Site icon Dunya Pakistan

خشک آنکھوں میں کوئی خواب نہیں ہے

"نظم نگار : طیب نعمانی"

میری خشک اور بے خواب آنکھیں
اب کوئی خواب ان میں نہیں
کوئی خواہش ہے اورنہ ہی کوئی ارماں ہے
کھو دیا پل بھر میں سب کچھ
گھپ اندھیرا ہر طرف ہے
بہت کچھ مجھ میں بکھر چکا ہے
کشتی زیست ڈگمگا رہی ہے
رفیق ہمدم کہیں نہیں ہے
جو میرے بازو کو تھام لیتا
امید افزا جام دیتا
رہبری کا کوئی پیام دیتا
لیکن اب تو
ہر سمت ہے ہو کا عالم
میدان ' وادی ' پہاڑ
گرم ہاتھوں کا لمس '
ہمدردی کے بول اور دست شفقت
اب کہیں نہیں ہیں
میرا یوسف ثانی
راہی ملک عدم ہوا ہے
سفر پر جانا ' اور لوٹ کر آنا
تازدہ دم ہونا ' کچھ تاسف
تھوڑا تامل
اور
پھر نئے سفر کی منصوبہ بندی
زیست بے کراں کو ثبات کہاں ہے
چلتے رہنا ہی جو زندگی ہے
میری نظر کو ہوا یہ کیا ہے
مہیب سائے ہر طرف ہیں
صرف ریت ' بگولے اور دھواں ہیں
نہ لمس ہےکوئی نہ دست شفقت
بے خواب آنکھیں ' خشک آنکھیں
میں خود کو ڈھونڈ تا ہوں ان میں اکثر
مہیب سی ہر طرف خامشی ہے
خود اپنےوجود کی تلاش میں ہوں
یا
تمہاری کھوج میں لگاہوں
تمہارا ایسے سفر پہ جانا
کبھی نہ لوٹ کر اب گھر کو آنا
یہ کیسا قصد کیا ہے تم نے
اتنی سرعت
اتنی جلدی کیا تھی تم کو
میرے یوسف ثانی
رہبری تمہاری '
تمہاری صحبت
دست شفقت اب کہیں نہیں ہے
آہ ! کون تھامے گا ہاتھ میرا
دے گا کون اب سہارا
کون کہے گا
چلو کہ میں ہوں
ساتھ تمہارے
اپنے خوابوں کو سچ کرلو
جو تم نہیں تو
گھپ اندھیرا ہر طرف ہے
خشک آنکھوں میں اب کوئی خواب بھی نہیں ہے

Exit mobile version