خدا پہ یقین ہے!

کیا کبھی ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں۔دن بھر زندگی کو گزار کر اور عبادت کر کے ہمیں کیا سبق حاصل ہوتا ہے۔کہتے ہیں،اس دنیا میں انسان جو کچھ کرتا ہے اس کا بدلہ ضرور اسے ملتا ہے۔چاہے وہ اچھا ہو یا برا ہو۔ جس طرح اچھائی کی جزا ملتی ہے اسی طرح برائی کی سزا بھی ملتی ہے۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج ہم اپنے نفس کے غلام ہو چکے ہیں اور صرف اپنے مفاد کے لیے ہی ہر کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم اچھے برے کی تمیز کو بھلا کر ہر وہ کام کر جاتے ہیں جس کا ہمیں ہوش ہی نہیں رہتا۔اسی لیے ہمیں کچھ بھی کرنے سے پہلے ایک اپنے اندر ضرور جھانک لینا چاہئیے۔ ہم اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہاہے۔ تبھی تو کہتے ہیں کہ اللہ ہمارے دلوں کے حال کو جانتا ہے۔

دنیا بھر میں کورونا وائرس نے جس طرح اپنا شکنجہ کسا ہے اُس سے ہم اور آپ مایوس ہی نہیں بیزار بھی ہیں۔ہر دن ہم اس وبا سے نجات کی دعا مانگ رہے ہیں تو وہیں اس بات سے بھی خوف زدہ ہیں کہ نہ جانے اب کس کی باری آجائے۔

کورونا وائرس سے برطانیہ میں اب تک ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔پچھلے سال سے ہم گھر میں قید ہیں تا ہم برطانیہ میں دھیرے دھیرے لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ سے لوگوں کو کچھ راحت کی سانس ملی ہے اور آنے والے دن میں بہتری کی کچھ امید دِکھائی دے رہی ہے۔ تاہم دنیا بھر میں دھیرے دھیرے کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔اب تو انسان اسی الجھن میں جی رہا کہ کیسے زندگی گزاری جائے اور کیاآنے والے دنوں میں یوں ہی زندگی بسر کریں گے۔ہر کسی کی زبان پر یہی دعا ہے کہ’یا اللہ جلد ہمیں اس وبا سے نجات دے تا کہ ہم پھر سے واپس اپنی معمول زندگی گزار سکیں‘۔

فی الحال تو بڑے بڑے سائنسی اور طبی ماہرین کے دماغ کام نہیں کر رہے ہیں۔تاہم کورونا ویکسن سے کچھ امیدیں پیدا ہوئی ہیں لیکن کورونا کی دوسری اور اب تیسری لہر نے اچھوں اچھوں کی نیند حرام کر رکھا ہے۔جب سے کورونا وائرس دنیا میں پھیلا ہے تب سے دنیا کی تمام حکومتوں ایک ہی رٹ لگا ررکھی ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ یعنی مکمل ’لاک ڈان‘۔کئی لوگوں نے تو یہ کہنا بھی شروع کر دیا کہ یہ قیامت کا ظہور ہے اور بہت سارے لوگوں نے اللہ سے اور زیادہ معافی مانگنا شروع کردیاہے۔جس طرح سے پوری دنیاکورونا وبا کی لپیٹ میں ہے اس سے تو یہی اندازہ ہورہا ہے کہ کہیں نہ کیں یہ قیامت کے آثار ہیں۔ دھیرے دھیرے انسان روزگار گنواتا جا رہا ہے اور بہت سارے ملکوں میں قحط کا بھی امکان ہے۔ حکومت کو سوائے لاک ڈان کے اور کچھ بھی نہیں سوجھ رہا ہے اور نہ اس وبا ء سے بچنے کی کوئی ترکیب سمجھ میں آرہی ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک میں حالات بد سے بد تر ہوتا جارہے ہیں اور لوگ اپنے اپنے طور پر جان بچانے کی فکر میں لگے ہوئے ہیں۔

ماہِ رمضان کی آمد کے قبل سے ہی طرح طرح کی قیاس آرائیاں لگائی جا رہی تھیں۔ کوئی کہتا تھا کہ تراویح پڑھی جائے گی تو کوئی کہتا تھا ناممکن ہے۔ گویا جتنے لوگ اتنی باتیں تھیں۔ لیکن سچ پوچھے جوں جوں وقت قریب آتا گیا ہمارے صبر کا دامن ہمارے ہاتھ سے سرکتا جارہا تھا۔ لیکن اللہ نے ہماری کچھ دعا ضرور سنی اورالحمداللہ برطانیہ میں کورونا ویکسن کی وجہ سے امسال حکومت نے سوشل دوری اور فیس ماسک پہن کر مسجدوں میں تراویح پڑھنے کی اجازت دے دی ہے۔جس سے برطانیہ کے مسلمانوں میں اللہ سے قربت اور عبادت کا موقعہ مل گیا ہے۔

اس کے علاوہ رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جس میں مسلمان زکوۃ کے ذریعہ لاکھوں کروڑوں لوگوں کی امداد پہنچاتا ہے یا چیریٹی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصّہ لیتے ہیں۔ تاہم کورونا کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی مالی حالت کافی خراب ہوگئی ہے۔جس کی وجہ سے دنیا بھر میں بہت سارے غریب زکوۃ سے محروم رہے گے۔دنیا بھر کے مسلمان روزہ رکھ رہے ہیں اور عبادت بھی کر رہے ہیں لیکن رمضان کی حقیقی لطف سے اب بھی محروم ہیں۔ مثلاً اس سال بھی زیادہ تر ممالک میں رمضان کے خاص بازار نہیں لگے گے، مساجد میں اجتماعی افطاری کا انتظام نہیں ہورہا، سحری کی گھما گھمی نا پید ہے اور دیگر تقریبات جو رمضان کے موقعے پر ہی انعقاد ہوتی ہیں، ان کے نہ ہونے سے ایک عجیب و غریب کیفیت کا احساس ہورہا ہے۔

ان تمام باتوں کے باوجود الحمداللہ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں تراویح کی نماز کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس نماز میں امام کے ساتھ کچھ لوگ اور اسٹاف ہی نماز ادا کر سکیں گیں۔ بیرون ممالک کے لوگوں کے لیے اب بھی پابندی جاری ہے۔اسلام مذہب کے چودہ سو سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہورہا جب 2020 کے رمضان میں عام لوگوں کے لیے نماز معطل کی گئی۔تاہم اس سے قبل کئی بار بیماری، جنگ اور مختلف وجوہات سے حج اور نماز معطل کیا جا چکا ہے۔لیکن کورونا وائرس کے پھیلنے اور لاک ڈان سے ایک بات تو سچ ہے کہ اچھوں اچھوں کے ہوش ٹھکانے آگئے ہیں۔کیا حکمراں، سائنسی ماہرین، طبی ماہرین اور دنیا کے ایسے لیڈر جن کا کل طوطی بولتا تھا آج وہ کچھ سمجھ نہیں پارہے اور اوٹ پٹانگ باتیں کہہ رہے ہیں۔

اگر ہم ہندوستانی وزیراعظم کی بات کرے تو اللہ ہی حافظ۔انہوں نے تو کرونا سے نجات کے لیے پہلے لوگوں سے تالی، پھرتھالی بجوا کر نہ جانے کیسا مذاق کر رہے ہیں۔انہیں ہندوستان کے مزدور اور غریبوں کی بھوک مری کی کوئی پرواہ نہیں۔وزیراعظم مودی تو اپنے الیکشن ریلی میں اتنا مصروف ہیں کہ انہیں عام انسان سے کیا لینا دینا۔انہوں نے تو کمبھ میلہ میں لاکھوں لوگوں کی شرکت پر بھی چپ سادھ رکھی ہے۔ ظاہر سی بات ہے معاملہ ہندو مذہب کا ہے اور جس کی بناپر وہ ہندوستان کے وزیراعظم بنے ہوئے ہیں۔وہیں عالمی سطح پرخبروں میں کورونا سے ہندوستان کی بگڑتی صورتِ حال پر تشویش پیش کی جارہی ہے اور دکھایا جارہا ہے کہ بے بس لوگوں کا کوئی پرسان ِ حال نہیں ہے۔ اللہ رحم کر۔
رمضان کے اس مبارک مہینے میں کئی ممالک میں جہاں ہم سب اجتماعی طور پر عبادت نہ کر کے مایوس ہیں تو وہیں اپنے روزے اور نماز کی ادائیگی سے اللہ سے امیدبھی رکھتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم انسانوں نے جس قدر مظلوموں پر ظلم، غریبوں پر تنگی، لوگوں کو گمراہ کرنا، زمینوں کو ہڑپ کرنا، کاروبار میں بدنیتی کرنا، جھوٹی شہرت کی ہوس، حق اور باطل پر خاموش رہنا، ہر چیز کودرست ماننا، ناجائز کو جائز ماننا، حرام اور حلال میں کوئی فرق نہیں رکھنا، مکاری اور جھوٹ پر یقین کرنا اور ایسی کئی باتیں جو ہمارے اور آپ کی آنکھوں کے سامنے روز ہورہی ہیں۔ اور ہم ایک تماشائی کی طرح ان باتوں سے لاپرواہ بنے ہوئے ہیں۔ جس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ ہمیں اس عذاب میں ڈال کر ہمارا امتحان لے رہا ہے۔

ہمیں تو خدا پہ یقین ہے۔توآئیے ہم اور آپ اللہ سے دعا مانگتے ہیں کہ اللہ ہمارے گناہ کو معاف کرے اور ہمیں جلد اس وباء سے نجات دے۔ اے پاک پروردگار!! ہم سب بے بس ہیں، ہماری مدد فرما اور ہمیں اکیلا نہ چھوڑ۔یا اللہ! ہم سب مصیبت میں ہیں ہماری مصیبتیں کو دور کر دے۔آمین

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *