خاکروب سے ڈپٹی کلیکٹر بننے والی جودھ پور کی آشا جنھیں کوئی کام معمولی نہیں لگتا

’کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا‘ یہ کہنا ہے آشا کنڈرا کا جنھوں نے انتھک محنت اور لگن سے یہ بات سچ کر دکھائی اور خود اس کی ایک زندہ مثال بن گئیں ہیں۔

چالیس سالہ آشا کنڈرا کا تعلق انڈیا کی ریاست راجستھان کے شہر جودھ پور سے ہے۔ ریاست کی انتظامی سروس کے امتحان میں انھوں نے 728ویں پوزیشن حاصل کی ہے۔

شاید آپ کو یہ پڑھ کر حیرت نہ ہو لیکن جب آپ آشا کی زندگی کے سفر اور جدوجہد کی تفصیل پڑھیں گے تو ان کی اس کامیابی کو بے مثال کہیں گے۔ دوسروں کی نسبت آشا کے لیے یہ کامیابی ایک الگ معنی رکھتی ہے۔

آشا کنڈرا نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد راجندر کنڈرا فرٹیلائزر کارپوریشن آف انڈیا میں اکاؤنٹ آفسر تھے اور ماں گھر سنبھالتی تھیں۔ گھر میں تعلیم کو بہت اہمیت دی جاتی تھی لیکن خاندانی اور معاشرتی دباؤ کی وجہ سے بارہویں جماعت ختم ہوتے ہی ان کی ان کی شادی کر دی گئی۔

آشا اپنی شادی شدہ زندگی کے تلخ دنوں کو یاد بھی نہیں کرنا چاہتیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب ان کی طلاق ہوئی تو وہ 32 سال کی تھیں اور دو بچوں کی ماں بن چکی تھیں۔

طلاق کے بعد جب وہ اپنے والدین کے گھر واپس آئیں تو ان کے گھر والوں نے ان کا ساتھ دیا مگر اس عمر میں دو بچوں کے ساتھ طلاق، رشتہ داروں اور معاشرے کی نظر میں کوئی اچھی بات نہیں تھی۔

انڈیا
،تصویر کا کیپشنآشا کی طلاق پر رشتے داروں نے ناراضگی ظاہر کی تھی

طلاق پر رشتے داروں کی مخالفت

وہ کہتی ہیں 'اس وقت ایسا لگتا تھا کہ جیسے زندگی رک گئی ہے۔ طلاق کے معاملے پر رشتہ دار ہمارے خلاف کھڑے تھے لوگ کہتے تھے کہ میں نے خاندان کا نام خراب کیا ہے لیکن گھر والے مجھے سمجھایا کرتے تھے کہ برا وقت ہے گزر جائے گا۔ میرے گھر والے میرے فیصلے کے ساتھ تھے۔‘

آشا کا تعلق شیڈول کاسٹ یعنی انڈیا میں 'نچلی' ذات سے ہے۔ ’نچلی ذات‘ سے تعلق رکھنے والی آشا کا کہنا ہے کہ 'ایک متوسط طبقے کے خاندان میں طلاق بہت بڑی بات ہوتی ہے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مجھ پر کیا گزر رہی ہو گی۔‘

2013 میں آشا نے دوبارہ اپنی تعلیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور 2016 میں گریجویشن مکمل کی۔

آشا کا کہنا ہے کہ ’جب میں ملازمتوں کے لیے امتحانات دیتی تھی تو لوگ طنز کیا کرتے تھے کہ کیا آپ کلیکٹر بنیں گی؟ آپ کے خاندان میں کوئی کلیکٹر بنا ہے کبھی؟ میں نہیں جانتی تھی کہ کلیکٹر کیا ہوتا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’جب میں نے گوگل سرچ کیا تو پتہ چلا کہ کلیکٹر کا عہدہ کیا ہوتا ہے۔ میں جانتی تھی کہ وہ مجھے طعنے دے رہے ہیں اور کوئی بھی میری حوصلہ افزائی نہیں کرتا تھا۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ایڈمنِسٹریٹیو سروس میں جانا ہے۔ اس نوکری کے لیے میری عمر زیادہ تھی تب میں نے راجستھان ایڈمنِسٹریٹیو سروس کی تیاری شروع کر دی۔ وہاں اس امتحان میں طلاق یافتہ خواتین کے لیے عمر کی کوئی حد نہیں ہے۔‘

