حبیب بینک کی ’شریعہ کمپلائنٹ پوائنٹ آف سیل مشین‘ پر تبصرے اور سوالات

پاکستان کے بڑے بینکوں میں سے ایک حبیب بینک نے پیر کو ایک مقامی اخبار میں اشتہار دیا جس میں ان کی تازہ ترین پروڈکٹس میں سے ایک ’شریعہ کمپلائنٹ پوائنٹ آف سیل مشین‘ یعنی شریعت سے مطابقت رکھنے والی مشین کا ذکر کیا گیا۔

تاہم اس اشتہار کے حوالے سے لوگوں نے سوشل میڈیا پر کئی سوالات اٹھائے ہیں۔

جیسے کہ ایک مشین شریعہ کے مطابق کیسے ہو سکتی ہے یا پھر یہ کہ پیسے لینے کا ایک سادہ عمل شرعی یا غیر شرعی کیسے ہو سکتا ہے۔

انتظامی سوالات کے علاوہ ایک موضوع جس کے تناظر میں حبیب بینک پر کافی تنقید کی گئی وہ مذہب کے استعمال کے حوالے سے تھا۔

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے اس اشتہار پر تنقید کرتے ہوئے اسے حبیب بینک کی جانب سے اپنی تشہیر کے لیے ’مذہب کا استعمال‘ قرار دیا۔

بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھائے کہ ایک مشین جو کہ ایک آلہ ہے، شریعت کے مطابق کیسے ہو سکتی ہے؟ مگر بیشتر لوگوں نے اس کاوش کو بہت زیادہ سنجیدگی سے نہیں پرکھا۔

’برو اِن فنٹیک‘ نامی صارف نے قدرے مزاحیہ انداز میں کہا کہ ’اس میں بسم اللہ پڑھ کر ٹرانزیکشن کرتے ہیں کیا؟ یا اللہ میری ٹرانزیکشن مکمل کرا دینا؟‘

ٹویٹ

ایک صارف نے یہ سوال کیا کہ کیا ملنے والی رسید پر ’حدیث چھپی ہوتی ہے؟‘

مگر سبھی لوگ اس کاوش کا مذاق نہیں اڑا رہے۔ کچھ لوگوں نے اس کی تعریف بھی کی اور کہا کہ انھیں یہ پسند آیا۔

ٹویٹ

حسیب شاہ نامی صارف نے کہا کہ عام پوائنٹ آف سیلز کے مقابلے میں اس مشین میں تین چار ممکنہ بہتر عناصر ہو سکتے ہیں، جیسے کہ دکاندار کو مجبور نہیں کیا جائے گا کہ وہ روایتی بینک اکاؤنٹ کھولیں اور ان کا اکاؤنٹ اسلامی بینکنگ کے مطابق ہو گا، دوئم یہ کہ یہ پوائنٹ آف سیلز سینما یا نیٹ فلیکس قسم کی ٹرانزیکشنز کے لیے استعمال نہیں ہو سکے گا۔

تاہم ایک صارف بیرسٹر سلیم نے اس حوالے سے بینک کی ممکنہ توجیہہ کے بارے میں کہا کہ ’ہو سکتا ہے کہ یہ صرف ڈیبٹ کارڈز پر چلتی ہو، کریڈٹ کارڈ پر نہیں (جن میں سود کا عنصر ہو سکتا ہے؟)۔‘

ٹویٹ

حبیب بینک کا مؤقف: اصل کہانی کیا ہے؟

اس حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حبیب بینک کے کورپوریٹ افیئرز کے سربراہ فرحان احمد نے کہا کہ ’ہم اسے پاکستان کی پہلی شریعہ کمپلائنٹ پوائنٹ آف سیل میشن اس لیے کہہ رہے ہیں کہ یہ مشین لگوانے کا جو بینک اور دکاندار کے درمیان معاہدہ ہو گا وہ شرعی اصولوں کے مطابق ہو گا۔‘

ٹویٹ

اس سوال کے جواب میں کہ ایک عام معاہدے اور شرعی اصولوں کے مطابق بینک اور دکاندار کے معاہدے میں کیا فرق ہے تو فرحان احمد کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر اس مشین سے وابسطہ جو اکاؤنٹ ہو گا، جس میں پیسے جائیں گے وہ اسلامک بینک اکاؤنٹ ہونا ضروری ہے۔

اس کے علاوہ حبیب بینک میں اسلامک بینکنگ کے سربراہ محمد آفاق خان نے کہا کہ دکاندار اور بینک کے درمیان جو معاہدہ کیا جاتا اس کو مکمل طور پر شرعی اصولوں پر استوار کیا جاتا ہے مثالاً اس معاہدے سے سود کے لین دین کو نکال دیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ‘دیکھیں مشین شریعہ کمپلائنٹ نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں جو اہم بات ہے کہ بینک اور دکاندار کے درمیان ہونے والے معاہدے کو شرعی اصولوں سے مکمل مطابقت میں لایا گیا ہے۔ اب یہ اشتہار تو نہیں بنایا جا سکتا کہ ہم نے دکانداروں کے لیے نیا شریعہ کمپلائنٹ معاہدہ تیار کر لیا ہے، اس لیے اشتہار میں عام لوگوں کو سمجھانے کے لیے اسے شریعہ کمپلائنٹ پوائنٹ آف سیلز کہا گیا ہے۔‘

فرحان احمد کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ یہ مشین کسی ایسے کاروبار پر نہیں لگائی جا سکتی جو کہ شریعت کے مطابق نہ ہو۔

مگر وہ کون سے کاروبار ہیں جنھیں حبیب بینک شریعت کے مطابق نہیں سمجھتا؟ ان کی مثال دیتے ہوئے فرحان احمد کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص آڈیو کیسٹیں یا فلمیں بیچتا ہے تو ایسا دکاندار یہ مشین نہیں لگوا سکتا۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے کچھ علاقوں میں لائسنس شدہ شراب خانے بھی ہیں جہاں یہ مشین نہیں لگوائی جا سکتی۔‘

اس سوال پر کہ کیا حبیب بینک کا اب یہ کام ہے کہ وہ یہ فیصلہ کریں کہ کون سا کاروبار شرعی ہے اور کون سا نہیں، فرحان احمد کا کہنا تھا کہ ’ہم یہ فیصلہ نہیں کرتے کہ کون سا کاروبار شرعی ہے یا کون سا نہیں مگر ہم شرعی اصولوں کے مطابق ہر کاروبار کا جائزہ ضرور لیتے ہیں۔‘

فرحان احمد نے اس حوالے سے کہا کہ جو کاروبار پاکستان کے شرعی قوانین کے مطابق جائز ہیں، ان کو بینک شرعی سمجھتا ہے۔

آفاق خان نے کہا کہ جوئے خانے یا قحبہ خانوں پر یہ مشین نہیں لگوائی جا سکتی مگر چونکہ ’پاکستان میں یہ چیزیں ویسے ہی غیر قانونی ہیں، اس لیے پاکستان میں تو زیادہ تر قانونی کاروباروں کو ویسے ہی شرعی تصور کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ فلم انڈسٹری یا لائسنس شدہ شراب خانوں کے علاوہ شاید ایسا کوئی بھی کاروبار نہ ہو جسے بینک غیر شرعی تصور کرے۔

فرحان احمد نے کہا کہ اگر کوئی کریانے کی دکان ہے اور وہاں پر فلمیں بیچی جا رہی ہیں، وہاں پر کھانے پینے کی اشیا یا ادویات کی ٹرانزیکشن تو اس مشین پر ہو سکے گی مگر اگر وہی دکان فلم بیچے گی تو وہ اس میشن سے پیسے نہیں لے سکیں گے۔

تاہم بینک کے پاس اس بات کو یقینی بنانے کا کوئی نظام موجود ہے کہ اس مشین پر ہونے والی ٹرانزیکشن کن اشیا کی خرید و فروخت کی ہیں؟

فرحان احمد کا کہنا تھا کہ یہ پڑوڈکٹ ’ہم نے لوگوں کے مطالبے پر متعارف کرائی ہے اور ہمیں توقع ہو گی کہ جو دکاندار مکمل طور پر شریعہ کے اصولوں کی پابندی کرنا چاہتا ہے، وہ اس پر غیر شرعی اشیا فروخت نہیں کرے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس مشین سے منسلک ہر قدم پر ہونے والا عمل شریعت کے مطابق ہو گا۔‘

error: