حکومت کا مخصوص شہروں کے تعلیمی اداروں میں 15 تا 28 مارچ تعطیلات کا اعلان

وفاقی حکومت نے ملک میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر مخصوص شہروں میں ایک مرتبہ پھر 15 مارچ سے 28 مارچ تک تعلیمی ادارے موسم بہار کی چھٹیوں کے سلسلے میں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کورونا وائرس کیسز میں اضافے کے حوالے سے این سی او سی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے آگاہ کیا۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ تعلیم کے تناظر میں بیماری کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا گیا کیوں کہ 5 کروڑ طالبعلم مختلف تعلیمی اداروں میں جاتے ہیں اور یہ ایسا شعبہ ہے جس پر بیماری کا براہِ راست اثر پڑتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد دیکھا گیا کہ سندھ اور بلوچستان میں حالات ابھی تک ٹھیک ہیں اس لیے وہاں 50 فیصد بچے پہلے کی طرح تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے تعلیم حاصل کریں گے۔تحریر جاری ہے‎

ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پنجاب خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں مسائل نظر آئے ہیں اس لیے پیر سے کچھ مخصوص شہروں کے تمام تعلیمی اداروں میں بہار کی چھٹیاں دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے جن اضلاع کے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں دی جائیں گی ان میں فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاوہر، گجرات، راولپنڈی، سیالکوٹ اور ملتان شامل ہیں۔

انہوں نے کہا اس فیصلے کا اطلاق اسلام آباد پر بھی ہوگا اور وفاقی دارالحکومت کے بھی تمام تعلیمی ادارے پیر سے موسم بہار کی چھٹیوں کے لیے بند ہوجائیں گے اور 28 مارچ تک بند رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے لئے بھی یہی فیصلہ متوقع ہے اور خیبرپختونخوا میں اس فیصلے کا اطلاق صرف پشاور میں ہوگا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ باقی اضلاع اور شہروں میں جس طرح طالبعلم پہلے آکر تعلیم حاصل کررہے تھے وہی سلسلہ جاری رہے گا لیکن صوبائی حکومتیں ان معاملات کا بریک بینی سے جائزہ لیتی رہیں گی اور جہاں محسوس ہوا کہ حالات بگڑ رہے ہیں وہاں اسکول یا شہر کو بند کیا جاسکتا ہے۔

این سی او سی کے فیصلے

کوورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش منظر این سی او سی میں مندرجہ ذیل فیصلے کیے گئے ہیں:

  • ماسک پہننے کی سختی سے تعمیل کی جائے۔
  • بیماری کے پھیلاؤ یا ہاٹ اسپاٹ کی بنیاد پر ایس ایل ڈی/ مائیکرو ایس ایل ڈی کا اطلاق جاری رہے گا۔
  • وفاقی اداروں کی صوابدید پر 50 فیصد ہوم پالیسی کا اطلاق ہوگا جبکہ آئی سی ٹی میں اس کا اطلاق فوری ہوگا۔
  • تمام تجارتی سرگرمیاں رات 10 بجے بند کردی جائے گئیں۔
  • ملک بھر میں تفریحی پارکس شام 6 بجے بند رہیں گے۔
  • 15 مارچ سے ان ڈور شادیوں، انڈور ڈائننگ، سینما گھروں اور زیارتوں کو کھولنے کی اجازت دینے کے پہلے فیصلے کو واپس لے لیا گیا ہے تاہم آؤٹ ڈور ڈائننگ / پارسل دینے کا انتظام جاری رکھا جا سکےگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: