جی بسم اللہ اخترشمار

کبھی کبھی ایسے لوگ بھی دنیاکامیلہ چھوڑجاتے ہیں کہ جن کی موت کایقین ہی نہیں آتا۔دل ودماغ کسی طورپرداغ مفارقت دے جانے والے کے نام کے ساتھ مرحوم لکھنے پرراضی نہیں ہوتے۔کچھ ایسی ہی کیفیت خوبصورت لہجے کے تواناشاعراخترشمارکے انتقال پرمجھ پہ طاری ہے۔اب چونکہ ان کاچہلم بھی گزرگیاہے اس لئے حوصلہ کرکے لکھنے بیٹھ گیاہوں۔ایسی شہرت،محبت اورقبولیت بہت کم کم شاعروں کونصیب ہوتی ہے جیسی اخترشمار کے حصے میں آئی۔کہنہ مشق ادیب،مقبول صحافی،منفردکالم نگار،ایثارکیش معلم وماہرتعلیم،ان کی علم وادبی شخصیت کے اتنے پہلواورجہتیں ہیں کہ فقط تعارف کے لئے ایک الگ مضمون درکارہے۔یہاں اگرمیں یہ کہوں کہ ان کاشمارادبی صحافت کے بانیوں میں ہوتاہے تویہ مبالغہ آرائی نہ ہوگی بلکہ سراسرحق بیانی ہے۔مقبول پرچہ”بجنگ آمد“ان کے اس شوق کی فراوانی کی سب سے بڑی گواہی ہے۔
اخترشمارکاپیدائشی نام اعظم خان تھا۔ملتان میں اپریل 1960کوپیدائش ہوئی، اگرچہ آباؤاجدادکاعلاقہ چکری،راولپنڈی کے نزدیک پوٹھوہارمیں واقع سہال تھا۔دکھی دل کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ اس روشن دماغ قلم کارکی تدفین بھی وہیں پرہوئی۔ان کے والدنے عرصہ پہلے ملتان سکونت اختیارکرلی تھی۔اخترشمارکی پیدائش کے بعدابتدائی تعلیم اورگریجوایشن بھی ملتان کی درس گاہوں میں ہی ہوئی۔اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپورایم اے کرنے کے لئے گئے اورتعلیم مکمل کرکے بھلے شاہؒ کی نگری قصورکے کالج میں شعبہ تدریس سے منسلک ہوگئے۔لاہورمیں ان کی آمدکابنیادی محرک توشایدگورنمنٹ کالج لاہورمیں طلباء کوزیورتعلیم سے آراستہ کرناہوگامگراس شہرکے ادبی حلقوں میں ان کے آنے سے گویا بھونچال آگیا۔اگرمثبت اندازمیں بات کروں توادبی چائے خانوں میں نئی زندگی اورجان پڑگئی۔ایسی تواناآوازکہ کوئی بھی شعروسخن سے تعلق رکھنے والاشخص اسے نظراندازنہیں کرسکتاتھا۔تحقیق کے میدان کی بات کریں تو”حیدردہلوی احوال وآثار“کے عنوان سے پی ایچ ڈی کامقالہ تحریرکیااورسندپائی۔ایک درجن سے زائدکتابیں اپنی مختصرمگربامعنی زندگی میں تحریرکرگئے۔جیسی خوبصورت ان کی شاعری تھی ویسی ہی عمدہ اورمعیاری نثرتحریرکرتے تھے۔کچھ عرصے سے’جی بسم اللہ“کے عنوان سے کام نگاری کررہے تھے جبکہ اس سے پہلے ایک طویل عرصہ اخترشماریاں کے نام سے کالم تحریرکرتے تھے۔کالم کے عنوان کی تبدیلی کاذکرمیں نے دانستہ طورپرکیاہے۔یہ تبدیلی ان کی ذاتی زندگی میں بھی آئی تھی،اس کامحرک فکرکی تبدیلی وارتقاء بھی تھا۔ان کارجحان تصوف کی طرف ہوگیاتھا۔میں نے اخترشمارکوایک عام سے دنیادارادیب سے ایک صوفی درویش بنتے اپنی آنکھوں سے دیکھاہے۔یہ من کی تبدیلی تھی۔انہوں نے کوئی اپنالباس یارہن سہن تبدیل نہیں کیاتھا۔معمولات زندگی بھی بالکل ویسے کے ویسے اوروضع قطع بھی پہلے جیسی تھی۔مگران کے اندرایک جوہری تبدیلی آگئی تھی۔ان کے کالم کاعنوان”جی بسم اللہ“دراصل ان کے روحانی مرشدکاتکیہ کلام تھا۔مرشدکے رنگ میں ”گوڑھے“رنگے گئے تھے۔
درازقد،گھنی زلفوں،روشن آنکھوں والے،روشن دماغ اخترشمارسے میری پہلی ملاقات احمدندیم قاسمی کے ہاں فنون کے دفترمیں ہوئی تھی۔قاسمی صاحب ان سے کچھ نالاں تھے،وجہ شایداخترشمارکے پرچے”بجنگ آمد“میں شائع ہونے والی کچھ نامناسب خبریں تھیں۔بڑے لوگوں کی بڑی باتیں ہوتی ہیں۔کہنے لگے یہ محبت ایسی چیزہے کہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی،خودبخودنظرآجاتی ہے،محسوس ہوجاتی ہے۔جبکہ اخترشماراپنی محبت وعقیدت کایقین دلاتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ چھوٹی موٹی گستاخیاں میں کرجاتاہوں،درگزرکردیاکریں۔اس سے یہ نتیجہ مت اخذکریں کہ مجھے آپ سے کم محبت ہے۔پہلی ہی ملاقات میں مجھے اخترشمارکی صاف گوئی بڑی اچھی لگی،جب انہوں نے اسی ملاقات میں کہاکہ میں خوشامدنہیں کرسکتاورنہ آپ میرے بھی ویسے ہی محبوب ہیں جیسے آپکے دیگررفقاء کادعویٰ ہے۔ایسے مخلص اوردلیرسخن ورکی کمی بھلاکیسے پوری ہوسکتی ہے جوشاعرہونے کے باوجودمبالغہ آرائی نہ کرتاہو۔میری دعوت پربارہامیاں چنوں تشریف لائے۔جب کبھی،جہاں کہیں مشاعرے پربلایاضرورتشریف لائے۔یاروں کے یارمشاعرے بازآدمی تھے۔ان جیسی داداورواہ!واہ!مشاعروں میں بہت کم شعراء کرام کے حصے میں آتی ہے۔شاعربھی توبے بدل تھے۔نصرت فتح علی خاں نے ان کی غزل کے یہ اشعارتوگاکرمزہ دوآتشہ کردیا

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمعین ایسے ہے جیسے کہ ہوا کچھ بھی نہیں
اب توہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کوکھوکرتومیرے پاس رہاکچھ بھی نہیں

میرے ساتھ ان کی ایک خاص نسبت وسیب سے تعلق کے علاوہ یہ بھی تھی کہ ان کاپہلاشعری مجموعہ ”روشنی کے پھول“ہائیکوشاعری پرمشتمل تھاجوکہ1985میں شائع ہواتھا۔گزشتہ دودہائیوں سے جاپان میں میرے قیام کے علاوہ میرے خاندان کوجاپان کی نسبت سے پہچاناجاتاہے،اوریہ صنف سخن ہائیکوچونکہ جاپان سے پھوٹی ہے اوراس کے ادب کی بنیادی اساس ہے تویہ بھی ایک قدرمشترک ٹھہری۔پسماندگان میں ان کے بے شمارچاہنے والوں کے علاوہ چاربیٹے اوربیوہ شامل ہیں۔اس لحاظ سے خوش قسمت نکلے کہ بچے بڑے لائق اورفرمان بردارہیں۔
آخری ملاقات ان سے پچھلے دنوں ایف سی کالج لاہور کے شعبہ اردومیں ہوئی،جس کے وہ صدرنشین تھے۔بے حدمحبت اوراپنائیت سے ملے،جب سے انہوں نے درویشی اورروحانیت کی سمت سفرشروع کیاتھا،ان کے رویے میں شفقت،عاجزی اورانسان دوستی کا پہلوپہلے سے زیادہ نمایاں ہوگیاتھا۔بے حدمہربان اورشفیق ہوگئے تھے،مجھے لگتاہے شایدان کی شخصیت میں یہ رنگ ان کے روحانی مرشدکی جانب سے آیاتھا۔
زندگی کاایک خوبصورت اوربھرپورحصہ مصرمیں گزارا،جہاں وہ تین سال تک شہرہ آفاق جامعتہ الازہراوراس کے بعدچنددیگرتعلیمی اداروں میں اردوپڑھاتے رہے۔ان کی کتاب ”موسیٰ سے مرسی تک“میں اس تجربے کی جابجاجھلک ملتی ہے۔جیساکہ پہلے عرض کیا،ان کی پہلی کتاب ”ہائیکو“پرمشتمل تھی جوکہ جاپانی ادب کی صنف سخن ہے جبکہ ان کاپہلاباقاعدہ شعری مجموعہ 1992میں ”کسی کی آنکھ کے ہوئے ہم“کے نام سے شائع ہواتھا۔اس سے اگلے برس ہی ان کادوسراشعری مجموعہ ”یہ آغازمحبت ہے“کے عنوان سے منظرعام پرآگیا۔جس مشاعرے میں جاتے اسے چارچاندلگادیتے تھے۔کیادبنگ لہجہ اوربلندآہنگ تھے،ریڈیواورپی ٹی وی کے بے شمارپروگراموں کی میزبانی بھی کی،اس میں بھی اپنے اعلیٰ معیارکاخیال رکھا۔کچھ عرصے سے جگرکے عارضے میں مبتلاتھے۔ان کے بچوں نے علاج کے لئے بہت بھاگ دوڑکی مگرعلاج توبیماری کا ہوسکتاہے،موت کاتوکوئی علاج نہیں،جب اس کا وقت آجائے،یہ بیماری نہ ہوتی توکوئی اور بہانہ بن جاتا،سب موت کے بہانے ہیں۔پروردگاران کی مغفرت کرے اورلواحقین کوصبرجمیل عطافرمائے۔ادبی وصحافتی منظرنامے پران کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.