حکومت اب معیشت میں بہتری لانے پر توجہ دے گی، وزیر اعظم

وزیر اعظم عمران خان نے نئے وفاقی بجٹ کو 'ترقی پر مبنی' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت عام آدمی کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے معیشت کو اٹھانے پر توجہ مرکوز کرے گی۔

وزیر اعظم نے اپنی زیرِ صدارت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'میں مطمئن ہوں کیونکہ ملک کی معیشت نہ صرف مستحکم ہے بلکہ درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے'۔

انہوں نے کہا کہ کورونا کے دور میں جب عالمی سطح پر ہر معیشت کو سخت دھچکا لگا اور معاشی مسائل پیدا ہوئے ہیں وہاں پاکستان نے کامیاب حکمت عملی سے معاشی سفر طے کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ ترقی کا بجٹ ہے جس کا مقصد معاشی استحکام کو نہ صرف مزید مستحکم کرنا بلکہ معیشت کے اہم شعبوں زراعت، صنعت، ہاؤسنگ وغیرہ جیسے اہم شعبوں کو فروغ دینا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزرا، معاونین خصوصی، پارٹی رہنما اور ترجمان شریک ہوئے جس میں ملکی صورتحال بالخصوص حکومت کی جانب سے پیش کردہ عوامی ترقیاتی بجٹ، اس میں عوام کو پہنچائے جانے والے ریلیف اور خصوصاً معاشی ترقی کے عمل کو تیز کرنے کے حوالے سے اقدامات زیر غور آئے۔

پارٹی رہنماؤں نے ایک متوازن، عوام دوست اور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے مثبت بجٹ پیش کرنے پر وزیر اعظم اور حکومتی معاشی ٹیم کو مبارکباد دی۔

حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے چند اہم اقدامات کی نشاندہی کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام، صحت کارڈ، 10 بلین ٹری سونامی، سائنس و ٹیکنالوجی کا فروغ، تخفیف غربت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے جیسے پروگرامز پر خصوصی توجہ دینے کا مقصد ملک کو درپیش چیلنجز پر مؤثر طریقے سے قابو پانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی بھرپور کوشش رہی ہے کہ بجٹ میں معاشرے کے ہر طبقے کے لیے اُمید کی کرن ثابت ہو۔

عمران خان نے پارٹی ترجمانوں کو ہدایت کی کہ بجٹ کے نکات کے بارے میں عوام کو بھرپور آگاہی فراہم کریں تاکہ غلط فہمیاں پھیلانے والے عناصر کے عزائم ناکام ہوں۔

ٹارگٹڈ سبسڈی

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت معاشرے کے کمزور طبقات کو حکومت کی جانب سے سبسڈی فراہم کرنے کے حوالے سے متعارف کرائے جانے والے نئے نظام پر بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کی بدولت کمزور طبقات کو بنیادی اشیائے ضروریات کی خریداری میں مالی معاونت فراہم کی جائے گی اور اس حوالے سے حکومت تمام مالی وسائل فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ سبسڈی کے نئے نظام کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ اس کا آئندہ ماہ باقاعدہ اجرا کیا جاسکے۔

اجلاس میں وزیر خزانہ شوکت ترین، معاونین خصوصی ڈاکٹر ثانیہ نشتر، ڈاکٹر وقار مسعود، ڈاکٹر شہباز گل، صدر نیشنل بینک عارف عثمانی و متعلقہ افسران شریک ہوئے۔

معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ و تخفیف غربت ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے وزیر اعظم کو ٹارگٹڈ سبسڈی کی فراہمی کے حوالے سے مجوزہ نظام پر تفصیلی بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ احساس سروے 92 فیصد تک مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ اسی ماہ کے آخر تک اس کام کو مکمل کر لیا جائے گا۔

صدر نیشنل بینک کی جانب سے حکومت کی فراہم کردہ سبسڈی مستحق خاندانوں کو فراہم کرنے کے مجوزہ نظام پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی کے نظام کو متعارف کرانے کا مقصد کروڑوں خاندانوں کو بنیادی اشیائے ضروریہ کی خریداری میں مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔

وزیر اعظم نے ٹارگٹڈ سبسڈی کے حوالے سے نظام ترتیب دینے پر متعلقہ حکام کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے امیر، غریب کو یکساں سبسڈی فراہم کرنا نہ صرف سرکاری وسائل کا زیاں ہے بلکہ اس سے ان غریب لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے جو اس معاونت کے مستحق ہیں۔

ٹریفک پولیس اہلکار کی حوصلہ افزائی

وزیر اعظم عمران خان نے زخمی ہونے کے باوجود اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے پر اسلام آباد ٹریفک پولیس (آئی ٹی پی) کے اہلکار قیصر شکیل کی حوصلہ افزائی کی۔

انہوں نے ہیڈ کانسٹیبل قیصر شکیل کو وزیر اعظم ہاؤس بلا کر شاباش دی اور فرض شناسی کی اس عمدہ مثال پر انہیں انعام دینے کا بھی اعلان کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ قیصر شکیل کی فرض شناسی دیگر سرکاری اہلکاروں کے لیے بھی قابل تقلید مثال ہے۔

قیصر شکیل 9 جون کو زخمی ہوئے اور دو دن کے آرام کے بعد 11 جون کو دوبارہ ڈیوٹی پر واپس آگئے تھے۔

ٹریفک پولیس اہلکار کی زخمی ہونے کے باوجود شدید گرمی میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: