حکومت کی بجلی کے نرخوں میں اضافہ روکنے کیلئے مہنگی ایل این جی خریدنے کی وضاحت

اسلام آباد: حکومت نے اسپاٹ مارکیٹ سے مہنگی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی خریداری کو 'نسبتاً کم بُرا فیصلہ' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی بین الاقوامی اشیا کی مارکیٹ کے بارے میں پیشگوئی کرکے اسے شکست نہیں دے سکتا۔

رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) بورڈ ستمبر 2021 کے لیے 4 ایل این جی 'اسپاٹ' ٹینڈر 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر قبول کرنے پر مجبور ہوا، دوسری صورت میں متبادل ایندھن (یعنی فرنس آئل) جو کہ اس سے بھی زیادہ مہنگا ہے، اس سے ستمبر میں بجلی کی قیمتوں میں کم از کم 20 فیصد تک اضافہ ہوتا۔

ستمبر میں پی ایل ایل کی جانب سے قبول کردہ 4 اسپاٹ ایل این جی کی ترسیل کے لیے بولیاں 15.2 سے 15.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے درمیان تھیں جو کہ 2015 میں ایل این جی کی درآمد کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ستمبر اور اکتوبر کے لیے تقریباً 8 بولیاں منسوخ کر دی گئیں جن میں قطر سے 13.79 سے 13.99 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو شامل تھیں جبکہ دیگر بولیاں 16 ڈالر تک پہنچ گئی تھیں۔

15.5 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی بولی ایکس شپ کے لیے تھی، اختتامی ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک پر فروخت کی قیمت 20 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے زیادہ ہوگی۔

پیٹرولیم ڈویژن نے زائد قیمتوں کے حق میں جواز پیش کیا کہ حال ہی میں ’اسپاٹ‘ ایل این جی کی قیمت 15 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے زیادہ ہو چکی ہے جس کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں پاپوا نیو گنی میں ایکسون کی پیداوار میں تخفیف اور طلب سے متعلقہ عوامل مثلاً چین اور جاپان میں گرم موسم کی وجہ سے طلب میں اضافہ ہے۔

ڈویژن نے وضاحت دی کہ پاکستان کی ماہانہ ایل این جی کی تقریباً ایک تہائی خریداری ’اسپاٹ‘ کی بنیاد پر ہوتی ہے اور بقیہ دو تہائی طویل مدتی معاہدے کی بنیاد پر ہوتی ہے جو کہ بنیادی طور پر ایل این جی درآمد کرنے والے ممالک کی عالمی اوسط کے مطابق ہوتی ہے۔

وزارت نے دعویٰ کیا کہ آر ایل این جی کی قلت کی وجہ سے حکومت گرمیوں میں بجلی کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ڈیزل جلانے پر مجبور ہوئی اور اس کے نتیجے میں ستمبر میں بجلی کی لاگت تقربیاً 50 فیصد زیادہ رہی۔

پیٹرولیم ڈویژن نے کہا کہ ’یہ ان دو برائیوں میں سے کم ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر سسٹم میں وافر مقدار میں آر ایل این جی نہ ہوتی تو صنعتی شعبے کے لیے جبری گیس لوڈشیڈنگ کی ’موزوں وقت پر قیمت‘ کا بھی حساب دینا پڑتا۔

وزارت پیٹرولیم کے مطابق خام تیل کی قیمتیں فی بیرل 75 ڈالر ہیں جبکہ درآمد شدہ کوئلے کی قیمت میں بھی رواں برس جنوری سے تقریباً 45 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوا کہ بین الاقوامی سطح پر طلب اور محدود سپلائی عوامل کی وجہ سے زیادہ تر توانائی سے متعلقہ اشیا کی قیمتیں بڑھی ہیں کیونکہ معیشتیں کووڈ 19 کے بعد کھلتی ہیں۔

وزارت توانائی نے کہا کہ کوئی بھی بین الاقوامی اشیا کی مارکیٹ کے بارے میں پیشگوئی کرکے اسے شکست نہیں دے سکتا اور اسپاٹ خریداری کے وقت (یعنی پہلے یا بعد میں) اور اصل کے درمیان کوئی ثبوت پر مبنی ارتباط نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایل این جی کی قیمت طلب و رسد کے عوامل کی وجہ سے وقتاً فوقتاً مختلف (اوپر اور نیچے) ہوتی ہے۔

وزارت نے کہا کہ پاکستان 100 فیصد طویل مدتی معاہدے کی خریداری کا انتخاب کر سکتا ہے۔

علاوہ ازیں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے کہا کہ پائپ لائن کی تعمیر اور آپریشن کے لائسنس جاری کر کے ایک آخری سنگ میل حاصل کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اینرگاس ٹرمینل (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور تعبیر انرجی (پرائیویٹ) کو ایل این جی سپلائی چین کے لیے لائسنس جاری کیے گئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *