جیمز ویب ٹیلی سکوپ: خلائی دوربین جیمز ویب تاریخی خلائی مشن پر روانہ، پہلی تصاویر کب تک آ سکیں گی؟

دنیا کی اب تک کی سب سے بڑی خلائی دوربین جسے دس ارب ڈالر سے تیار کیا گیا ہے اپنے خلائی مشن پر روانہ ہو گئی ہے۔

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کو آریان فائیو راکٹ کے ذریعے فرینچ گیانا سے زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر دور خلا میں چھوڑا گیا۔

اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچنے میں 30 برس کا عرصہ لگا ہے اور اسے 21 ویں صدی کے سب سے بڑے سائنسی منصوبوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

سائنسدانوں کو امید ہے کہ جیمز ویب ٹیلی سکوپ خلا میں ان ستاروں کو ڈھونڈ پائے گی جو ساڑھے 13 ارب سال پہلے کائنات میں سب سے پہلے روشن ہوئے۔

یہ دیو ہیکل خلائی دوربین کائنات کے ان حصوں کی دیکھنے کی کوشش بھی کرے گی جہاں تک ہبل ٹیلی سکوپ کی نظر بھی نہیں پہنچ سکی ہے۔

اس ٹیلی سکوپ میں یہ صلاحیت بھی موجود ہے کہ یہ زمین سے کہیں دور موجود سیاروں کے ماحول اور وہاں موجود گیسوں کی جانچ کے ذریعے زندگی کے شواہد تلاش کر سکے گی۔

اس ٹیلی سکوپ کی لانچ یورپین خلائی خلائی ادارے کے زیرِ انتظام کورو سپیس پورٹ سے پاکستانی وقت کے مطابق پانچ بج کر 20 منٹ پر ہو گی۔

اس حوالے سے جوش اور ولولہ عروج پر ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ گھبراہٹ بھی زیادہ ہے۔

خلا تک پہنچنے کے لیے جیمز ویب کو پہلے ایک 27 منٹ طویل اڑان سہنی ہو گی جو ایک کنٹرولڈ دھماکے جیسی ہو گی۔

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ

اگر سائنسدان یہ چاہتے ہیں کہ یہ ٹیلی سکوپ اپنی پوری صلاحیت سے کام کرے تو راکٹ لانچ کے تقریباً 30 منٹ بعد راکٹ سے علیحدہ ہونے پر اس کو 344 ایسے کڑے لمحات سے گزرنا ہو گا جو اس کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

امریکی خلائی ادارے ناسا کے منتظم بل نیلسن کہتے ہیں کہ 'ویب ایک بہترین مشن ہے۔ یہ ایک بہترین مثال ہے کہ جب ہم بڑے خواب دیکھتے ہیں تو ہم کیا حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں ہمیشہ سے معلوم تھا کہ یہ پراجیکٹ خطرناک ہو گا۔ لیکن ظاہر ہے کہ جب آپ کو بڑا فائدہ چاہیے ہوتا ہے، تو آپ کو بڑا خطرہ مول لینا پڑتا ہے۔‘

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ مدار میں اب تک بھیجے جانے والے سب سے بڑے فلکیاتی آئینے کا استعمال کرے گی جس کا قطر ساڑھے چھ میٹر ہے۔ یہ فلکیاتی آئینہ اتنا بڑا ہے کہ اسے مکمل طور پر کھلنے میں دو ہفتے تک کا وقت لگے گا۔

جمیز ویب ٹیلی سکوپ امریکی خلائی ادارے ناسا، یورپی خلائی ادارے ’ایسا‘ اور کینیڈین خلائی ادارے سی ایس اے کا 10 ارب ڈالر کی لاگت کا مشترکہ منصوبہ ہے۔

ناسا کے گوڈارڈ سپیس فلائٹ سینٹر کی ماہر فلکیات ڈاکٹر امبر نکول سٹروگن کہتی ہیں کہ ’اس قدر بڑی اور بلند نظر ٹیلی سکوپ کا سب سے دلچسپ پہلو یہ خیال ہے کہ ایسے بہت سے سوال ہیں جن کو پوچھنے کے بارے میں ہم نے ابھی تک سوچا بھی نہیں۔‘

’یہ خیال کہ ہم کائنات کے بارے میں وہ چیزیں جان سکیں گے جو مکمل طور پر ہمیں حیران کر دیں گی، میرے لیے یہ اس دوربین کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔‘

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ

ڈاکٹر امبر نکول سٹروگن کہتی ہیں کہ اس ٹیلی سکوپ کو مکمل طور پر آپریشنل ہونے اور اس کی مدد سے پہلی تصاویر دیکھنے میں چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ایک بار جب ہم ٹیلی سکوپ کو خلا میں لے جائیں گے تو اسے کھولنے کا ایک پیچیدہ نظام ہے، جس کے بعد اسے ٹھنڈا ہونے، اپنے فلکیاتی آئینوں کو ترتیب میں لانے اور آلات کو آن کرنے میں مہینوں لگ جائیں گے۔‘

’تو سنہ 2022 کے موسم گرما میں ہی ہم پہلی تصاویر حاصل کر سکیں گے۔‘

جیمز ویب ٹیلی سکوپ ہبل ٹیلی سکوپ کی جگہ لے گی جسے 1990 میں ناسا نے خلا میں بھیجا تھا۔ یہ تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ ایک ٹیلی سکوپ کو خلا میں بھیجا گیا تھا۔

جیمز ویب ٹیلی سکوپ کائنات کے ان حصوں کی دیکھنے کی کوشش کرے گی جنھیں ہبل سپیس ٹیلی سکوپ بھی نہیں دیکھ پائی ہے۔

یہ بات ویسے تو بہت مرتبہ کہی گئی ہے لیکن بہرحال یہ ایک حقیقت ہے کہ ہبل دریافتوں کی ایک مشین ہے۔

آئینے کا سائز

سنہ 1990 میں اس دوربین کے خلا میں بھیجیے جانے سے پہلے سائنسدانوں کو یہ علم نہیں تھا کہ ہماری کائنات 10 ارب سال پرانی ہے یا 20 ارب سال پرانی۔

ہبل کے ذریعے کسی روشنی کے مینار یا لائٹ ہاؤس کی طرح دھڑکتے ستاروں سے اس بے یقینی کو کم کرنے میں مدد ملی اور اب ہم یہ جانتے ہیں کہ کائنات کی عمر 13 اعشاریہ آٹھ ارب سال ہے۔

اسی دوربین کی وجہ سے یہ علم ہو سکا کہ کائنات نہ صرف پھیل رہی ہے بلکہ اس کے پھیلنے کی رفتار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور اس دریافت پر نوبیل انعام بھی دیا گیا تھا۔

اسی دوربین کی بنیاد پر یہ ٹھوس ثبوت بھی ملا تھا کہ کہکشاؤں کے مرکز میں انتہائی بڑے بلیک ہولز موجود ہیں۔

یہ بھی کتنی حیران کن بات ہے کہ ہبل ٹیلی سکوپ کو خلا میں بھیجے جانے سے پہلے سائنسدان نظامِ شمسی سے باہر موجود کسی ایک بھی سیارے یا ’ایکسو پلینٹ‘ کا پتا نہیں لگا پائے تھے۔

اگرچہ اس بارے میں امید کی جا رہی ہے کہ ہبل آئندہ 10 یا 20 برس مزید کام کرے گی تاہم جیمز ویب کو اس کی بہتر شکل قرار دیا جا رہا ہے۔ جیمز ویب ٹیلی سکوپ خلائی تسخیر کے پروگرام اپالو کے بانیان میں سے ایک کے نام پر ہے اور امریکہ، یورپ اور کینیڈا تینوں ہی کے خلائی اداروں نے اسے اپالو جتنا ہی اہم خلائی پروگرام قرار دیا ہے۔

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کا سفر

جیمز ویب کا فلکیاتی آئینہ ہبل سے کئی گنا بڑا ہے۔ اس میں روشنی کو جمع کرنے کی زیادہ صلاحیت موجود ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہبل کے مقابلے یہ وقت میں زیادہ پیچھے تک سفر کر سکتی ہے۔

ہبل زمین کے گرد بہت قریبی مدار میں موجود ہے جبکہ ویب جیمز زمین سے 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہو گی جو زمین کے چاند سے فاصلے سے بھی چار گنا زیادہ ہے۔

یورپین خلائی ایجنسی کی ڈاکٹر انٹونیلا نوٹا کہتی ہیں کہ ’جیمز ویب وہاں سے آغاز کر رہی ہے جو ہبل مدار میں اپنے 31 شاندار برسوں میں کرنے میں کامیاب رہی۔‘

’اگرچہ 2.4 میٹر کے آئینے کے ساتھ ہبل نسبتاً ایک چھوٹی ٹیلی سکوپ ہے لیکن اس کے باوجود ہمیں یہ جاننے میں مدد ملی کہ ’بگ بینگ‘ کے چند کروڑ سال بعد ہماری کائنات کس طرح کی تھی۔‘

’حساسیت میں 10 گنا اضافے کی خاصیت کی مدد سے یہ دوربین یہ دیکھنے کے قابل ہو گی کہ ہماری کائنات میں ابتدائی کہکشائیں کیسے وجود میں آئیں۔‘

ٹیلی سکوپ

ویب ٹیلی سکوپ کیا دیکھے گی؟

ناسا کا کہنا ہے کہ یہ دوربین ’ماضی میں جھانک کر ابتدائی کائنات کی اولین کہکشاؤں کو دیکھ سکے گی۔‘

جیمز ویب دوربین دوسرے ستاروں کے گرد چکر لگانے والے سیاروں کی فضا کا جائزہ لے کر وہاں پائی جانے والی ممکنہ زندگی کا سراغ لگانے کی بھی اہل ہو گی۔

ڈاکٹر امبر نکول سٹروگن کہتی ہیں کہ ’سائنسدان جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ کے ذریعے پہلے برس میں کیے جانے والے مشاہدوں کے بارے میں پہلے ہی منصوبہ بندی کر چکے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ہمارے نظام شمسی میں موجود سیاروں سے لے کر ان کہکشاؤں کے بارے میں جاننے سے متعلق ہے جو 13.5 ارب برس پہلے وجود میں آئیں۔ اس کے علاوہ خلا اور وقت کے درمیان ہر چیز کا مشاہدہ کیا جائے گا۔‘

ٹیلی سکوپ

زندگی کی تلاش

یہ دوربین دوسرے سیاروں پر زندگی کے آثار کا سراغ بھی لگائے گی اور یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ دوسرے سیاروں کے ماحول میں کس قسم کے مالیکیول موجود ہیں۔

ڈاکٹر سٹروگن کہتی ہیں کہ ’یقینی طور پر ہم یہ وعدہ نہیں کر سکتے کہ ہم زندگی کے آثار ڈھونڈ لیں گے۔‘

’لیکن یہ کہنا مبالغہ آرائی نہیں ہو گا کہ یہ دوربین کہکشاں میں رہنے کے قابل سیاروں کی تلاش میں ایک بہت بڑا قدم ثابت ہو گی۔‘

جیمز ویب سپیس ٹیلی سکوپ

ڈاکٹر سٹروگن کے مطابق اس دوربین سے بہت کچھ حاصل ہونے والا ہے۔

’کائنات کے بارے میں ہماری معلومات میں اضافہ ہو گا اور ہمارے ارد گرد موجود ہر چیز کے ساتھ تعلق مزید مضبوط ہو گا۔‘

ڈاکٹر سٹروگن کہتی ہیں کہ ’جب ہم ستاروں کو دیکھتے ہیں، رات کے وقت آسمان کو دیکھتے ہیں تو مجھے ایک تعلق کا احساس ہوتا ہے کہ ہم اس کائنات میں تنہا نہیں ہیں۔‘

’ہم انسان ایک ستارے کی باقیات سے وجود میں آئے جو اربوں برس پہلے پھٹ گیا تھا۔ ہم اس کائنات سے منسلک ہیں۔ میرے خیال میں یہ ہمیشہ بہت اہم رہا ہے کہ ہم زندگی کے بارے میں ایک بڑے زاویے کا استعمال کریں۔‘

خلائی سائنس کا سب سے بڑا جوا؟

اس ٹیلی سکوپ کو اس منزل تک لانا آسان نہیں رہا ہے۔ برسوں کی تاخیر اور ابتدائی اندازوں سے اربوں ڈالر زیادہ خرچ ہوئے، یہاں تک کہ کئی مقامات پر اس منصوبے کو منسوخ کرنے کے بھی مطالبے کیے گئے مگر سائنسدان ڈٹے رہے۔ اب یہ راکٹ میں نصب ہو چکی ہے اور چند گھنٹوں میں خلا میں روانہ کر دی جائے گی۔

لانچ بہت تناؤ سے بھرپور ہو گی مگر اصل تناؤ لانچ کے بعد شروع ہو گا۔ یہ ٹیلی سکوپ کسی ٹینس کورٹ جتنی بڑی ہے اور اس کا مکمل طور پر کھل کر اپنے آپ کو پھیلانا خلائی تاریخ میں اب تک کا سب سے مشکل کام ہو گا۔ ایسے 300 سے زیادہ لمحات ہوں گے جب کچھ بھی غلط ہوا تو کھیل تمام، مگر زیادہ خطرے کا مطلب ہی زیادہ فائدہ ہے۔

یہ دوربین ہمیں ہماری کائناتی تاریخ کے ہر مرحلے کے حیران کُن نئے مناظر دکھائے گی اور انسانیت کے سب سے بڑے سوالوں میں سے ایک کا جواب بھی دینے میں مدد کرے گی، کہ کائنات کیسے شروع ہوئی اور کیا ہم اس میں اکیلے ہیں؟

اور اگر ویب ٹیلی سکوپ یہ کر پائی تو یہ بازی جیتی ہوئی تصور کی جائے گی۔