساتھ کلب کرکٹ سے کاؤنٹی کرکٹ تک کھیلنے اور پھر امپائرنگ کرنے والے ڈکی برڈ کہتے ہیں ʹبائیکاٹ کی خود اعتمادی لاجواب تھی۔ان کی سب سے خاص بات ذہنی طور پر ان کا بہت زیادہ مضبوط ہونا ہے تاہم وہ اپنے کام سے مطلب رکھتے تھے۔ بہت زیادہ پرائیوٹ تھے۔ لوگوں سے میل جول نہیں رکھتے تھے۔ اگرچہ میں اور بائیکاٹ ایک ہی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ شام کو ہم اکٹھے ہوئے ہوں یہاں تک کہ جب انھوں نے 2003 میں اپنی دوست ریچل سوئنگل ہرسٹ سے شادی کی تو اس وقت بھی انھوں نے مجھے اس بارے میں کچھ نہیں بتایاʹ۔

جیف بائیکاٹ نے ہمیشہ اس بات کو مسترد کیا کہ وہ ایک خود غرض کرکٹر ہیں۔ اس کی مثال انہوں نے اپنی سوانح حیات میں اپنی آخری فرسٹ کلاس اننگز کی پیش کی ہے جس میں وہ نارتھمپٹن شائر کے خلاف 61 رنز بنا کر رن آؤٹ ہوئے تھے اور کاؤنٹی سیزن میں ایک ہزار رنز کا سنگ میل صرف آٹھ رنز کی کمی سے عبور نہ کر سکے تھے۔

وہ لکھتے ہیں ʹجب میں فیلڈنگ کر رہا تھا تو یارکشائر کے کپتان ڈیوڈ بیرسٹو میرے پاس آئے اور مجھ سے فالوآن نہ کرانے کا پوچھا۔ اگر میں خود غرض ہوتا تو یقیناً کہتا کہ دوبارہ بیٹنگ کر لیتے ہیں تاکہ میں اپنے ایک ہزار رنز مکمل کر سکوں لیکن میں نے ایسا نہیں کیاʹ۔

یارکشائر کاؤنٹی کے ساتھ کھیلتے ہوئے 24 سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ بائیکاٹ سیزن میں ہزار رنز مکمل نہ کر پائے تھے لیکن ان کے لیے سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ کرکٹ کمیٹی کے سامنے بلا کر انھیں یہ بتا دیا گیا تھا کہ یارکشائر کاؤنٹی انھیں فارغ کر رہی ہے۔

جیف بائیکاٹ یارکشائر کاؤنٹی میں اپنی شاندار بیٹنگ کے سبب شائقین میں مقبول تھے لیکن وہ کبھی بھی کاؤنٹی منیجنمنٹ اور ساتھی کھلاڑیوں میں مقبول نہیں رہے۔ ان کے مخصوص رویے کی وجہ سے ایک موقع پر کاؤنٹی کے کپتان کرس اولڈ نے کھلاڑیوں میں رائے شماری بھی کرائی تھی جس میں کھلاڑیوں کی اکثریت نے ووٹ دیا کہ وہ بائیکاٹ کو ٹیم میں دیکھنا نہیں چاہتے۔

خواتین کے بارے میں بے باک تبصرے

جیف بائیکاٹ کے ساتھ کمنٹری کرنے والے تجزیہ کار سائمن ہیوز کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ یہ خیال نہیں رکھتے تھے کہ کمنٹری باکس میں خواتین بھی ہوتی ہیں ۔اکثر ان کی گفتگو میں خواتین کے بارے میں بے باک قسم کے فقرے شامل ہوتے تھے۔

1992 میں نیوزی لینڈ ٹی وی پرکمنٹری کے دوران جب ان کی آواز چیک کی جا رہی تھی تو انھوں نے ساؤنڈ آپریٹر میری گراہم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ʹمیں آپ کے ساتھ ایک دن کے بجائے پورا ہفتہ گزارنا پسند کروں گا۔ آپ کی ٹانگیں بہت خوبصورت ہیںʹ۔

نیوزی لینڈ ٹی وی کے عملے کے ایک رکن نے یہ بات سنی۔ بات بڑھ گئی اور تحقیقات شروع ہو گئیں لیکن چونکہ میری گراہم نے کوئی شکایت نہیں کی تھی لہٰذا بائیکاٹ کو کلیئر کر دیا گیا۔

جیف بائیکاٹ کی زندگی کا سب سے بڑا تنازع وہ مقدمہ تھا جو 1998 میں ان کی سابقہ گرل فرینڈ مارگریٹ مور نے ان کے خلاف فرانس کی عدالت میں دائر کیا تھا جس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ بائیکاٹ نے ان پر تشدد کیا۔ بائیکاٹ نے مارپیٹ کی تردید کی تھی تاہم عدالت نے انھیں نو ہزار ڈالرز جرمانے اور تین ماہ قید کی معطل سزا سنائی تھی۔

جب بائیکاٹ نے لندن میں اپنا مؤقف بیان کرنے کے لیے ایک پریس کانفرنس کی تو اس دوران ایک صحافی نے ان سے سوال کیا تو وہ غصے میں آ گئے تھے اور اس صحافی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ʹشٹ اپ یہ میری پریس کانفرنس ہے تمہاری نہیںʹ۔

جیف بائیکاٹ کے بارے میں یوں تو کئی لوگوں نے مختلف نوعیت کے تبصرے کیے لیکن ان کی ریٹائرمنٹ پر وزڈن میں ڈیرک ہوجسن کا تبصرہ دلچسپ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ʹبائیکاٹ نے جتنے رنز بنائے ہیں ان سے زیادہ دشمن بنانے کی خصوصیت ان کے پاس موجود ہےʹ۔