خوشامد طومارپوری کا ایک سابقہ شاگرد !

دنیا بھر میں مختلف فنون کے فروغ و ترویج کے لئے کئی ادارے قائم ہیں مگر انتہائی افسوس کی بات ہے کہ خوشامد جیسے فن لطیفہ کی طرف کبھی کسی نے توجہ نہیں دی، حالانکہ خوشامد کے فن کو اگر صحیح طور پر برتا جائے تو یہ نجی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہت سے مسائل حل کر سکتی ہے۔ میں اس معاملے میں لمبے چوڑے چکر میں نہیں پڑتا‘ صرف اتنا بتاتا ہوں کہ اگر کوئی خوشامد کے صحیح اور برمحل استعمال سے واقف نہیں ہے تو اس بے چارے کو انعام و اکرام کے بجائے الٹا شرمندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرا ایک دوست اس حوالے سے بہت پریشان تھا، ایک بار وہ مجھے کہنے لگا کہ ساری عمر لوگوں کی خوشامد کرتے کرتے کمر دہری ہو گئی ہے مگر ٹکے کا فائدہ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصان ہی ہوا۔ اس نے مجھے بتایا کہ ڈھیر سارے لوگوں کی خوشامد کے باوجود وہ ابھی تک نئے کپڑے نہیں سلا سکا، اسے ہمیشہ لنڈے بازار ہی سے کوٹ اور پتلونیں وغیرہ خریدنا پڑتی ہیں۔ ایک واقعہ سناتے ہوئے وہ تقریباً آبدیدہ ہو گیا اور وہ یہ کہ ایک دن اس کا باس تقریباً چار لاکھ روپے مالیت کا سوٹ پہن کر آیا جو اسے بہت جچ بھی رہا تھا، دفتر کے عملے نے باری باری مختلف زاویوں سے اس کے سوٹ کی تعریف کی۔ میرا دوست کہتا ہے کہ میں ساری عمر لنڈے کے سوٹ پہنتا آیا ہوں، مجھے کیا پتہ کہ اس نے کتنا مہنگا سوٹ پہنا ہوا ہے، اب چونکہ سب لوگ اس سوٹ کی اپنے اپنے رنگ میں تعریف کر چکے تھے اور یوں میرے لئے پیچھے رہنا ممکن نہیں تھا چنانچہ میں نے باس سے کہا، ’’سر، ایک آپ کی پرسنیلٹی، اوپر سے یہ خوبصورت سوٹ، آپ کے حسن و جمال میں اضافہ کر رہا ہے،‘‘ جس پر باس نے رسمی طور پر میرا شکریہ ادا کیا، میرے حوصلے بلند ہو گئے۔ میں نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا سر، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ آپ کو بالکل پورا آیا ہے جس پر وہاں موجود سب ’’خوشامدین‘‘ نے بھرپور قہقہہ لگایا، وہ سب جانتے تھے کہ میں جب لنڈے کا سوٹ خرید کر لاتا تھا تو دوستوں سے کہا کرتا تھا کہ یار دیکھو یہ مجھے بالکل پورا آیا ہے۔

میں نے اپنے اس دوست کی یہ دردناک داستان سنی تو کہا واقعی یہ تو تمہاری خاصی بے عزتی ہو گئی۔ میں نے اسے سمجھایا کہ خوشامد ہر ایک کے بس میں نہیں ہوتی، یہ ایک فنِ لطیف ہے، میں تمہیں اس فن کے ماہر جناب خوشامد طومار پوری سے ملوائوں گا، تم کچھ دن اس کی صحبت میں رہو، ان شاء اللہ من کی مرادیں پائو گے۔ میں نے اسے بتایا کہ اس کے بگ باس نے ایک بڑے انٹرنیشنل فورم سے تقریر کی، اس سے اگلے روز اس کے عملے کے گریڈ بائیس کے چند اسٹاف ممبرز نے بہت خوبصورت انداز میں اس کی تعریف کی۔ خوشامد طومار پوری کو پتہ چلا تو اس نے نائب قاصد سے کہا کہ وہ صاحب سے ملنا چاہتا ہے، چنانچہ اجازت ملنے پر اس نے بگ باس کو مخاطب کیا اور کہا ___’’کل آپ کی تقریر سنی، آپ تو جانتے ہیں تعریف کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے میرے لئے لیکن یقین کریں آج تو میرا دل بھی خوشامد کرنے کو چاہ رہا ہے۔‘‘ یہ اس کا اندازِ دلپذیر ہی ہے جس کے نتیجے میں وہ گریڈ سترہ سے گریڈ انیس تک پہنچ گیا ہے مگر تم ڈھگے کے ڈھگے ہی رہے، جو کام تمہیں نہیں آتا اس میں ہاتھ ہی کیوں ڈالتے ہو؟‘‘ یہ سن کر اس نے مجھ سے خوشامد طومار پوری کے لئے سفارشی خط لکھوایا۔ اس کے بعد اس کی اس سے نہ صرف روزانہ ملاقات ہونا شروع ہو گئی بلکہ اس سے سبقاً سبقاً خوشامد کا درس بھی لینا شروع کر دیا۔ اسی کے مشورے پر اس نے ایک اخبار میں کالم نویسی کا بھی آغاز کیا اور اس کا یہ فیصلہ اس کے لئے ایک نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوا۔

اب اسے کسی افسر کی خوشامد کی ضرورت نہیں، وہ براہِ راست بڑی سرکار کے قصیدے لکھتا ہے اور اس مہارت سے لکھتا ہے کہ بظاہر اس کی تحریر خوشامد کی ذیل میں نہیں آتی، وہ اپنے دس کالموں میں سے کسی ایک کالم میں حکومت کے کسی ایسے شعبے کے پرخچے اڑا دیتا ہے جس نے اس کے کاسۂ گدائی میں کچھ ڈالا نہیں ہوتا۔ عوام میں بھی بلّے بلّے ہو جاتی ہے اور حکومتی سربراہ بھی اس کے کالم کا فوری نوٹس لیتے ہوئے اس محکمے کے سربراہ کی جواب طلبی کرتے ہیں اور یوں ان دنوں پاکستان کے اکثر سرکاری ادارے اس کے ’’ماتحت‘‘ کام کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز خوشامد طومار پوری اس کے نام مجھ سے سفارشی خط لے کر گیا ہے کہ اب وہ اس کی شاگردی میں آنا چاہتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *