خندہ لب

شنتو روح ہمیشہ مسکراتی ہے۔ یہ نقطہ شنتو دھرم کے بنیادی مذہبی عقائد میں شامل ہے۔ جاپان کا سرکاری مذہب چونکہ شنتو ازم ہے، عوام کی اکثریت بدھ مت اورشنتو مت کے پیروکاروں پر مشتمل ہے، غالباً یہی مذہبی اصول وہ بنیادی وجہ ہے جس کے سبب آپ یہاں کے کسی بھی دفتر، دکان یا استقبالیے پر چلے جائیں، آپ کا استقبال بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ ہوتا ہے۔ بیزار، سپاٹ یا پھر افسرہ چہرے کے ساتھ گاہک کو مخاطب کرنا یہاں خلافِ آداب سمجھا جاتا ہے۔ مجھے یاد نہیں پڑتا کہ یہاں کسی استقبالیے پر پچھلے کئی سالوں میں مسکراہٹ کے بغیر مخاطب کیا گیا ہوں لیکن کبھی کبھی محسوس ہوتا ہے کہ شنتو مت کی روحوں کو ہمیشہ مسکرانے کی تلقین اور فطری جذبات سے زیادہ ان مسکراہٹوں کے پیچھے ادارتی پالیسی کارفرما ہوتی ہے۔ یقینا مہاتما بدھ اور ایک بنک مینیجر کی مسکراہٹ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ ذکر بھی دلچسپی کا باعث بنتا ہے کہ جاپان میں بدھ مت اور شنتو مت آپس میں اس طرح گڈمڈ ہیں کہ ان کو علیٰحدہ کرنا بہت مشکل ہے۔ ایک ہی گھر کے آدھے افراد شنتو دھرم کو مانتے ہیں تو باقی نصف بدھ ازم میں یقین رکھتے ہیں۔ گو کہ شنتو ازم میں روایتی طور پر جاپان کے بادشاہ کی پوجا کی جاتی رہی ہے اور اسے خدا کا اوتار مانا جاتا رہا ہے، جاپان کے شاہی خاندان کو سورج کی دیوی کی اولاد مانا جاتا ہے، جبکہ بدھ مت کا دارومدار سدھارتھ گوتم بدھ کی ذات اور نظریات ہیں۔ بظاہر یہ دونوں بالکل مختلف نظریات پر مبنی مذاہب لگتے ہیں لیکن زمینی حقیقت یہاں یہ نظر آتی ہے کہ ارتقائی عمل نے دونوں مذاہب کی آمیزش سے ان کی مشترک باتوں کو اجاگر کر دیا ہے جبکہ اختلافی مسائل گھٹتے چلے گئے ہیں جس کے سبب اب ان مذاہب میں، جاپان کی حد تک بہت کم فرق رہ گیا ہے۔ یہاں ضرب المثل مشہور ہے کہ ”گاہک بھگوان ہے۔“ ہمارے برصغیر پاک و ہند میں گاہک کو خدا کا روپ تو کہا جاتا رہا ہے مگر یہاں وہ بھگوان ہے، اسی لیے مسکراتے چہرے کے ساتھ ہی اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔
تازہ خبر یہ ہے کہ دن بھر استقبالیوں، دفتروں اور دکانوں پر باچھیں پھیلا کر زندگی سے بھرپور مسکراہٹیں بکھیرنے والے ملازمین جب تھک جاتے ہیں تو مساج پارلر سے باچھوں کا مساج کرواتے ہیں۔ ان دنوں ٹوکیو میں خصوصاً، مسکراتے چہروں کی باچھوں کے مساج پارلر بہت تیزی سے مقبول ہو رہے ہیں اور ان کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ ایسی صورتحال دیکھ کر شک پڑتا ہے کہ شاید ان مسکراتے چہروں کی مسکراہٹ قدرتی نہیں مصنوعی ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ صوفی کے تبسم اوربیوپاری کی مسکراہٹ میں بہت فرق ہے۔ رابعہ بصری قلندرؒ کے ہاں ایک حسن نامی درویش مہمان ٹھہرا ہوا تھا۔ فجر کی نماز کے بعد وہ خیمے کے باہر کھڑا ہو کر دن نکلنے کا منظر دیکھ رہا تھا۔ نظارے سے مبہوت ہو کر اس نے رابعہ بصریؒ کو آواز دی ”رابعہ! باہر آکر دیکھو کیسا خوبصورت دن نکلا ہے“ حسن درویش کی بات سُن کر رابعہ بصری قلندرؒ مسکرائی اورمسکراتے ہوئے کہنے لگی ”اندر آؤ! یہاں یہ دن نکالنے والا بیٹھا ہوا ہے۔“
صوفیاء کرام کی مسکراہٹ جو کہ ضرب المثل ہے، آقائے دو جہاں ﷺ کی سنت پر عمل ہی تو ہے۔ حضور پاکﷺ کے بارے میں روایت ہے کہ آپ اکثر مسکراتے رہتے تھے۔ پتا نہیں ہمارے اکثر و بیشتر مذہبی رہنما مسکرانے سے پرہیز کیوں کرتے ہیں؟
برصغیر پاک و ہند پر برطانوی نو آبادیاتی راج کے اثرات تو مسکراہٹ سے پرہیز کی وجہ نہیں ہو سکتے؟ ہماری بیورو کریسی کے سپاٹ چہرے تو انگریز دور کی یادگار ہیں۔ انگریزوں کی یہ عادت مجھے سخت ناپسند ہے کہ وہ اپنے چہرے سے جذبات و تاثرات کا اظہار نہیں ہونے دیتے، خوشی غم، پسندیدگی ناپسندیدگی، مسکراہٹ غصہ، سب سے عاری سپاٹ چہرے۔ میرے ایک برطانوی نژاد کلاس فیلو کا اس بابت کہنا ہے کہ اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں اورنئی نسل جذبات کے اظہار کے سلسلے میں بزرگوں کی اس نصیحت کو نظر انداز کرتی نظر آرہی ہے کہ ”اپنا چہرہ تاثرات سے ہمیشہ آزاد رکھو۔“ مگر جذبات سے خالی سپاٹ چہرہ جسے انگریزی میں ”سوبر فیس“ اور پنجابی زبان میں ”وٹے ورگا منہ“ کہتے ہیں، برطانیہ کی حکمران جماعت ٹوری پارٹی کا غالب کلچر اب بھی اسی طرح کے چہرے ہیں۔ لندن کی زیرِ زمین ریل گاڑی میں بیٹھ کر انگریز مسافروں کے چہروں کے تاثرات نوٹ کیے جائیں تو محسوس ہوتا ہے کہ میرے مذکورہ برطانوی نژاد دوست کی تھیوری اگر باطل نہیں تو ناقص ضرور ہے۔ ہمارے لیے اس بابت پیغام بڑا واضح اور خوبصورت ہے۔ حضور اکرمﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ”لوگوں سے مسکرا کر ملنا بھی خیرات ہے۔“