حاجی مستان سے لے کر کریم لالہ تک ممبئی میں انڈرورلڈ کا اثرو رسوخ کیسے قائم ہوا؟

ایک زمانہ تھا جب ممبئی کے مجگاؤں بندرگاہ کا شیر خاں پٹھان نامی ایک غنڈہ ڈاک پر کام کرنے والے قلیوں سے ہفتہ وصولی کیا کرتا تھا۔ جو بھی ہفتہ دینے سے انکار کرتا تھا اس کی زبردست پٹائی ہوتی تھی۔

ڈاک میں کام کرنے والا حاجی مستان یہ سب روزانہ دیکھا کرتا تھا۔ اس کی سمجھ میں یہ نہیں آتا تھا کہ باہر سے آنے والا ایک شخص ڈاک کے اندر داخل ہو کر قلیوں سے ہفتہ وصولی کیسے کر سکتا تھا۔

حاجی مستان نے طے کر لیا کہ وہ شیر خاں اور اس کے غنڈوں کا مقابلہ کرے گا۔ اگلے جمعے جب شیر خاں اپنے غنڈوں کے ساتھ ہفتہ وصولی کرنے آیا تو اس نے دیکھا کہ قلیوں کی لمبی قطار سے دس افراد غائب ہیں۔

اس سے قبل کہ وہ کچھ سمجھ پاتا مستان اور اس کے دس ساتھیوں نے شیر خاں اور اس کے غنڈوں پر حملہ کر دیا۔

شیر خاں اور اس کے ساتھیوں کے پاس ’رام پوری‘ چاقو ہونے کے باوجود مستان کے چار ساتھی ان سب پر بھاری پڑ گئے۔ شیر خاں کو اپنے ساتھیوں کے ساتھ جان بچا کر وہاں سے بھاگنا پڑا۔

اس واقعے نے حاجی مستان کو قلیوں کا رہنما تو بنایا ہی، ساتھ ہی یہیں سے 'مستان لیجینڈ' کا آغاز بھی ہوا۔

اے روڈ لائف

اسی واقعے کے مناظر کو 1974 میں آنے والی فلم 'دیوار' میں فلمساز یش چوپرا نے امیتابھ بچن پر شوٹ کیا تھا۔

حال ہی میں شائع ہونے والی خود نوشت میں مشہور صحافی ویر سنگھوی لکھتے ہیں ’دیوار فلم میں امیتابھ بچن کا کردار حاجی مستان کی زندگی پر مبنی تھا۔ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ صرف بلہ نمبر 786 کی کہانی صحیح نہیں ہے۔‘

فیلم دیوار

سنگھوی بتاتے ہیں کہ ’مستان نے بعد میں مزاحیہ اداکار مُکری کی خود مستان کی زندگی پر مبنی فلم میں کام بھی کیا تھا۔ اس فلم میں ان کی زندگی کی چمک دمک کو دکھایا گیا تھا۔ فلم میں مستان نے اپنے کم ہوتے بالوں کو چھپانے کے لیے کالے بالوں والی ایک وگ پہنی تھی۔'

مستان نے کریم لالہ اور وردراجن مدالیار سے ہاتھ ملایا

حاجی مستان نے ابتدائی دنوں میں ہی محسوس کر لیا تھا کہ ممبئی جیسے شہر میں طاقتور بننے کے لیے صرف پیسا ہی کافی نہیں۔

ڈونگری ٹو دبئی
،تصویر کا کیپشنڈونگری ٹو دبئی

ممبئی کے انڈرورلڈ کے بارے میں مشہور کتاب 'ڈونگری ٹو دبئی سِکس ڈیکیڈز آف دا ممبئی مافیا‘ میں ایس حسین زیدی لکھتے ہیں ’مستان کو ممبئی میں اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لیے مسل پاور یعنی انسانی شکل میں طاقت کی ضرورت تھی۔ اس کی تلاش میں اس نے دو مشہور ڈانز کریم لالہ اور وردراجن مدالیار سے ہاتھ ملایا۔‘

1956 میں حاجی مستان کی دمن کے ڈان سُکر ناراین بکھیہ سے نزدیکیاں بڑھیں۔ جلد ہی دونوں پارٹنر بن گئے اور انھوں نے کچھ علاقے آپس میں بانٹ لیے۔ ممبئی بندرگاہ مستان کا علاقہ تھا تو دمن بندرگاہ بکھیہ کا علاقہ۔

حسین زیدی لکھتے ہیں کہ 'دبئی سے لایا گیا تسکری کا سامان دمن میں اترتا تھا۔ جبکہ دمن سے لایا گیا سامان ممبئی بندرگاہ پر اتارا جاتا تھا تو بکھیہ کے سامان کی نگرانی کی ذمہ داری مستان پر ہوتی تھی۔‘

کریم لالہ
،تصویر کا کیپشنکریم لالہ

حاجی مستان نے یوسف پٹیل کو مروانے کے لیے سُپاری دی

مستان وارڈن روڈ اور پیڈر روڈ کے درمیان صوفیہ کالج لین کے ایک بنگلے میں رہنے لگے تھے۔ ویر سنگھوی لکھتے ہیں ’میں 1989 میں حاجی مستان کا انٹرویو لینے گیا تھا۔ اس کے باغیچے میں ایک پرانا ٹرک کھڑا رہتا تھا۔ اس ٹرک کے بارے میں مشہور تھا کہ اسی ٹرک کو مستان نے اپنے پہلے کانٹرابینڈ کی ڈیلیوری کے لیے استعمال کیا تھا۔ میں نے ایک بار مستان سے اس بارے میں پوچھا تھا لیکن اس نے ان دعووں کو مسترد کر دیا تھا۔ لیکن اس کی جگہ کوئی بھی اور ہوتا تو وہ بھی ان دعوؤں کو مسترد ہی کرتا۔‘

ویر سنگھوی ممبئی انڈرورلڈ کے ایک اور شخص یوسف پٹیل سے بھی اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں ’یوسف کو اپنے پیر ہلانے کی عادت تھی۔ جب وہ ایسا کرتے تھے تہ اکثر ان کی پنڈلیاں نظر آ جاتی تھیں۔ تبھی مجھے معلوم ہوا کہ وہ اپنی پینٹ کے نیچے پاجامہ پہنا کرتے تھے۔ میں نے آج تک کسی اور کو پینٹ کے نیچے پاجامہ پھنے نہیں دیکھا۔ میں نے آخر کار انھیں کچھ پرانی باتیں یاد کرنے کے لیے راضی کر ہی لیا۔‘

سنگھوی لکھتے ہیں ’انھوں نے مجھے خود بتایا کہ ایک بار حاجی مستان نے ان کے قتل کے لیے کریم لالہ کے غنڈوں کو سُپاری دی تھی۔ وہ سڑک پر چلے جا رہے تھے کہ تبھی دو افراد نے انھیں گولی مار دی۔ اور وہ انھیں مرا ہوا سمجھ کر وہاں سے بھاگ گئے۔ لیکن وہ زندہ تھے۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا اور وہ بچ گئے۔‘

انڈر ورلڈ
،تصویر کا کیپشنحاجی مستان اور کریم لالہ

قتل کے الزام میں حاجی مستان اور کریم لالہ کی گرفتاری

اس واقعے کا ذکر حسین زیدی نے بھی اپنی کتاب میں کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’ممبئی مافیا کی تاریخ میں پہلی سپاری حاجی مستان نے 1969 میں دس ہزار روپے میں کبھی اپنے ساتھ کام کر چکے شخص یوسف پٹیل کے قتل کے لیے دی تھی۔ یہ کام کریم لالہ کے پشتون نژاد دو غنڈوں کو سونپا گیا تھا۔ انھوں نے پٹیل پر حملے کے لیے منارا مسجد کے پاس کے علاقے کا انتخاب کیا تھا۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’ان دونوں نے ماہ رمضان میں یوسف پٹیل پر بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں گولی چلا دی۔ پٹیل زمین پر گرے اور ان کے باڈی گارڈ نے انھیں بچانے کے لیے ان پر چھلانگ لگا دی۔ حملہ آوروں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن وہاں موجود بھیڑ نے انھیں پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔ یوسف پٹیل کے بازو پر دو گولیاں لگیں، لیکن اس کا باڈی گارڈ زندہ نا بچ سکا۔‘

بعد میں پولیس نے اس معاملے میں حاجی مستان، کریم لالہ اور دیگر گیارہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

حاجی مستان اور یوسف پٹیل کے درمیان صلح

ویر سنگھوی نے جب حاجی مستان سے اس واقعے کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے اقرار کیا کہ یہ بات سچ ہے۔ سنگھوی لکھتے ہیں کہ ’مستان نے مجھے بتایا کہ یوسف نے ایک معاملے میں دھوکے بازی کی تھی۔ کوئی بھی حاجی مستان کے ساتھ دھوکے کے بعد زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔‘

سنگھوی کے بقول مستان نے کہا ’جب مجھے بتایا گیا کہ پٹیل مر گیا ہے تو مجھے بہت تسلی ہوئی۔ لیکن بعد میں جب معلوم ہوا کہ یوسف پٹیل بچ گیا ہے تو میں نے اسے اللہ کی طرفٖ سے اشارہ سمجھا۔ اگر اللہ یہ نہیں چاہتا کہ یوسف ابھی مرے تو اس کی رضا کی لاج رکھنی ہو گی۔ کچھ عرصے بعد حاجی مستان اور یوسف پٹیل ایک بار پھر دوست بن گئے۔‘

حاجی مستان
،تصویر کا کیپشنحاجی مستان کے بالی وڈ کی کئی ہستیوں سے اچھے تعلقات تھے

رخسانہ سلطان اور حاجی مستان کی ملاقات

حاجی مستان ہمیشہ سفید رنگ کے کپڑے پہنتے تھے۔ ان کے ساتھیوں کا خیال تھا کہ اس سے ان کی شخصیت میں نکھار آ جاتا ہے۔

ویر سنگھوی لکھتے ہیں ’ایک بار اداکارہ امریتا سنگھ کی والدہ رخسانہ سلطان نے مجھے پہلی بار حاجی مستان سے ان کی ملاقات کا قصہ سنایا تھا۔ انھیں کیمے صابن استعمال کرنے کی عادت تھی۔ ان دنوں وہ انڈیا میں نہیں ملا کرتا تھا اور وہ اسے سمگلروں سے خریدا کرتی تھیں۔‘

سنگھوی کے مطابق ’ایک بار انھوں نے ممبئی کے ایک بھیڑ والے بازار میں اپنی کار پارک کی اور صابن خریدنے چلی گئیں۔ سب نے یہی کہا کہ اس صابن کی سپلائی آج کل نہیں آ رہی ہے۔ جب وہ واپس اپنی کار کے پاس لوٹیں تو وہاں لوگوں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی۔ جب وہ کار کے اور نزدیک پہنچیں تو دیکھا کی ان کی کار کی پچھلی سیٹ کے ایک حصے پر کیمی صابن کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ ان کی کار کے بغل میں سفید کپڑوں میں ایک شخص کھڑا ہوا تھا۔ وہ پہلے مسکرایا، پھر اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا مجھے حاجی مستان کہتے ہیں۔‘

رخسانہ سلطان
،تصویر کا کیپشنرخسانہ سلطان

عام لوگوں میں وردراجن مدالیار کا اثرورسوخ

جس وقت حاجی مستان ممبئی کے انڈرورلڈ میں اپنے پیر جمانے کی کوشش کر رہے تھے، ایک اور قلی وردراجن مدالیار ممبئی کے وکٹوریا سٹیشن پر روزی روٹی کمانے میں جُٹا تھا۔

مدالیار کی پیدائش جنوبی انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں ہوئی تھی۔ اس نے تعلیم مکمل نہیں کی تھی لیکن اپنے خاندان میں وہ واحد شخص تھا جو انگریزی اور تمل لکھ اور پڑھ سکتا تھا۔

ممبئی کے مشہور کرائم رپورٹر پردیپ شندے کا خیال تھا کہ ’وردا کے غنڈے عام لوگوں کو ممبئی کا رہائشی بنانے، انھیں راشن کارڈ، غیر قانونی طور پر بجلی اور پانی فراہم کرنے میں مقامی انتظامیہ سے کہیں زیادہ تیز تھے، اور یہی ان کی طاقت کا راز بھی تھا۔‘

ان کے بقول ’ان کی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ عام آدمی آنکھ بند کر کے ان کے لیے کام کرتا تھا۔ تمل ناڈو سے آنے والے افراد کی مدد کے لیے وردراجن نے اپنے دو سب سے قابل اعتبار لوگوں کو ذمہ داری دی ہوئی تھی۔‘

مدالیار
،تصویر کا کیپشنمدالیار

حاجی مستان اور وردراجن مدالیار کی ملاقات

حاجی مستان اور وردراجن مدالیار دونوں کا تعلق تمل ناڈو سے تھا۔ حسین زیدی ایک قصہ سناتے ہیں ’ایک بار وردا کو پولیس نے کسٹمز کے ڈاک علاقے سے اینٹینا چرانے کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ پولیس نے اس سے کہا کہ وہ انھیں وہ جگہ بتا دے جہاں اس نے چوری کا وہ مال رکھا ہوا ہے ورنہ وہ اس کے خلاف تھرڈ ڈگری کے تشدد کا استعمال کریں گے۔‘

انھوں نے بتایا ’وردا لاک اپ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کیا جائے کہ تبھی انگلیوں کے درمیان سگریٹ دبائے ایک شخص جیل کی سلاخوں کے پاس آیا اور ان کے نزدیک آ کر بولا ونکم تھلئیور۔ تمل زبان میں تھلئیور لفظ کا استعمال سربراہ کے لیے ہوتا ہے۔ وردا یہ لفظ سن کر حیران رہ گیا۔‘

وردا سے اس سے قبل اتنی عزت کے ساتھ کسی نے بات نہیں کی تھی۔ ان سے اس انداز میں بات کرنے والا شخص حاجی مستان تھا۔

حسین زیدی کے مطابق ’مستان نے وردراجن سے کہا، تم اینٹینا واپس کر دو۔ میں یہ یقینی بناؤں گا کہ تم اس سے زیادہ کماؤ۔ وردراجن نے پہلے تو اعتراض کیا، لیکن مستان نے ان سے کہا میں تمہیں ایسی پیشکش کر رہا ہوں جسے کوئی عقلمند شخص نہیں ٹھکرائے گا۔ اینٹینا واپس کرو اور سونے کے کاروبار میں میرے پارٹنر بن جاؤ۔‘

وردا نے ان سے پوچھا کہ انھیں اس سے کیا فائدہ ہو گا۔ مستان نے جواب دیا ’میں تمہاری مسل پاور (عوامی طاقت) کا استعمال کرنا چاہتا ہوں۔‘

حسین زیدی بتاتے ہیں کہ ’اس منظر کے گواہ پولیس والے یہ بات کبھی نہیں بھولے کہ کس طرح سوٹ اور پالش کیے ہوئے جوتے پہنے ایک شخص نے گنوار سے دکھنے والے سفید بنیان اور لنگی پہنے شخص سے ہاتھ ملایا تھا۔‘

کریم لالہ اور وردراجن مدالیار
،تصویر کا کیپشنکریم لالہ اور وردراجن مدالیار

مستان، کریم لالہ اور وردا کا اتحاد

جیل سے نکلنے کے بعد مستان، وردا کا استعمال اپنے مفاد کے لیے کرنے لگے تھے۔ وردراجن کو عوام کی نبض پتا تھی۔ وہ عام لوگوں کے مسائل سننے کے لیے ہمیشہ گھر پر موجود رہتے تھے۔ مذہبی عقیدے کے پکے ہونے کے سبب وہ ماٹنگا سٹیشن کے باہر بھگوان گنیش کا خیمہ لگانے پر بہت پیسا خرچ کرنے لگے تھے۔

آہستہ آہستہ اس کے بڑھتے اثر و رسوخ کے حصاب سے خیمے کا سائز بھی بڑھنے لگا۔ ورداجن کی زندگی پر بھی متعدد فلمیں بنائی گئیں، مثال کے طور پر نائکن، دیاوان اور اگنیپتھ۔

فلم اگنیپتھ میں امیتابھ بچن کو وردا کی آواز کی نقل اتارتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

ادھر مستان کی طاقت میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا۔ حسین زیدی لکھتے ہیں ’مستان بیرون ممالک جو چاندی بھیجتا تھا وہ اتنی مقبول تھی کہ اسے مستان کی چاندی کہا جاتا تھا۔ مستان نے مالابار ہِل میں ایک شاندار بنگلا بنایا اور کئی گاڑیاں خریدیں۔ انھوں نے مدراس کی صبیحہ بی سے شادی کی جس سے ان کی تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔‘

حسین زیدی کے مطابق ’ستر کی دہائی آتے آتے جنوب اور مغربی ممبئی میں حاجی مستان، وسطی ممبئی میں وردراجن مدالیار اور کریم لالہ کی عوامی طاقت کا ایک زبردست اتحاد قائم ہو گیا۔‘

حاجی مستان
،تصویر کا کیپشنحاجی مستان

گینگ وارز میں بیچ بچاؤ

حاجی مستان کو پہلے 1974 میں اور پھر 1975 میں ایمرجنسی کے دوران گرفتار کر لیا گیا تھا۔ جیل سے آزاد ہونے کے بعد مستان نے سمگلنگ چھوڑ کر خود کو ریئل اسٹیٹ کے کاروبار میں مصروف کر لیا۔

ادھر ممبئی پولیس کے اہلکار یادو راؤ نے وردراجن کو ممبئی سے بھگانے کا بیڑا اٹھایا۔ اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہوئے۔ وردراجن کو آخرکار ممبئی چھوڑ کر مدراس جانا پڑا، جہاں کچھ برسوں بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

اسی کی دہائی میں ممبئی کے عالم زیب اور ابراہیم خاندانوں کے درمیان گینگ وار کا آغاز ہوا۔ حاجی مستان نے ان دونوں کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کی۔

داؤد ابراہیم اور عالم زیب نے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھائی کہ اب ان دونوں کے درمیان تشدد نہیں ہو گا۔ لیکن اگلے ہی روز دونوں گینگز نے دن دہاڑے ایک دوسرے پر گولی چلانی شروع کر دی۔

کسی کو حاجی مستان کو دیے وعدے کا کوئی خیال نہیں تھا۔ ظاہر ہے مستان کا رسوخ اب کم ہو رہا تھا۔ بعد میں داؤد ابراہیم نے انڈیا چھوڑ کر دبئی میں اپنا مستقل ٹھکانہ بنا لیا۔

حاجی مستان
،تصویر کا کیپشنحاجی مستان

ڈان بن گیا بلڈر

انڈر ورلڈ پر مبنی فلموں میں اکثر دکھایا جاتا ہے کہ ڈان گھر بنانے والوں سے پیسا وصول کر رہا ہے۔ لیکن اصل زندگی میں ممبئی کا یہ ڈان خود ہی بلڈر بن گیا تھا۔

ویر سنگھوی لکھتے ہیں ’مستان اور یوسف پٹیل جب یہ کہتے تھے کہ ریئل اسٹیٹ کا کاروبار سمگلنگ سے زیادہ منافع بخش کام ہے، تو وہ مذاق نہیں کر رہے ہوتے تھے۔ جس کی وجہ تھا بامبے رینٹ ایکٹ۔‘ جس نے مالک اور کرائے دار کو ایک ہی مقام پر لا کر کھڑا کر دیا تھا اور اس سے انھوں نے بہت فائدہ اٹھایا۔

مان لیجیے آپ کے پاس ایک فلیٹ ہے، آپ نے اسے کرائے پر دیا ہوا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ کرائے دار آپ کا فلیٹ خالی کر دے تو اس قانون کے تحت آپ کو عدالت میں ثابت کرنا ہو گا کہ آپ کی ضرورت آپ کے کرائے دار کی ضرورت سے زیادہ ہے۔ کرائے دار ظاہر ہے یہ دلیل پیش کرتا تھا کہ اس کے پاس جانے کی کوئی اور جگہ نہیں ہے۔

انڈر ورلڈ
،تصویر کا کیپشنسنیل دت، حاجی مستان اور داؤد ابراہیم

پولیس کے دباؤ میں بیرون ملک چلے گئے

اس قانون کا اثر یہ پڑا کہ ممبئی کے وسطی علاقوں کی حالت بگڑنے لگی۔ مالک مکانوں نے اپنے گھروں کی دیکھ بھال چھوڑ دی۔ چالاک کرائے دار اپنے فلیٹوں کے حصے کر کے انھیں آگے کرائے پر چڑھانے لگے۔

انڈرورلڈ نے اس موقعے پر مالک مکانوں سے ان کے گھروں کو کم قیمتوں پر خریدنا شروع کر دیا۔ اس کے بعد وہ کرائے داروں پر گھر خالی کرنے کا دباؤ ڈالتے اور جو انکار کرتا اسے انجام بھگتنا پڑتا۔

اس کے بعد ڈان وہاں نئے مکان بنا کر اسے مہنگے داموں پر بیچ دیتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ سمگلنگ سے کہیں زیادہ اس کاروبار میں آمدن ہونے لگی۔

اسی کی دہائی میں جب ان لوگوں پر پولیس کا دباؤ بڑھنے لگا تو متعدد ڈانز نے دبئی کا رخ کرنا شروع کر دیا۔ وہاں سے بھی انھوں سے انڈر ورلڈ کا کام نہیں چھوڑا لیکن اس بارے میں کہانی پھر کبھی سنائیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: