خادم حسین گرم حمام!

شاہ صاحب سے میری بہت پرانی یاد اللہ ہے لیکن اس سے پہلے آپ خادم حسین ہیئر ڈریسر سے مل لیں۔ خادم حسین سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں، ایک ملاقات ’’خادم حسین گرم حمام‘‘ پر ہوئی، یہ ایک شاندار دکان تھی، خادم حسین خود بھی بہت اچھا کاریگر تھا اور اس کے ملازم بھی اپنے فن کے ماہر تھے اور جہاں تک گرم حمام کا تعلق تھا وہ اتنا خوبصورت اور سہولتوں سے آراستہ تھا کہ محلے کے لوگوں نے اپنے گھروں کے بجائے وہاں نہانا شروع کردیا تھا۔ وہ صبح صبح یہاں آتے۔ میز پر اس روز کے تازہ اخبار موجود ہوتے، قومی اور بین الاقوامی سیاست پر اپنی حتمی آرا دیتے۔ اس کے بعد شیو کراتے اور دھلا ہوا صاف ستھرا تولیہ کاندھے پر رکھ کر حمام میں داخل ہو جاتے۔ ہمارے محلے میں اعلیٰ درجے کا یہ پہلا گرم حمام تھا۔ اس کے ریٹس اگرچہ زیادہ تھے لیکن لوگ صرف اسی حمام کا رخ کرتے تھے۔ میں خود بھی ان میں شامل تھا بلکہ خادم حسین سے میری دوستی بھی ہو گئی تھی۔

خادم حسین سے بہت عرصہ پہلے میری ملاقات ایک فٹ پاتھ پر ہوئی تھی جہاں اس نے اپنی میز ایک مکان کی دیوار کے ساتھ لگائی ہوئی تھی اور ایک آئینہ اس پر دھرا تھا جس کے درمیان میں ’’تریڑ‘‘ پڑی ہوئی تھی، گاہکوں کے لئے ایک کرسی تھی جس کا ایک بازو نہیں تھا۔ گاہک اس ٹنڈی کرسی پر بیٹھ جاتا اور خادم حسین اس کی شیو بنانے کے بعد اس کے چہرے پر پھٹکری ملتا اور پھر گندے تولیے سے اس کا منہ صاف کرتا۔ اس کے بعد ایک دن وہ غائب ہو گیا۔ پتہ چلا کہ اسے دبئی کا ویزا مل گیا ہے، دس سال بعد واپس آیا تو وہ ایک بدلا ہوا خادم حسین تھا۔ اس کے پاس دولت کی ریل پیل تھی مگر اس نے یہ جمع شدہ رقم ضائع کرنے کی بجائے اس سے گرم حمام بنایا جو علاقے کا سب سے خوبصورت گرم حمام تھا اور جس میں گاہک کی تسلی اور آرام کی ہر سہولت موجود تھی، اس کے بعد ایک دن یہ حمام بند ہو گیا، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ اس کی آمدنی اس کی سرمایہ کاری کے مطابق نہیں تھی یا کوئی اور وجہ تھی؟

ایک روز میرا گزر میرے گھر سے چار پانچ کلومیٹر دور واقع ایک بستی سے ہوا جہاں میرا ایک عزیز دوست رہتا تھا۔ میں اس سے ملنے گیا تو رستے میں مجھے خیال آیا کہ اس کے لئے کوئی کیک وغیرہ لے جائوں۔ اسی اثناء میں میری نظر ایک دکان پر پڑی جس کے باہر ’’جعفری بیکرز اینڈ جنرل اسٹور‘‘ کا بورڈ لگا تھا۔ اندر داخل ہوا تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ یہ ایک خوبصورت دکان تھی، ایک طرف شو کیسوں میں کیک، بسکٹ اور مٹھائیاں بڑی نفاست سے دھری تھیں اور دوسری طرف روزمرہ ضرورت کی اشیاء بڑے سلیقے سے سجی نظر آئیں۔ کائونٹر پر مجھے جو شخص بیٹھا نظر آیا اُس کی شکل جانی پہچانی سی لگتی تھی، میں اس کے قریب گیا اور غور سے دیکھا تو وہ خادم حسین تھا مگر اب وہ بہت بدلا ہوا تھا، اس کے چہرے کے خدوخال نکھرے نکھرے سے لگ رہے تھے اور مجھے یہ دیکھ کر بہت ہنسی آئی کہ وہ دکان کے کائونٹر پر سوٹ اور ٹائی میں ملبوس بیٹھا تھا۔ وہ مجھ سے بہت گرم جوشی سے ملا اور ملازم کو مشروب لانے کا حکم دیا۔ اس کا انداز حاکمانہ تھا۔ میں نے کہا ’’خادم حسین یہ جعفری کون ہے؟‘‘ بولا ’’میں ہوں اور کون ہے؟‘‘ میں نے ہنس کر پوچھا ’’کب سے؟‘‘ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا ’’امام جعفر صادق سے میری عقیدت تو پہلے دن سے تھی مگر اب اس کے اظہار کے لئے اپنے نام کے ساتھ جعفری بھی لکھنے لگا ہوں‘‘ مجھے اس کی یہ بات بہت اچھی لگی۔ میری اس کے ساتھ جان پہچان تو بہت پرانی تھی مگر امام عالی مقام کے لئے اس کی عقیدت کے والہانہ اظہار نے مجھے اس کے اور قریب کردیا۔

کچھ عرصے کے بعد ایک دفعہ پھر میرا گزر ادھر سے ہوا، میں نے سوچا خادم حسین جعفری سے ہی ملتا جائوں، وہ مجھ سے بہت تپاک سے ملا۔ اس دوران ایک گاہک نے اسے مخاطب کرتے ہوئے ’’شاہ صاحب‘‘ کہا تو میں چونکا! خود خادم حسین بھی کچھ پریشان نظر آیا مگر خاموش رہا۔ گاہک کے جانے کے بعد میں نے خادم حسین سے ہنستے ہوئے کہا ’’یہ سید کب سے بن گئے؟‘‘ اس نے جواب دیا ’’توبہ توبہ! میں کہاں اور آلِ رسولؐ کہاں؟ میں تو ان کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہوں!‘‘ مجھے اس کی یہ بات اچھی تو لگی مگر میں نے کہا ’’اس شخص نے جب تمہیں ’’شاہ صاحب‘‘ کہا تو تم نے اسے ٹوکا کیوں نہیں؟‘‘ بولا ہزار بار ٹوک چکا ہوں مگر لوگ ٹلتے ہی نہیں ہیں۔

جب میں اس دوست کی طرف گیا جس سے ملنے میں اس علاقے میں آیا تھا اور اسے یہ ساری بات سنائی تو وہ بےحد حیران ہوا اور اسی حیرانی کے عالم میں اس نے پوچھا ’’تو کیا خادم حسین واقعی سید نہیں ہے؟‘‘ میں نے کہا ’’ہاں! وہ تو خود کو آل رسولؐ کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں سمجھتا!‘‘ میرا دوست یہ سن کر ہنسا اور بولا ’’یہ تم سے کس نے کہا؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’خود اس نے مجھ سے یہ بات کہی‘‘ دوست نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ’’شروع شروع میں اسے لوگ جعفری صاحب ہی کہتے تھے، بعد میں لوگوں نے اسے شاہ صاحب کہنا شروع کردیا، پہلے وہ ان سے یہی کہتا تھا جو اس نے تم سے کہا مگر لوگوں نے اسے اس کی کسر نفسی سمجھتے ہوئے اسے شاہ صاحب کہنا جاری رکھا۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ اسے اگر کوئی شاہ صاحب کہہ کر نہ بلائے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے!‘‘ یہ سن کر مجھے میرے ضمیر نے ملامت کی کہ میں نے خادم حسین کی نئی پہچان کے حوالے سے اس کا بھرم کیوں کھولا؟ میں نے ابھی آپ کو اور بہت کچھ بتانا تھا مگر کچھ دیر پہلے مجھے خادم حسین کا فون آیا، اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی اور وہ بہت رنجیدہ لگتا رہا تھا، وہ مجھ سے ملنے کا خواہش مند تھا، میں نے اسے بتایا کہ میں اس کی طرف آرہا ہوں۔ سو آپ سے باقی باتیں قبلہ شاہ صاحب سے ملاقات کے بعد ہوں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: