حکومت حدیبیہ کیس کو دوبارہ کھولنے کے فوائد اور نقصانات کا جائزہ لینے میں مصروف

اسلام آباد: شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز کیس کو دوبارہ کھولنے سمیت متعدد قانونی امور پر غور کرنے کے لیے حکومت کی اعلیٰ قانونی ٹیم نے اٹارنی جنرل آف پاکستان (اے جی پی) کے دفتر میں ملاقات کی۔

اجلاس میں اے جی پی خالد جاوید خان، وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر اور سینیٹر سید علی ظفر نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے حال ہی میں اپنی قانونی ٹیم کو یہ ہدایت کی تھی کہ وہ شریف خاندان کے خلاف ایک ارب 20 کروڑ روپے کے حدیبیہ پیپر ملز (ایچ پی ایم) کیس کی تازہ تحقیقات شروع کرنے پر غور کریں۔

5 جنوری 2018 کو سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ریفرنس میں دائر نظرثانی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔

عدالت عظمیٰ نے کہا تھا کہ قانونی کارروائی کا غلط استعمال کیا گیا اور ‘ریفرنس کو بلا جواز طوالت دی گئی'۔

اندرونی ذرائع کا خیال ہے کہ ایچ پی ایم کیس کو دوبارہ کھولنے کا آپشن موجود ہے اور اس کیس کو بحال کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے فیصلے کے اندر بھی امکان موجود ہے کیونکہ اس میں کبھی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔

اگرچہ نیب ریفرنس کو لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے مسترد کرنے کے بعد حکومت کو دوبارہ تفتیش کا حکم دینے کے لیے محتاط رہنے کی ضرورت ہے تاہم معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل اس کی تفصیلی جانچ کی جائے گی۔

یہاں تک کہ اگر اس کیس کو دوبارہ کھولنے کے حق میں فیصلہ لیا جاتا ہے تو پھر بھی حکومت کا یہ استحقاق ہوگا کہ وہ اس معاملے کو دوبارہ کھولے یا چھوڑے۔

وزیر اعظم عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی زور دے رہے ہیں کہ اپوزیشن کے رہنما ہوں یا حکمران جماعت کے ممبر ہوں، اگر کسی کے خلاف کوئی ریفرنس یا کیس زیر التوا ہے تو اس پر پوری کارروائی کی جانی چاہیے۔

اجلاس کے بارے میں سوال پر سینیٹر علی ظفر نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے پاس کوئی اطلاع نہیں ہے تاہم تجویز پیش کی کہ کیس کے بند ہونے کے بعد تازہ ثبوت سامنے آئیں تو کیس کو تحقیقات کے لیے دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔

انہوں نے قتل کے واقعات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر نئے گواہ یا شواہد یا ڈی این اے کی رپورٹ سامنے آئی ہے تو قانون دوبارہ تحقیقات کی اجازت دیتا ہے۔

راولپنڈی رنگ روڈ اسکینڈل سے متعلق سوال کے جواب میں سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے کہ حکمران جماعت نے اربوں روپے کے منصوبے کو روک دیا ہے اور حکومت کے نوٹس میں بدعنوانی کے الزامات آنے کے بعد تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ اس معاملے میں ابھی تفتیش ہونا باقی ہے اور پھر کیس کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'پی ٹی آئی کی حکومت نے جو کلچر متعارف کرایا ہے ہمیں اس کی تعریف کرنی چاہیے کہ کسی بھی سطح پر بدعنوانی کو برداشت نہیں کیا جائے گا'۔

تاہم سینیٹر علی ظفر نے جہانگیر ترین شوگر اسکینڈل کے بارے میں ایک سوال کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ 'عوام کو جلد ہی اس کا انجام پتا چل جائے گا'۔

وزیر اعظم کے مشیر مرزا شہزاد اکبر نے اٹارنی جنرل سے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ ایچ پی ایم کیس کو دوبارہ کھولنے کا کوئی بھی فیصلہ تمام پہلوؤں پر محتاط غور کے بعد لیا جائے گا کیونکہ سپریم کورٹ لاہور ہائیکورٹ نیب کی اپیل کو پہلے ہی مسترد کرچکی ہے۔