جیمز بانڈ 007 اور ایم آئی 6: اس جاسوسی شاہکار کا حقیقی زندگی سے کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں؟

بانڈ۔۔۔ جیمز بانڈ!

اس ڈائیلاگ کا دنیا کے تقریباً ہر فلم بین کو علم ہے اور کیوں نہ ہو؟ ہر مرتبہ جب بھی کسی نئی جیمز بانڈ فلم کا ذکر ہوتا ہے تو فسانے اور ایکشن سے بھرپور اس سیریز کے شائقین کو اس کے ریلیز کا شدت سے انتظار ہوتا ہے۔

اب بالآخر جیمز بانڈ سیریز کی نئی فلم 'نو ٹائم ٹو ڈائی' کورونا وبا کے باعث اور فلم کے ہدایتکار کے اچانک تبدیل ہو جانے کے بعد ایک طویل انتظار بعد سنیما گھروں کی زنیت بننے جا رہی ہے۔ یہ جیمز بانڈ سیریز کی 25ویں فلم ہے جبکہ یہ جیمز بانڈ کا کردار نبھانے والے اداکار ڈنیئل کریگ کی آخری فلم ہو گی۔

لیکن کیا بانڈ سیریز کی فلموں میں دکھائی جانے والے کہانیوں اور برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کا حقیقی زندگی میں کوئی تعلق ہے؟ کیا برطانوی خفیہ ایجنسی، جسے سیکرٹ انٹیلجنس سروس بھی کہا جاتا ہے، جیمز بانڈ سیریز کے افسانوی واقعات سے کوئی مماثلت رکھتی ہے؟ اور شاید یہ بھی جاننا اہم ہے کہ اس کے جدید ڈیجیٹل دور میں ایک جاسوس ایجنسی کتنی اہم ہے؟

سام (فرضی نام) برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 میں ایک کیریئر آفیسر ہیں اور انسداد دہشت گردی کے شعبے میں مہارت رکھتی ہیں۔

ان کے مطابق 'جیمز بانڈ سیریز کی فلموں اور حقیقت میں جو سب سے بڑا فرق ہے وہ یہ ہے کہ ہم فلموں میں نظر آنے والے لوگوں سے زیادہ باہمی تعاون کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ شازو نادر ہی آپ کبھی اپنے اختیارات سے تجاوز کریں گے یا اکیلے کسی کام کو سرانجام دیں گے۔ یہ سب ٹیم ورک کا کمال ہے، ایک سکیورٹی ٹیم ہمیشہ آپ کے ساتھ ہوتی ہے۔'

اچھا، اگر ایم آئی 6 کے اہلکار جیمز بانڈ کی طرح کام نہیں کرتے تو وہ اہلکارحقیقی زندگی میں کیا کام کرتے ہیں؟ چاہے وہ دریائے ٹیمز کے قریب اپنی ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر میں تعینات ہوں یا باہر فیلڈ میں۔۔۔

بانڈ

اس سوال کے جواب میں ایک اور اہلکار تارا (فرضی نام) کا کہنا تھا کہ 'یہاں آپ کے پاس مختلف فرائض سرانجام دینے کا موقع ہوتا ہے۔ اہلکاروں کی ایجنسی میں بھرتی اور تربیت سازی کا کام ہوتا ہے، ہمیں تکنیکی ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، ہمارے پاس مواصلات و رابطے کی ٹیمیں ہوتی ہیں جبکہ فرنٹ لائن پر بھی سخت کام ہوتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ایجنسی میں کبھی بھی صرف ایک فرد اپنے سر پر تمام کام نہیں لیتا۔ ان فلموں میں سیکرٹ انٹیلجنس سروس کے حقیقی کام کی بہت کم تصویر کشی کی جاتی ہے اور بانڈ کی دنیا اور حقیقی دنیا میں کوئی مماثلت نہیں ہوتی۔

وہ کہتی ہیں کہ'میں سمجھتی ہوں کہ اگر کوئی ایسا کرنے کی خواہش لے کر سامنے آتا ہے تو وہ درخواست کے عمل میں بہت جلد سمجھ جائیں گے کہ یہ ان کے لیے موزوں نہیں ہے۔'

تو کیا ایجنٹس کے پاس ہتھیار ہوتے ہیں اور کیا ایم آئی 6 کے افسران کبھی اسلحہ پاس رکھتے ہیں؟ اس سوال کے جواب میں سرکاری سا جواب میں ملتا ہے: 'ہم اس کی تردید یا تصدیق نہیں کر سکتے۔'

تاہم مجھے ایم آئی 6 کے ایک افسر نے بتایا کہ 'کسی شخص کے دنیا بھر میں سرعام سڑکوں پر لوگوں سے ٹکرانے اور گولیاں چلانے کا خیال ہمارے لیے حقیقت میں ایک لعنت جیسا ہے۔ ایسا کوئی شخص اس ایجنسی کے دروازے سے بھی داخل نہیں ہو سکتا۔'

لیکن ایک منٹ کے لیے رکیے اور سوچیے کہ دنیا کے چند سب سے خطرناک علاقوں میں، جہاں ممکنہ طور پر برطانوی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کام کرتے ہیں، یہ اہلکار مسلح نہیں ہوتے ہوں گے اور اگر وہ خود نہیں تو ان کے ساتھ مسلح محافظ ضرور موجود ہوں گے۔

007

اگر صاف بات کی جائے تو ایم آئی 6 کے افسران خفیہ ایجنٹس نہیں ہوتے بلکہ وہ انٹیلیجنس آفیسر ہوتے ہیں جو خطروں میں گھرے اصل خفیہ ایجنٹس کو متحرک کرتے ہیں۔

انھیں بہت سمجھ داری اور خفیہ طریقے سے خاص جگہوں اور گروہوں میں داخل کیا جاتا ہے جیسا کہ القاعدہ کے حملہ آور پلاننگ سیل میں یا کسی جارحیت پسند ملک کے جوہری تحقیقی پلانٹ پر تاکہ وہ وہاں سے برطانیہ کے لیے اہم معلومات چرا سکیں۔

یہ خفیہ ایجنٹس ہی ہوتے ہیں جو روزانہ بڑے خطروں سے کھیلتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ ایم آئی 6 ان کی شناخت اور ان کے اہلخانہ کی حفاظت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔

ایجنٹس کے ساتھ کام کرنے والے افسر ان خفیہ ایجنٹوں کے کتنا قریب ہوتے ہیں؟ کیا یہ آپس میں دوست بھی ہوتے ہیں؟

'ان کا ایک دوسرے پر انحصار ہوتا ہے۔' یہ کہنا ہے ٹام کا جو ایک اور ایم آئی 6 کے حاضر سروس افسر ہیں۔ وہ کہتے ہیں 'آپ کسی کے جان کے ذمہ دار ہوتے ہیں تو یقیناً آپ ایک دوسرے سے ایسی باتیں بھی کہتے ہیں کو آپ سننا نہیں چاہتے، ان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا ہو گا لیکن یہ سب کچھ ان کی حفاظت کے لیے کیا جاتا ہے۔'

تارا کہتی ہیں کہ 'لوگ ہمارے ساتھ کام کرنے کے لیے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں، ان میں سے کچھ زیادہ خطرناک کام نہیں کرتے لیکن یہاں کچھ ایسے افراد بھی ہے جس کے ساتھ کام کرنا ہماری خوش قسمتی ہے۔'

وہ کہتی ہیں کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ان کے بارے میں علم ہو جائے کہ وہ ہمارے ساتھ کام کر رہے ہیں تو وہ بہت خطرے میں آ سکتے ہیں۔ وہ اپنی زندگیاں گنوا سکتے ہیں۔ اور ہم ان سے روابط رکھنے کے آغاز سے ہی اس بات کو بہت سنجیدگی کے ساتھ لیتے ہیں۔'

ایم ائی سکس ہیڈ کوارٹر
،تصویر کا کیپشنلندن میں موجود ایم آئی 6 کا ہیڈ کوارٹر

بانڈ سیریز کی چھ برس قبل سنہ 2015 میں آخری ریلیز ہونے والی فلم سپیکٹر کے بعد سے جاسوسی کی حقیقی دنیا میں بہت سے تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔

شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ کا عروج و زوال ہو چکا ہے، ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنے کے معاہدے ہو کر ختم بھی ہو گئے اور چین بھی تائیوان کو 'واپس حاصل' کرنے کے لیے شور مچا رہا ہے۔

اس سب میں ایسا بہت کچھ تھا جس نے ایم آئی 6 کو مصروف رکھا۔

لیکن اب اس دور میں جہاں ہمارا ہر قدم ایک ڈیجیٹل نقش چھوڑتا ہے، کیا اس دور میں پرانی دور کی انسانی انٹیلیجنس کی کوئی جگہ ہے؟ کیا اب بھی کسی شخص کو اس بات پر آمادہ کرنا کہ وہ کسی دوسرے شخص کے راز چرانے میں مدد دے کارآمد ہے؟

اس سلسلے میں ایم آئی 6 کی ایک اور افسر ایما (فرضی نام) جو ایک ٹیکنیکل آفیسر ہیں کا کہنا ہے کہ 'اب ڈیٹا کے ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہونے کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کام کے ہر مرحلے کے لیے لوگ موجود ہیں۔ اور اب جدید دور میں ہم ایسے ہی افراد کے ساتھ تعلقات قائم کر رہے ہیں۔ یقیناً ہم ایسی تمام ٹیکنالوجی سیکھنے پر کام کر رہے ہیں تاکہ ہم فیلڈ میں موجود اپنے انٹیلجنس افسران کی مدد کر سکیں۔'

تو اس کا مطلب ہے کہ ایم آئی 6 کے صدر دفتر میں ان آلات، کمپیوٹر سسٹمز اور گیجٹس سے بھری ایک لیبارٹری موجود ہے؟ بظاہر ایسا ہی ہے۔

ایما کہتی ہیں کہ 'یہ اس سے بہت مختلف ہیں جیسا ہمیں فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔ میرے پاس ایک بہت بڑی انجینیئرز کی ٹیم ہے جو نئی صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اور فلموں کی طرح ہم سب اصل زندگی میں سفید کوٹ پہنے نہیں ہوتے اور نا ہی ہم ٹیکنالوجی ماہر کی طرح دکھتے ہیں۔ لیکن گیجٹس کے اعتبار سے ہم سب انٹیلیجنس افسران کے ساتھ بہت توجہ سے کام کرتے ہیں تاکہ یہ جان سکیں کہ انھیں کس چیز کی ضرورت ہے۔'

سنہ 1962 میں پہلی بانڈ سیریز کی فلم، ڈاکٹر نو کو بنے تقریباً 60 برس گزر چکے ہیں اور اس سے بھی مزید 10 سال قبل مصنف ایان فلیمنگ نے پہلی بار بحری انٹیلحجنس کے لیے کام کرنے کے بعد جیمز بانڈ کا یہ خیالی کردار تخلیق کیا تھا۔

تب سے جاسوسی کی شکل ہی تبدیل ہو گئی ہے۔

ڈنیئل کریگ

ایم آئی 6 کے بڑے عہدوں پر آج ایسے چند افسران بھی موجود ہیں جہنھوں نے اپنی کیرئیر کی شروعات موبائل فون، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے آنے سے پہلی کی تھی۔

تب اہم ریکارڈز کو لوہے سے بنی الماریوں اور سیف خانوں میں محفوظ کیا جاتا تھا۔

اس وقت تک بائیو میٹرک ڈیٹا کا استعمال بھی شروع نہیں ہوا تھا اور 1994 تک سرکاری طور پر ایم ائی 6 کا وجود بھی نہیں تھا۔

اس دور میں کسی خفیہ انٹیلیجنس افسر کو جعلی داڑھی اور چشمہ پہنا کر ایک جعلی شناخت سے کسی سرحد پار یا کسی خطرناک جگہ پر بھیجنا قدرے آسان تھا

لیکن آجکل یہ قدرے مشکل ہے، البتہ ناممکن نہیں۔

اس ضمن میں آپ روس کی جی آر یو ٹیم کو ہی لے لیں جس نے سنہ 2018 میں سلیسبری تک بنا کسی رکاوٹ کے سفر کیا تھا اور میٹ پولیس کے مطابق، تاکہ وہ سابق روسی ایجنسی کے جی بی کے سابق افسر سرگئی سکرپال کو قتل کر سکے۔

آج کے ڈیٹا کے انقلابی دور میں جہاں آنکھ کی پتلی کی شناخت سے لے کر بائیو میٹرک ڈیٹا ہے، مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ہے، سائبر انکرپشن اور کوانٹم کپمیوٹنگ کے ساتھ جاسوسی ایک خاص حد تک پہنچ چکی ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود انسانی انٹیلیجن کا کوئی نعم البدل نہیں۔ یہ کہنا ہے سر ایلکس ینگر کا جنھوں نے گذشتہ چھ برس تک ایم آئی 6 کی سربراہی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ 'دنیا ہماری توقع سے زیادہ تیزی کے ساتھ مسلح ہو رہی ہے۔' اور یہ وہ چیز ہے جو ایم آئی 6 کی حقیقی زندگی کی خواتین اور مرد افسران کو کام کے لیے تیار کرتی ہے۔

فلم نو ٹائم ٹو ڈائی میں ان کا فرضی کردار 'ایم' رالف فینیس نے نبھایا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: