حکومت کو ‘مصنوعی بحران' کے دوران تیل کمپنیوں کے کمائے گئے منافع کی وصولی کی ہدایت

لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (او ایم سیز) سے غیر قانونی منافع کی وصولی کے لیے اقدامات اٹھائے جو 2020 کے اوائل میں انہوں نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت پیدا کر کے کمائے تھے۔

 رپورٹ کے مطابق مفاد عامہ کی متعدد درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ محمد قاسم خان نے حکومت کو او ایم سیز سے غیر قانونی منافع کی وصولی کے لیے کمیٹی بنانے کا حکم دیا۔

عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ تمام او ایم سیز کے آڈٹ کے لیے اقدامات اٹھائے اور اگر ضرورت ہو تو موجودہ قواعد و ضوابط کی جانچ پڑتال کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے۔

حقائق اور حالات کی روشنی میں کمیٹی نئی قانون سازی یا موجودہ قانون سازی میں ترمیم کی سفارش بھی کر سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو بدعنوانی میں ملوث یا مصنوعی قلت پیدا کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔

عدالت نے حکومت کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ تمام صورتحال میں اسٹریٹیجک ذخائر کو برقرار رکھا جائے۔

اس معاملے میں حکومت نے 28 جولائی 2020 کو ایک کمیشن تشکیل دیا تھا جس نے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرتے ہوئے تحقیقات کی تھیں۔

فیصلے میں وفاقی حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی مصنوعی قلت سے متعلق کمیشن کی رپورٹ کے فوری اجرا کو یقینی بنائے۔

حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ اٹھائے گئے اقدامات کے سلسلے میں تین ماہ کے اندر لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار (جوڈیشل) کو تعمیلی رپورٹ پیش کرے۔

چیف جسٹس نے صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو ضلعی انتظامیہ کو بااختیار بنانے کے لیے موثر اقدامات کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ ایسی صورتحال میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے حکومت سے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو اعلیٰ اختیار والی کمیٹی کے ذریعے تحلیل کرنے سے متعلق کمیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کو بھی کہا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ 'اگر اس طرح کی کمیٹی یہ فیصلہ کرتی ہے کہ اوگرا کو رہنا چاہیے تو فوری طور پر اس سے متعلق قواعد پر نظرثانی کی جانی چاہیے اور تازہ ترین قواعد و ضوابط مرتب کیے جائیں اور اتھارٹی کو اوگرا اور دیگر خود مختار اداروں کے کام پر قریب سے نظر رکھنی چاہیے'۔