حمزہ شہباز: اگر گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نو منتخب وزیر اعلی سے حلف لینے سے انکار کریں تو آگے کیا ہو گا؟

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں سنیچر کو ایک غیر معمولی اجلاس ہوا جس میں اپوزیشن کے امیدوار حمزہ شہباز نئے وزیرِ اعلی منتخب ہوئے مگر وہ تاحال اپنے عہدے کا حلف نہیں اٹھا سکے جس سے ایک غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان مسلم لیگ ق کے اتحاد نے اس اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا مگر اس سے قبل کئی گھنٹوں تک ہنگامہ آرائی جاری رہی جس میں بعض ارکان ہاتھا پائی بھی کرتے دیکھے گئے۔

سابقہ حکومت کے اتحاد کی غیر موجودگی میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے لاؤڈ سپیکر کی مدد سے سپیکر کی گیلری میں کھڑے ہو کر اجلاس کی کارروائی چلائی اور الیکشن کروایا۔ انھوں نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کو کامیاب قرار دیا۔

اگلے ہی روز نئے وزیرِ اعلی کو گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ سے عہدے کا حلف لینا تھا۔ تاہم ایسا نہیں ہوا کیونکہ گورنر پنجاب ان سے حلف لینے کے لیے تیار نہیں تھے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق گورنر، جنھیں سابقہ حکومت نے اپنے خاتمے سے قبل تعینات کیا تھا، نے وزیرِ اعلی کے انتخاب کے عمل کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔

وزیرِ اعلی کی حلف برداری کی تقریب اتوار کے روز مؤخر ہوئی جو تاحال نہیں ہو پائی۔ اس دوران وفاقی حکومت نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کے لیے سفارش صدرِ پاکستان کو بھجوا دی ہے تاہم اس پر تاحال عملدرآمد نہیں ہوسکا۔

صدر عارف علوی نے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کو اپنے عہدے پر کام جاری رکھنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ برطرفی کی سمری پر فیصلہ ہونے تک اپنے فرائض سر انجام دیتے رہیں۔

ن لیگ گورنر کے حلف نہ لینے کے عمل کے خلاف منگل کے روز عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

حال ہی میں مرکز میں بھی ایسی ہی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب ن لیگ کے رہنما شہباز شریف کے وزیرِاعظم منتخب ہونے پر صدرِ پاکستان عارف علوی کو ان سے حلف لینا تھا۔ تاہم صدر علالت کی وجہ سے چھٹی پر چلے گئے۔

ان کی غیر موجودگی میں سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی نے نئے وزیرِاعظم سے حلف لیا۔ خیال ہے کہ نئی وفاقی کابینہ سے بھی سینیٹ کے چیئرمین ہی حلف لیں گے۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب میں بھی ایسا نہیں ہو سکتا۔

یعنی اگر گورنر پنجاب حلف نہ لینا چاہیں تو کیا کوئی دوسری شخصیت نو منتخب وزیرِ اعلی سے حلف لے سکتی ہے؟ اور اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو اس مسئلے کا حل کیسے ممکن ہو گا؟

کیا نو منتخب وزیر اعلیٰ سے حلف صرف گورنر ہی لے سکتا ہے؟

قانونی اور آئینی ماہرین کے مطابق نئے وزیرِ اعلی سے عہدے کا حلف لینے کے حوالے سے پاکستان کے آئین کے مطابق دو ہی صورتیں ہیں اور دونوں گورنر کے اختیار میں ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے قانونی ماہر اور وکیل سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ 'قانون میں یہی لکھا ہے کہ گورنر ہی کو نئے منتخب ہونے والے وزیرِ اعلی سے عہدے کا حلف لینا ہوتا ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی وجہ سے گورنر ایسا کرنے کے قابل نہ ہوں یعنی اگر وہ علیل ہوں یا چھٹی پر ہوں تو اس صورت میں بھی گورنر کا اختیار ہے کہ وہ کسی دوسرے عہدیدار کو نامزد کریں جو نئے وزیرِ اعلی سے حلف لے۔

عمر سرفراز چیمہ
،تصویر کا کیپشنگورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ نے وزیرِ اعلی کے انتخاب کے عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے

گورنر کی جگہ دوسرا کون حلف لے سکتا ہے؟

پاکستان میں پارلیمانی ترقی کے لیے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گورنر کی غیر موجودگی میں اسمبلی کے سپیکر ان کی جگہ پر ان کی طرف سے نامزد کیے جانے پر نئے وزیرِاعلٰی سے حلف لے سکتے ہیں۔

تاہم پنجاب میں موجودہ صورتحال میں سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی خود ہی وزیرِ اعلٰی کے امیدوار تھے۔ احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اس صورت میں گورنر ڈپٹی سپیکر کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ حلف برداری کی تقریب کروائیں۔

’لیکن اگر ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ نہ تو گورنر خود حلف لیتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کو اپنی جگہ حلف لینے کے لیے نامزد کرتے ہیں تو پھر واحد راستہ عدالت کے پاس جانے کا بچتا ہے۔ آئین میں اس حوالے سے کوئی واضح ہدایات موجود نہیں ہیں۔‘

احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ اگر معاملہ عدالت کے پاس جاتا ہے تو عدالت کو آئین کی تشریح کرتے ہوئے اس پر فیصلہ دینا ہو گا۔

حمزہ شہباز کے حلف کا معاملہ: عدالت کیسے حل نکال سکتی ہے؟

اگر گورنر خود حلف نہیں لیتے اور کسی دوسرے کو نامزد بھی نہیں کرتے تو اس صورت میں نئے منتخب ہونے والے وزیرِاعلٰی سے حلف کون لے گا، اس حوالے سے وکیل سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ آئین کے اندر کوئی واضح ہدایات موجود نہیں ہیں اور اس لیے معاملہ عدالت کے پاس جائے گا۔

'ایسی صورت میں عدالت آئین کو دیکھتے ہوئے تشریح کرے گی اور فیصلہ دے گی کہ حلف لینے کی ذمہ داری کس کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت اس پر حکم بھی دے سکتی ہے کہ کون ذمہ دار شخص حلف لینے کا پابند ہے۔‘

سلمان اکرم راجا کا کہنا تھا کہ عدالت گورنر پنجاب کو حکم دے سکتی ہے کہ وہ نئے منتخب ہونے والے وزیرِ اعلی سے عہدے کا حلف لیں۔ یا پھر ایسا کرنے کے لیے کسی دوسرے کو نامزد کریں۔ 'یہ عدالت کی صوابدید ہو گی کہ وہ کیا حکم دیتی ہے۔'

سلمان اکرم راجا کے مطابق اگر گورنر اس کے باوجود بھی وزیرِ اعلٰی سے عہدے کا حلف نہیں لیتے 'تو وہ توہینِ عدالت کے مرتکب ہوں گے اور وہ (یہ الزام) ثابت ہونے پر عہدے سے فارغ بھی ہو سکتے ہیں۔'

دوست مزاری
،تصویر کا کیپشنڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قائم مقام سپیکر کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کروایا

کیا گورنر وزیرِ اعلی کے انتخاب پر اعتراض کر سکتے ہیں؟

وزیرِ اعلی کے انتخاب کے بعد گورنر پنجاب کے حوالے سے مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبر سامنے آئیں کہ اسمبلی کے سیکریٹری کی طرف سے موصول ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد انھوں نے انتخابی عمل کے آئینی ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

پلڈیٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ آئینی طور پر گورنر کے پاس وزیرِ اعلی کے انتخاب کے عمل کے حوالے سے اعتراض اٹھانے کے اختیارات نہیں ہیں۔ 'وہ صرف اس عہدیدار کے بھیجے گئے نتائج کو آگے بڑھائیں گے جس نے انتخابی عمل کروایا ہو۔'

یاد رہے کہ اس صورتحال میں ڈپٹی سپیکر دوست محمد مزاری نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قائم مقام سپیکر کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کا انتخاب کروایا۔

وکیل سلمان اکرم راجا کے مطابق گورنر کے پاس اس قسم کے کوئی اختیارات نہیں کہ وہ انتخابی عمل پر اعتراض اٹھائیں یا اس پر کوئی اقدامات کریں۔

’انھیں صرف کارروائی آگے بڑھاتے ہوئے نئے وزیرِاعلٰی سے عہدے کا حلف لینا ہوتا ہے۔‘

error: