حکومت نے شیخ عظمت سعید کو آئی پی پیز کیس میں ثالث نامزد کردیا

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس شیخ عظمت سعید کو 2002 کی پالیسی کے تحت قائم چند انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر (آئی پی پیز) کے ساتھ 50 ارب روپے سے زائد کے تنازع کے تصفیہ کے لیے 'ثالث' نامزد کیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق وزارت قانون سے 8 فروری کو جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ پاور ڈویژن کی درخواست پر جسٹس (ر) شیخ عظمت سعید کو وفاقی حکومت کی جانب سے ثالث نامزد کیا گیا ہے تاکہ کچھ خود مختار بجلی پیدا کرنے والوں کے ساتھ مبینہ زائد ادائیگیوں کے تنازع کو حل کیا جا سکے جو پاور جنریشن 2002 کی پالیسی کے تحت قائم کی گئی تھیں۔

اسی طرح ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاسم ودود کو ثالثی کے عمل کے لیے قانونی فرم کی معاونت کے لیے نامزد کیا گیا ہے کیونکہ وہ پہلے ہی آئی پی پیز کے ساتھ مذاکرات میں شامل اور مسائل سے پوری طرح واقف ہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ سابق جج کو کسی بھی کام کے لیے ملنے والے معاوضے کے پیکج کا حجم کیا ہوگا۔

قاسم ودود نے کہا کہ ثالثی کا عمل قانونی فرم کے انتخاب کے بعد شروع ہوگا اور وضاحت کی کہ کارروائی کے دوران آپریشنل اور دیکھ بھال کے اخراجات کے ساتھ ساتھ متعدد تھرمل یا ریزیڈیوئل فیول آئل پر مبنی آئی پی پیز کی جانب سے ایندھن کی لاگت کی ایڈجسٹمنٹ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

24 ستمبر 2020 کو کابینہ کمیٹی برائے توانائی (سی سی او ای) نے آئی پی پیز کے حوالے سے مختلف شرائط و ضوابط میں ترمیم کو باضابطہ معاہدوں پر عمل درآمد کرنے کے لیے وزیر توانائی کی سربراہی میں ایک عملدرآمد کمیٹی تشکیل دی تھی جس میں قاسم ودود شامل تھے۔

جسٹس (ر) شیخ عظمت سعید سپریم کورٹ کے اس 5 رکنی بینچ میں شامل تھے جس نے 28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس سعید نے قومی احتساب بیورو (نیب) اور برطانیہ کی اثاثہ برآمدگی فرم، براڈشیٹ ایل ایل سی سے متعلق تنازعات کو دیکھنے کے لیے حکومت کے تشکیل دیے گئے ایک رکنی کمیشن کے طور پر کام کیا۔

جولائی 2021 میں حکومت نے بجلی کی خریداری کے معاہدوں پر دوبارہ بات چیت کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ 2002 کی پالیسی کے تحت کئی آئی پی پیز کے ساتھ پہلے کے معاہدوں پر نظرثانی کی جا سکے اور حکومت سے حاصل کردہ 'اضافی ادائیگیوں' کی وصولی کی جا سکے۔

اس سے قبل ستمبر 2020 میں حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ گفت و شنید اور معاہدوں کی شرائط میں تبدیلی اور سرکاری پاور پراجیکٹس کی بندش کی وجہ سے 10 سال کے عرصے میں تقریباً 8 کھرب 56 ارب روپے کی بچت ہوئی۔

کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے نیب کے مشورے پر تقریباً 52 ارب روپے کی ریکوری کے لیے متعلقہ شرائط پر دوبارہ گفت و شنید کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کمیٹی نے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک عملدرآمد کمیٹی کو بھی بحال کیا تھا، جس میں لا ڈویژن کے ایک نمائندے کو شامل کیا گیا تھا جس نے گزشتہ سال فروری میں تقریباً 47 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے تھے۔

24 ستمبر 2020 کو سی سی او ای نے اس وقت کے وزیر توانائی عمر ایوب خان کی سربراہی میں ایک عمل درآمد کمیٹی تشکیل دی تھی تاکہ مختلف شرائط و ضوابط میں نظرثانی کو باضابطہ معاہدوں میں نافذ کیا جا سکے۔