سنہ 2018 میں آشا نے راجستھان ایڈمنسٹریٹو سروس کے امتحان کے لیے درخواست دی۔

وہ یاد کرتی ہیں ’میں نے سنہ 2018 میں ریاستی انتظامی سروس کا ابتدائی فارم بھرا اور اس میں کامیاب ہو گئی۔ پھر میں نے حتمی امتحان دیا مگر اسی دوران 2019 میں میری تعیناتی میونسپل کارپوریشن میں بطور خاکروب ہو گئی جس کی میں نے پہلے ہی درخواست دی تھی اور وہاں میں نے صفائی کا کام شروع کر دیا۔‘

آشا
،تصویر کا کیپشنمیئر ونیتا سیٹھ کے ساتھ آشا کنڈرا

تعلیم کے ساتھ گھر کے کام اور اخراجات کی ذمہ داریاں

آشا کو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’بچوں کی دیکھ بھال اور گھریلو اخراجات کے لیے پیسوں کی ضرورت تھی لہذا میرے لیے یہ کام بہت ضروری تھا۔‘

آشا کا کہنا ہے ’میں نے جھاڑو پوچا کرنے کے کام کو کبھی بھی چھوٹا نہیں سمجھا ہے۔'

اب ان کے پاس میونسپل کارپوریشن میں خاکروب کی نوکری تھی لیکن ریاست کے انتظامی سروس کے لیے دوسرے مرحلے کا نتیجہ ابھی نہیں آیا تھا۔

آشا کہتی ہیں کہ ’صبح چھ بجے گھر سے نکلنا اور صفائی کے بعد واپس آنا بہت مشکل تھا۔ کام کے بعد پڑھنا اور گھر کے کام کاج کرنا ذہنی اور جسمانی طور پر تھکا دیتا تھا۔ لیکن اپنے گھر والوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ میں سخت محنت کرتی رہی حالانکہ گھر والے کہا کرتے تھے کہ اب تم آرام کرو لیکن میں نے اپنے جسم کو اس طرح ڈھال لیا کہ میں بہت کم سویا کرتی تھی اور رات دیر تک پڑھائی کرتی اور صبح سویرے کام پر نکل جاتی۔‘

آشا
،تصویر کا کیپشنآشا کے گھر والوں نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا

آشا کی محنت رنگ لائی

ان کی محنت رنگ لائی اور انھوں نے ایڈمنِسٹریٹیو سروس میں میئر کا امتحان پاس کر لیا۔ اس سے انھیں حوصلہ ملا کہ وہ اب انٹرویو بھی پاس کر لیں گی اور ایسا ہی ہوا۔

آشا نے ابھی تک میونسپل کارپوریشن کی ملازمت سے استعفی نہیں دیا ہے اور انھیں یقین ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو سکتی ہیں تو کوئی بھی لڑکی ایسی کامیابی حاصل کر سکتی ہے۔

جودھ پور میونسپل کارپوریشن کی میئر ونیتا سیٹھ کا کہنا ہے کہ آشا کو دیکھنے کے بعد بہت سے لوگوں کو حوصلہ ملا ہے۔

ان کا کہنا ہے ’جب وہ ایک صفائی کرنے والی ملازمہ کی حیثیت سے کام کرتی تھیں تو ڈیوٹی کے بعد گھر جا کر گھریلو کام کرنا اور پھر امتحان کی تیاری کرنا بہت مشکل تھا۔ محلے کے بہت سارے لوگ یہی سوچتے ہیں کہ وہ عورت صبح سے ہی باہر گئی ہوئی ہے لوگ عورت پر انگلی اٹھانے سے گریز نہیں کرتے لیکن آشا نے سب کا منھ بند کر دیا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ جدوجہد کرنے کے بعد ایک مقام کو حاصل کرنا کسی بھی عورت کے لیے بہت بڑی بات ہے اور یہ ان خواتین کے لیے بھی روشنی کی ایک کرن کی مانند ہے جو صرف چولہا اور گھر کی چاردیواری کو اپنا مقدر سمجھ کر اپنی زندگی گزار دیتی ہیں۔

اب آشا اس ریاست میں ڈپٹی کلیکٹر (ڈی سی) بن چکی ہیں۔ انڈیا میں ڈی سی کسی ریاستی سب ڈویژن میں ٹیکس اور انتظامی ذمہ داریوں پر مامور ہوتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *