حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے ساڑھے 3 سو کارکنان رہا کردیے

بظاہر جی ٹی روڈ کے راستے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے والے پرتشدد مظاہرین کے سامنے ایک اور مرتبہ مکمل ہتھیار ڈالتے ہوئے وفاقی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ساڑھے 3 سو سے زائد کارکنان کو رہا کردیا۔

 رپورٹ کے مطابق ساتھ ہی حکومت نے اعلان کیا کہ دیگر کارکنان کے خلاف کیسز بدھ (27 اکتوبر) تک واپس لے لیے جائیں گے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ حکومت نے ٹی ایل پی رہنماؤں کو فورتھ شیڈول لسٹ پر نظرِ ثانی کرنے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ ان کے زیر حراست سربراہ سعد رضوی کو رہا کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔

نیوز کانفرنس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ نے ایک ٹوئٹ کر کے بتایا کہ ’ہم نے ٹی ایل پی کے ساڑھے 3 سو کارکنان رہا کردیے ہیں اور ہم ٹی ایل پی کے ساتھ ہونے والے فیصلے کے مطابق مریدکے کی سڑک دونوں اطراف سے کھولے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ٹی ایل پی کے ساتھ مذاکرات کا ایک اور دور وزارت داخلہ (اسلام آباد) میں پیر (آج) کی صبح ہوگا۔

تاہم ٹی ایل پی شوریٰ کے رکن نے دعویٰ کیا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے وزیر اعظم عمران خان کی واپسی تک کا وقت مانگا ہے جو اس وقت سعودی عرب کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ’شاید لوگ کہیں گے ریاست جھک گئی ہے لیکن ریاست کا کام طاقت کا استعمال کرنا نہیں ہے بلکہ میرے نقطہ نظر کے مطابق مفاہمت کی راہ نکالنا ہے'۔

ٹی ایل پی شوریٰ کے ایک رکن نے کہا کہ وہ حکومت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہیں کہ وہ مریدکے میں دو دن تک قیام کریں اور انتظار کریں، کیونکہ حکومت نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ ٹی ایل پی کے سربراہ اور شوریٰ کے دیگر اراکین سمیت تمام گرفتار افراد کو رہا اور فورتھ شیڈول پر نظرِ ثانی کرے گی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت نے وعدہ کیا کہ وہ نومبر 2020 میں تحریک کے ساتھ کیے گئے معاہدے پر عمل کرے گی۔

ٹی ایل پی شوریٰ رکن کے مطابق رہائی کے بعد ان کی قیادت اور کارکن مریدکے میں مارچ کرنے والوں میں شامل ہوں گے اور ممکنہ طور پر لانگ مارچ کے خاتمے کے اپنے اگلے منصوبے کا اعلان کریں گے۔

ٹی ایل پی کو کالعدم قرار دیا ہے لیکن پابندی نہیں لگائی، شیخ رشید

وزیر داخلہ نے دعویٰ کیا کہ کالعدم ٹی ایل پی کے زیر حراست سربراہ 8 گھنٹوں سے زائد وقت تک جاری رہنے والے مذاکرات کا حصہ رہے اور ان کے ساتھ ون آن ون ملاقات کے دوران بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم کا رکن بننے کو تیار نہیں تھے لیکن انہوں نے ٹی ایل پی کے رہنماؤں کے اصرار پر مذاکرات میں حصہ لیا۔

ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے حیران کن طور پر کہا کہ حکومت نے ’ٹی ایل پی پر پابندی نہیں لگائی‘۔

شیخ رشید نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ان (ٹی ایل پی) پر پابندی نہیں لگائی، وہ اپنے نشانات پر انتخابات بھی لڑ رہے ہیں، وہ نہ یہاں ہیں نہ وہاں، ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع نہیں کیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ میڈیا رپورٹس میں ٹی ایل پی کو کالعدم کیوں کہا گیا تو وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم نے انہیں کالعدم قرار دیا ہے اس لیے یہ ان کے نام کے ساتھ لکھا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: