خواتین کے خلاف تشدد: نئی تحقیق کے مطابق تمام جانداروں میں انسان ہی اپنی نسل کی مادہ پر سب سے زیادہ تشدد کرتا ہے

نر اور مادہ کے رشتے میں تشدد جینیاتی مسئلہ ہے یا ثقافتی؟

وسیع تر تحقیق کے بعد فرانسیسی پیلیو اینتھروپولوجسٹ پاسکل پیک نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ صنفی تشدد یقینی طور پر ہمارے جنیز میں شامل نہیں ہے۔

جانداروں کی ’ہومینڈ فیملی‘ میں (جس میں انسان بھی شامل ہیں) بہت محتلف رجحانات پائے جاتے ہیں۔ چمپینزی اور انسان اپنی ماداؤں کی طرف بہت متشدد ہیں لیکن بن مانسوں کی نسل بنوبوس متشدد نہیں ہیں۔

فرانس کے مائشٹھیت کالج میں پروفیسر اور متعدد کتابوں کے مصنف پاسکل پیک انسانی نوع کی متعدد خصوصیات پر تحقیق کرتے ہیں جن میں ابھی تک بہت سی حل طلب اور نامعلوم چیزیں موجود ہیں۔

اپنی حالیہ تحقیق 'اور ارتقا نے عورت کو تخلیق کیا‘ میں وہ ابتدائی انسانی معاشروں میں مردوں اور عورتوں کے مابین تعلقات کے مسئلے پر توجہ دیتے ہیں۔

’ہومو سیپیئن‘ یعنی بنی نوع انسان کا اپنے قریبی کزن، گوریلوں اور بندروں سے موازنہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں جو شاید بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن بات ہو کہ انسان اپنی نوع کے تمام حیوانات میں اپنی جنس مخالف کی طرف سب سے متشدد رویہ رکھتا ہے۔

پاسکل پیک
،تصویر کا کیپشنپاسکل پیک نے اپنی تحقیق میں خواتین کی طرف مردوں کے روئیوں پر غور کیا ہے

بی بی سی منڈو نے پیک سے اس اہم موضوع پر ایک غیر رسمی گفتگو کی جس کا خلاصہ ذیل میں دیا گیا ہے۔

اس گفتگو میں مسٹر پیک اس کی تفصیلات پیش کرتے ہیں کہ وہ اس نتیجے پر کیسے پہنچے اور خواتین کے ضبط اور مرد کے تسلط کو ختم کرنے میں ہمیں کتنا وقت لگ سکتا ہے جو اب بھی دنیا کے بیشتر معاشروں میں موجود ہے۔

ابتدائی انسانی معاشروں میں مردوں اور عورتوں کے مابین تعلقات کی گہرائی سے تفتیش کرنے کی آپ کی کیا وجہ تھی؟

کئی چیزیں، سب سے پہلے ہم عام طور پر ہمیشہ انسان کے ارتقا کے بارے میں متجسس رہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اس میں مرد اور عورتیں دونوں شامل ہیں۔

لیکن حقیقت میں ہم نے ہمیشہ مردوں کے نقطہ نظر سے ارتقا کی بات کی ہے۔

شاید ہی کبھی کوئی سائنسی رپورٹ سامنے آئی ہو جس میں خواتین کے ارتقائی عمل کی بات کی گئی ہو۔

دوسرا یہ کہ، خاص طور پر مغربی دنیا میں، ہمیں یہ نظریہ وراثت میں ملا ہے کہ ارتقا کا صرف ایک ہی نظریہ ہے جو لازمی طور پر باقی دنیا میں مغرب کے تسلط کا باعث بنا۔ اسے ثقافتی ارتقا کہا جاتا ہے۔

ان تمام نقشوں میں جو انسانی نسب کے ارتقا کی نمائندگی کرتے ہیں، ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مرد ہی ہیں جو اوزار تیار کرتے ہیں وغیرہ۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ حال ہی میں مختلف نوع کے مردوں اور عورتوں کے مابین تعلقات کا مطالعہ کرنے میں بڑھتی ہوئی دلچسپی دیکھنے میں آرہی ہے کیوںکہ اخلاقیات میں، رویوں کے مطالعہ میں، خواتین کی صنف کو بھی تھوڑا سا نظر انداز کیا گیا تھا۔

آپ اپنی کتاب میں جن خواتین کے بارے میں بات کرتے ہیں ان کے خلاف زور اور زبردستی کہاں سے آتی ہے؟

جیسا کہ آپ جانتے ہیں انسان ممالیا یا دودھ پلانے والے حیوانات سے تعلق رکھتے ہیں اور ممالیا میں تولیدی عمل میں ایک بہت بڑا عدم توازن موجود ہے۔

یہ مادہ ہی ہے جو حمل اور جنم دینے کی اذیت سے گرزتی ہے، دودھ پیدا کرتی ہے اور وہ ہی اکثر اوقات بچوں کا دفاع کرتی نظر آتی ہے اور اپنی نسل کے نر سے محفوظ رکھتی ہے۔

بندروں کے معاملے میں، یہ عدم توازن مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ مادہ ایک وقت میں صرف ایک ہی بچے کو جنم دیتی ہیں۔

عام طور پر انسانوں میں عموماً ہر چار سے پانچ سال بعد ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ یہ تولید کی ایک بہت ہی کم شرح ہے اور مرد اس پر قابو پانا چاہتے ہیں۔

یہ اعلی مخلوق کی مختلف نوع اقسام کے درمیان کس طرح مختلف ہے؟

عام طور پر ممالیہ جانوروں میں جنسں نازک کے خلاف بہت کم جنسی جبر، زور اور زبردستی کا عنصر پایا جاتا ہے۔

بہت سارے جانور ایسے نہیں ہیں جن میں نر بہت زیادہ متشدد ہوں اور مادہ کے خلاف انتہائی متشدد رویہ رکھتے ہوں۔ ان میں کچھ گھوڑے، ہرنوں کی کچھ اقسام اور ڈالفن مچھلیاں شامل ہیں۔

پاسکل پیک
،تصویر کا کیپشنپاسکل پیک کہتے ہیں کہ بندروں کی نسل جس سے انسان کا تعلق ہے اس میں مادواوں پر جبر اور تشدد کا تجحان پایا جاتا ہے

جب ہم اپنے حیوانیاتی ترتیب پر آتے ہیں تو، لیمرس کی نسل کے بندر، لنگور اور یقینًا انسانوں کا کافی یکساں گروپ ہے جس میں نر مادہ پر حاوی ہیں۔ بہت کم ایسے معاملات ہیں جن میں مادہ کے خلاف کوئی تشدد نہیں ہوتا ہے۔

جنوبی امریکہ کے بندروں میں جنسی زیادتی بھی بہت کم ہے۔ ایک نر اور ایک ہی مادہ کے درمیان جنسی تعلق ہوتا ہے۔ لیکن ایسی نسلیں بھی ہیں جن میں ایک مادہ بیک وقت بہت سے نروں کے ساتھ رہتی اور جنسی تعلق رکھتی ہے۔

کچھ نسلیں ایسی ہیں، جیسے مکڑی کے بندر، جن میں نر تھوڑا سا مجبور ہوتے ہیں، لیکن زیادہ متشدد نہیں ہوتے ہیں۔

لیکن جب بات قدیم افریقہ، ایشیا اور یورپ کے کچھ بندروں کی نسلوں کی ہوتی ہے، جیسے مکاکس، بابون، وغیرہ سے تو وہ نسباتاً زیادہ متشدد ہوتے تھے۔

کچھ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواتین کو ماحولیاتی جنس کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے علاقے، وسائل، اور اپنی ماؤں، بہنوں اور کزنوں کے ساتھ اپنی پوری زندگی گزارنے کا رجحان رکھتی ہیں۔ جس کی مدد سے وہ اتحاد تشکیل دے سکتی ہیں تاکہ مردوں کے دباؤ کا مقابلہ کر سکیں۔

جہاں تک جنسی تعلقات کے حوالے سے ایک نر اور ایک مادہ تک محدود رہنے کا تعلق ماسوائے انسانوں میں متشدد رویوں کو اس جنسی رویے سے جوڑا نہیں جا سکتا۔ گبون نسل کے بندروں میں ایک نر صرف ایک مادہ کے درمیان ہی جنسی تعلق ہوتا ہے لیکن وہ متشدد نہیں ہوتے۔

پاسکل پیک نے کہا وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ چمپینزی جیسی انتہائی پُرتشدد نوع میں بھی، ماداوں کو قتل نہیں کیا جاتا لہذا فیمیسائڈ انسانی نوع سے منسلک ایک 'عجیب' رجحان ہے۔

انسانوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟

ہم، عظیم افریقی ’ایپ‘ یا بندروں کی ایک نسل ہیں جن کو آج کل سائنسی اصطلاح میں ’ہومینڈ‘ کہا جاتا ہے، پدری نوع کے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ مرد تمام زندگی ایک ساتھ رہتے ہیں اور خواتین نوعمری میں تولیدِ نسل کے لیے ہجرت کرتی ہیں اور 95 فیصد انسانی معاشرے اسی طرح کام کرتے ہیں۔

پاسکل پیک

ہومینڈ فیملی (جس میں انسان بھی شامل ہیں) کے اندر متفرق رویے پائے جاتے ہیں: چمپینزی اور مرد اپنی ماداوں یا عورتوں کی طرف بہت متشدد ہیں، لیکن بنوبوس نہیں ہیں۔ لہذا، یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان اپنی خواتین کی نسبت متشدد نوع میں سے ایک ہے۔

خواتین کے خلاف تشدد بنیادی طور پر ایک سماجی اور ثقافتی مسئلہ ہے، یہ جینیاتی نہیں ہے۔ اس کا تعلق ماحولیاتی نظام سے ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے اور نہ ہی اس کا تعلق اس بات سے ہے کہ معاشرہ پدر شاہی ہے یا مادر شاہی ہے۔

ہمارے آبا و اجداد کی بات کریں تو کیا نیندرٹھل خواتین بھی صنف پر مبنی تشدد کا شکار ہوئیں؟

یہ بات واضح ہے کہ چمپینزیوں کی ہماری ایک مشترکہ نسل ہے اس پر غور کرنے سے کوئی یہ سوچ سکتا ہے کہ ہماری نسل جابر اور پرتشدد ہے۔ لیکن ہم بونبوس سے بھی متعلق ہیں، جو نہیں ہیں۔

شاید بہت سارے معاشرے ہوئے ہوں گے جہاں مردوں اور عورتوں کے مابین مردانہ جبر اور طاقت کا زیادہ توازن موجود تھا۔

لیکن اس وقت ہمارے پاس اتنے عناصر نہیں ہیں کہ اس سوال کا جواب دے سکیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نیندرتھلز نے پیٹریارکل یا پدر شاہی معاشرے تشکیل دیئے۔

اب جب آپ ان کی قبروں کو دیکھیں تو یہ دیکھنا بہت مشکل ہے کہ مرد اور عورت کے مابین حیثیت میں کوئی فرق ہے یا نہیں۔

قبل از تاریخ کے خاتمے کی طرف، بہت پیچیدہ معاشرے نمودار ہوتے ہیں اور کچھ میں ہم مردوں اور عورتوں کے مابین اختلافات دیکھتے ہیں جو بعد میں حالیہ معاشروں میں زیادہ سے زیادہ واضح ہو جاتے ہیں۔

ایسے معاملات جن میں خواتین مرد کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں وہ صرف انسانی نوع میں پائے جاتے ہیں؟

یہاں تک کہ بہت پُرتشدد نسلوں جیسے چمپینزی یا کچھ قسم کے مکے میں بھی ہم نے ماداوں کو قتل ہوتے نہیں دیکھا۔ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ وہ اچھے ہیں، لیکن ہم نہیں جانتے کہ انھوں نے اپنی ماداوں کو ہلاک کیا ہو۔

فیمینسائڈ ایک خاص عجیب و غریب واقعہ ہے جو خاص طور پر ہماری نسلوں سے جڑا ہوا ہے۔

اورنگاٹن نسل کے بندروں میں، بہت سی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ یہ ذرا پیچیدہ ہے کہ یہ کیسے ہوتے ہیں، لیکن عصمت دری فطرت میں بہت کم ہی ہے اور وہاں بھی، ہمارے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے اس کے برعکس، عصمت دری کے بعد خواتین کا کوئی قتل نہیں ہوتا ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ فیمینسائڈ ایک خاص رویہ ہے، خاص طور پر ہماری نسلوں میں پایا جاتا ہے۔

یہ انتہائی خوفناک ہے کہ خاندانی ماحول یا معمول کا ماحول جہاں خواتین رہتی ہیں اور جسے زیادہ محفوظ ماحول ہونا چاہیے، وہاں زیادہ خواتین کے جان سے مار دینے کا امکان ہوتا ہے۔

انسانی تاریخ میں خواتین کا کردار کیسے تشکیل ہوا ہے؟

یہ ہمیشہ سے انسان کے کردار کی طرح ہی اہم رہا ہے۔ یقینًا، سوائے اس کے کہ ہم نے اسے مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے۔

خواتین نے کبھی بھی فرانسیسی انقلاب یا پہلی جنگ عظیم جیسے واقعات میں حصہ لینے سے اجتناب نہیں کیا، لیکن ہمیں دوسری جنگ عظیم تک انتظار کرنا پڑا تاکہ خواتین کے تناظر سے تاریخ کو دیکھنے کے قابل ہوں۔

انھوں نے ایک بہت اہم کردار ادا کیا، لیکن ایک جس کا ابھی تک واضح ہونا باقی ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ ہم نے ایسا کرنا شروع کیا۔

کیا ہم مرد اور خواتین کے مابین حقیقی مساوات حاصل کریں گے؟ ہمیں کتنا وقت لگے گا؟

ارتقائی حیاتیات میں سنہ 1980 کے عشرے سے ہمارے پاس ایک عمدہ نظریہ موجود ہے جسے پنکٹیوٹیٹ ایکیلیئبریم تھیوری کہا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ارتقاء نسبتا استحکام اور تیزی سے تبدیلی کے ادوار کے مراحل سے گزرتا ہے۔

مثال کے طور پر، سپین میں بیس سال پہلے صنفی تشدد عام تھا اور 15 سالوں میں انھوں نے اس مسئلے کو تقریباً حل کر لیا تھا۔

اگرچہ ابھی بھی ایسی شکایات موجود ہیں کہ وہاں کی ثقافت پر مردانگی کا عنصر غالب ہے، لیکن اب صنفی مساوات، انصاف وغیرہ کے معاملے میں سپین ایک اعلی درجے کے ممالک میں شامل ہے۔ تو ہاں، یہ ایسی چیز ہے جو بہت جلد بدل سکتی ہے۔

عام طور پر معاشرے نے اس مسئلے پر پیشرفت کی ہے لیکن زیادہ تر کام ابھی باقی ہیں۔

زیادہ تر ممالک میں مردوں اور عورتوں کے لیے صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک رسائی تقریبا برابر ہے۔

لیکن دوسری طرف ہم دیکھ سکتے ہیں کہ معاشی اور معاشرتی دنیا میں خاص طور پر کیریئر کے مواقع میں ابھی بھی بہت عدم مساوات ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ جن خواتین کے پاس مطالعے کا آپشن موجود ہے انھیں ایسے پیشوں کی طرف دھکیلا جاتا ہے جن میں آج کم تنخواہ دی جاتی ہے، خاص کر مردوں کے مقابلے میں۔

ابھرتے ہوئے پیشوں جیسے ڈیٹا سائنس، مصنوعی ذہانت، وغیرہ میں خواتین کم تعداد میں موجود ہیں۔ وہ انسان سے متعلق زیادہ کیریئر جیسے تعلیم، انصاف، طب اور معاشرتی کام کا انتخاب کرتی ہیں، جبکہ ’مردوں‘ کی نوکریاں زیادہ تکنیکی ہوتی ہیں اور وہ بہتر تنخواہ لیتے ہیں۔

لیکن ہم سیاسی میدان میں بنیادی عدم مساوات دیکھتے ہیں۔ انگلینڈ اور دوسرے شمالی یورپی ممالک میں ہم خواتین لیڈروں، وزرائے اعظم، مہارانیوں کو دیکھنے کے عادی ہیں، جنوبی یورپ میں یا پوری دنیا میں ایسا نہیں ہے۔

لیکن ان ممالک میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ پارلیمنٹ یا دیگر اداروں میں نمائندگی کے معاملے میں ، خواتین اب بھی مردوں کے مقابلے میں بہت کم موجود ہیں۔

پِکٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ارتقاء کے دوران ہم خواتین کے خلاف زیادہ سے زیادہ جبر کی طرف گامزن ہوگئے ہیں اور یہ کہ انسانی نسب کے ارتقا کے دوران اور بھی بہت سارے معاشرتی تجربات ہوئے ہیں۔

آپ کے خیال میں خواتین اس قسم کے پیشوں کا انتخاب کیوں کرتی ہیں؟

ابھی بھی ثقافتی رجحانات ایسے ہیں کہ خواتین کے ہائی سکول کی سطح پر سائنسی مضامین میں مردوں سے بہتر ہونے کے باجودو وہ معاشرتی دباؤ اور ماحول کی وجہ سے ان پیشوں کا انتخاب کرتی ہیں جن کا تعلق سماج سے زیادہ ہوتا ہے اور وہ ان شعبوں کا انتخاب نہیں کرتیں جن میں زیادہ پیسہ کمایا جا سکتا ہے۔

آخر میں، اس کتاب پر کام کرنے کے بعد آپ نے اور کیا نتائج اخذ کیے؟

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ارتقا کے عمل سے گزرتے ہوئے خواتین کے خلاف زیادہ سے زیادہ جبر کا رجحان بڑھتا رہا۔

اور سب سے اہم بات یہ کہ ان امور کو سمجھنا دنیا کے آنے والے کل کے لیے بالکل بنیادی ہیے کیونکہ ہم اپنے معاشرے میں نمایاں تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں، مثال کے طور پر والدین کا تصور کیا ہے اس میں بڑی تبدیلی آرہی ہے۔

صنف کے تصور یا مرد اور عورت کے مابین نئے تعلقات کے بارے میں بھی دوسرے سوالات پیدا ہوئے ہیں، خواہ وہ متنازع یا ہم جنس پرست جوڑوں میں ہو۔

آج ہم معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے اپنے معاشروں میں زبردست اتار چڑھاؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ بات بہت دلچسپ ہوگئی ہے۔

پدر شاہی کے کچھ پہلوؤں کو مکمل طور پر مسترد کیے بغیر جو دلچسپ ہوسکتے ہیں اور متشدد بھی نہیں ہیں، ہم یہ محسوس کر چکے ہیں کہ دنیا کے لیے مستقبل میں آگے بڑھنے کا کوئی واحد راستہ یا سمت نہیں ہے۔ اور یہ کہ ہم نے سب کچھ ایجاد نہیں کیا ہے۔