خوش آمدید جسٹس عائشہ ملک!

اسے بد قسمتی ہی کہیے کہ پاکستان سے متعلق اچھی اور مثبت خبریں ہمیں شاذ و نادر ہی سننے کو ملتی ہیں۔ قومی ذرائع ابلاغ ہو یا عالمی میڈیا، ایک سے بڑھ کر ایک منفی خبر ہمارے نام کیساتھ جڑی دکھائی دیتی ہیں۔ کہیں خبر آتی ہے کہ پاکستانی روپے کی قدر اسقدر گر گئی ہے کہ اس نے خطے کی بدترین کرنسی کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیشی ٹکہ بھی پاکستانی روپے سے دوگنا ہو چلا ہے۔ کہیں عالمی تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشل ہمیں اطلاع دیتی ہے کہ پاکستان میں بدعنوانی کئی درجے بڑھ گئی ہے۔ کہیں خبر آتی ہے کہ پاکستانی پاسپورٹ کا شمار دنیا کے آخری چار بدترین پاسپورٹوں میں ہونے لگا ہے۔ یہاں تک کہ صومالیہ، یمن اور فلسطین جیسے کمزور ممالک کے پاسپورٹ کی وقعت بھی پاکستانی پاسپورٹ سے زیادہ ہے۔ کہیں برطانوی جریدہ اکانومسٹ خبر دیتا ہے کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہونے لگا ہے جہاں مہنگائی کی شرح بلند ترین سطح پر ہے۔ کہیں یہ اطلاع ملتی ہے کہ پاکستان کے سر پر فاٹف کی تلوار بدستور لٹک رہی ہے۔ کہیں دہشت گردی اور قتل و غارت گری کی خبریں آتی ہیں۔ کہیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کہیں مہنگائی کے ہاتھوں مجبور شہریوں کی خود کشیوں کے قصے۔ کہیں یہ شرمناک رپورٹ کہ عالمی سطح پر پاکستانی پروفیسروں کے بیسیوں تحقیقی مضامین کو چربہ سازی کی وجہ سے رد کر دیا گیا ہے۔
ایسی مایوس کن خبروں کے انبوہ میں یہ خبر ہوا کے ایک خوشگوار جھونکے کی مانند ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک خاتون جج کی تعیناتی ہو ئی ہے۔ جسٹس عائشہ ملک کے تقرر کی گونج نہ صرف قومی میڈیا میں سنائی دی، بلکہ عالمی میڈیا میں بھی نمایاں طور پر یہ خبر شائع ہوئی۔ اس تعیناتی پر تبصرے اور تجزئیے بھی ہوئے۔عام طور پر ہمارا ہمسایہ ملک بھارت ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ پاکستان سے متعلق منفی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرئے۔ لیکن جسٹس عائشہ ملک کی تعیناتی کی خبر بھارتی میڈیا نے نمایاں طور پر شائع کی اور وہ بھی منفی تبصرے کے بغیر۔
اگرچہ پاکستانی سماج کسی حد تک قدامت پرست ہے۔ خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی ہمارا ریکارڈ کچھ خاص اچھا نہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی خواتین ہمیں روائتی اور غیر روائتی شعبوں میں نمایاں دکھائی دیتی ہیں۔پولیس فورس میں شامل ہیں۔ جنگی جہاز اڑاتی ہیں۔انسداد دہشت گردی فورس کا حصہ ہیں۔ بیوروکریسی میں اعلیٰ عہدوں پر متمکن ہیں۔ نامور جامعات کی وائس چانسلر ہیں۔ سیاست میں متحرک ہیں۔ دو برس پہلے خیبر پختونخواہ کے ایک پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والی خاتون آرمی آفیسر نگار جوہر، ترقی کرتے کرتے سرجن جنرل کے عہدے تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے پاکستان آرمی میں پہلی لیفٹننٹ جنرل ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ ہمیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ایک خاتون (محترمہ بے نظیر بھٹو) دو بار وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئیں۔یعنی شایدہی کوئی شعبہ ایسا ہو جہاں خواتین موجود نہ ہوں۔
پاکستان کی عدلیہ میں بھی خواتین جج اور وکلاء موجود ہیں۔ گنی چنی خواتین قانون دان کافی متحر ک بھی دکھائی دیتی ہیں۔عاصمہ جہانگیر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ پاکستانی عدلیہ کاایک نہایت فعال اور نڈر کردار تھیں۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال بھی ایساہی ایک نام ہیں۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ خواتین ججوں ور وکیلوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ پاکستان کی عدالتوں میں خواتین ججوں کی تعداد، کل ججوں کی تعداد کا محض 17 فیصد ہے۔ یعنی اگر سو جج ہیں تو ان میں 83 مرد،جبکہ 17 خواتین جج موجود ہیں۔ جبکہ ہائی کورٹوں میں خواتین ججوں کی تعداد صرف 4.4 فیصد ہے۔ برسوں سے ہم ذکر کیا کرتے تھے کہ آج تک کوئی خاتون سپریم کورٹ آف پاکستان میں جج کے عہدے تک نہیں پہنچ سکی۔ اس ضمن میں بھارت کی مثال بھی دی جاتی تھی۔ بھارت میں اب تک گیارہ خواتین، سپریم کورٹ کی جج رہ چکی ہیں۔ ایک مسلمان خاتون جج، جسٹس فاطمہ 1989 میں سپریم کورٹ کی جج مقرر ہوئی تھی۔ اس وقت بھی بھارتی سپریم کورٹ میں چار خواتین جج اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں۔ سنتے ہیں کہ ان میں سے ایک خاتون جج کے 2027 میں بھارت کی چیف جسٹس بننے کے امکانات نہایت روشن ہیں۔ اس کے باوجود بھارت میں خواتین کے حقوق کے علمبردار اس بات پر کف افسوس ملتے ہیں کہ سات دہائیوں میں فقط گیارہ جج؟۔ اس ضمن میں پاکستان کے بطن سے جنم لینے والا بنگلہ دیش بھی پاکستان سے آگے ہے۔وہاں 2011 میں ایک خاتون پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کی جج مقرر ہوئی تھی۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سوا تمام جنوبی ایشیائی ملکوں کے سپریم کورٹوں میں خواتین جج تعینات ہیں۔

تاخیر ہی سے سہی مگر اب پاکستان کو بھی یہ اعزاز حاصل ہو گیا ہے۔ اگرچہ جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں تقرری کا فیصلہ تنازعات کی زد میں رہا۔ گزشتہ برس بھی ان کا نام جیوڈیشل کمیشن میں پیش ہوا تھا۔ مگراسکی منظوری نہ ہو سکی۔ اس مرتبہ ان کا نام کمیشن کے سامنے پیش ہوا، تب بھی فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا۔ مختلف بار کونسلوں نے اس تعیناتی کی شدید مخالفت کی۔ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کرتے وقت سنیارٹی کا اصول کو ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔ جبکہ جسٹس عائشہ ملک سنیارٹی کے لحاظ سے لاہور ہائی کورٹ میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ تین جج ان سے زیادہ سینئر اور تجربہ کار ہیں۔ اس نقطہ نظر کے مخالف یہ دلیل دی جاتی ہے کہ آئین اور قانون کے مطابق سنیارٹی کے اصول کی پاسداری لازمی امر نہیں ہے۔ بہرحال کمیشن کے پانچ ووٹ جسٹس عائشہ کے حق میں آئے جبکہ، چارووٹ اس تعیناتی کی مخالفت میں۔ لہذا ایک ووٹ کی برتری سے ان کے نام کی منظوری ہوئی۔ اس کے بعد پارلیمنٹری کمیٹی نے ان کے نام کی منظوری دی۔
اب جسٹس عائشہ، سپریم کورٹ میں موجود 16 مر د ججوں کے ساتھ کام کرینگی۔ ان کی ریٹائرمنٹ میں ابھی کئی برس باقی ہیں۔ امکان ہے کہ وہ چیف جسٹس کے عہدے تک جا پہنچیں۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت میں ایک خاتون جج کا ہونا علامتی طور پر (symbolically)بہت بڑی بات ہے۔ لیکن معاملہ محض symbolism تک محدود نہیں۔ امید ہے کہ خواتین کے حقوق اور دیگر کیسوں میں جسٹس عائشہ کی موجودگی کی وجہ سے صنفی حوالوں) (gendered perspective بہتر طور پر مدنظر رہے گا۔ہمارے ہاں عدالتوں میں ججوں کے ساتھ بدتمیزی کرنے کا چلن عام ہو گیا ہے۔خاص طور پر نوجوان وکلاء ان حرکات میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ جسٹس عائشہ کی شہرت ایک سخت گیر جج کی رہی ہے۔ سنتے ہیں کہ ان کی عدالت میں وکلاء کو مودب رہنا پڑتا تھا۔وہ ایک ذہین اور محنتی جج مشہور ہیں۔ انہوں نے بہت اہم کیسوں کے فیصلے عمدگی سے سنائے۔ ان کے فیصلوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔خواتین کے معاملات میں وہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ 2021 میں انہوں نے جنسی زیادتی کی شکار خواتین کا کنوار پن ٹیسٹ(virginity test) خلاف قانون قرار دیا تھا۔ ان کے اس فیصلے کو تاریخ ساز فیصلہ قرار دیا جاتا ہے۔
جسٹس عائشہ کی تعیناتی کا فیصلہ تنازعات کی زد میں رہا۔ اب وہ سپریم کورٹ کی جج بن گئی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ مردوں کے اس معاشرے میں خواتین کو اپنا مقام بنانے کے لئے مردوں سے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ جسٹس عائشہ پر بھی بہت سی نگاہیں جمی رہیں گی۔ ان کے مخالفین اور نقادوں کے ساتھ ساتھ ان کے حامیوں کی نگاہیں بھی۔ ان سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ دعا ہے کہ وہ عوام کی امیدوں پر پورا اتریں۔ان کے فیصلوں سے اعلیٰ عدلیہ کی عزت و تکریم میں اضافہ ہو اور سپریم کورٹ کی غیر جانبداری کا تاثر قائم ہو۔ آمین۔