حکومت کا معاونین خصوصی کو برقرار رکھنے کیلئے مختلف آپشنز پر غور

اسلام آباد: اگرچہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں حکومت پر سے کچھ دباؤ ہٹا ہے جہاں اس فیصلے میں کہا گیا کہ 'غیرمنتخب مشیر اور معاونین خصوصی حکومتی کمیٹیوں کی سربراہی نہیں کر سکتے، تاہم اہم سرکاری عہدیداروں کا کام غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

 رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے مسلم لیگ (ن) کے قانون ساز رانا ارادت شریف کی جانب سے دائر درخواست پر فیصلہ سنایا تھا کہ مشیر اور خصوصی معاون اپنے متعلقہ امور پر وزیر اعظم کی مدد اور مشورہ کرسکتے ہیں لیکن ایگزیکٹو کے دائرہ کار میں مداخلت نہیں کرسکتے ہیں۔

عدالت کی جانب سے نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی کے قیام کے اعلامیے کو مسترد اور پالیسی سازی میں وزیر اعظم کے معاونین کے عملی کردار کو ختم کرنے کے بعد حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر غور و فکر کرنا شروع کردیا ہے۔‎

جمعہ کی کابینہ میں ردوبدل ایک ایسا ہی اقدام تھا جس میں مشیر خزانہ اور محصول برائے عبدالحفیظ شیخ نے بطور وفاقی وزیر حلف اٹھا لیا تاہم وہ محصولات کی تقسیم کے پورٹ فولیو سے محروم ہوگئے تھے، دوسری طرف عبدالرزاق داؤد جیسے دوسرے مشیروں کی حیثیت اور اس کا کام غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کے وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد حکومت کے پاس چار مشیر رہ گئے ہیں جس میں مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد، ڈاکٹر عشرت حسین (ادارہ جاتی اصلاحات)، مرزا شہزاد اکبر(داخلہ) اور ڈاکٹر بابر اعوان (پارلیمانی امور) شامل ہیں۔

وزیراعظم کے خصوصی معاونین میں علی نواز اعوان کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے امور، محمد شہزاد ارباب اسٹیبلشمنٹ کی نگرانی کرتے ہیں، رؤوف حسن، معلومات؛ فیصل سلطان، صحت؛ معید یوسف، قومی سلامتی ڈویژن؛ سید ذوالفقار عباس بخاری، بیرون ملک مقیم پاکستانی؛ ندیم افضل گوندل، پارلیمانی رابطہ؛ ندیم بابر، پیٹرولیم؛ امیر ڈوگر، سیاسی امور؛ ثانیہ نشتر، غربت کا خاتمہ، شہباز گل، سیاسی روابط؛ تابش گوہر، پاور ڈویژن؛ ملک امین اسلم، آب و ہوا کی تبدیلی؛ ڈاکٹر وقار مسعود خان، محصولات اور عثمان ڈار، نوجوانوں کے امور شامل ہیں۔

تاہم اعلیٰ عدالت کا حکم وزیر اعظم کے ان معاونین پر اثر انداز ہوتا ہے جو وزارتوں کی سربراہی کررہے ہیں، ایگزیکٹو اختیارات کا استعمال کرتے ہیں اور کابینہ کمیٹیوں کے رکن ہیں یا ان کی صدارت کر رہے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی بیرسٹر محسن نواز رانجھا جنہوں نے درخواست گزار کی جانب سے مقدمہ کی استدعا کی تھی ، نے کہا کہ وہ کابینہ کے سیکریٹری سے کہیں گے کہ وہ وزارتوں میں دفاتر مشیروں اور خصوصی معاونین سے خالی کرائیں۔

ڈاکٹر حفیظ شیخ قومی اقتصادی کونسل یا وفاقی کابینہ کی چار بڑی کمیٹیوں کی سربراہی کر رہے تھے جو 1973 کے رولز آف بزنس کے تحت قائم ہیں، ان میں نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) کی ایگزیکٹو کمیٹی، کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی، نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی بھی شامل ہے جسے عدالت اور ریاستی ملکیت سے چلنے والی انٹرپرائزز پر کابینہ کی کمیٹی میں چیلنج کیا گیا تھا، ڈاکٹر شیخ کی قیادت میں دیگر کمیٹیوں میں آئی پی پیز پر عمل درآمد کمیٹی، نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی اور نیشنل لاجسٹک کمیٹی جیسے اہم فورم شامل تھے۔

وزارت خزانہ کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق عدالت نے درست طور پر حکم دیا تھا کہ ریاست کے معاملات اس انداز میں چلائے جائیں جو قانونی طور پر قابل عمل ہوں لیکن اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ حفیظ شیخ کی سربراہی میں کام کرنے والے ڈویژنوں کی ادارہ جاتی کارکردگی متاثرہ ہو گی اگر انہیں صرف وزیر اعظم سے مشاورت تک محدود کردیا جائے کیونکہ ایسی صورت میں ڈاکٹر حفیظ شیخ سے حکم یا مشورہ لینے کے بجائے وہ براہ راست وزیر اعظم آفس سے ہدایات ملنے کا انتظار کریں گے۔

اس ہفتے کے شروع میں جب وزیر اعظم سے سینئر صحافیوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں غیر منتخب مشیروں کے کام کرنے سے متعلق حدود کے بارے میں پوچھا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا کہ وہ 'کوئی حل تلاش کر لیں گے'۔

یہ آئین کے شاذ و نادر ہی استعمال شدہ آرٹیکل 91 (9) میں پایا گیا تھا جس میں اسحاق ڈار کے عہدے کا چارج چھوڑنے کے بعد سابقہ ​​مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے مفتاح اسماعیل کی بطور وزیر خزانہ، محصول اور معاشی امور تقرری کے لیے درخواست دی تھی، اب توقع کی جارہی ہے کہ پی ٹی آئی مارچ میں ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو سینیٹ میں شامل کرے گی تاکہ وہ وزیر خزانہ کی حیثیت سے کام جاری رکھ سکیں۔

آرٹیکل (91 ()) میں کہا گیا ہے کہ 'ایسا وزیر جو لگاتار چھ مہینوں تک قومی اسمبلی کا رکن نہ رہے، مذکورہ مدت کے اختتام پر وزیر نہیں رہے گا اور مذکورہ اسمبلی کے توڑے جانے سے قبل اسے دوبارہ وزیر مقرر نہیں کیا جائے گا تاوقتیکہ وہ اسمبلی کا رکن منتخب نہ جائے، مگر شرط یہ ہے کہ اس شق میں شامل کسی امر کا ایسے وزر پر اطلاق نہیں ہو گا جو سینیٹ کا رکن ہو۔

متاثرہ مشیر

ڈاکٹر شیخ کے علاوہ کچھ اور مشیر بھی ہیں جو کابینہ کے مختلف اداروں کا حصہ ہیں۔

ان میں عبدالرزاق دائود، جو توانائی، نجکاری، اقتصادی رابطہ کمیٹی اور چین پاک اقتصادی راہداری کے رکن ہیں، ڈاکٹر عشرت حسین جو کابینہ کی نجکاری کمیٹی اور ادارہ جاتی اصلاحاتی کمیٹیوں کا حصہ ہیں اور ڈاکٹر بابر اعوان اور مرزا شہزاد اکبر قانون سازی کے معاملات نمٹانے سے متعلق کابینہ کمیٹی کے رکن ہیں۔

مشیر برائے تجارت عبد الرزاق داؤد کے قریبی ساتھی کا کہنا ہے کہ حکومت ان وفاقی وزیر کی حثیت سے تقرر کرنے پر غور کر رہی ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ عبدالرزاق داؤد کے کام کو خاص طور پر متاثر نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ تمام سمری عملی طور پر وزیر اعظم کے دفتر سے منظور شدہ تھیں۔

اس وقت سیکریٹریز آف کامرس اور بورڈ آف انویسٹمنٹ اپنے ڈویژنوں کے پرنسپل اکاؤنٹ آفیسر اور ایگزیکٹو ہیڈ ہیں، لہٰذا عہدے داروں کا موقف تھا کہ نہ تو پالیسی سازی میں کوئی رکاوٹ ہے اور نہ ہی اس پر عمل درآمد میں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا اصل اثر ان بیوروکریٹس، خاص طور پر سیکریٹریوں، ڈویژنوں اور وزارتوں پر ہوگا جہاں مشیر یا معاون خصوصی واقعی اپنے اپنے محکموں کی سربراہی کر رہے ہیں، عدالتی حکم کے بعد معاونین صرف زبانی احکامات جاری کرسکتے ہیں کیونکہ بیوروکریٹس کے دفتر کے پاس عملدرآمد کا اختیار آ گیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ شاید وہ واحد مشیر تھے جنہیں وزیر اعظم نے اقتصادی رابطہ کمیٹی اور وفاقی کابینہ میں پیش کرنے کے لیے سمری کی منظوری کے لیے اختیار دیا تھا۔

عبدالرزاق داؤد کی صورت میں ہر سمری کو وزیر اعظم سے منظور ہونا پڑتا تھا کیونکہ وہ وزیر انچارج تجارت اور بی او آئی تھے، اگرچہ عبدالرزاق داؤد چند ایک اداروں کے رکن ہیں لیکن وہ صرف ذاتی تحفظ کے سازوسامان کے سربراہ ہیں جہاں انہیں کووڈ-19 کے تناظر میں ملک میں پی پی ای کے اسٹاک کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *