خواتین کے حقوق کی حالیہ تحریکوں نے کیا ’مینل‘ کا تصور اور صنف سے متعلق رویوں کو تبدیل کیا ہے؟

گذشتہ سال پارلیمنٹ میں جب خواتین کو گھریلو تشدد سے تحفظ دینے کا بل پیش ہوا تو وہاں ایک ہنگامہ بپا ہو گیا۔ مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا گلہ تھا کہ اگر یہ قانون پاس ہو گیا تو ملک میں خاندانی نظام تباہی کا شکار ہو جائے گا اور اس کی جگہ ’مغربی تہذیب‘ کو فروغ ملے گا۔

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی ممبر قومی اسمبلی شزا فاطمہ خواجہ کو بھی اپنی پارٹی کے صدر شہباز شریف کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی جس میں انھوں نے شزا فاطمہ سمیت دیگر اراکین سے اس معاملے کو دیکھنے کی استدعا کی کیونکہ مسلم لیگ ن کی کلیدی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) گھریلو تشدد کے بل کی مخالفت کر رہی تھی۔

’میرا جواب سیدھا اور صاف تھا‘ شزا فاطمہ نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے بتایا۔ ’میں نے انھیں بتا دیا کہ میں اس بل کی مخالفت نہیں کروں گی کیونکہ اول تو اس معاملے میں درست طرز عمل یہی ہے۔ دوئم اس کا ہمارے ووٹرز پر اچھا سیاسی تاثر نہیں پڑے گا بالخصوص خواتین ووٹرز پر۔‘

اس کے بعد شہباز شریف نے جے یو آئی (ف) سے مشاورت کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی جس میں شزا فاطمہ سمیت رانا ثنا اللہ، خواجہ آصف، احسن اقبال اور دیگر افراد شامل تھے۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ اس کمیٹی میں بعض افراد ایسے بھی تھے جنھوں نے ماضی میں عورتوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیے۔

اس کے باوجود شزا فاطمہ کو یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ اُن کی جماعت کے مرد ارکان نے جے یو آئی ایف کے خلاف بڑا واضح مؤقف لیا اور انھیں کہا کہ اس معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شزا فاطمہ نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’حقیقت میں رانا ثنا اللہ تو ہمارے اتحادیوں کے ساتھ اس معاملے میں بڑے بے باک اور سخت گیر تھے۔‘

شزا فاطمہ کے نزدیک یہ واقعہ اس چھوٹی سی تبدیلی کا مظہر ہے جسے انھوں نے گذشتہ چند برسوں میں محسوس کیا جو مرد سیاست دان اب خواتین سے متعلق مسائل کے حوالے سے اپناتے ہیں۔

شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ ’یہ کوئی بہت بڑی تبدیلی نہیں ہے، لیکن خواتین کے حقوق کی حالیہ تحریکوں اور سیاست میں مضبوط خواتین کی موجودگی کی وجہ سے قومی اسمبلی میں بھی معاملات قدرے بہتر ہوئے ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب کوئی بھی مرد سیاستدان صنف پر مبنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے دو مرتبہ سوچتا ضرور ہے۔‘

’اب بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر خواتین پر تضحیک آمیز تبصرے سننے کو ملتے ہیں‘

علی امین

تاہم اب بھی پارلیمنٹ کے اندر اور باہر خواتین پر تضحیک آمیز تبصرے سُننے کو ملتے ہیں جس پر شاذ ونادر ہی کوئی کارروائی ہوتی ہے۔

گذشتہ برس وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے ایک پُرجوش عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کو ’تھپڑ مار کر بے نقاب‘ کرنے کی دھمکی دی۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا جب گنڈا پور صاحب نے خاتون سیاستدان کے بارے میں ایسا بیان دیا ہو۔ پھر بھی اس ضمن میں ان کے خلاف حکمران جماعت تحریک انصاف کی جانب سے کوئی تادیبی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔

یہ صنفی تعصب سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے۔ سنہ 2019 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما خورشید احمد شاہ نے خواتین ارکان پارلیمنٹ پر طنز کیا۔ انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی سے استدعا کی کہ خواتین ارکان جب ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھی ہوں تو انھیں بات چیت سے نہ روکا جائے۔ تمسخرانہ انداز میں ان کا کہنا تھا کہ ’اگر خواتین بات نہ کریں تو بیمار پڑ جائیں۔‘

’وزیراعظم صاحب بھی خواتین سے بات کرتے ہوئے اپنے الفاظ کے چناؤ میں لاپرواہ ہیں‘

اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی وکیل ایمان زینب مزاری حاضر کا کہنا ہے کہ ’وزیراعظم صاحب بھی خواتین سے بات کرتے ہوئے اپنے الفاظ کے چناؤ میں لاپرواہ ہیں۔‘

’ایگزیوس آن ایچ بی او‘ کو گذشتہ سال دیے گئے انٹرویو کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ملک میں جنسی تشدد کے کیسز کو خواتین کے پہناوے سے جوڑ دیا تھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین مختصر کپڑے پہنیں گی ’تو ظاہر ہے اس کا مرد حضرات پر اثر پڑے گا اگر وہ روبوٹ نہ ہوں، یہ عام فہم بات ہے۔‘

خواتین کے حقوق

ایمان مزاری حاضر کا کہنا تھا کہ ’وہ (وزیراعظم) ہمارے ملک کے سربراہ ہیں، اُن کے الفاظ کے چناؤ سے ان کی حکومت کی ترجیحات واضح ہو جاتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم اپنے الفاظ کے چناؤ میں بہت لاپرواہ ہیں یا شاید وہ وزیر اعظم کا عہدہ استعمال کرتے ہوئے خواتین کے بارے میں اپنی رجعت پسندانہ سوچ کا اظہار کر رہے ہیں، مسئلہ شروع یہیں سے ہوتا ہے۔‘

وکیل ایمان مزاری نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کے لیے خواتین کی برابری یا خواتین کے تحفظ کا معاملہ ایجنڈے میں شامل ہی نہیں۔

اکتوبر 2020 میں ایمان مزاری اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی متعدد خواتین نے ایک کھلا خط لکھا جس میں حکومت سے مزید ’جامع پاکستان‘ کا مطالبہ کیا گیا کہ سیاستدانوں، عدلیہ اور بیوروکریسی کو صنفی حساسیت کی تربیت دی جائے اور جنسی ہراس اور عورت بیزار تبصروں کے حوالے سے سخت پالیسی اختیار کی جائے۔

ایمان مزاری کا کہنا تھا کہ یہ خط تقریباً تمام حکومتی محکموں اور دفاتر کو بھیجا گیا جس میں ایوان صدر بھی شامل تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے یہ خط ہر جگہ بھیجا لیکن ہمیں کسی ایک جگہ سے بھی جواب موصول نہیں ہوا۔‘

حقیقی تبدیلی یا محض ٹوکن ازم؟

ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ چند سال میں پاکستان کی افرادی قوت میں خواتین کی شمولیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ یہ شرح سنہ 2015 میں سب سے زیادہ یعنی 23.86 فیصد تک پہنچ گئی تھی جو سنہ 2019 میں گر کر 21.67 فیصد رہ گئی۔ یہ شرح بنگلہ دیش اور سری لنکا سمیت خطے کے دیگر ممالک سے کم ہے۔ حالانکہ پاکستان کی آبادی کا 48 فیصد خواتین پر مشتمل ہے۔

اس کے علاوہ ورلڈ اکنامک فورم کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ سنہ 2021 میں پاکستان کو 156 ممالک میں 153 ویں نمبر پر رکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ملک میں خواتین کو کام تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہوتا ہے اور اگر کام مل بھی جائے تو وہ مردوں کے مقابلے میں 34 فیصد کم کماتی ہیں۔

سیاست میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے جہاں قومی اسمبلی میں خواتین کی تعداد صرف 20 فیصد ہے اور پچھلے چند سال میں اس تعداد میں بمشکل معمولی سا اضافہ ہوا ہے۔ جبکہ 32 ارکان پر مشتمل وفاقی کابینہ میں صرف چار خواتین ہیں۔

مزید برآں پاکستان کی تاریخ میں ایک بھی خاتون بطور چیف جسٹس سپریم کورٹ کے عہدے پر فائز نہیں ہوئیں۔

’میڈیا میں تبدیلی آ رہی ہے لیکن یہ تبدیلی آٹے میں نمک کے برابر ہے‘

میڈیا میں گذشتہ چند برسوں میں نیوز چینلز کے اندر خواتین کو تجزیہ کار اور ٹاک شو میزبان کے طور پر شامل کرنے پر دھیان دیا گیا ہے لیکن ایک سینیئر صحافی عائشہ بخش کا کہنا ہے کہ سکرین پر خواتین کی تعداد اب بھی بہت کم ہے۔

عائشہ بخش کا کہنا ہے کہ ’میڈیا میں تبدیلی آ رہی ہے لیکن یہ تبدیلی آٹے میں نمک کے برابر ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میڈیا میں ابھی تک مرد ہی بالا دست ہیں۔ بااختیار اور فیصلہ ساز عہدوں پر سب مرد حضرات ہی ہوتے ہیں۔‘

عورت

اس کے علاوہ اب بھی صنفی تعصب کے ایسے واقعات ہوتے ہیں جن کا خواتین کو اس شعبے میں سامنا کرنا پڑتا ہے۔ 16 سال سے زیادہ عرصے سے اس شعبے میں کام کرتی عائشہ بخش کو حال ہی میں ایک مارننگ شو میں مدعو کیا گیا اور میزبان نے بتایا تھا کہ وہ صرف اس لیے مدعو تھیں کہ ان کی ’مسکراہٹ بڑی اچھی ہے۔‘

عائشہ بخش نے بتایا کہ ’میں نے انھیں کہا کہ آپ آئندہ فون کرنے کی زحمت نہ کیجیے گا۔‘

عائشہ بخش نے یہ بھی کہا کہ ٹی وی چینلز کے مرد دعویٰ کرتے ہیں کہ خواتین سکرین پر کم اس لیے ہیں کیونکہ وہ مردوں کی طرح ٹیلی ویژن کی اچھی ریٹنگ نہیں لاتیں۔ عائشہ بخش نے پوچھا ’جس ملک کی خواتین کا آبادی میں تناسب 50 فیصد کے لگ بھگ ہو وہاں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے مسائل کے بارے میں جاننا نہیں چاہتی ہوں۔‘

کیا خواتین نے حال میں کوئی کامیابی حاصل کی ہے؟

ایسا نہیں ہے کہ سب کچھ بُرا ہی ہو رہا ہے۔ اس مضمون کے لیے جن خواتین سے بات کی گئی انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مرکزی میڈیا، سوشل میڈیا اور گھروں میں حال ہی میں خواتین کے حقوق کے بارے میں طرز گفتگو بدل رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل سست ضرور ہے لیکن بات آگے بڑھ رہی ہے۔

ابھی پچھلے سال ہی لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے، جس کی سربراہ ایک خاتون جج تھیں، ریپ کی شکار خواتین کے ٹو فنگر ٹیسٹ پر پابندی لگا دی۔ اس پابندی کا مطالبہ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سرگرم خواتین کا دیرینہ مطالبہ تھا۔

فائل فوٹو

اس کے علاوہ کام کاج کی جگہ پر ہراساں کرنے سے متعلق قانون میں حال ہی میں ترمیم کی گئی تھی تاکہ اس سے ملنے والے تحفظ کو مزید خواتین تک بڑھایا جا سکے۔ یہ قانون اب سابق ملازمین، جُزوقتی کارکنان، فری لانس اور زیرِ تربیت ملازمین ، ہوم بیسڈ ورکرز اور اپنا آن لائن کاروبار چلانے والوں پر بھی لاگو ہو گا۔

خواتین کی ایک اور فتح گذشتہ سال حکومت کی جانب سے انسداد ریپ قانون کا منظور کرنا بھی ہے۔

دریں اثنا عورت مارچ نامی ایک بنیادی سطح کی تحریک جو نوجوان خواتین کی جانب سے کام کے محفوظ حالات، بہتر معاوضے اور بنیادی حقوق کے مطالبے سے شروع کی گئی تھی وہ سنہ 2022 میں اپنے چوتھے سال میں داخل ہو جائے گی۔

یہ تحریک عام گھرانوں میں اہم مسائل پر گفتگو اور بحث کا ماحول پیدا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

23 سالہ بزنس اینالسٹ افراح بلال کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق ایک قدامت پسند گھرانے سے ہے لیکن اس کے باوجود ان کا خاندان بھی اب عورت مارچ اور خواتین کے حقوق پر بات کرتا ہے۔

’اگرچہ میرے والدین قدامت پسند ہیں لیکن اب وہ بھی اپنے ارد گرد ہونے والی ان چیزوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مطلب ’میرا جسم میری مرضی‘ والا پلے کارڈ جو عورت مارچ میں ایک خاتون نے اٹھایا ہوا تھا کے متعلق گفتگو ہونا ماضی میں (اس گھرانے میں) محال تھا۔‘

لیکن افراح کا ساتھ ہی یہ بھی کہنا تھا کہ دفاتر جہاں انھوں نے پہلے کام کیا یا انٹرن شپ کی وہاں کے مرد حضرات کی سوچ نہیں بدلی۔ ’وہ (مرد حضرات) اب بھی حقوق نسواں کا مذاق اڑاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ہر چیز کو ہراسانی بنا دیتی ہیں۔‘

ایمان مزاری کہتی ہیں کہ یہ جانچنے میں کچھ وقت لگے گا کہ کیا واقعی خواتین کے حوالے سے معاشرے میں حقیقی تبدیلی آ رہی ہے۔

’ان تحاریک کے نتائج میں کافی وقت لگتا ہے۔ مثال کے طور پر سنہ 1960، 70 یا 80 کی دہائیوں میں چلنے والی تحریکوں میں حاصل کیے جانے والے کچھ فوائد کے نتائج ہم (خواتین) اب محسوس کر رہی ہیں۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published.