حماد اظہر نے آئی ایم ایف پروگرام، اسٹیٹ بینک بل پر نظرثانی کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد: بین الاقوامی مالیاتی فنڈز (آئی ایم ایف) سے 2 ارب 50 کروڑ ڈالر کے بین الاقوامی بانڈ لانچ کرنے اور 50 کروڑ ڈالر کی قسط وصول کرنے کے ایک روز ہی نومنتخب وزیر خزانہ حماد اظہر نے آئی ایم ایف پروگرام اور متنازع اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل 2021 کا جائزہ لینے کا اشارہ دے دیا۔

 رپورٹ کے مطابق انہوں نے وزیر خزانہ کی حیثیت سے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں کہا کہ ہم اسٹیٹ بینک قانون کو کھلے ذہن کے ساتھ پارلیمنٹ میں لے کر جارہے ہیں اور اس کی بہتری کے لیے سفارشات اپنانے کے لیے تیار ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل بین الاقوامی طریقوں کے مطابق تیار کیا گیا تھا اور اسے پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا تھا۔‎

انہوں نے کہا کہ معاملے کو سنسنی خیز بنا دیا گیا جیسے ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔

حماد اظہرنے مزید کہا کہ مرکزی بینک کو ماضی میں بھی خودمختاری دی گئی تھی جو مجوزہ بل کے ذریعے مستحکم کی جارہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کی روشنی میں بہتری کی سفارشات سامنے آنے پر اس بل پر نظرثانی کی جائے گی۔

وزیر خزانہ نے متعدد سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا کہ آیا آئی ایم ایف کے اتفاق رائے سے منظور شدہ اصل اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کو ایک طرف رکھ دیا گیا اور قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کی منظوری کے بغیر ایک نظر ثانی شدہ بل کو مشکوک طور پر کابینہ کے پاس لے جایا گیا۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک قانون پر آئی ایم ایف کے ٹیکنیکل مشن کے مسودہ بل اور اس کے ساتھ کی رپورٹ کو عام کرنے کی یقینی دہانی بھی نہیں کرائی۔

دوران نیوز کانفرنس وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کا بھی جائزہ لے سکتی ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اس کی سخت شرائط کے پیش نظر پروگرام کے ڈیزائن کو بھی تبدیل کیا جاسکتا ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس ہمیشہ پروگرام پر نظر ثانی کرنے کے اختیارات ہیں۔

حماد اظہر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے بات چیت جاری ہے جبکہ آئی ایم ایف کی طرف سے 50 کروڑ ڈالر کی قسط پہلے ہی موصول ہوچکی ہے جس کے بعد بین الاقوامی بانڈز کے ذریعہ اٹھائے جانے والے چند دن میں مزید 2 ارب 50 کروڑ ڈالررقم ہوگی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ افراط زر ایک بہت بڑا چیلنج رہا کیونکہ کووڈ 19 کے بعد یہ عالمی مسئلہ ہے اور ان کمزوریوں کا ازالہ کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: